"KNC" (space) message & send to 7575

’جہدِ مسلسل‘… ایک ناتمام داستان

جرم وسزا کی کہانیاں‘ داستان نگاری (Fiction) میں سب سے مقبول ہیں۔ اردو ادب میں یہ روایت زیادہ مستحکم نہیں۔ سب رنگ‘ سسپنس‘ جاسوسی ڈائجسٹ جیسے رسائل اگر مقبول ہوئے تو اس کا بڑا سبب یہی خلا تھا۔ ان کہانیوں کا سماجی پس منظر غیر مقامی تھا۔ ابن صفی نے اردو میں ایک نئی طرح ڈالی اور اسے مقامی رنگ دیا۔ ان کی مقبولیت کا راز بھی شاید یہی تھا کہ ان کے کردار مقامی تھے اور قاری کے لیے کہانی کا پلاٹ کسی طور اجنبی نہیں تھا۔ ایک دور تھا جب ماہنامہ حکایت میں احمد یار خان کی کہانیاں شائع ہو تی تھی۔ یہ ریٹائرڈ پولیس انسپکٹر کی داستان تھی جس نے متحدہ برصغیر کے معاشرتی تناظر میں جرم وسزا کے واقعات کو لکھا۔ ان کہانیوں کو غیر معمولی شہرت ملی۔ کہا جاتا تھا کہ لوگ اسی کہانی کی و جہ سے 'حکایت‘ پڑھتے ہیں۔ بعد میں یہ کہانیاں کتابی صورت اور کئی جلدوں میں شائع ہوئیں۔
یہ کہانیاں مجھے برادرم ذوالفقار چیمہ صاحب کی خود نوشت 'جہدِ مسلسل‘ پڑھتے ہوئے یاد آئیں۔ پولیس افسر کے طور پر ان کی شہرت سے سب واقف ہیں۔ وہ صرف پولیس افسر نہیں تھے۔ وہ ایک دانشور بھی ہیں جنہیں ایک طرف علامہ اقبال کے فکر وفلسفے سے محبت ہے اور دوسری طرف اقتدار کی سیاست سے بھی دلچسپی ہے۔ اس پہ مستزاد ادب اور فنون سے ان کا لگاؤ ہے۔ ان سب باتوں نے ان کی آپ بیتی میں ان تمام لوازم کو جمع کر دیا ہے جو کسی کتاب کو قاری کے لیے باعثِ کشش بناتے ہیں۔ یہ زندہ انسان اور زندہ معاشرے کی زندہ کہانیں ہیں۔
بلوچستان کے عوام کو محروم رکھنے کے جرم میں‘ ریاست کو ہمیشہ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ مجھے اس پر اعتراض نہیں کہ عوام کے جان ومال کا تحفظ بہرحال ریاست ہی کی ذمہ داری ہے۔ اس مقدمے میں مگر ایک کمزوری یہ ہے کہ دیگر مجرموں کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان میں ایک وہاں کا سرداری نظام ہے۔ سردار کا بیٹا قتل کر دے تو اس کے خلاف مقدمہ قائم نہیں ہو سکتا۔ ذوالفقار چیمہ صاحب نے اس طرف متوجہ کیا ہے۔ وہ چشم دید رپورٹ دیتے ہیں کہ کیسے ریاست کی طرف سے بنائی گئی کالج کی عمارت کو ایک مشہور سردارنے ذاتی گودام اور اپنے غلاموں کی رہائش گاہ بنا رکھا تھا۔ اس سردار کی حمایت میں ہمارا میڈیا رطب اللسان رہتا ہے مگر ان کی شخصیت کے اس پہلو کو بیان نہیں کرتا۔ چیمہ صاحب واقعات کی زبانی یہ بتاتے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ کیسے لاینحل بنا اور کون کون سے کردار اس کے ذمہ دار ہیں۔
چیمہ صاحب اپنے دورِ ملازمت میں نواز شریف صاحب کے بہت قریب رہے۔ ان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ذوالفقار چیمہ صاحب کی گواہی معتبر ہے۔ گزشتہ دنوں مریم نواز صاحبہ کے بیٹے کی شادی موضوعِ بحث رہی۔ اس میں ہونے والے اسراف نے حساس لوگوں کو مضطرب کیا اور انہوں نے اسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ چیمہ صاحب نے بتایا کہ خود مریم صاحبہ کی شادی کتنی سادگی کے ساتھ ہوئی۔ تقریبات کو کیسے خاندان اور قریبی احباب تک محدود رکھا گیا۔ میں نواز شریف صاحب کے بارے میں جو رائے رکھتا ہے‘ چیمہ صاحب کے مشاہدات اس کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ اس سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مجھ جیسے لوگ اگر نواز شریف صاحب کو معاصر اہلِ سیاست پر ترجیح دیتے ہیں تو اس کے اسباب کیا ہیں۔
چیمہ صاحب نے مشہور گلوکارہ نور جہاں صاحبہ کے گھر منعقد ہونے والی ایک تقریب کا چشم دید حال بھی لکھا ہے۔ مرحومہ کے فنی کمالات کے بارے میں دو آرا نہیں لیکن فلم کا کلچر جس اخلاقی پستی کا شکار ہے‘ یہ تقریب اس کا ایک افسوسناک منظر پیش کرتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ فنکار اگر اپنے اخلاقی وجود کے بارے میں حساس ہو تو فن کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بصورتِ دیگر خود فن کا وجود زیرِ بحث آ جاتا ہے۔ موسیقی کا تعلق سماعت کے ساتھ ہے مگر جب اسے بیہودہ مناظر اور شاعری سے آلودہ کیا گیا تو خود موسیقی کا وجود اخلاقی اعتبار سے مشتبہ ہو گیا۔ یہ واقعہ صرف فنون اور فنکاروں کا نہیں‘ ان پیشوں کا بھی ہے جنہیں سماج قابلِ عزت سمجھتا ہے۔
چیمہ صاحب نے لاہور کے ایک سرکاری خطیب کا دلچسپ حال بھی لکھا ہے۔ وزیراعظم صاحب نے ان کا خطبہ سننا اور ان کے اقتدا میں نماز پڑھنا تھی۔ ان سے یہ فرمائش کی گئی کہ وہ وزیراعظم صاحب کی موجود گی میں پولیس کی کارکردگی کو سراہیں۔ چیمہ صاحب ان دنوں لاہور پولیس کے سربراہ تھے۔ خطیب صاحب نے حسبِ روایت وعادت پولیس افسران کی ایسی تعریف کی کہ خود پولیس والے شرمندگی سے منہ چھپانے لگے۔ وزیراعظم بھی جہاں دیدہ تھے۔ روانگی کے وقت چیمہ صاحب سے ہاتھ ملایا تو کہا: ''لگتا ہے مولانا کو آج کی تقریر آپ نے لکھ کر دی ہے‘‘۔ انہوں نے یہ جملہ پنجابی میں کہا‘ جس کا تاثر اردو میں منتقل نہیں ہو سکتا۔ حبیب جالب صاحب کی بیٹی کے ساتھ وقت کے وزیراعظم کا ایک مکالمہ بھی نقل کیا جب وہ جالب صاحب کی تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے۔ مجھے محترمہ کے رویے پر افسوس ہوا‘ اگرچہ چیمہ صاحب نے اس کا جواز پیش کیا ہے۔ ہماری روایت یہ ہے کہ گھر آیا مہمان بہرصورت احترام کا مستحق ہوتا ہے۔
اس کتاب سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے داخلی معاملات میں امریکی اثر ورسوخ کا کیا عالم ہے۔ لاہور کے ایک ڈی ایس پی کو امریکی ناظم الامور کی اشیرباد حاصل تھی۔ وہ اس کے زور پر من مانی کرتا تھا اور آئی جی پولیس جانتے ہوئے اس کے کاموں سے صرفِ نظر کرتے تھے کہ حکومت امریکی کی ناراضی کاخطرہ مول نہیں لے سکتی تھی۔ مجھے یہ پڑھ کر سخت حیرت ہوئی کہ امریکی مداخلت اس سطح تک بھی ہو سکتی ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہم جیسے ترقی پذیر ملکوں کی خود مختاری کا کیا عالم ہے۔
میں نے اس کتاب کا تعارف کراتے کراتے‘ آپ کو بہت سے باتیں بتا دیں لیکن ساری نہیں۔ یہ کتاب ایسے دلچسپ واقعات سے مملو ہے۔ اس پہ مستزاد چیمہ صاحب کا دلچسپ اسلوبِ نگارش۔ پُرلطف جملے اور واقعات جو اس کے مطالعے کو ایک خوشگوار تجربہ بنا دیتے ہیں۔ کتاب کے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک پولیس افسر اگر چاہے تو مشکلات کے باوجود اپنا کام دیانت داری کے ساتھ کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ریاستی نظام کیسے کام کرتا ہے۔ بعض اوقات حکمران‘ عوام دوست کام کرنا چاہتے ہیں تو کیسے سسٹم کے تقاضے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ امورِ جہان بانی اتنے سادہ نہیں ہوتے جتنے سمجھے جاتے ہیں۔
ذوالفقار چیمہ صاحب کے کالموں کے مجموعے اس سے پہلے شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں بھی ان واقعات کی جھلک ہے‘ جن کا تعلق اس سماج اور ریاست سے ہے۔ 'جہدِ مسلسل‘ مگر ایک الگ داستان ہے جس کا کینوس وسیع ہے۔ یہ جرم وسزا اور اقتدار کے ایوانوں میں جنم لینے والی کئی کہانیوں کا مجموعہ ہے جو افسانوی ادب نہیں بلکہ اس کا تعلق ان واقعات سے ہے‘ ہم جن کے جیتے جاگتے کردار ہیں۔ یہ مسلسل کہانی ہے جسے ہم دہراتے جاتے ہیں مگر اس سے سبق حاصل نہیں کرتے۔ چیمہ صاحب کی یہ داستان ابھی ناتمام ہے۔ انہوں نے خوشخبری سنائی ہے کہ اس کا دوسرا حصہ بھی سامنے آنے والا ہے۔ اس کتاب نے اس کے لیے اشتیاق بڑھا دیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں