پاکستان کی مغربی سرحدوں سے اٹھنے والے سیاہ دھوئیں کے بادل اب محض جغرافیائی تنازعات کی علامت نہیں رہے بلکہ یہ اس اعتماد کے مقتل کی وہ المیہ داستان بن چکے ہیں جسے پاکستان نے عشروں تک بے لوث ایثار اور برادرانہ جذبوں کے لہو سے سینچا تھا۔ 16فروری کو باجوڑ کی سنگلاخ مٹی پر بہنے والا ہمارے جوانوں کا لہو کوئی اتفاقی حادثہ یا محض سرحدی جھڑپ نہیں تھی بلکہ یہ اس سنگین عہد شکنی کا نوحہ ہے جس کی ڈوریں کابل کے ایوانوں سے جڑی ہیں۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے افغان ناظم الامور کی طلبی اور احتجاج اس امر کا اعلان ہے کہ پاکستان اب مصلحتوں کی چادر اتار کر حقیقت پسندی کے پیرہن میں بات کر رہا ہے۔ یہ احتجاج محض سفارتی خط و کتابت نہیں بلکہ 25 کروڑ پاکستانیوں کے صبر کے لبریز ہوتے پیمانے کی وہ گونج ہے جو اب خاموش نہیں رہے گی۔ تاریخ کے جھروکوں سے جھانکیں تو اپنوں کے دیے ہوئے زخموں کی ایک طویل اور کربناک فہرست نظر آتی ہے۔ جب دنیا نے افغانستان کو تنہائی کے مہیب اندھیروں میں دھکیلا اور عالمی برادری نے کابل سے آنکھیں پھیر لیں تویہ پاکستان ہی تھا جس نے اپنے ماتھے پر کبھی شکن نہ آنے دی۔ ہم نے چیلنجز سے نمٹتی اپنی معیشت پر لاکھوں مہاجرین کا بوجھ خندہ پیشانی سے برداشت کیا‘ اپنے وسائل بانٹے اور عالمی فورمز پر کابل کے نئے حکمرانوں کی وکالت کے لیے آواز بلند کی۔ لیکن آج وہ ہاتھ جو کابل کی فلاح کے لیے اٹھے تھے‘ اپنوں ہی کے دیے ہوئے زخموں سے لہو لہان ہیں۔ جواب میں ہمیں شکر گزاری کے بجائے شدت پسندوں کے زہریلے پھن مل رہے ہیں۔ یہ بڑی ستم ظریفی ہے کہ جنہیں ہم نے اپنا بازو اور قوت سمجھا‘ وہ ان فتنہ پرور عناصر کے لیے ریشمی بستر بچھا رہے ہیں جو پاکستانی مٹی کو معصوم بچوں اور جوانوں کے خون سے رنگین کر رہے ہیں۔ افغان عبوری حکومت کا رویہ اب مجرمانہ خاموشی کے حصار سے نکل کر دہشت گردوں کی سہولت کاری کے خطرناک درجے پر پہنچ چکا ہے۔
اس تناظر میں سب سے تکلیف دہ پہلو اُن سرحدی قبائل کا ہے جو کبھی پاکستان کی دفاعی فصیل ہوا کرتے تھے۔ دو دہائیاں قبل تک افغانستان سے متصل ان علاقوں کو پاکستان کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ جملہ تاریخ کے سینے پر نقش تھا کہ قبائل سرحدوں کے بلاتنخواہ محافظ ہیں۔ ان قبائل کی جانثاری اور وفاداری کو ہر دور میں سرکاری سطح پر بھی تسلیم کیا گیا اور یہ علاقے امن و آشتی کا گہوارہ تھے۔ ان کے افغانستان کے ساتھ مثالی تہذیبی اور معاشی مراسم تھے اور افغانستان کی معیشت کا بڑا انحصار دوطرفہ تجارت پر تھا لیکن نائن الیون کے بعد جب بارود نے افغان فضاؤں کو مسموم کیا تو سب سے زیادہ زخم ان قبائل نے ہی کھائے۔ وہ علاقے جہاں کبھی دہشت گردی کا تصور نہیں تھا‘ آج اپنے جغرافیے کی وجہ سے شدت پسندوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ حیرت کا باعث ہے کہ جن محافظوں نے دشمن کو کبھی قدم رکھنے کی جرأت نہ کرنے دی‘ آج ان کی اپنی بستیاں دراندازی اور خودکش حملوں کے سائے میں جی رہی ہیں۔
پاکستان نے بارہا ناقابلِ تردید ثبوتوں کے انبار کابل کے سامنے رکھے‘ نقشے دکھائے‘ کیمپوں کی نشاندہی کی اور سیٹیلائٹ تصاویر تک فراہم کیں‘ مگر وہاں سے ہمیشہ انکار کی سرد ہوا اور تاویلات کے خشک پتے ہی برآمد ہوئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کابل کے اربابِ اختیار دوطرفہ تعلقات اور بین الاقوامی ضابطوں کو اپنے ان شدت پسند اثاثوں کی نذر کرنے پر تُل گئے ہیں جن کا واحد مقصد خطے میں آگ اور خون کا بازار گرم کرنا ہے۔ افغان قیادت شاید یہ بھول رہی ہے کہ آستین میں پالے گئے سانپ کبھی اپنے مربی کی تمیز نہیں کرتے۔ اگر آج یہ شدت پسند پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں تو کل ان کی اشتہا کابل کے اقتدار کو بھی نگل سکتی ہے۔ دہشت گردی کا یہ کینسر کسی ایک سرحد کا پابند نہیں رہتا اور افغان قیادت کی دانستہ خاموشی دراصل ایک ایسے طوفان کو دعوت دے رہی ہے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں مسلسل دراندازی اور تخریب کاری سے افغان طالبان کو آخر حاصل کیا ہو رہا ہے؟ کوئی بھی ذمہ دار ریاست کیونکر چاہے گی کہ بغیر کسی ٹھوس وجہ کے اپنے سب سے اہم ہمسائے کے ساتھ کشیدگی پیدا کرے؟ اس کشیدگی کا سب سے بڑا نقصان خود افغان عوام اور تاجر طبقے کو ہو رہا ہے۔ رمضان المبارک آ چکا ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جب افغانستان کو اشیائے خور و نوش کے لیے پاکستانی منڈیوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ افغان تاجر ماہِ شعبان سے ہی اپنی سپلائی لائن درست کر لیتے ہیں لیکن حالیہ بدامنی اور حملوں کی وجہ سے جب سرحدیں بند ہوئیں تو اس کا براہِ راست اثر افغان عوام کے دسترخوان پر پڑا۔ اگر افغان قیادت لچک دکھاتی اور پاکستان کی سلامتی کی ضمانت دیتی تو بارڈر کھول کر دوطرفہ تجارت کو فروغ دیا جا سکتا تھا‘ مگر افسوس کہ انہوں نے دوستی کے ہاتھ کے بجائے دہشت گردوں کی ڈھال بننے کو ترجیح دی۔
پاکستان کی عسکری قیادت اور وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا حالیہ بیان اس حقیقت کا عکاس ہے کہ اب سافٹ سٹیٹ کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ پاکستان کے پاس وہ ٹیکنالوجی اور عسکری قوت موجود ہے کہ وہ سرحد پار جا کر ان ٹھکانوں کو نیست و نابود کر دے جہاں سے پاکستان کی تباہی کے منصوبے بنتے ہیں۔ ہم افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں‘ لیکن یہ احترام یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ جب پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے 70 فیصد سے زائد تانے بانے افغان شہریوں اور افغان سرزمین سے جڑتے ہوں تو پاکستان خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ نئی دہلی اور کابل کا ایک ہی پیج پر نظر آنا درحقیقت بدامنی کی اصل وجہ ہے جس سے یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ کابل دانستہ طور پر ان قوتوں کا آلہ کار بن رہا ہے جو پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔
افغان طالبان کو چان لینا چاہیے کہ پاکستان کی سلامتی ہماری ریڈ لائن ہے اور اس لائن کو پار کرنے والوں کے لیے اب کوئی معافی نہیں ہو گی۔ ہم وسطی ایشیا تک تجارت کے خواب دیکھتے ہیں‘ ہم اقتصادی راہداریوں کے ذریعے خطے کی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں‘ ہم چاہتے ہیں کہ بندوق کی جگہ قلم اور بارود کی جگہ خوشبو لے لے‘ لیکن یہ سب کچھ قومی غیرت اور خودداری کے سودے پر ممکن نہیں۔ کابل کو بھی ادراک کرنا ہو گا کہ پاکستان کی ناراضی وہ گرداب ہے جس میں پھنسنے کے بعد اس کیلئے عالمی تنہائی سے نکلنا ناممکن ہو جائے گا۔ اب بال مکمل طور پر افغان قیادت کے کورٹ میں ہے اور انہیں دو میں سے ایک آپشن کا انتخاب کرنا ہو گا۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کریں‘ ٹی ٹی پی کے فتنہ پرور عناصر کو پاکستان کے حوالے کریں اور ماضی کی طرح ایک مثالی ہمسائے کا حق ادا کرتے ہوئے معاشی ترقی کے سفر میں شامل ہو جائیں۔ دوسرا راستہ شدت پسندوں کی پشت پناہی‘ عالمی تنہائی‘ معاشی بدحالی اور پاکستان جیسے برادرانہ پڑوسی ملک کی دشمنی مول لینے کا ہے‘ جس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ کابل کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ اسے اپنے عوام کی خوشحالی عزیز ہے یا ان دہشت گردوں کی پناہ گاہیں جو اُن کے اپنے مستقبل کے لیے بھی زہرِ قاتل ہیں۔