"RKC" (space) message & send to 7575

امریکہ کو کون روکے؟

پاکستان اور بھارت کے عوام کا ایک دوسرے سے موازنہ چلتا رہتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو بتاتے رہتے ہیں کہ ہم فلاں چیز میں بہتر ہیں یا تم فلاں میں کم ہو۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑانا اور جگت لگانا ایک ایسا مشغلہ ہے جو مسلسل جاری رہتا ہے۔ اب سوشل میڈیا نے ہر دیوار گرا دی ہے‘ مگر پہلے یہ معاملہ اخباری کالموں یا خبروں کی حد تک تھا۔ ہمارے ہاں کیا چھپا اور کیا نہیں چھپا‘ اس کا بھارتیوں کو پتا نہیں چلتا تھا‘ خصوصاً اردو اخبارات میں شائع ہونے والی باتوں کا۔ یہی حال ہمارا تھا کہ بھارتی عوام ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں‘ اس کا ہمیں کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا۔ پھر ٹی وی چینلز نے اس دوری کو ختم کر دیا۔ بھارتی چینلز نے بعض ایشوز پر پاکستانیوں کا مذاق اڑانا شروع کیا تو جواباً ہمارے ہاں بھی یہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ لیکن پاکستانی ٹی وی چینلز نے کبھی اس لیول کی ٹرولنگ بھارت یا بھارتیوں کی نہیں کی جو بھارتی چینلز یا وہاں بیٹھے اینکرز‘ نیوز کاسٹرز اور تجزیہ کار کرتے رہے۔ اب جبکہ سوشل میڈیا نے ہر دیوار گرا دی ہے تو اب ہر لمحے پاکستان اور انڈیا کے لوگوں کے درمیان تحریری یا زبانی جنگ سوشل میڈیا پر جاری رہتی ہے۔ ایک دوسرے کو طعنے دیے جاتے ہیں جو جلد ہی گالی گلوچ میں بدل جاتے ہیں۔ یہ بھی انسانی مزاج ہے کہ ہم انسان یا ملک خود کو دوسروں سے افضل سمجھتے ہیں۔ یہ وہ نرگسیت ہے جو ایک انسان سے لے کر معاشروں اور ملکوں بلکہ تہذیبوں تک میں پائی جاتی ہے۔ شاید انسانی جنگوں اور دوسروں پر قبضہ کرنے کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما رہی ہے۔
بھارتیوں میں یہ سوچ زیادہ نمایاں ہے کہ ہم دنیا سے الگ ایک ایسی قوم ہیں جس کا کسی اور سے کوئی مقابلہ نہیں۔ اس تصور کو مودی حکومت نے بہت زیادہ بڑھاوا دیا ہے کہ ہم دنیا کا اعلیٰ ترین ملک اور قوم ہیں‘ ہمیں دنیا کا کوئی ملک ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا۔ یہ سوچ بھارتی عوام میں اب اتنی گہری ہو چکی ہے کہ وہ اب کسی زمینی حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ یہی سوچ بھارتی حکمرانوں کیلئے اب مسئلہ بن گئی ہے۔ یہی دیکھ لیں کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ میں نے پاکستان انڈیا کے مابین سیز فائر کرائی ہے۔ یہ بات بھی بھارتی حکومت اور لوگوں کیلئے انا کا مسئلہ بن گئی کہ ہم کیوں مان لیں کہ ٹرمپ نے سیز فائر کرائی۔ اسی انا نے بھارتی معیشت اور مفادات کو زک پہنچائی لیکن بھارتی قیادت اپنی ضد پر قائم رہی کہ ہم امریکہ کو سیز فائر کا کریڈٹ کیوں دیں۔ اس انا اور اپنے ملک کو برتر دکھانے کی خواہش نے انہیں مشکل میں ڈال دیا‘ اور پھر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف لگائے جانے کے بعد جس طرح بھارتی قیادت نے گھٹنے ٹیک دیے اس نے بھارتی عوام کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ وہاں کوئی یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ ہم امریکہ کے آگے اتنے مجبور ہیں کہ اس کی اجازت کے بغیر روس سے تیل تک نہیں خرید سکتے۔ جن بھارتی ووٹرز کیلئے یہ سارا امیج بنایا گیا تھا‘ وہ اب یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ بھارت یا مودی سے بھی بڑا کوئی لیڈر ہو سکتا ہے۔ اب جب انہیں امریکہ کے آگے جھکنا پڑا ہے تو یہ بات بھارت میں کسی سے ہضم نہیں ہو رہی۔ وہی بات کہ جب آپ اپنی نرگسیت میں اپنے فالورز کو پہاڑ پر چڑھا دیتے ہیں لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہوتے ہیں تو حقیقت کھلنے پر آپ انہی فالورز کی نفرت اور دشمنی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اب انڈیا میں اس بات پر بھی شدید ردِعمل آ رہا ہے کہ آپ نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر نہ ایران سے افسوس کا اظہار کیا اور نہ ہی امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کی کیونکہ آپ امریکہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ بھارتیوں کو یقین نہیں آ رہا کہ ان کا لیڈر مودی بھی امریکہ کے آگے بے بس ہو سکتا ہے۔ چند ماہ کی بہادری بھارت کو بہت مہنگی پڑی ہے۔ اب وہ پوری طرح دفاعی پوزیشن میں آ گیا ہے‘ اور ایران جس کے ساتھ اس کے برسوں پرانے دوستانہ تعلقات تھے‘ وہاں ہونے والے حملوں پر خاموشی بھارتیوں کیلئے حیران کن بلکہ پریشان کن ہے۔
