رمضان کے ماہِ مقدس کا پہلا ہفتہ مکمل ہو چکا ۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر ہمیں ماہِ رمضان نصیب فرمایا تاکہ ہم اس کے فیوض و برکات سمیٹ سکیں اور عبادات کے ذریعے اپنی روحانی زندگی کو سنوار سکیں۔ ابھی اس ماہ کے ابتدائی چند دن ہی گزرے ہیں‘ ہمارے پاس اب بھی کافی وقت ہے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں‘ زیادہ سے زیادہ عبادات اور اذکار کریں‘ اپنی شخصیت کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے اور امتِ محمدی کا باوقار رکن بننے کی سعی کریں۔ ہمیں یہ حقیقت ہمیشہ مدنظر رکھنی چاہیے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور اصل زندگی اس کے بعد شروع ہونی ہے‘ اس لیے اُس کی تیاری پر توجہ مرکوز کرنا ناگزیر ہے۔ ہمارے آنے کی ترتیب طے ہے لیکن جانے کی کوئی ترتیب نہیں؛ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم بڑھاپا دیکھ بھی سکیں گے یا نہیں‘ اس لیے عمر کے جس حصے میں بھی ہیں‘ اللہ سے دل جوڑ لیں۔
اللہ تعالیٰ کے ہم پر بے شمار احسانات ہیں مگر حضرت محمدﷺ کا امتی بنا کر پیدا کرنا اور رمضان عطا کرنا اُس کے عظیم ترین انعامات ہیں۔ ان پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ رمضان نیکیوں‘ برکتوں‘ گناہوں کی بخشش اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ اسی ماہِ مبارک میں آخری الہامی کتاب قرآنِ مجید کا نزول ہوا اور اسی میں وہ بابرکت رات موجود ہے جسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے‘ جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ سورۃ القدر میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ''بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا‘ اور آپ کیا سمجھے کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے ہر خیر کے امر کے ساتھ اترتے ہیں‘ اور یہ رات طلوعِ فجر تک سراسر سلامتی ہے‘‘۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (یعنی اکیسویں‘ تئیسویں‘ پچیسویں‘ ستائیسویں اور انتیسویں) میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری) دیگر روایات میں آیا ہے کہ جو شخص شبِ قدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کرے اور روزہ رکھے‘ اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ ان راتوں میں خوب دعا مانگنی چاہیے‘ اپنے لیے دین‘ دنیا اور آخرت کی بھلائیاں طلب کرنی چاہئیں اور امتِ مسلمہ کی ترقی وخوشحالی کے لیے بھی دستِ دعا بلند کرنا چاہیے۔ اس رات یہ دعا مانگنا مسنون ہے: یا اللہ! تو بہت معاف فرمانے والا ہے‘ عفو و درگزر کو پسند کرتا ہے پس ہمیں معاف فرما دے۔ اپنے اُن عزیزوں کو بھی دعاؤں میں ضرور یاد رکھا کریں جو دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
اسی ماہِ مبارک میں مسلمانوں پر روزوں کی فرضیت ہوئی‘ اسی لیے رمضان کو ماہِ صیام بھی کہا جاتا ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ تاریخِ اسلام کے کئی اہم واقعات اس ماہ مبارک میں رونما ہوئے۔ 3 رمضان 11 ہجری کو حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا۔ 10 رمضان (10 نبوی) کو ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا۔ 15 رمضان 3 ہجری کو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔ معرکۂ حق و باطل غزوہ بدر 17 رمضان کو پیش آیا۔ 17 رمضان 58 ہجری کو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا۔ فتحِ مکہ 20 رمضان 8 ہجری کو ہوئی‘ جس نے اسلامی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ 21 رمضان 40 ہجری کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ جدید تاریخ پر نظر ڈالیں تو پاکستان 27 رمضان المبارک 1366 ہجری بمطابق 14 اگست 1947ء کو معرضِ وجود میں آیا۔
ماہِ رمضان صبر‘ شکر‘ نیکی‘ سخاوت اور ہمدردی کا مہینہ ہے۔ اس کا پہلا عشرہ رحمت‘ دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا پیغام لیے ہوتا ہے۔ اس ماہ میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا اجر ستر گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ رمضان آتے ہی آسمان اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں‘ اس لیے اللہ سے بار بار مانگیں؛ رزق‘ ایمان‘ صحت اور سکون طلب کریں۔ ہمیں چاہیے کہ فرض نماز‘ تراویح‘ نوافل‘ تہجد‘ اشراق‘ چاشت‘ اعتکاف‘ تلاوتِ قرآنِ پاک‘ صلوٰۃ التسبیح اور دعائوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔ روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ صبر‘ تقویٰ اور عبادات کا جامع مظہر ہے۔ روزہ دار جھوٹ‘ حرام‘ غیبت اور دیگر گناہوں سے بچتا ہے۔ روزہ جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جنت کا ایک دروازہ ''الریان‘‘ ہے جس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔ روزہ جسم کی زکوٰۃ بھی ہے تاہم سحری و افطاری میں اعتدال ضروری ہے۔ روزہ افطار کرانے کا بھی بڑا اجر ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کو محض پانی یا کھجور ہی سے روزہ افطار کروائے‘ اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اسے روزہ دار کے برابر کا ثواب ملتا ہے جبکہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگوں کے لیے رمضان کھانے پینے کا مہینہ بن جاتا ہے۔ ضرور کھائیں پئیں مگر اعتدال کے ساتھ۔ سحری ضرور کھانی چاہیے۔ تلی ہوئی اشیا سے پرہیز کرنا چاہیے۔ سحری میں دہی استعمال کریں‘ یہ پیاس کی شدت کم کرتا ہے۔ افطار کھجور سے کریں‘ یہ فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔
مسلمانوں کی اکثریت اسی ماہ میں زکوٰۃ ادا کرتی ہے تاکہ محتاجوں کی مدد ہو سکے۔ ہمیں چاہیے کہ مستحق اور کم وسائل رکھنے والے افراد کو رمضان کے آغاز ہی میں راشن وغیرہ مہیا کریں تاکہ وہ سیر ہو کر کھا سکیں۔ نیز اس ماہ میں صدقات و عطیات میں بھی اضافہ کریں۔ نبی اکرمﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔
آخری عشرے میں اعتکاف مسنون ہے۔ گیمز یا غیر ضروری مشاغل کے بجائے ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ عبادات‘ شبِ قدر کی تلاش‘ صدقہ و خیرات اور اپنی روحانی اصلاح پر توجہ دیں۔ غریب رشتہ داروں کے ساتھ ایثار اور ہمدردی کا معاملہ اختیار کریں اور مالی مدد محبت و شفقت سے کریں۔ یہ مہینہ دنیا و آخرت سنوارنے کا بہترین موقع ہے۔ کسے معلوم کہ آئندہ یہ موقع ملے نہ ملے‘ اس لیے ابھی سے اپنے تزکیہ نفس پر کام کریں اور حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی نہ برتیں۔ تقویٰ کی تکمیل حقوق اللہ اور حقوق العباد‘ دونوں کی ادائیگی سے ہوتی ہے۔ اس رمضان میں اپنے احباب کو افطار پر مدعو کریں‘ بچوں کو دسترخوان پر اکٹھا کریں اور انہیں دینِ اسلام کی تعلیم دیں۔ انہیں مسجد ساتھ لے کر جائیں اور مقامی مسجد کے امام صاحب سے مشورہ کر کے خواتین کے لیے بھی مسجد میں مناسب جگہ کا انتظام کروائیں۔ مساجد کو قرآنِ مجید‘ جائے نماز اور پانی کے کولر وغیرہ ہدیہ کریں۔ اپنے مرحومین کی قبروں پر جا کر ایصالِ ثواب کریں۔ روزے کے دوران غصہ سے پرہیز کریں اور سب کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔ اپنے روزے کی حفاظت کریں‘ دن بھر سستی و کثرتِ نیند سے بچیں اور زبان کو ذکر سے تر رکھیں۔ رمضان کی ہر ساعت قیمتی ہے‘ اس کی جتنی قدر کی جائے کم ہے۔
اس ماہِ مقدس میں اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔ بیواؤں‘ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ خصوصی ایثار کا سلوک روا رکھیں۔ اپنے علاقے کے پیش امام کو بھی مناسب ہدیہ پیش کریں تاکہ وہ معاشی فکر سے آزاد ہو کر عبادت وخدمت انجام دے سکیں۔ اپنے سٹاف اور ماتحت عملے پر کام کا غیر ضروری بوجھ نہ ڈالیں کہ وہ بھی روزے کی حالت میں ہوتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ماہِ مبارک کی حرمت‘ برکت اور رحمت سے بھرپور فیوض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین۔
مجھے اور میرے مرحوم شوہر ارشد شریف شہید کو بھی اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے گا۔