"RKC" (space) message & send to 7575

پرویز مشرف‘ نواز شریف کا سچ اور جھوٹ

پاکستان اور بھارت کے مابین کئی مواقع ایسے بھی آئے تھے جب دونوں ممالک ماضی کی دشمنیاں بھلا کر نئی شروعات کر سکتے تھے لیکن کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہو گیا کہ دشمنی دوبارہ شروع ہو گئی۔ ایوب خان دور میں بھٹو صاحب کا 1965ء کی جنگ کا راستہ ہموار کرنا ہو یا پھر پرویز مشرف کا کارگل ایڈونچر۔ اب تو ایسے دشمن بنے ہیں کہ دور دور تک کوئی امید نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب کچھ لیڈروں نے تعلقات ٹھیک کرنے کی کوشش بھی کی‘ جیسے بینظیر بھٹو نے پہلی دفعہ وزیراعظم بن کر یا پھر نواز شریف نے دو‘ تین دفعہ کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ پرویز مشرف تو بعد میں خود بھارت کیساتھ مفاہمت کے حامی بن کر ابھرے اور واجپائی صاحب سے لے کر منموہن سنگھ تک‘ ایک امن منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ آخری بڑا موقع 2019ء میں آیا تھا جب عمران خان وزیراعظم اور جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف تھے۔ جنرل باجوہ نے اینکرز اور صحافیوں کو بلا کر انکشاف کیا کہ بھارت کیساتھ دبئی میں بیک ڈور چینلز کے ذریعے معاملات تقریباً طے پا چکے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پاکستان آئیں گے‘ عمران خان اور مودی پریس کانفرنس کریں گے اور مسئلہ کشمیر کو بیس سال کیلئے فریز کر دیا جائے گا۔ دونوں ملکوں میں آمدورفت اور تعلقات شروع ہو جائیں گے۔ کشمیریوں کو بھی ایل او سی کوریڈور ملے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس پر شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ حکومت پر کشمیر بیچنے کا الزام لگے گا اور ہم اگلا الیکشن ہار جائیں گے۔ عمران خان پیچھے ہٹ گئے اور یوں یہ موقع بھی ضائع ہو گیا۔ یہ الگ بات کہ آج عمران خان اور شاہ محمود قریشی‘ دونوں جیل میں ہیں اور پی ٹی آئی الیکشن بھی نہیں جیت سکی‘ یا ہرا دی گئی۔ بسا اوقات لیڈروں کو اپنے سیاسی مستقبل یا ہار جیت سے ماورا ہو کر قوم اور ملک کا دیرپا مفاد دیکھنا ہوتا ہے‘ نہ کہ اگلا الیکشن۔
Profiles in Courage جان ایف کینیڈی کی ایک اہم کتاب ہے‘ جس میں امریکی صدر نے ان کرداروں کے بارے لکھا ہے جنہوں نے بہادر فیصلے کیے اور اپنا سیاسی مستقبل تباہ کر لیا لیکن انہیں لگا کہ امریکہ کیلئے وہ فیصلے ضروری تھے۔ اس شاندار کتاب کو برسوں بعد جب دوبارہ چھاپا گیا تو اس کا دیباچہ جان ایف کینیڈی کی بیٹی نے لکھا۔ اس نے لفظ Courage کو ایک مثال سے واضح کیا کہ اسکے باپ کے نزدیک بہادری کیا تھی۔ انہوں نے لکھا کہ جب صدر نکسن کے خلاف واٹر گیٹ سکینڈل آیا اور انہیں استعفیٰ دینا پڑا تو امریکی میڈیا اور عوام کا شدید دبائو تھا کہ ان کا ٹرائل کیا جائے۔ نائب صدر فورڈ نے جب ان کی جگہ عہدہ سنبھالا تو پہلا فیصلہ یہ کرنا تھا کہ انہیں صدارتی معافی دینی ہے یا ٹرائل کرنا ہے۔ صدر فورڈ کو علم تھا کہ اگر وہ معاف کرتے ہیں تو اگلا الیکشن ہار جائیں گے اور اگر نہیں کرتے اور نکسن کا ٹرائل ہوتا ہے تو امریکہ مزید مشکلات میں گھر جائے گا۔ صدر فورڈ نے اپنی صدارت کی قربانی دی اور نکسن کو معاف کر دیا۔ وہی ہوا‘ فورڈ اگلا الیکشن جمی کارٹر سے ہار گئے لیکن انہوں نے فیصلہ وہی کیا جو اُن کے خیال میں امریکہ اور عوام کیلئے ضروری تھا نہ کہ ان کے سیاسی مستقبل کے لیے۔
کتنے لوگ ایسے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ یہ سوالات میرے ذہن میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی کی کتاب پڑھ کر آ رہے ہیں۔ اس کتاب میں کارگل جنگ کے بارے میں سعید مہدی نے جو کچھ لکھا ہے جو ایک عینی شاہد کے طور پر لکھا ہے۔ یہ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ نواز شریف نے کارگل جنگ پر پورا سچ نہیں بولا تھا۔ 12 اکتوبر 1999ء کو نواز شریف کی برطرفی‘ گرفتاری‘ چودہ برس کی سزا‘ جدہ اور لندن جلا وطنی اور پاکستان کا نو برس تک مارشل لاء کی زد میں رہنا‘ یہ سب اس جنگ سے جڑا تھا۔ کارگل پاکستان کیلئے اہم ایشو تھا‘ ہے اور رہے گا۔ مارشل لاء کے بعد میں نے اپنی کتاب ''ایک سیاست کئی کہانیاں‘‘ کیلئے چودھری نثار اور اسحاق ڈار کے انٹرویوز کیے تھے تو ان سب کا ایک ہی مؤقف تھا کہ مشرف نے کارگل کا نواز شریف کو نہیں بتایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو اس کا علم واجپائی کی فون کال سے ہوا تھا۔ خود نواز شریف نے جدہ میں 2005ء میں مجھے یہی بتایا تھا کہ کارگل پر مشرف نے انہیں لاعلم رکھا۔ یہاں تک انکی بات درست ہے کہ پرویز مشرف نے انہیں نہیں بتایا لیکن واجپائی کی فون کال کے بعد خود نواز شریف نے کیا کیا؟ یہاں مذکورہ دونوں وزیر اور نواز شریف ادھورا سچ بولتے ہیں۔ نواز شریف نے واجپائی کی فون کال کے بعد پرویز مشرف کو فون کیا اور اگلے دن انہیں بریفنگ دی گئی‘ اس میں جنرل مشرف نے تسلیم کیا کہ وہ کارگل پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں۔ جنرل محمود اور جنرل مشرف نے نواز شریف کو فوراً بانس پر چڑھا دیا کہ ہم نے بھارت کو گلے سے پکڑ لیا ہے‘ بس چند دنوں کی بات ہے اور پورا کشمیر آپ کے قدموں میں ہوگا۔ قائداعظم کا کشمیر کا خواب آپکے دور میں پورا ہوگا‘ آپ قائداعظم کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے لیڈر ہوں گے‘ تاریخ میں آپ کا ذکر ہوگا کہ کشمیر نواز شریف نے فتح کیا تھا۔ نواز شریف اس بریفنگ پر جذباتی ہو گئے اور دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیے۔اس بریفنگ میں کارگل آپریشن کی کامیابی کیلئے دعا نواز شریف نے کرائی تھی۔ دعا کے بعد نواز شریف اور جنرل مشرف نے الگ کمرے میں ملاقات کی اور وہیں سیکرٹری دفاع جنرل افتخار علی خان نے سعید مہدی کو خبردار کیا کہ پرویز مشرف اور جنرل محمود جھوٹ بول رہے ہیں‘ کارگل میں ہمارے تین ہزار جوان شہید ہو چکے ہیں اور بہت جلد ہم زمین پر ہوں گے۔ یہ بات سعید مہدی نے نواز شریف کے گوش گزار کر دی تھی لیکن واجپائی کی 17مئی کی فون کال کے دو ماہ بعد تک نواز شریف کارگل جنگ کو پوری طرح سپورٹ کرتے رہے۔ اس جنگ کو انہوں نے اون کیا۔ نواز شریف کو کارگل جنگ سے کبھی کوئی مسئلہ کبھی نہیں رہا‘ جس کا وہ برطرفی کے بعد پرچار کرتے تھے۔ ان کو مسئلہ اس وقت ہوا جب امریکہ سے واپسی کے بعد پرویز مشرف نے حکومت پر الزام لگانا شروع کیا کہ وہ تو کارگل پر بھارت کو گردن سے پکڑ چکے تھے لیکن نواز شریف نے امریکہ جا کر کلنٹن سے بھارتی افواج کو ریلیف لے کر دیا۔ اس بات سے نواز شریف کو تکلیف پہنچی ورنہ اس سے پہلے تک وہ کارگل جنگ کو سپورٹ کر رہے تھے۔ اس دوران نواز شریف نے سفارتی آداب کی بھی خلاف ورزی کی کہ جب واجپائی کے فون کے بعد کہا وہ چیک کر کے انہیں فون کرتے ہیں اور 17 مئی سے 12 اکتوبر کو برطرفی تک‘ ان چھ ماہ میں نواز شریف نے واجپائی کو فون کال تک نہیں کی کہ ان کی عسکری قیادت سے کیا بات ہوئی ہے۔ ادھر واجپائی کو بھی علم نہ تھا کہ نواز شریف جرنیلوں کی جواب طلبی کرنے کے بجائے الٹا کارگل آپریشن کو سپورٹ کر رہے ہیں۔
نواز شریف کو احساس ہونا چاہیے تھا کہ واجپائی کو لاہور بلا کر وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے۔اس کے بعد کارگل جنگ کا کوئی جواز نہیں تھا۔ واجپائی کا یہ کہنا کسی حد تک درست تھا کہ انہیں دوستی کے نام پر لاہور بلا کر ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا۔ مجھے خود نواز شریف نے جدہ میں بتایا کہ کارگل میں تین ہزار فوجی شہید ہوئے۔ اگر ان شہیدوں کے لہو کے ذمہ دار جنرل پرویز مشرف اور جنرل محمود تھے تو سترہ مئی کے بعد جن پاکستانی فوجیوں کا لہو کارگل کی پہاڑیوں پر بہایا گیا‘ اس کی ذمہ داری نواز شریف پر بھی عائد ہوتی ہے‘ جنہوں نے اس آپریشن کی نہ صرف حمایت کی بلکہ دعا بھی کرائی اور آج تک وہ مظلوم بن کر ہمیں بتاتے رہے کہ انہیں کارگل کا علم نہیں تھا۔ یہ سب جھوٹ تھا! انہیں سترہ مئی کو علم ہو گیا تھا۔ اپنے لیے انہوں نے جو گھڑا کھودا‘ سو کھودا لیکن اس خطے کو بھی برسوں پیچھے لے گئے اور سالوں سے مسلسل غلط بیانی کر رہے ہیں کہ مجھے علم نہ تھا۔ جیسے انہیں یہ علم نہ تھا کہ ''مجھے کیوں نکالا؟‘‘۔ کمال ہے! سعید مہدی کی کتاب سے تو یہی پتا چلتا ہے کہ بعض لوگ برسوں تک دوسروں کو مسلسل بے وقوف بنا سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں