وطن عزیز کے بدخواہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر اس ملک میں چند سال امن و استحکام کا تسلسل برقرار رہا تو اپنی جیو سٹرٹیجک اہمیت‘ ایٹمی صلاحیت اور بے پناہ افرادی قوت کی بدولت یہ ملک نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کا محور بن کر ابھر سکتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو دشمن کے تھنک ٹینکس کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا۔ گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان کی دفاعی اور معاشی پالیسیوں میں جو ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے اس نے دشمن کے اعصاب پر لرزہ طاری کر دیا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری محض ایک سڑک یا انفراسٹرکچر کا منصوبہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی معاشی خود مختاری کا وہ خواب ہے جو اَب حقیقت کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ بدخواہ طاقتیں جانتی ہیں کہ گوادر کے گہرے پانیوں کی بندرگاہ اور اس سے جڑے صنعتی زونز کی تکمیل کا مطلب خطے میں طاقت کے توازن کا پاکستان کے حق میں جھک جانا ہے۔ اس تناظر میں شدت پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو ایک واضح پیٹرن سامنے آتا ہے۔ ان کی زیادہ تر سرگرمیاں ان علاقوں تک محدود ہیں جہاں سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہ اس بڑی بساط پر وہ چھوٹے مہرے ہیں جنہیں پراکسی وار کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
دشمن نے بلوچستان میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ ترتیب دیا تھا‘ جس کے تحت بلوچستان کے 12 مختلف شہروں میں بیک وقت حملے کر کے پوری دنیا کو یہ تاثر دینا تھا کہ پاکستان کا کنٹرول اپنے حساس علاقوں پر ختم ہو چکا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ تھا جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کو غیر محفوظ ریاست ثابت کرنا تھا‘ تاہم سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ مستعدی اور جدید انٹیلی جنس نیٹ ورک نے ان کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ دہشت گردوں کے حملوں کے آغاز سے 24 گھنٹے قبل ہی انتہائی خفیہ اور ٹارگٹڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرز پر کاری ضرب لگائی گئی۔ حملوں سے پہلے ہی41 سے زائد دہشت گردوں کا منطقی انجام تک پہنچنا دراصل اس منظم سازش کے تابوت میں پہلی کیل تھی۔ جب ان کے سرکردہ ساتھی مارے گئے تو باقی ماندہ دہشت گرد بوکھلا کر اپنے بلوں سے باہر نکل آئے اور عوامی املاک سمیت جہاں موقع ملا اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ ریاست کے آہنی شکنجے نے جب دہشت گردوں کے لیے چھپنے کی تمام جگہیں ختم کر دیں تو انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اخلاقی پستی کی تمام حدیں پار کر لیں۔
کالعدم بی ایل اے اور داعش جیسے گروہوں نے اب اپنی صفوں میں خواتین کو شامل کر کے انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان میں جہاں خواتین کو عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘ وہاں خواتین پر شک کرنا یا ان کی سخت تلاشی لینا سماجی حساسیت کا حامل معاملہ ہے۔ اسی معاشرتی حیا اور احترام کا فائدہ اٹھا کر اب دہشت گرد خواتین کو ٹارگٹ تک پہنچنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف ہماری سماجی‘ قبائلی اور اسلامی روایات کی توہین ہے بلکہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ کالعدم تنظیموں کے مرد اب سکیورٹی اداروں کا سامنا کرنے کی سکت کھو چکے ہیں۔ جب کسی تحریک میں خواتین اور بچوں کو ڈھال بنایا جانے لگے تو سمجھ لیں کہ وہ تحریک اپنے آخری اور بدترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ بزدلی اس بات کا ثبوت ہے کہ شدت پسند عناصر کے پاس اب نہ تو کوئی نظریہ بچا ہے اور نہ ہی لڑنے کی ہمت۔
دہشت گردوں کے گرد نہ صرف گھیرا تنگ ہو رہا ہے بلکہ ان کے لیے زمین بھی سکڑتی جا رہی ہے۔ ان کی سپلائی لائنز‘ ان کے مالیاتی نیٹ ورکس اور بیرونِ ملک بیٹھے ان کے ہینڈلرز اب ریاست کی نظروں میں ہیں۔ اب وہ وقت گزر گیا جب دہشت گرد کارروائی کر کے پہاڑوں میں روپوش ہو جاتے تھے اور ہفتوں تک ان کا سراغ نہیں ملتا تھا۔ آج کا پاکستان جدید ترین سرویلنس ٹیکنالوجی‘ جیو فینسنگ اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے ذریعے دشمن کے ہر قدم کی نگرانی کر رہا ہے۔ ریاست کی نئی پالیسی اب زیرو ٹالرنس پر مبنی ہے۔ اب ایسا نہیں ہو گا کہ کوئی گروہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے بعد محفوظ ٹھکانوں میں بیٹھ کر وِڈیو پیغامات جاری کرے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انہیں ان کی پناہ گاہوں سمیت ڈھونڈ نکالا جا رہا اور فوری کیفرکردار تک پہنچایا جا رہا ہے۔ دشمن کے مالیاتی ذرائع کو منجمد کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے‘ جس کی وجہ سے وہ اب بوکھلاہٹ میں آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
شدت پسند عناصر کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کامیابیاں اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف گولہ بارود سے نہیں جیتی جا سکتی‘ اس کے لیے متفقہ قومی بیانیے کی اشد ضرورت ہے جس میں عوام اور صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت اور ریاستی بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوں۔ دشمن سوشل میڈیا کے ذریعے بلوچستان اور دیگر حساس علاقوں کے نوجوانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ ریاست ان کے حقوق غصب کر رہی ہے۔ سادہ لوح ذہنوں میں یہ زہر انڈیلنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جن وسائل پر مقامی لوگوں کا حق ہونا چاہیے ان وسائل کو بیدردی سے لوٹا جا رہا ہے۔ یہ پروپیگنڈا حقائق کے سراسر برعکس اور پاکستان کے بدخواہ عناصر کا پیدا کردہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں معدنیات کو نکالنے کا عمل شروع ہوتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ اس علاقے کی مقامی آبادی کو ہو گا‘ اسی طرح ترقیاتی منصوبے روزگار کی فراہمی اور مقامی آبادی کے لیے خوشحالی کی علامت ہیں۔ بیرونی عناصر کے جھانسے میں آکر جب دہشت گرد سکولوں کو دھماکوں سے اڑاتے ہیں‘ سڑکیں بنانے والے مزدوروں کو قتل کرتے ہیں اور ہسپتالوں کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالتے ہیں تو وہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ عوام کے نہیں بلکہ اپنی محرومیوں کا سودا کرنے والے غیر ملکی آقاؤں کے وفادار ہیں۔ ریاست دشمن کی چالوں سے پوری طرح آگاہ ہے‘ یہی وجہ ہے کہ پسماندہ علاقوں میں سماجی و معاشی اصلاحات کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے تاکہ دشمن کو پروپیگنڈے کے لیے کوئی جگہ نہ مل سکے۔ جب عوام کو بہتر معیارِ زندگی میسر ہو گا تو پروپیگنڈے سے نمٹنا آسان ہو جائے گا۔ اس لیے کہ عوام کا اعتماد ہی وہ اصل طاقت ہے جو دہشت گردی کے عفریت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر سکتی ہے۔
بلوچستان میں 145 سے زائد دہشت گردوں کا خاتمہ محض ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ اس عزم کا اعلان ہے کہ پاکستان اب کسی بھی قسم کی انتہا پسندی کو برداشت نہیں کرے گا۔ دہشت گردوں کے سرپرستوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ اب ان کے مہرے مزید کام نہیں آئیں گے۔ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہوں گی‘ جب گوادر کی بندرگاہ سے اٹھنے والی معاشی لہریں پورے ملک کو سیراب کریں گی اور جب خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے پہاڑ سیاحوں کے استقبال کے لیے امن کا گہوارہ بنیں گے۔ دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے‘ ان کی پناہ گاہیں مسمار ہو رہی ہیں اور ان کا انجام بہت نزدیک ہے۔ پاکستان کا مستقبل روشن ہے کیونکہ اس کی بنیادوں میں اُن شہیدوں کا لہو شامل ہے‘ جنہوں نے اپنے آج کو ہمارے کل پر قربان کر دیا۔