دوسری طرف پاکستان کیلئے اس جنگ نے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان پھنس گیا ہے۔ ہم پاکستانی بھی جنگ کے بڑے شوقین ہیں لیکن وہی بات ہے کہ جنگ دور سے ٹی وی سکرین پر اچھی لگتی ہے‘ اپنے گھر میں جنگ کوئی نہیں دیکھنا چاہتا۔ پاکستان کی خوش قسمتی رہی ہے کہ ایسی جنگیں یہاں نہیں لڑی گئیں جیسی ایران‘ افغانستان‘ لبنان‘ لیبیا‘ شام اور عراق میں لڑی گئی ہیں۔ لیکن اگر ایران امریکہ جنگ فوری طور پر بند نہ ہوئی تو یہ پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر دفاع کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اُس دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان سے اپنا دفاع مانگ رہا ہے جو ہم نے پچھلے سال کیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور ہو گا۔ اگر ایران سعودی عرب پر حملے جاری رکھتا ہے تو اس دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کو سعودی عرب کی درخواست پر جنگ میں شامل ہونا پڑ سکتا ہے۔ انکار کی صورت میں ہم جنگ سے تو بچ جائیں گے لیکن سعودی عرب جیسے قابلِ بھروسا ملک کے ساتھ پرانی دوستی اور تعلقات کو کھو بیٹھیں گے۔ اور اگر جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو ایران پاکستان پر بھی ویسے ہی حملے شروع کر سکتا ہے جیسے وہ مشرق وسطیٰ کی ریاستوں پر کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان بھی ایران پر جوابی حملے کرے گا اور یوں یہ جنگ ہمارے گھر تک پہنچ جائے گی۔ پاکستان کے پاس اس کا ایک ہی حل ہے کہ وہ ایران کو قائل کرے کہ وہ سعودی عرب پر حملے نہ کرے لیکن ایرانی اس وقت غصے میں ہیں۔ ایک امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر حملوں کیلئے اکسانے والوں میں سعودی بھی شامل تھے‘ مگر سعودی عرب اس کی تردید کر چکا ہے۔
ایران کی وہ اعلیٰ قیادت جس کے پاکستان سے روابط تھے یا جن سے ہم بات کر سکتے تھے‘ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکی ہے۔ وہاں شاید اب یونٹی آف کمانڈ بھی موجود نہیں جو ایسے بڑے فیصلے کر سکے۔ لگتا ہے کہ وہاں مختلف گروہ اپنے اپنے فیصلے کر رہے ہیں۔ بہرحال پاکستان ایک بڑی مشکل میں پھنس گیا ہے۔ ہم ہمیشہ عرب و عجم کی صدیوں پرانی کشمکش میں توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ہی ہم سے مکمل طور پر خوش نہیں ہوئے۔ سعودی عرب پاکستان کیلئے ایک بڑی معاشی لائف لائن ہے جبکہ ایران بھی بہت اہم ہے کیونکہ پاکستان میں شیعہ مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے تین چار کروڑ پاکستانی موجود ہیں۔ ان کے جذبات کا خیال رکھنا ہو گا ورنہ ملک کے اندر خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ایران اس وقت اس موڈ میں نظر نہیں آ رہا کہ وہ کسی کی بات سنے کیونکہ اس کی قیادت اور عوام کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایران اس وقت شاید اس کیفیت میں ہے کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم‘ تمہیں بھی لے ڈوبیں گے۔ایران کو شاید یہ بھی لگتا ہے کہ اسے ایک ایسا موقع مل گیا ہے جس میں عرب و عجم کی پرانی جنگوں کے حساب برابر کیے جا سکتے ہیں۔ عرب اور ایران یا سعودی عرب اور ایران کے درمیان نفرت بہت پرانی ہے۔ ایران اور سعودی عرب گزشتہ چالیس پچاس برسوں سے پراکسی جنگیں لڑتے آئے ہیں۔ اب خطرہ یہ ہے کہ وہ پراکسی کا تکلف ختم کر کے براہِ راست جنگ کی طرف نہ چلے جائیں۔ اب اگر پاکستان ایران کو سعودی عرب پر حملوں سے نہ روک سکا تو پاکستان کو یا تو اس جنگ میں شامل ہونا پڑے گا یا پھر سعودی عرب کو کھونا پڑے گا۔
کالم لکھا جا چکا تو خبر آئی کہ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ وہ اب خطے کے ممالک پر حملے نہیں کریں گے ‘بشرطیکہ اُن ممالک کی سرزمین سے امریکہ ایران پر حملے نہ کرے۔ اب سوال یہ ہے کہ عرب ریاستیں امریکہ کو کیسے روکیں گی کہ وہ ان کی سرزمین سے ایران پر حملے نہ کرے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں