سلگتا بلوچستان

میں اُس وقت سفر میں تھی جب یہ خبر ملی کہ بلوچستان میں متعدد حملے ہوئے ہیں۔ سفر کے دوران موبائل پر انٹرنیٹ ٹھیک طرح نہیں چلتا۔ پتا نہیں ملک میں انٹرنیٹ کا مسئلہ کب تک برقرار رہے گا۔ جی ٹی روڈ پر بمشکل انٹرنیٹ سگنل بحال ہوئے تو میں نے فوراً اس حوالے سے تفصیلات جاننے کی کوشش کی۔ خبریں پڑھ کر میں شدید پریشان ہو گئی کہ یہ کیا ہو گیا‘ سب خیریت ہے یا نہیں۔ 2014ء کے سانحہ اے پی ایس کے بعد سے میرا دل بہت حساس ہو گیا ہے۔ دوسرا یہ احساس بھی مستقل رہتا ہے کہ ہمارا دشمن اس قدر بزدل ہے کہ ہمارے بچوں کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں چوکتا۔ قبل ازیں بلوچستان میں بچوں کی سکول بس پر حملہ ہو چکا ہے۔ انہی سوچوں میں گم میں گھر واپس پہنچی۔ وائی فائی ملا تو فوراً ایکس (ٹویٹر) کھولا۔ دفاعی امور کَور کرنے والی ایک خاتون صحافی نے ایک وڈیو پوسٹ کی ہوئی تھی جس میں صاف دیکھا جا سکتا تھا کہ بی ایل اے کے دو دہشت گرد جدید اسلحے کے ساتھ ایک سکول میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اگر یہ دونوں سکول میں داخل ہو جاتے تو کتنی بڑی قیامت برپا ہو سکتی تھی۔ ان دونوں دہشت گردوں کے پاس جدید اسلحہ تھا‘ اور ان میں سے ایک خاتون تھی۔ یہ بات میرے لیے انتہائی حیران کن اور تشویشناک تھی۔ سوال یہ ہے کہ خواتین دہشت گردی کی طرف کیوں مائل ہو رہی ہیں۔ عورت تو مامتا کے خمیر سے اٹھی ہے‘ وہ کیسے ایک سکول میں بچوں پر حملہ کرنے پہنچ گئی؟
جیسے جیسے ان حملوں کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی تو حیرت کے ساتھ ساتھ شدید افسوس بھی ہوا۔ ایک 60 سالہ خاتون بھی ان حملوں میں شامل تھی‘ جس کا نام حاتم ناز عرف گل بی بی بتایا گیا۔ اس کے علاوہ حوا بلوچ عرف دورشم اور آصفہ بلوچ نامی خواتین بھی ان دہشت گرد حملوں میں شامل تھیں۔ اسی طرح پسنی کا ایک شادی شدہ جوڑا‘ یسمہ بلوچ عرف زرینہ اور وسیم بلوچ بھی ان حملوں میں ملوث تھے۔ اس سے پہلے بھی خواتین کالعدم بی ایل اے کی کارروائیوں میں شامل رہی ہیں لیکن اس بار ان کی تعداد زیادہ تھی۔ اگست 2024ء میں محل بلوچ نامی خاتون نے سکیورٹی فورسز پر خودکش حملہ کیا تھا اور 2023ء میں سمیہ بلوچ نے تربت میں خودکش حملہ کیا۔ اپریل 2022ء میں شاری بلوچ نامی خاتون نے کراچی میں خودکش حملہ کیا۔ خواتین کا دہشت گردی میں ملوث ہونا اس لیے بھی خطرناک ہے کہ ہمارے ملک میں پردے کا احترام کرتے ہوئے خواتین کی چیکنگ نہیں کی جاتی‘ جس کا فائدہ اٹھا کر وہ کہیں بھی پہنچ کر کارروائی کر سکتی ہیں۔ اس کا ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ سکیورٹی فورسز میں خواتین کی تعداد بڑھائی جائے۔ تاہم دوسری طرف سماجی طور پر اس نکتے پر بھی غور کرنا ہو گا کہ خواتین اس کالعدم تنظیم کا حصہ کیوں بن رہی ہیں۔ ان کی برین واشنگ کیسے ہو رہی ہے‘ اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔ ان سے رابطہ کہاں ہو رہا ہے‘ انہیں بھرتی کون کر رہا ہے اور انہیں تربیت کون دے رہا ہے۔ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ بی ایل اے کو بھارت اور افغانستان سے سپورٹ مل رہی ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا تھا‘ اس کے مقامی ہینڈلرز کون تھے؟ بلوچستان میں حالیہ حملے مجید بریگیڈ اور بی ایل اے نے مل کر کیے۔ یہ منظم حملے تھے جن میں تقریباً بارہ مقامات پر عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں کے دوران کالعدم تنظیم مسلسل سوشل میڈیا پر اَپ ڈیٹس دیتی رہی‘ جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ جیسے سب کچھ ان کے قبضے میں آ چکا ہو۔ عینی شاہدین کے مطابق کوئٹہ میں ہونے والا حملہ انتہائی شدید تھا اور عوام اس کی وجہ سے گھروں میں محصور ہو گئے۔ ان حملوں میں کالعدم بی ایل اے نے وہ جدید امریکی اسلحہ استعمال کیا‘ جو امریکہ انخلا کے وقت افغانستان میں چھوڑ گیا تھا۔ اس سے پہلے یہ دہشت گرد ایک آدھ حملہ کرکے یا تو چھپ جاتے تھے یا مارے جاتے تھے‘ لیکن اس بار بیک وقت اتنے زیادہ مقامات پر حملے ان کی حکمتِ عملی میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ان دہشت گردانہ حملوں کے دوران متعدد مقامات پر لوٹ مار بھی ہوئی۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا‘ جلاؤ گھیراؤ کیا گیا‘ بینک لوٹے گئے اور تھانوں پر حملے کیے گئے۔ حکومت کے مطابق ان حملوں میں 36 شہری اور 22 سکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں 216 دہشت گرد مارے گئے۔ حکومت پاکستان نے ان حملوں کا ذمہ دار فتنہ الہندوستان کو ٹھہرایا ہے جس میں وہ تمام دہشت گرد تنظیمیں شامل ہیں جنہیں ہندوستان کی سرپرستی حاصل ہے۔ یہ بلاشبہ منظم حملے تھے لیکن جس تیزی سے ہماری سکیورٹی فورسز نے ان پر قابو پایا‘ وہ بھی قابلِ ستائش ہے۔ تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کارروائی کی بروقت انٹیلی جنس رپورٹ کیوں نہ مل سکی؟ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پڑھے لکھے نوجوانوں کو کیسے ورغلا رہی ہیں‘ ان کی برین واشنگ کیلئے کون سے ٹولز استعمال کیے جا رہے ہیں؟ اسی دوران سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیم کے سرغنہ دہشت گرد بشیر زیب کی وڈیو جاری کی گئی جس کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ وہ بھی اس کارروائی کا حصہ ہے لیکن وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے مطابق وہ افغانستان میں چھپا ہوا ہے۔ اس کی وڈیو میں پنجاب کے خلاف نفرت واضح تھی۔
حالیہ حملوں میں ایک اور بات یہ سامنے آئی کہ بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ان حملوں کی وڈیوز کو وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا۔ بھارتی سوشل میڈیا پیجز اس وقت مجید بریگیڈ‘ بی ایل اے اور ان سے ہمدردی رکھنے والے افراد کی وڈیوز اور تصاویر سے بھرے پڑے ہیں۔ جس سے اس ساری کارروائی میں بھارتی شمولیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ بند کرنے کے بجائے سوشل میڈیا کمپنیوں سے مذاکرات کیے جائیں‘ وہ خود ہی کالعدم تنظیموں بالخصوص بی ایل اے کے مواد کو فلٹر کر کے بلاک کر سکتی ہیں کیونکہ بی ایل اے عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیم ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آپریشن ناگزیر ہے مگر جب تک وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو گی‘ جب تک بلوچستان کے حکمران وہاں کے عوام کے مسائل نہیں سنیں گے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا‘ یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ بلوچستان میں ایک مخصوص طبقہ بے حد امیر ہے‘ مگر عوام بدحال ہیں۔ جب تک عوام کی محرومیاں ختم نہیں ہوں گی‘ حالات اسی طرح رہیں گے۔ طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جانا بھی بہت ضروری ہے۔ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے‘ اسی لیے بھارت کی اس پر خاص نظر ہے۔ سب سے پہلے بلوچ سیاسی قیادت اور سماجی کارکنان کو متحد ہونا چاہیے۔ بلوچستان میں جرگے کیے جائیں‘ قبائل کو ساتھ بٹھایا جائے۔ بلوچستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے۔ وہاں کھیل کے میدان اور تعلیمی ادارے قائم کر کے انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ اگر دہشت گرد اپنی حکمت عملی بدل رہے ہیں تو ریاست کو بھی اپنی حکمت عملی بدلنا ہو گی۔ عوام کے قریب آئیں‘ نوجوانوں کو مواقع دیں‘ بلوچی زبان میں لٹریچر شائع کریں اور ان کی ذہن سازی کریں۔ ایک بار ان لوگوں کو گلے لگائیں جنہیں شکایات ہیں۔ ہر مسئلے کا حل طاقت کا استعمال نہیں ہوتا‘ کچھ معاملات مذاکرات اور افہام و تفہیم سے بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں