"MSC" (space) message & send to 7575

اقتدار اور عوام

آخری خبریں آنے تک ایران پر امریکی حملے کا خطرہ (فی الحال) ٹل گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بدلے ہوئے لہجے نے اس کی خبر دے دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران میں گرفتار مظاہرین کو دی جانے والی پھانسیوں پر عملدرآمد روک لیا گیا ہے‘ اس لیے وہ بھی اپنے آپ کو روک رہے ہیں۔ اگر ایرانی حکومت نے اپنا فیصلہ بدلا تو پھر وہ بھی فیصلہ بدلنے کے بارے میں غور کریں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا ترت اعلان (یا جواب) تھا کہ بڑے پیمانے پر مظاہرین کو پھانسیوں پر لٹکانے کا کوئی فیصلہ ہوا ہی نہیں تھا‘ یہ ایران کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کا جھوٹ تھا‘ اس لیے عملدرآمد روکنے یا نہ روکنے کا سوال ہی بے محل ہے۔ حقیقت جو بھی ہو‘ یہ بات واضح ہے کہ صدر ٹرمپ کا لہجہ اور رویہ تبدیل ہوا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ قطر‘ عمان اور سعودی عرب کی سفارتی سرگرمیوں نے اس میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ خبریں آئی ہیں کہ نیتن یاہو کی بے تابی میں بھی کچھ کمی آئی تھی۔ ایران اپنی جگہ مسرور ہے کہ اس نے اپنے اردگرد واقع ممالک میں امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کی جو دھمکی دی تھی وہ کارگر ثابت ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ کب تک اپنے آپ کو روکے رکھیں گے‘ اس بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ کسی بھی وقت کوئی بھی حرکت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دھڑلے سے کہا ہے کہ وہ کسی بین الاقوامی قانون یا قاعدے ضابطے کو نہیں مانتے‘ ان کے راستے میں واحد رکاوٹ ان کا اپنا آپ ہے۔ جہاں ان کا ''ضمیر‘‘ کہے گا وہاں رک جائیں گے اور جہاں وہ خاموش رہے گا وہاں وہ بگٹٹ دوڑتے ہوئے پائے جائیں گے۔ اپنے صدارتی اختیارات کو وہ شاہانہ انداز میں استعمال کر رہے ہیں‘ امریکی سینیٹ یا ایوان ِنمائندگان کو کوئی اہمیت دینے پر تیار نظر نہیں آتے۔ دنیا تو کیا امریکہ کو بھی اس طرح کے حالات سے کم ہی دوچار ہونا پڑا ہے۔ وہ اپنے آپ کو امن کا پیامبر کہتے ہیں‘ دن رات اعلان کرتے ہیں کہ انہوں نے آٹھ جنگیں رکوائی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ بھی بقول ان کے‘ ان ہی کی مداخلت کی وجہ سے ٹلا ہے۔ اس طرح لاکھوں جانیں بچائی گئی ہیں کہ اگر ان دونوں ملکوں کے درمیان نوبت ایٹم بم کے استعمال تک پہنچ جاتی تو لاکھوں افراد کا لقمۂ اجل بن جانا یقینی تھا۔ بھارت سٹپٹا رہا ہے‘ نریندر مودی کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ ہاں بولیں یا ناں لیکن پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شکر گزار ہیں کہ انہوں نے قیامِ امن میں مدد دی۔
صدر ٹرمپ سے امیدیں لگانے والوں میں ہمارے تحریک انصاف کے دوست پیش پیش تھے۔ برادر عزیز مشاہد حسین سید نے یہ کہہ کر انہیں مزید ہلّہ شیری دے دی تھی کہ واشنگٹن سے ایک فون آئے گا‘ اور اڈیالہ جیل کے دروازے کھل جائیں گے۔ جس طرح صدر بش کے وزیر خارجہ کے ایک ٹیلی فون پر جنرل پرویز مشرف ڈھیر ہو گئے تھے‘ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں شمولیت کی سعادت اس طرح حاصل کی تھی کہ خود امریکہ حیران ہو گیا تھا‘ اسی طرح آج کی مقتدرہ بھی کورنش بجا لائے گی۔ عمران خان ایک بار پھر ایوانِ اقتدار کی طرف یلغار کرتے دکھائی دیں گے۔ ساجد تارڑ البتہ بضد تھے کہ پریذیڈنٹ ٹرمپ ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے‘ ان کے پاس کرنے کے اور بہت کام ہیں۔ پاکستان کے اندرونی معاملات میں اس طرح تو کیا کسی بھی طرح کی مداخلت کا وقت ان کے پاس ہو گا‘ نہ ضرورت۔ ان کی نظر اپنے مفادات پر رہے گی۔ وہ کسی دوسرے کے مفاد میں نہ کچھ کہیں گے نہ کریں گے۔ ہر چند کہ ساجد تارڑ ری پبلکن پارٹی کا حصہ ہیں اور صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بھی سرگرم رہے تھے‘ لیکن انہیں جناب اعظم نذیر تارڑ اور جناب عطا اللہ تارڑ کی طرح کا تارڑ سمجھ کر انصافی بھائی ان کی بات کو وزن دینے پر تیار نہیں تھے۔ صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا تو تارڑ بازی کامیاب نظر آئی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور بعدازاں وزیراعظم شہباز شریف کے نام ان کی زبان پر ایسے چڑھے کہ اترنے کا نام نہیں لے رہے۔ صدر ٹرمپ جنگیں رکواتے رکواتے تھک گئے‘ تو تھکن اتارنے کے لیے جنگی مشقیں شروع کر دیں۔ اپنے ہمسایہ ملک وینزویلا پر چڑھ دوڑے۔ اس کے صدر کو بمع ان کی بیگم کے خواب گاہ سے اٹھوایا اور نیو یارک لا کر حوالۂ زنداں کر دیا۔ ایک امریکی عدالت میں پیش کر کے لمبی تاریخ حاصل کی جا چکی ہے۔ یہ واردات ایسی تھی کہ امریکہ تک میں چیخ و پکار ہونے لگی۔ نیو یارک کے نومنتخب میئر ممدانی نے باقاعدہ فون کر کے جنابِ صدر کو بتایا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ وینزویلا کے تیل کے ذخائر سے نفع کمانے کے منصوبے بنانے میں (ابھی تک) مصروف ہیں اور اپنے آپ کو وہاں کا قائم مقام صدر قرار دے چکے ہیں۔ اب گرین لینڈ پر ان کی نظر ٹک گئی ہے۔ ڈنمارک کی ملکیت یہ جزیرہ‘ جو امریکہ کی ہمسائیگی میں واقع ہے‘ معدنی دولت سے مالا مال ہے‘ اس پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کے نیٹو اتحادی سراپا احتجاج ہیں لیکن وہ کان دھرنے پر تیار نہیں‘ کیونکہ ان کے نزدیک قانون وہی ہے جو اُن کی زبان سے نکلے۔ ایران میں افراطِ زر بڑھا‘ ڈالر کی قدر میں بے پناہ اضافہ ہوا تو وہاں کے تاجر احتجاج کرتے سڑکوں پر نکل آئے۔ مہنگائی کے مارے عوام نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ ایرانی انقلاب کے مخالف بھی حرکت میں آ گئے‘ پُرتشدد وارداتوں نے دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی تو صدر ٹرمپ انسانی ہمدردی کے گہرے جذبات میں مبتلا پائے گئے۔ اعلان کیا کہ وہ ایرانی مظاہرین کی امداد کریں گے۔ ان سے اپیل کی کہ وہ اداروں پر قبضہ کر لیں۔ کمک ان کو پہنچنے والی ہے۔ غزہ میں ایک لاکھ فلسطینی مارے گئے۔ اسرائیل بچوں‘ عورتوں‘ بزرگوں کو نشانہ بناتا رہا۔ عبادت گاہوں‘ سکولوں‘ ہسپتالوں کو تاراج کرتا رہا لیکن صدر ٹرمپ کی زبان سے ہمدردی کے دو بول ادا نہ ہوئے۔ ان کی مدد کے لیے انہوں نے کسی کارروائی کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اسرائیل کا ہاتھ پکڑنے کے بجائے اس کی پیٹھ ٹھونکتے رہے لیکن ایرانی ''مظاہرین‘‘ کی شان دیکھیے کہ ان کے غم میں وہ فوراً مبتلا ہو گئے۔ پوری دنیا تھرانے لگی کہ حملہ ہوا کہ ہوا۔ ان کے عرب اتحادیوں کی بات اثر کر گئی یا کسی اور نے ان کے کان میں کچھ پھونک دیا‘ انہوں نے ہاتھ روک لیا ہے۔ جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے لیکن کب تک ٹلا رہے گا‘ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایران پر امریکی پابندیاں اثر دکھا رہی ہیں‘ اس کی معیشت سخت دباؤ میں ہے۔ ایرانی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ حکمت اور تدبر سے معاملات کو سنبھالے۔ اگر عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا رشتہ برقرار رہے تو پھر ہر مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن عوام بغاوت پر اتر آئیں تو اس طوفان کے راستے میں کوئی بند نہیں باندھا جا سکتا۔ عوام کی فلاح جس اقتدار کا ہدف نہ ہو‘ اس کو آبِ حیات میسر نہیں آتا۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں