"KMK" (space) message & send to 7575

پٹواری کے بستے سے کمپیوٹرائزڈ نظام تک …(آخری)

یہ فقیر خوش قسمت ہے کہ اسے زندگی میں ایک دو بار کے علاوہ کبھی پٹواری‘ سب رجسٹرار اور دفتر تحصیل سے پالا نہیں پڑا۔ نئے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے رائج ہونے کے بعد تو کبھی بھی اس کو آزمانے کا ذاتی تجربہ نہیں ہوا۔ اس لیے حالیہ معاملہ متعلقہ لوگوں سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے‘ تاہم پوری کوشش کی کہ معلومات لیتے وقت کسی ایسے شخص پر بھروسہ یا اعتبار نہ کیا جائے جو اس نظام سے فائدہ اٹھانے والا یا اس نظام کا حصہ بننے سے محرومی کے باعث اس کیلئے دل میں خواہ مخواہ کا بغض رکھتا ہو۔ ملتان میں یہ سارا نظام جس طرح چل رہا تھا یا تو وہ سراسر نالائقی کے باعث تھا یا پھر اس کے پیچھے سیدھی سیدھی بدنیتی شامل تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سب رجسٹرار کا لاگ اِن نیم اور پاس ورڈ صرف اس کے سرکاری کمپیوٹر کیلئے مخصوص ہوتا اور وہ کسی اور ڈیسک ٹاپ یا لیپ ٹاپ پر کھل ہی نہ سکتا مگر ایسا نہیں تھا۔ سب رجسٹرار کا لاگ اِن نیم اور پاس ورڈ ڈال کر اس کو حاصل کردہ اختیارات کسی بھی کمپیوٹر پر کھولے جا رہے تھے۔ سسٹم بناتے وقت سائبر سکیورٹی کے اس نہایت اہم پہلو کو نظر انداز کیا گیا یا جان بوجھ کر اس کھڑکی کو کھلا رکھا گیا تاکہ اس کو ناجائز مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکے‘ اس بارے میں یہ عاجز صرف گمان ہی کر سکتا ہے‘ اور میرا گمان ہے کہ یہ سقم جان بوجھ کر رکھا گیا تھا تاکہ اس بہتی گنگا میں سب اپنے ہاتھ دھوئیں اور سرکار کو چونا لگائیں۔
ہوتا یوں ہے کہ فروخت کرنے سے پہلے اپنی زمین‘ مکان‘ دکان یا جائیداد کی فردِ ملکیت برائے بیع (فروخت) حاصل کی جاتی ہے۔ ملتان کے چند مواضعات کو چھوڑ کر‘ جن کی فرد ملکیت اب بھی پٹواری اپنے پرت پر جاری کرتا ہے‘ باقی کی فرد ملکیت کمپیوٹرائزڈ اراضی سنٹر سے جاری ہوتی ہے۔ مشتری (خریدار) یہ فرد لے کر وثیقہ نویس کے پاس جاتاہے جو اس جائیداد کی قیمت کے مطابق درکار قیمت کے سٹامپ پیپرز نکلواتا اور ان پر زمین‘ مکان‘ دکان یا جائیداد کی رجسٹری کی تحریر لکھ کر ان کی سرکاری فیس ادا کرتا ہے۔ قارئین! بائع اور مشتری جیسے متروک الفاظ لکھنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ زمین کے کاغذات کی تکمیل کیلئے ابھی تک یہی الفاظ رائج ہیں۔ وثیقہ نویسی کسی زمانے میں تو بہت تکنیکی اور مہارت پر مبنی کام تھا تاہم اب امرت دھارا قسم کی کمپوز شدہ تحریر کو جائیداد کی تفصیل کے مطابق اوپر نیچے کرکے اس کا پرنٹ نکالنے کا دور آ چکا ہے۔ پہلے وثیقہ نویس کا کام اس حد پر ختم ہو جاتا تھا لیکن نئے نظام میں رکھے گئے دانستہ خلا کے باعث صورتحال یہ تھی کہ آگے کا سارا نظام بھی وثیقہ نویس ہی چلا رہے تھے۔
ہوتا یہ تھا کہ مشتری وثیقہ نویس سے سٹیمپ پیپرز المعروف 'اشٹام‘ پر تفصیل جائیداد و شرائط خریدو فروخت لکھوا کر ان پر واجب الادا سرکاری فیس از قسم ایف بی آر اور ٹی ایم اے وغیرہ بصورت ایڈوانس ٹیکس 236K اور 236C کے تحت جمع کروا کے رجسٹرار؍سب رجسٹرار کے دفتر جا کر لاگ اِن میں بیان کرواتا اور بعد ازاں رجسٹرار سب رجسٹرار اس رجسٹری پر اپنا انگوٹھا لگا کر اس انتقال کو پاس کر دیتا۔ لیکن ملتان میں یہ سارا نظام فرد ملکیت نکلوانے کے بعد مکمل طور پر وثیقہ نویس کے ہاتھ میں آ چکا تھا۔ وہی اس جائیداد کی قیمت طے کرکے اس کے مطابق سٹامپ پیپرز کی ڈیوٹی ادا کر کے نکلواتا‘ وہیں وہ سرکاری فیس ممکنہ حد تک کم کرکے مشتری کو پہنچائے جانے والے مالی فائدے میں سے اپنا حصہ وصول کر لیتا‘ وہیں وہ سب رجسٹرار کے لاگ اِن میں پاس ورڈ ڈال کر اس کا بیان کرواتا۔ زیادہ مہربانی کرنی ہوتی تو اپنا لیپ ٹاپ بائع کے گھر لے جاتا‘ یعنی سب رجسٹرار کا دفتر بائع کے گھر پہنچ جاتا۔ سارے کام کی تکمیل بالا بالا ہی ہو جاتی اور آخر میں رجسٹری سب رجسٹرار کے سامنے پیش کر دی جاتی‘ جس پر وہ آنکھ بند کرکے انگوٹھا لگا دیتا اور سارا کام باہمی افہام وتفہیم سے سرانجام پاتا۔
شکایات ملنے پر کمشنر ملتان نے اس پر ایکشن کا فیصلہ کیا۔ مکمل تفتیش کے بعد انہوں نے تب کے سب رجسٹرار کو تبدیل کرنے کیلئے حکومت پنجاب کو خط لکھا اور اس کے نتیجے میں ملتان میں نیا سب رجسٹرار آ گیا۔ اس سلسلے میں لاہور خاص طور پر درخواست کی کہ اس سیٹ پر کسی پرانے پاپی کو تعینات کرنے کے بجائے PMS کے ڈائریکٹ سلیکشن پر آئے ہوئے کسی نوجوان کو تعینات کیا جائے۔ نیا سب رجسٹرار آیا مگر چند ہی روز میں نمک کی کان میں نمک ہو گیا۔ اس کو تبدیل کروا کر اسی طرح کے ایک اور نوجوان کی تعیناتی ہوئی تو مذکورہ افسر نے اسے اس مافیا کے طریقہ کار سے آگاہ کرتے ہوئے بہترین جدید فون‘ گاڑی اور گھر کی سہولت پیش کرنے پر انکار کی نصیحت کی اور بتایا کہ یہ ابتدا ہو گی اور پھر یہ سلسلہ ماہانہ موٹی سی رقم کے عوض لاگ اِن نیم اور پاس ورڈ کی حوالگی سے ہوتا ہوا تمہاری جیب گرم کرنے سے سرکاری خزانے کو چونا لگانے پر ختم ہو گا۔ نوجوان آفیسر نے بڑے زور وشور سے اس نصیحت پر عمل کرنے کا وعدہ کیا۔
