"RS" (space) message & send to 7575

تاشقند سے لاہور تک

اکیسویں صدی کی جیو پالیٹکس اب تیزی سے جیو اکنامکس میں بدل رہی ہے‘ جہاں ریاستوں کی طاقت کا اندازہ ان کے اسلحہ کے ذخائر کے بجائے ان کی تجارتی راہداریوں اور معاشی اتحادوں سے لگایا جا رہا ہے۔ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باوجود اپنی مشرقی و مغربی سرحدوں کے دفاع اور افغانستان کے داخلی عدم استحکام کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہا۔ بلاشبہ ہمارا دفاع تو مضبوط ہوا مگر قریب ترین ممالک کے ساتھ زمینی تجارت کے مواقع بھی کم ہوتے گئے اور اب ہمیں نئی منڈیوں اور سٹریٹجک شراکت داروں کی ضرورت ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستیں اس کا بہترین متبادل ہیں۔ قازق اور ازبک صدور کا حالیہ دورۂ پاکستان محض ایک روایتی سفارتی دورہ نہیں بلکہ یہ ''ویژن سینٹرل ایشیا‘‘ کی عملی تعبیر ہے جس کا خواب دہائیوں سے دیکھا جا رہا تھا۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت بخوبی جان چکی ہے کہ وسط ایشیائی خطے کے ساتھ تجارت کے لیے افغانستان پر انحصار کرنا بڑا تزویراتی خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور بارڈر کی بندش نے پاکستانی تاجروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وسطی ایشیائی خطے تک رسائی کیلئے متبادل راستوں کی تلاش اب انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ ملک کا بہترین کوالٹی کا آلو روایتی طور پر افغانستان برآمد کیا جاتا رہا ہے‘ جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوتا تھا۔ افغان عوام کو سستے آلو میسر آ جاتے تھے تو پاکستانی کسانوں کو قریب ترین منڈی دستیاب تھی‘ لیکن سرحدوں کے بند ہونے سے یہ سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے‘ جس کا خمیازہ دونوں طرف کے عوام نے بھگتا۔ اسی بنا پر پاکستان کی قیادت نے ازبکستان‘ قازقستان اور کرغزستان کی طرف رخ کیا ہے جو نہ صرف مستحکم معیشتیں ہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ طویل مدتی تجارتی روابط کی بھی خواہش مند ہیں۔
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف ایک ویژنری اور مدبر لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کی قیادت میں ازبکستان نے جو معاشی انقلاب برپا کیا ہے وہ دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ گزشتہ 10برسوں میں ازبکستان کی مجموعی قومی پیداوار دوگنا ہو چکی ہے‘ جو کسی بھی لینڈ لاکڈ ملک کے لیے غیرمعمولی کارنامہ ہے۔ صدر مرزائیوف کی اصلاحات کے نتیجے میں 85لاکھ افراد غربت سے نکلے اور بیروزگاری کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بزنس فورم میں انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے پاکستان کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل قرار دیا۔ ازبکستان کی ترقی کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے اس دوطرفہ محبت اور احترام کے رشتے کو مضبوط کرتے ہوئے صدر شوکت مرزائیوف کو ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز عطا کیا جبکہ نسٹ یونیورسٹی نے انہیں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے نوازا‘ جو اُن کی علمی اور انتظامی صلاحیتوں کا عالمی اعتراف ہے۔
ازبکستان میں پاکستانی تاجروں کے لیے کئی شعبوں میں مواقع موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان نجی شعبے میں تین ارب 40کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد ایسی پیش رفت ہے جو آنے والے برسوں میں خطے کی معیشت کا رخ بدل سکتی ہے ۔ باہمی تجارت کے حجم کو فی الحال تین ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے جبکہ دوطرفہ تجارت میں اس سے بھی کہیں زیادہ کی صلاحیت موجود ہے۔ ازبکستان نے پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے جس سازگار ماحول کا وعدہ کیا ہے اس کی مثال خطے میں نہیں ملتی۔ ازبک صدر نے پاکستانی صنعتکاروں کو 10سال کیلئے ٹیکس سے استثنا کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات امریکہ اور یورپ کی منڈیوں میں پہچان رکھتی ہیں۔ پاکستانی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان اب ازبکستان میں اپنے پلانٹس لگانے کے خواہاں ہیں جہاں انہیں سستی بجلی‘ وافر کپاس اور وسطی ایشیا اور روس کی بڑی منڈیوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہو گی۔ یہ شراکت داری دونوں ممالک کے مفاد میں ہے جہاں ازبکستان کو پاکستانی مہارت ملے گی اور پاکستان کو اپنی مصنوعات پھیلانے کے لیے ایک ٹیکس فری بیس میسر آئے گی۔ جدید طب کے میدان میں ازبکستان کی پیش قدمی نے ان تمام تاثرات کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ وسطی ایشیا طبی لحاظ سے باقی دنیا سے پیچھے ہے۔ ازبکستان نے فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو مکمل طور پر جدید خطوط پر استوار کر لیا ہے۔ کینسر‘ ذیابیطس اور دل کے امراض کی ایسی ادویات تیار کرنا شروع کر دی ہیں جن کے لیے پہلے پورا خطہ یورپ کا محتاج تھا۔ ان کی ادویات سازی کی صنعت یورپی کوالٹی کے سرٹیفیکیشنز پر پورا اترتی ہے۔ ازبک صدر نے بزنس فورم سے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ وہ پاکستان کو آلاتِ جراحی اور ادویات کی تیاری میں مکمل تکنیکی تعاون فراہم کریں گے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کیونکہ ہم اپنی ادویات کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں یا پھر خام مال کے لیے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان طبی تعاون کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی سب سے بڑا فائدہ ہو گا۔ ازبکستان پاکستان میں جدید لیبارٹریوں کے قیام اور ہائی ٹیک طبی آلات کی مینوفیکچرنگ میں اپنی مہارت شیئر کرنے کو تیار ہے۔ اس سے پاکستان کا مہنگی درآمدات پر انحصار کم ہو گا اور قیمتی زرِمبادلہ کی بچت ہو گی۔ جب ادویات کا خام مال مقامی سطح پر تیار ہو گا تو مارکیٹ میں ادویات کی قیمتیں خود بخود کم ہو جائیں گی جس کا براہِ راست فائدہ غریب عوام کو پہنچے گا۔ طبی سیاحت اور تعلیم کے شعبوں میں تبادلوں کے ذریعے ازبکستان کے سپیشلائزڈ مراکز اور پاکستان کے تجربہ کار ڈاکٹروں کا اشتراک ایک ایسا ہیلتھ کوریڈور بنا سکتا ہے جو پورے جنوبی ایشیا کے لیے سستے اور معیاری علاج کی ضمانت بن سکے۔
اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے تجارت‘ دفاع‘ زراعت‘ کان کنی‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا ایکسچینج سمیت 36کے قریب اہم معاہدوں پر دستخط کیے۔ ان معاہدوں میں سب سے اہم پہلو سٹریٹجک تعلقات کا استحکام ہے۔ بھارت کے خلاف مختلف محاذوں پر پاکستان کی کامیابیوں اور خطے میں بدلتی دفاعی صورتحال کے بعد برادر اسلامی ممالک اب پاکستان کو محفوظ اور مضبوط سٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ازبکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور جدید جنگی حکمتِ عملیوں کے لیے پاکستان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ پاکستان کے لیے ازبکستان کے راستے ٹرانس افغان ریلوے کا منصوبہ ایک ایسی لائف لائن ہے جو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو تاشقند‘ آستانہ اور پھر ماسکو تک جوڑ دے گی۔ یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ پورے براعظم کا تجارتی گیٹ وے بن جائے گا۔ ازبک صدر کی جانب سے پاکستانی تاجروں کو دی جانے والی مراعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ پاکستان کو برادر ملک سے بڑھ کر معاشی اتحادی تسلیم کر چکے ہیں۔ اگر ہم اپنی ٹیکسٹائل کی مہارت‘ ازبکستان کی فارماسیوٹیکل ترقی اور دونوں کی سٹریٹجک لوکیشن کو یکجا کر دیں تو ہم ایک ایسا معاشی بلاک بنا سکتے ہیں جو عالمی طاقتوں کے دباؤ سے آزاد ہو۔ صدر شوکت مرزائیوف کا ویژن اور وزیراعظم شہباز شریف کا معاشی ایجنڈا ہم آہنگ ہو کر چلے تو وہ دن دور نہیں جب تاشقند اور لاہور کے درمیان تجارتی قافلوں سے اس خطے میں خوشحالی کا وہ دور شروع ہو گا جو کبھی شاہراہِ ریشم کا خاصہ ہوا کرتا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں