فبای الاء ربکما تکذبن

''لائبریری میں جاؤ ‘‘۔ میں نے حمزہ سے کہا۔ ''میں آ گیا ہوں لائبریری میں ابو!‘‘۔ حمزہ نے ایک منٹ کے بعد جواب دیا۔ ''اب وڈیو پر آ جاؤ!‘‘۔ میں نے اسے کہا۔ وہ وڈیو پر آ گیا۔ میں نے کہا: یہ جو پہلی الماری ہے‘ اس کی اوپر والی شیلف میں دیکھو‘ یہ جو موٹی سی کتاب ہے اس کے ساتھ کون سی کتاب رکھی ہے؟‘‘۔ ''یہ کلیلہ دمنہ ہے ابو‘‘۔ کلیلہ دمنہ کے اندر دیکھو‘ تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ حمزہ نے اوراق اُلٹے پلٹے‘ پھر چہک کر بولا ''مل گئے‘ ...ڈالر کا نوٹ ہے۔ شکریہ ابو!‘‘۔
آسٹریلیا میں مقیم پوتوں میں حمزہ سب سے بڑا ہے۔ پہلی بار جب میں اور بیگم 2010ء میں آسٹریلیا گئے تو حمزہ کا ورودِ مسعود ہوا۔ بنیادی زبان اس کی انگریزی ہے مگر اردو اور پنجابی میں رواں ہے۔ بولنا شروع کیا تو جو پہلا مکمل فقرہ پنجابی میں بولا وہ تھا ''اے چنگی گَل نئیں‘‘۔ اب ماشاء اللہ سولہ برس کا ہے۔ اس کی ضروریات دوسرے چھوٹے بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں اس لیے اسے اُس پاکٹ منی کے علاوہ‘ جو اس کے ماں باپ دیتے ہیں‘ میں بھی دیتا ہوں۔ جب پاکستان واپس آتا ہوں تو پاکٹ منی مختلف کونوں کھدوں میں رکھ آتا ہوں۔ کہاں کہاں رکھ کر آتا ہوں اس کی تفصیل ڈائری میں لکھ لیتا ہوں۔ فلاں کوٹ کی جیب میں‘ فلاں واسکٹ کی جیب میں‘ فلاں ڈکشنری کے فلاں صفحے میں؛ چنانچہ میں آسٹریلیا میں ہوں یا پاکستان میں‘ اضافی پاکٹ منی اسے ہر ماہ باقاعدگی سے ملتی ہے۔ ایک دن اپنے چچا کو بتا رہا تھا ''میری صحیح شاپنگ تو اُس وقت ہوتی ہے جب (دادا) ابو آسٹریلیا آتے ہیں‘‘۔ ایک دن ہم جوتوں کی ایک دکان میں تھے۔ مجھے وضو کے لیے چپل خریدنا تھی۔ دیکھا کہ دور‘ دکان کے دوسرے کونے میں‘ جاگرز ٹرائی کر رہا تھا اور پہن کر آئینے میں دیکھ رہا تھا۔ پھر اتار کر جہاں سے اٹھائے تھے‘ وہیں رکھ دیے۔ میں اس کے پاس گیا تو کہنے لگا ''ابو چلیں؟‘‘۔ میں مسکرایا اور کہا: آپ کو یہ جاگرز پسند ہیں؟ کہنے لگا: پسند تو ہیں مگر یہ مہنگے ہیں اور میرے پرانے والے ابھی کچھ عرصہ اور چل جائیں گے۔ میں نے کہا ''نہیں یار! یہ بھی لے لیتے ہیں‘‘۔ کہنے لگا ''ابا اور ممی ڈانٹیں گے‘‘۔ میں نے کہا: ان سے میں بات کرلوں گا۔ جاگرز خریدنے کے بعد اس کے چہرے پر جو مسرت تھی‘ اس کی قیمت شاید لاکھوں ڈالر میں بھی ادا نہ کی جا سکے۔ اس کی ماں نے جاگرز دیکھے تو ہنستے ہوئے کہنے لگی ''ابو! اس نے آپ کا بٹوا تو خالی کر دیا ہو گا‘‘۔ بہو کو جواب دیا کہ بیٹے! بچوں کے لیے جب خریداری کرتے ہیں تو بٹوا پہلے سے زیادہ بھر جاتا ہے مگر یہ بات تم تب سمجھو گی جب نانی یا دادی بنو گی!!
اس کے باپ نے پی ایچ ڈی کی تو میں کانووکیشن میں شرکت کرنے کے لیے گیا۔ بیگم پیچھے پاکستان ہی میں رہیں۔ تب حمزہ پانچ سال کا تھا۔ میں واپس اسلام آباد آیا۔ بیگم نے سامان کھولا تو اس میں سے لپ سٹک کی ایک شیشی بھی نکلی۔ بیگم نے پوچھا کہ کیا یہ میں نے خریدی ہے؟ جواب دیا: نہیں! اس قبیل کی اشیا خریدنے کی مجھ میں سوجھ بوجھ ہی نہیں۔ ہم میاں بیوی جب یہ بات کر رہے تھے‘ حمزہ اور اس کے ماں باپ وڈیو پر موجود تھے۔ بیگم نے لپ سٹک کا ذکر کیا تو حمزہ صاحب بولے: یہ میں نے ممی کے ٹیبل سے لے کر ابو کے سامان میں ڈالی تھی‘ (دادی) امی کے لیے!‘‘۔ انہی دنوں کی بات ہے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اسلام آباد آیا تو مجھے دس ڈالر کا نوٹ دیا۔ کہنے لگا ''ابو! اس سے آپ کچھ لے لیجیے گا!‘‘۔ اب تو ماشاء اللہ بڑا ہے۔ اس بار آیا تو ہماری پسندیدہ چیزیں لایا۔ میرے لیے پنیر جو کالی مرچ اور زیتون کے تیل میں رچا ہوتا ہے اور دادی کے لیے آسٹریلیا کے وہ خاص بسکٹ جو انہیں پسند ہیں۔ کسی کام کے لیے ہمیں اٹھنے نہیں دیتا۔ دن میں کئی بار پوچھتا ہے ''ابو! میں آپ کے لیے کچھ کر سکتا ہوں؟‘‘۔ یہ ترجمہ ہے انگریزی کے اس فقرے کا کہ What can I do for you?۔ میری آنکھوں کا جب موتیا کا آپریشن ہوا تو گھنٹوں میرے پاس بیٹھا رہتا۔ میں سوچتا تھا کہ پندرہ سولہ برس کا بچہ جس کے اتنے متنوع مشاغل ہیں‘ سب دلچسپیاں چھوڑ کر‘ اندر کمرے میں میرے پاس بیٹھا رہتا ہے۔ کئی بار کہا کہ بیٹے! آپ باہر اپنے کام نمٹائیے۔ مگر وہ یہی کہتا کہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں‘ مجھے یہیں بیٹھنا ہے۔ چھوٹا تھا تو کبھی کبھی میں بھی اسے سکول چھوڑنے جاتا تھا۔ اس کے اترنے کے بعد میں ٹیکسی ڈرائیور سے کہتا کہ چند منٹ رکے۔ حمزہ گاڑی سے اتر کر سکول کے گیٹ میں داخل ہوتا اور پھر سکول کے اندر جاتا تو میں دیکھتا رہتا۔ یہ عجیب لمحے ہوتے۔ یوں لگتا جیسے کوئی فرشتہ جا رہا ہے۔ بیگ کندھے سے لٹکائے‘ چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ!! مجھے یقین ہے کہ کئی نانے اور دادے اس تجربے سے گزرے ہوں گے۔ دل کرتا جا کر اسے ملوں‘ بھینچ کر سینے سے لگاؤں‘ چوموں اور پھر چھٹی ہونے تک سکول کے گیٹ پر ہی بیٹھا رہوں!!
جہاں سے گزرے گا وہ باد پا سواری پر
میں ہجر اوڑھ کے اُس راستے پہ بیٹھا ہوں
دادا جان مرحوم کا قول یاد آتا ہے کہ عاشقی معشوقی کی ساری کہانیاں‘ سارے جذبے‘ وقتی اور کچے ہوتے ہیں۔ اصل معشوق اولاد ہوتی ہے۔ اور اصل عاشق والدین!! کلام پاک میں تلقین فرمائی گئی ہے کہ والدین کی خدمت کرو‘ ان سے محبت کرو اور احترام!! مگر کہیں نہیں فرمایا کہ اولاد کا خیال کرو!! بھلا عاشق کو بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ محبوب سے محبت کرو؟ وہ تو پہلے ہی بچھا جا رہا ہے‘ وصال سے خوش ہوتا ہے اور فراق اس کے لیے قیامت ہے!!
حاضر جواب شروع سے ہے۔ اس کی دادی رات کو سونے لگی تو میں نے کہا مجھے بھوک لگ گئی ہے۔ حمزہ نہیں چاہتا تھا کہ دادی کو زحمت ہو۔کہنے لگا: ابو ! بھوک لگی ہے تو پانی پئیں! جیسے جیسے بڑا ہو رہا ہے‘ اس کی حسِ مزاح صیقل ہو رہی ہے۔ جن دنوں پاکستانیوں کی بھاری اکثریت ارطغرل ڈرامے پر جذبات کے خزانے لٹا رہی تھی‘ تارکین وطن بھی اس پر فدا ہو رہے تھے۔ تاہم اس کالم نگار نے اس ڈرامے سے مکمل پرہیز کیا۔ ایک دن حمزہ کو فون کیا۔ پوچھا: کیا کرہے ہیں آپ لوگ؟ کہنے لگا: ہم سب ارطغرل ڈرامہ دیکھ رہے ہیں۔ میں نے کہا کیا یار تم لوگ ہر وقت ارطغرل دیکھتے رہتے ہو! آخر اس میں ہے کیا؟ چار گھوڑے اُدھر سے اِدھر آ رہے ہوتے ہیں اور چار ہی اِدھر سے اُدھر جا رہے ہوتے ہیں۔ حمزہ کہاں نچلا بیٹھنے والا تھا۔ کہنے لگا ''اور ابو! آپ یہ جو ریسلنگ دیکھتے رہتے ہیں یہ سب نورا کشتی ہوتی ہے اور یہ جو آپ مشاعرے سنتے رہتے ہیں اس میں تو صرف واہ واہ ہی ہوتی ہے‘‘۔ کچھ ہفتے پہلے اس نے میرے رسوائے زمانہ کالم ''میری وفات‘‘ کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ کچھ اور کالموں کا بھی کر رہا ہے۔ فرنگستان میں پیدا ہونے والا یہ لڑکا آج کل داستانِ امیر حمزہ پڑھ رہا ہے۔ انگریزی‘ ظاہر ہے خالص آسٹریلوی لہجے میں بولتا ہے۔ سکول میں چینی اور فرانسیسی سکھائی جا رہی ہے۔ کمپیوٹر کے مسائل میرے بھی حل کرتا ہے اور اپنے ابا کے بھی! سب تعریفیں اُس پروردگار کیلئے ہیں جو ہمارے بچوں کو بچے عطا کرتا ہے اور پھر ہمیں اتنی مہلت بھی دیتا ہے کہ ہم بچوں کے بچوں سے لطف اندوز ہوں!
پوتوں نواسیوں کے چمن زار واہ واہ
اولاد پر بہشت کے میوے لگے ہوئے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں