"MSC" (space) message & send to 7575

… اور تاریخ بدل گئی

یہ سال جو گزر گیا ہے‘ اس کے دوران بہت کچھ ایسا ہوا جو ہوتا چلا آ رہا ہے لیکن کچھ ایسا بھی ہوا‘ جو اس سے پہلے نہیں ہوا تھا یا یہ کہیے کہ اس کا تصور تک بھی کسی کو نہیں تھا۔ کون اندازہ لگا سکتا تھا کہ بھارت پاکستان پر حملہ آور ہو گا‘ اسے زمیں بوس کرنے کا عزم لے کر آئے گا لیکن منہ کی کھائے گا۔ دنیا بھر میں نکّو بن جائے گا‘ دور و نزدیک اس پر تھو تھو ہو گی۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی مملکت بن جانے کے باوجود وہ ریت کی دیوار ثابت ہو گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی جنگیں ہو چکی ہیں‘ جب آزادی حاصل کی جا رہی تھی تو مسلمان قیادت بضد ہو گئی کہ وہ غیرمشروط طور پر ہندو اکثریت کے ملک میں نہیں بسے گی۔ اس کا استدلال تھا کہ ہندوؤں کے تین ووٹوں کے مقابلے میں اس کے پاس ایک ووٹ ہو گا‘ یوں جو وفاق قائم ہو گا‘ وہ اکثریت کے رحم و کرم پر رہے گا۔ مطالبہ تھا کہ ایسا آئینی ڈھانچہ قائم کیا جائے جہاں اکثریت اقلیت کو غلام بنا کر نہ رکھ سکے۔ اقلیت اپنے مذہب‘ اپنی اقدار اور اپنی روایات کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے آزاد ہو‘ ایسے وفاق کی تشکیل پر اتفاق بھی ہو گیا تھا۔ کیبنٹ مشن پلان کے مطابق ہندو اور مسلمان اکثریت کے صوبوں کو خود مختاری حاصل ہو جانی تھی‘ اور وفاق کو چند ہی محکموں کا انتظام سونپا جانا تھا لیکن کانگرس کے صدر پنڈت جواہر لال نہرو نے یہ کہہ کر بازی الٹ دی کہ آزادی کے بعد آزادی کے حصول کے لیے کیے جانے والے معاہدے پر عملدرآمد کی پابندی نہیں ہو گی۔ وفاقی اسمبلی (اپنی اکثریت کے بل پر) تقسیمِ اختیارات کا نیا نظام وضع کر سکے گی۔ اس ایک حرکت نے اس ساری برکت کو روند ڈالا جو وسیع تر اتفاق کے نتیجے میں پیدا ہو رہی تھی یا پیدا ہو سکتی تھی۔ مسلم لیگ بھی الٹے پاؤں پھر گئی اور مسلم اکثریتی علاقوں کی علیحدہ مملکت بنانے کے مطالبے پر کسی سمجھوتے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً برصغیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ مسلم اکثریت کے ملحقہ علاقے ایک نئی مملکت کی صورت اختیار کر گئے۔ خیال یہی تھا کہ یہ دونوں نئے ممالک اچھے ہمسایوں کی طرح ماں جائے یعنی بھائی بھائی بن کر رہیں گے۔ ایک دوسرے کی طاقت بن کر عالمی کردار ادا کریں گے اور دنیا بھر میں امن اور سلامتی کے گیت گانے والوں کو بھی نئی توانائی دیں گے‘ لیکن وہ نہ ہوا جو ہونا چاہیے تھا بلکہ وہ ہو گیا جس کے ہونے کی کوئی تمنا کسی مسلمان کے دل میں تو (کم از کم) نہیں تھی۔
انگریز وائسرائے نے ہندو اکثریت کی نمائندہ کانگرس کے نیتاؤں کے ساتھ مل کر منصفانہ تقسیم کا خواب تار تار کر ڈالا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلمان اور ہندو اکثریت کے صوبے الگ الگ کر دیے جاتے‘ دونوں اپنا اپنا نظم قائم کر لیتے‘ صوبوں کی تقسیم کی اجازت نہ دی جاتی لیکن حالات ایسے پیدا کر دیے گئے کہ مسلمان اکثریت کے دو بڑے صوبوں بنگال اور پنجاب پر بھی قینچی چلانا ممکن ہو گیا۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ برصغیر کی تقسیم اس طرح عمل میں نہیں آ رہی تھی کہ تمام مسلمان ایک ملک میں سما جائیں تو تمام ہندو اور سکھ ایک دوسری مملکت کے مالک بن جائیں۔ تقسیم اکثریتی علاقوں کی بنیاد پر ہو رہی تھی‘ گویا نوآزاد ہندوستان میں مسلمان آبادی کو اور پاکستان میں غیرمسلم آبادی کو بدستور اپنے اپنے گھروں میں رہنا تھا۔ جب تقسیم مسلمان اور ہندو اکثریتی علاقوں کی بنیاد پر ہو رہی تھی تو پھر صوبوں کی تقسیم در تقسیم کا کوئی جواز ڈھونڈا نہیں جا سکتا تھا۔ صوبوں کی جغرافیائی اور ثقافتی وحدت کو بہرصورت ناقابلِ تقسیم ہونا چاہیے تھا لیکن انگریز وائسرائے نے کچھ ایسی ساز باز کی کہ مسلمان اکثریتی صوبوں پر بھی قینچی چلا دی گئی‘ نتیجتاً آگ اور خون کے دریاؤں سے گزرنا پڑا۔ لاکھوں افراد کو گھروں سے نکال باہر کیا گیا۔ دنیا کی تاریخ کی بہت بڑی نقل مکانی نے تاریخ کا سینہ غم و اندوہ سے بھر دیا۔ اس واردات کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ مسلمان اکثریتی ریاست جموں و کشمیر پر تنازع کھڑا ہو گیا‘ جو آج تک جاری ہے۔ نو آزاد بھارت نے پاکستان کو ابتدا ہی سے زچ کرنے کی ٹھانی اور ماحول تلخ سے تلخ تر ہوتا گیا۔ غیر منقسم ہندوستان کے اثاثوں میں پاکستان کا حصہ اسے دینے سے انکار کیا گیا‘ دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر بھی جھگڑا کر دیا گیا۔ آزادی کے فوراً بعد ہی جنگ و جدل تک نوبت آ گئی‘ وہ دن جائے اور آج کا آئے جنگیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ پاکستان کو دو لخت کرنے کے لیے بھارتی سازشیں شروع کر دی گئیں اور باقاعدہ لشکر کشی کر کے مشرقی بنگال کو بنگلہ دیش بنا ڈالا گیا۔ پاکستان اپنا دفاع کرتا رہا‘ حملہ آوروں کے دانت کھٹے کرتا رہا لیکن فیصلہ کن معرکے کی نوبت نہیں آئی۔ کسی نہ کسی طور جنگ بندی ہوتی رہی اور دونوں ملکوں کا بھرم ٹوٹنے نہیں پایا۔ 1971ء کی جنگ نے بنگلہ دیش کو جنم تو دے دیا لیکن حالات و واقعات ایسے تھے کہ اسے فیصلہ کن شکست کے طور پر نہیں منوایا جا سکا۔
مئی2025ء میں بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو اس کا زعم تھا کہ چند ہی روز کے اندر اندر پاکستانی ریاست زمیں بوس ہو جائے گی۔ بھارت اپنی شرائط پر اس سے معاملہ کر لے گا اور اس کی مشکیں کس دے گا لیکن جو ہوا‘ اسے دیکھ کر پوری دنیا دنگ رہ گئی۔ چار روزہ جنگ میں حملہ آور کے عزائم خاک میں ملا دیے گئے۔ آٹھ جنگی طیارے مار گرائے گئے اور اس کا ایئر ڈیفنس سسٹم منجمد کر دیا گیا۔ واشنگٹن سے لے کر بیجنگ تک دھوم مچ گئی کہ پاکستان نے بھارت کو پیٹ ڈالا ہے‘ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار اس پر گواہی دی‘ جنگ بندی کا کریڈٹ لیا اور پاکستان کی فوجی قیادت پر قربان ہو گئے۔ جنرل سید عاصم منیر کو جنگ کے بعد فیلڈ مارشل بنا کر تمام مسلح افواج کا سربراہ بنا دیا گیا۔ پاکستان کو ہر طرف عزت اور وقعت سے دیکھا جانے لگا۔ ہمارے وزیراعظم شہباز شریف کی بھی جے جے ہو گئی۔ پاکستان دفاعی اور سفارتی محاذ پر ایسی چوٹی پر پہنچا کہ آج تک نہیں پہنچا تھا۔ 2025ء رخصت ہوا ہے لیکن پاکستان کو ایسا اعزاز اور افتخار دے گیا ہے جس کے بارے میں کوئی سوچ نہیں سکتا تھا۔ پاکستان کی طاقت نے جس طرح اپنے آپ کو منوایا ہے‘ اس کی مثال تاریخ میں نہیں مل پا رہی۔ یہ درست ہے کہ معاشی اور سیاسی محاذ پر مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ یہ جدوجہد جاری ہے‘ اہلِ سیاست ایک دوسرے کے ساتھ فراخ دلی سے معاملہ کرنے پر ابھی تک آمادہ نہیں ہیں۔ وہ الجھے ہوئے ہیں اور ہماری اجتماعی زندگی کو بھی الجھا رہے ہیں‘ لیکن 2025ء کی جنگی کارکردگی ایسی ہے کہ پوری قوم کو نیا اعتماد دے گئی ہے۔ تاریخ بدل گئی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ 2026ء جو طلوع ہوا ہے تو اس کے دوران ہم اپنی معاشی اور سیاسی کمزوریوں پر بھی قابو پا گزریں گے۔ اے ہمارے رب جس طرح تُو نے 2025ء کو ہماری توانائی کا سال بنایا ہے‘ اسی طرح 2026ء کو بھی ہمارے لیے اتحاد و اتفاق کا سال بنا دے۔ ہم ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنے کا حوصلہ پیدا کر سکیں اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر وہ کچھ حاصل کر سکیں‘ جو ابھی ناممکن نظر آ رہا ہے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں