کسی بھی ریاست کے لیے یہ کٹھن امتحان ہوتا ہے کہ اس کی آغوش میں بسنے والے تمام علاقے معاشی اور سماجی ترقی کے سفر میں ایک ہی رفتار سے آگے بڑھیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جغرافیائی ساخت‘ قدرتی وسائل کی دستیابی اور تاریخی عوامل کے باعث ہر خطے کی نمو یکساں نہیں ہوتی۔ کچھ علاقے اپنے محلِ وقوع کی وجہ سے ترقی کے ہر اوّل دستے کا اعزاز پاتے ہیں تو کچھ قدرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اگر ہم دنیا کے خوشحال اور ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ دیکھیں تو وہاں بھی ہمیں یہ تفاوت نظر آتا ہے‘ مگر قوموں نے دانشمندی اور بصیرت سے اس معاشی خلیج کو کبھی اتنا وسیع نہیں ہونے دیا کہ ایک ہی نقشے پر موجود لوگ ایک دوسرے سے اجنبی نظر آنے لگیں۔ قوموں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ شہروں کی چمک دمک اور گاؤں کی سادگی کے درمیان سہولتوں کا توازن برقرار رہے تاکہ ریاست کا کوئی بھی شہری احساسِ کمتری کا شکار ہو کر خود کو اپنے ہی وطن میں اجنبی تصور نہ کرنے لگے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں پسماندگی کے سائے ملک کے کئی علاقوں میں اس قدر گہرے ہیں کہ وہاں کے مکین آج کے اس جدید دور میں بھی زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں۔
جن اقوام نے عروج حاصل کیا‘ انہوں نے اپنے شہروں کو معاشی انجن تو بنایا مگر دیہات کو بھی فراموش نہیں کیا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر جڑیں پیاسی رہ جائیں تو شاخوں پر پھول کبھی دیرپا نہیں رہ سکتے۔ جب ہمیں کسی ترقی یافتہ ملک کے دیہی علاقوں میں جانے کا موقع ملتا ہے تو وہاں کے گاؤں شہروں سے بھی زیادہ پُرکشش اور منظم نظر آتے ہیں۔ وہاں کا کسان مٹی سے سونا اگاتے ہوئے ان تمام سہولتوں سے فیضیاب ہوتا ہے جو شہر کے باسیوں کو میسر ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں صورتحال ذرا مختلف رہی ہے۔ شہروں کی مصنوعی چمک نے وہ کشش پیدا کی کہ دیہات کے لوگ تیزی سے اپنی مٹی چھوڑ کر شہروں کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ اس نقل مکانی نے بلاشبہ شہروں کو آبادی کے ازدحام میں بدل دیا۔ جب تک گاؤں کا رہنے والا یہ محسوس نہیں کرے گا کہ اسے اپنی دہلیز پر وہ سب کچھ مل سکتا ہے جو شہر کی رونقوں کا حصہ ہے‘ تب تک شہروں پر آبادی کا بوجھ بڑھتا رہے گا اور ترقی کا توازن بگڑا رہے گا۔ حکومتوں کی اولین ترجیح ہمیشہ امن و امان اور استحکام رہی ہے مگر یہ استحکام محض سختی سے نہیں بلکہ سماجی انصاف کی مٹھاس سے حاصل ہوتا ہے۔ اربابِ اختیار کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کا واحد راستہ ان کے معیارِ زندگی کو بلند کرنا ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ریاست ان کی زندگیوں میں آسانی لا رہی ہے تو وہ ریاست کے مضبوط ترین محافظ بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جب مستقبل تاریک نظر آئے اور بنیادی حقوق خواب بن جائیں تو وہ احساسِ محرومی جنم لیتا ہے جو کسی بھی معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ اس ناامیدی کا فائدہ اکثر وہ عناصر اٹھاتے ہیں جو معصوم ذہنوں کو ورغلا کر انہیں ریاست کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم شدت پسندی کی لہروں کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ محرومی کی کوکھ سے جنم لینے والے غصے کو ہی تخریبی مقاصد کے لیے ایندھن بنایا گیا۔ اس لیے دیہی ترقی محض ایک معاشی ہدف نہیں بلکہ یہ ایک محفوظ اور پُرامن پاکستان کی ضمانت بھی ہے۔
چین نے دیہی ترقی کو قومی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا ہے جسے ''رورل ری وائٹلائزیشن سٹرٹیجی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد دیہات کو معاشی‘ سماجی اور تکنیکی طور پر مضبوط بنانا ہے تاکہ شہری اور دیہی فرق کم ہو اور خوراک کی خود کفالت برقرار رہے۔ دیہی آمدن میں اضافہ‘ زرعی پیداوار کی جدید کاری‘ دیہی انفراسٹرکچر کی بہتری‘ صحت اور تعلیم کی ڈیجیٹل رسائی اور مقامی روزگار کی توسیع اس حکمت عملی کے مرکزی ستون ہیں۔ اس پروگرام کی ٹائم لائن مرحلہ وار رکھی گئی۔ 2021ء سے 2025ء تک غربت کے خاتمے کے بعد استحکام اور انفراسٹرکچر کی تیز رفتار توسیع پر کام ہوا۔ 2026ء سے 2035ء تک دیہی معیشت کی جدید کاری‘ عوامی خدمات کو شہری معیار کے قریب لانے اور زرعی سپلائی چین کی ڈیجیٹاائزیشن کو مرکزی ہدف بنایا گیا ہے۔ حتمی ہدف 2049ء تک دیہی ترقی کی جامع تکمیل اور زرعی شعبے کی عالمی مسابقت ہے۔
پاکستان میں بھی کچھ برسوں سے بالخصوص موجودہ حکومت میں شہری ترقی اور جدید ڈیجیٹل نظام کی طرف پیش قدمی دیکھی گئی ہے۔ بڑے شہروں میں ٹریفک کی روانی‘ عوامی حفاظت کے لیے سیف سٹی منصوبے‘ آن لائن مالیاتی ادائیگیاں اور شہری خدمات کی گھر بیٹھے فراہمی جیسے اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال ابھی تک چند تجرباتی منصوبوں اور نگرانی کے نظام تک ہی محدود نظر آتا ہے۔ ہمارا بنیادی چیلنج یہ ہے کہ مختلف اداروں کے ڈیٹا سسٹمز بکھرے ہوئے ہیں‘ جس کی وجہ سے شہری منصوبہ بندی میں وہ پختگی نظر نہیں آتی جو ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کا خاصہ ہے۔ دیہی اور شہری ترقی کے درمیان ربط کمزور ہونے کی وجہ سے شہروں پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور دیہی معیشت اب بھی جدید ٹیکنالوجی کے اصل ثمرات سے محروم ہے۔ چین کی مثال ہمیں سکھاتی ہے کہ ٹیکنالوجی محض سجاوٹ کے لیے نہیں بلکہ عوامی آمدن اور پیداوار بڑھانے کا ذریعہ ہونی چاہیے۔ پاکستان میں اگر ہم مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل حل کو پانی کی تقسیم‘ کچرے کی صفائی‘ توانائی کی بچت اور سستی ہاؤسنگ جیسے عملی مسائل سے جوڑ دیں تو وسائل کے ضیاع میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ جب تک ہمارے پاس ایک مربوط ڈیٹا ماڈل نہیں ہو گا تب تک عوامی خدمات کا معیار عالمی سطح تک نہیں پہنچ سکے گا۔
مستقبل کی روشن تصویر اس وقت مکمل ہو گی جب ڈیجیٹل انفراسٹرکچر شہروں کے ساتھ ساتھ دیہات تک پھیلے گا۔ جہاں شہروں میں سمارٹ سسٹم کے ذریعے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں‘ وہیں دیہی علاقوں میں سمارٹ ایگریکلچر اور موسمیاتی تبدیلیوں کی پیش گوئی کسانوں کو خوشحال بنا سکتی ہے۔ دیہی ای کامرس کے ذریعے کسان اپنی محنت کا براہِ راست صلہ پا سکتا ہے۔ اگر ان دونوں دھاروں کو ایک قومی ڈیجیٹل فریم ورک میں پرو دیا جائے تو شہروں پر آبادی کا دباؤ بھی کم ہو گا اور دیہی معیشت بھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی اس وقت تک حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتی جب تک اس کے پیچھے ادارہ جاتی تسلسل‘ یکجا ڈیٹا سسٹم اور واضح اہداف نہ ہوں۔ چین کی عظیم ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ وہاں منصوبہ بندی وقتی نعروں پر نہیں بلکہ مستقل قومی ترجیحات پر مبنی ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی کو ترقی میں بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ بجٹ کا تسلسل برقرار رہے اور کارکردگی کی کڑی نگرانی کی جائے۔ ترقی محض بلند و بالا عمارتوں کا نام نہیں بلکہ یہ انسانوں کے چہروں پر اطمینان کی اس لہر کا نام ہے جو حقیقی خوشحالی سے آتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت دیہی ترقی کو اپنا مشن بنائے تاکہ پاکستان کا ہر گوشہ ترقی کی خوشبو سے مہک اٹھے۔ واضح اہداف‘ وسائل کا منصفانہ استعمال اور مخلصانہ نگرانی ہی وہ راستے ہیں جن پر چل کر ہم مستحکم اور خوشحال پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں جب ہماری دیہی آبادی خوشحال ہو گی تو پاکستان معاشی طور پر بھی مضبوط ہو گا اور سماجی طور پر بھی ایک ایسی ناقابلِ تسخیر اکائی بن جائے گا جسے کوئی دشمن کمزور نہیں کر سکے گا۔