چند روز معاملات درست چلے اور پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ پتا چلا کہ فون‘ گاڑی اور گھر کی سہولت قبول کر لی گئی ہے۔ ایک سرکاری ایجنسی کو تصدیق کیلئے ذمہ داری سونپی گئی تو علم ہوا کہ خبر نہ صرف درست ہے بلکہ لاگ اِن نیم اور پاس ورڈ پورے مافیا کے زیر استعمال ہے۔ خبر ملی کہ تحصیل سٹی کے دفتر میں اس وقت بھی مافیا کے چار اہم کارندے سرگرم عمل ہیں۔ کمشنر نے اپنے ڈرائیور یا کسی اور دفتری اہلکار کو منزلِ مقصود کا بتائے بغیر روانگی ڈالی اور دفتر تحصیل پہنچ کر مرکزی دروازہ بند کروا دیا۔ سامنے سرکاری کاؤنٹر کے اندر موجود دو اشخاص نے نکلنے کی کوشش کی مگر دھر لیے گئے۔ ان دو کو پکڑنے کے بعد جب ساتھ موجود سب رجسٹرار کے کمرے میں پہنچے تو حسبِ توقع وہ فون سے کھیلنے میں مصروف تھا۔ جب اس سے کاؤنٹر کے اندر غیر متعلقہ اشخاص بارے پوچھا تو کہنے لگا کہ میں نے ان کو بہت منع کیا ہے مگر یہ لوگ باز ہی نہیں آتے۔ اسی اثنا میں دیگر دو غیر متعلقہ اشخاص وہاں موجود سائلوں میں گم ہو گئے لیکن دروازہ بند ہونے کی وجہ سے باہر نہ نکل سکے۔ وہاں موجود کلرکوں اور چپڑاسیوں کو کہا کہ ان کے پاس پانچ منٹ ہیں کہ وہ ان دو لوگوں کی نشاندہی کر دیں بصورت دیگر سب کو معطل کر دیا جائے گا۔ پانچ منٹ تو بہت زیادہ تھے‘ دو منٹ میں ہی وہ دونوں لوگ پیش کر دیے گئے۔
پکڑے جانے والوں پر ایف آئی آر درج ہو گئی۔ تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا تو معلوم ہوا کہ اس سارے ریکٹ میں سو سے زیادہ لوگ شریک تھے تاہم ان کا چیف وہی چپڑاسی زادہ تھا۔ عملی طور پر ملتان میں سو سے زائد سب رجسٹرار بیک وقت کام کر رہے تھے۔ چیف سیکرٹری نے ایک گھنٹے کے اندر اندر سب رجسٹرار کو معطل کر دیا۔ تمام ملوث افراد پر اینٹی کرپشن میں بھی کیس درج ہو گیا۔ اب بورڈ آف ریونیو سے کہا گیا ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال کا فرانزک آڈٹ کرکے سرکاری خزانے‘ ڈیوٹی اور ٹیکسز کی مد میں ہونے والے نقصانات کا حساب کرے۔
اب یہ بندوبست کیا گیا ہے کہ سب رجسٹرار کا لاگ اِن نیم اور پاس ورڈ بھی اسی ڈیوائس پر کھلے گا اور یہ کمپیوٹر صرف اسی کمرے میں کام کرے۔ یہ صرف ملتان کا حال تھا۔ خدا جانے یہ سسٹم کہاں کہاں چل رہا ہے اور کس کس جگہ کتنی کتنی سرکاری ڈیوٹی غتربود کی جا رہی ہے۔ سرکار کو چاہیے کہ پورے پنجاب میں قائم کمپیوٹرائزڈ اراضی مرکز اور سب رجسٹراروں کے کمپیوٹروں کا فرانزک آڈٹ کرائے تاکہ علم ہو سکے کہ پٹواری کے بستے سے شروع ہونے والے کرپشن کے اس سفر نے کمپیوٹرائزڈ نظام تک پہنچنے کے بعد کس رفتار سے کرپشن کا پیمانہ بلند کیا ہے۔ (ختم)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں