"RS" (space) message & send to 7575

شعلوں کے حصار میں خلیج

مشرقِ وسطیٰ کی جیو پولیٹکل بساط پر اس وقت جو مہیب سائے لہرا رہے ہیں ان کی جڑیں دو ملکوں کے مفادات تک محدود نہیں‘ بلکہ یہ ایسے عالمی بحران کا پیش خیمہ ہیں جو بین الاقوامی نظام کو تہہ و بالا کر سکتا ہے۔ یہ کسی سے مخفی نہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا اصل محرک اور مرکزی نقطہ اسرائیل ہے۔ تل ابیب کے تزویراتی حلقوں میں یہ تصور راسخ ہو چکا ہے کہ ایران کا ایٹمی قوت بننا اسرائیل کی بقا کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے‘ اور تہران کی موجودہ مذہبی و سیاسی شناخت خطے میں صہیونی ریاست کے غلبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیل کی جانب سے ایران میں رجیم چینج کی متعدد کوششیں کی گئیں‘ جن میں حالیہ عرصے کی دو ناکام مہمات سرفہرست ہیں۔ جون 2025ء میں جب اسرائیل نے ایران پر براہِ راست جنگ مسلط کی تو تہران کا ردعمل عالمی استعماری قوتوں کے تمام تر اندازوں سے کہیں زیادہ شدید اور مؤثر تھا۔ اسرائیل اس زعم میں مبتلا تھا کہ وہ اپنی عسکری برتری کے ذریعے تہران کے سیاسی ڈھانچے کو زمین بوس کر دے گا مگر ایرانی دفاعی حصار نے اس خیال کو غلط ثابت کیا۔ عسکری ناکامی کے بعد ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ایران کے داخلی حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔ بیرونی سرپرستی میں عوامی احتجاج کی ایسی لہر اٹھائی گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے پُرتشدد رخ اختیار کر گئی۔ مغربی ذرائع ابلاغ اور امریکہ‘ جو غزہ میں 70ہزار سے زائد بے گناہ انسانوں کی سفاکانہ نسل کشی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے‘ یکایک ایران میں انسانی حقوق کے علمبردار بن کر ابھرے۔ تاہم ایرانی قیادت نے کمال بصیرت اور مہارت سے اس داخلی انتشار اور بیرونی سازش کا رخ موڑ دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بظاہر کسی بڑے اشتعال کے بغیر ہی ایران پر فوجی چڑھائی کی تیاریاں عروج پر ہیں‘ کیونکہ اصل ہدف ایران کی جغرافیائی حدود نہیں بلکہ اس کی نظریاتی شناخت کا خاتمہ اور وہاں ایسی قیادت لانا ہے جو مغرب کے سامنے سرنگوں ہو۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیل یا تباہی کی حالیہ دھمکی اور بحر ہند اور بحیرۂ عرب میں امریکی بحری بیڑے کی پیش قدمی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ امریکی بحری بیڑے کی نقل و حرکت محض علامتی اقدام نہیں ہوتا بلکہ یہ جنگ کے نقارے کی آواز ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پینٹاگون نے اپنے بیڑے کسی ملک کے ساحلوں کی طرف روانہ کیے وہاں تباہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ ایک امریکی بحری بیڑا سمندر پر تیرتا ہوا ایک قلعہ ہے جس کے جلو میں میزائل بردار تباہ کن کشتیاں‘ گہرے پانیوں میں آبدوزیں اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس 60سے 80جنگی طیارے شامل ہوتے ہیں۔ اس عظیم الجثہ عسکری مشینی نظام کو متحرک رکھنے کے اخراجات انسانی عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔ ایک محتاط تخمینے کے مطابق اس بیڑے کے روزانہ کے آپریشنل اخراجات 60سے 80لاکھ ڈالر (تقریباً دو ارب پاکستانی روپے) کے قریب ہیں۔ اس بجٹ کا ایک بڑا حصہ وہاں تعینات ہزاروں عسکری اہلکاروں کی تنخواہوں‘ ان کی خوراک اور دیگر لاجسٹک ضروریات پر صرف ہوتا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی عسکری مہمات پر مجموعی طور پر 12ارب ڈالر سے زائد کے اخراجات آ چکے ہیں۔ اس میں سب سے مہنگا عمل دفاعی میزائلوں کا استعمال ہے۔ دشمن کے ایک معمولی ڈرون کو گرانے کے لیے استعمال ہونے والے تھاڈ یا پیٹریاٹ میزائل کی قیمت کروڑوں ڈالر ہوتی ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ محض چند سیکنڈز کی کارروائی میں اربوں روپے اڑ جاتے ہیں۔ جس بحری بیڑے کو ایران کی جانب روانہ کیا گیا ہے اس کی محض تیاری کی لاگت تقریباً 13ارب ڈالر ہے جبکہ اس پر موجود ساز و سامان کی کل مالیت 30ارب ڈالر سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر وسائل کا متحرک ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکہ کسی بڑی کارروائی کا تہیہ کر چکا ہے۔ نہ تو ایران رجیم چینج کی شرائط پر سمجھوتہ کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی واشنگٹن اپنے اہداف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ‘ اس کا منطقی نتیجہ ایک ہولناک تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس ممکنہ تصادم کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وسطی ایشیا اور یورپ بھی اس کی تپش محسوس کریں گے۔ عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی خطے کے سمندری راستوں سے وابستہ ہے۔ جنگ کی صورت میں سپلائی چین مکمل طور پر منقطع ہو جائے گی جس کے نتیجے میں عالمی معیشت کو ایسی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس معاشی بحران کی سب سے بڑی قیمت ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کو چکانی پڑے گی۔ پاکستان جو اس خطے کا ایک اہم ترین ملک ہے‘ ان خطرات سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت علاقائی امن کے لیے متحرک ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ترک چیف آف جنرل سٹاف جنرل سلجوق بیرقدار اوغلو سے حالیہ ملاقات اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ مشترکہ دفاعی اور سفارتی حکمت عملی کی تشکیل سے خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران پر متوقع حملے کی نوعیت کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ کچھ حلقے اسے ایٹمی تنصیبات پر فضائی بمباری تک محدود دیکھ رہے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ امریکہ افغانستان کی طرز پر کمانڈو آپریشنز کر سکتا ہے۔ تاہم یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ ایران ایک منظم اور باقاعدہ عسکری قوت ہے جس کا دفاعی نظام انتہائی مربوط ہے۔ اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو تہران کے پاس بین الاقوامی قوانین کے تحت دفاع کا بھرپور جواز ہو گا اور اس صورت میں اس کے نشانے پر قطر‘ بحرین‘ کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈے ہوں گے۔ قطر اور یو اے ای جیسے ممالک جنہوں نے دہائیوں کی محنت سے اپنے شیشے کے محلات اور عظیم الشان تجارتی سلطنتیں کھڑی کی ہیں‘ کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ جنگ کا میدان بنیں اور غیرملکی سرمایہ کار وہاں سے فرار ہو جائیں۔ یہ ممالک امریکی اتحادی ہونے کے باوجود واشنگٹن پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کرے۔ اس موقع پر یورپی یونین کا ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ سلگتی آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اگرچہ یورپ نے اس کا جواز داخلی کریک ڈاؤن کو بنایا ہے لیکن اس فیصلے کی ٹائمنگ ایران کو تنہا کرنے کی ایک منظم کوشش لگتی ہے۔ اس صورتحال میں روس اور چین کی خاموشی کسی گہری حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔ روس جو ایران کا تزویراتی شراکت دار ہے اور چین جس کی پوری تجارت اسی خطے کے امن سے وابستہ ہے‘ زیادہ دیر تک خاموش تماشائی نہیں بنے رہ سکتے۔ چین اور روس بخوبی جانتے ہیں کہ جنگ محض دو ملکوں کے درمیان نہیں رہے گی بلکہ ایک عالمی جنگ کی شکل اختیار کر جائے گی جو نہ صرف ایشیا بلکہ کرۂ ارض کے امن و استحکام کو بھسم کر دے گی۔ قوی امکان ہے کہ بڑی طاقتوں کی مداخلت سے خطے کی صورتحال یکسر بدل جائے گی‘ تاہم اگر امریکہ نے اپنی سابقہ روش برقرار رکھی تو اس مرتبہ حالات اس کے قابو سے باہر ہو سکتے ہیں اور جنگ کا انجام ان نتائج سے یکسر مختلف ہو گا جن کا تخمینہ وائٹ ہاؤس کے عسکری حلقوں نے لگا رکھا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں