کفار کی چالیں اور ان کا جواب

حضور نبی اکرمﷺ کے خلاف دشمنانِ اسلام نے جتنی بھی سازشیں کیں سبھی ان کے اپنے اوپر الٹا دی گئیں۔ اس حوالے سے سورۂ یوسف ایک معجزہ ہے۔ قرآن پاک کی مکی سورتوں میں سورۂ یوسف کا بہت اعلیٰ مقام ہے۔ سورۂ یوسف اپنے نام کی طرح نفسِ مضمون کے لحاظ سے بھی اول سے آخر تک سیدنا یوسف علیہ السلام کے حالات وواقعات‘ ان کے عظیم کردار اور ان کی کامیابیوں‘ نیز ان کی مشکلات اور ابتلا کا مکمل احاطہ کرتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ رسول کریمﷺ کے مخالفین نے یہودیوں کے اشارے پر آپﷺ سے ایک سوال کیا تھا‘ جس کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ آپﷺ اس کا کوئی جواب نہیں دے سکیں گے‘ یوں دعویٰ رسالت جھوٹا ثابت ہو جائے گا۔ مختلف مواقع پر آنحضورﷺ سے اس بدنیتی پر مبنی اس قسم کے سوال کیے جاتے رہے۔ اس موقع پر کیا جانے والا سوال یہ تھا کہ بنی اسرائیل کے مصر جانے کا سبب کیا ہوا‘ حالانکہ وہ تو مصری نہیں۔
اللہ رب العالمین نے نہ صرف اس سوال کا جواب دیا بلکہ سوال کرنے والوں پر اس واقعہ کو منطبق بھی کر دیا۔ یوں گویا ان کو آئینہ دکھا دیا کہ جس طرح اللہ کے سچے نبی یوسف علیہ السلام کا کردار بلندوبالا ہے اور مشکلات سے پوری ثابت قدمی سے عہدہ برآ ہونے کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے‘ اسی طرح نبی برحق حضرت محمدﷺ کاکردار بھی نہایت ارفع واعلیٰ ہے۔ برادرانِ یوسف کی طرح سردارانِ قریش بھی ذلت وپستی میں مبتلا ہیں اور بغض وحسد سے اپنے قیمتی بھائی کی قدر پہچاننے کے بجائے ان کی جان کے دشمن بنے بیٹھے ہیں۔ یوسف علیہ السلام بھی کامیاب وکامران ہوئے تھے اور محمدﷺ بھی سرخرو اور فتح یاب ہوں گے۔ برادرانِ یوسف کو ذلت ورسوائی سے سر جھکانا پڑا تھا اور سردارانِ قریش کا بھی یہی مقدر ہوگا۔
حضرت یوسف علیہ السلام سیدنا یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کے بیٹے تھے‘ جن کا مسکن اور علاقہ فلسطین میں کنعان تھا۔ ان کی بستی حبرون کی وادی میں تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے چار بیویوں سے بارہ بیٹے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے چھوٹے بھائی بنیامین ایک ماں سے تھے اور باقی دس بھائی دوسری مائوں سے تھے۔ یوسف علیہ السلام اپنی اعلیٰ اخلاقی صفات کی وجہ سے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کی خصوصی توجہ کا مرکز تھے۔ ان کے بھائی خود اچھی عادات اختیار کرنے کے بجائے اس چیز پر حسد کی آگ میں جلنے لگے۔ اسی دوارن یوسف علیہ السلام کو ایک خواب آیا‘ جس میں انہوں نے دیکھاکہ گیارہ ستارے‘ سورج اور چاند ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ انہوں نے یہ خواب اپنے والد یعقوب علیہ السلام کے سامنے بیان کیا۔ عظیم باپ نے اپنے پیارے بیٹے سے کہا کہ وہ اس خواب کا کسی سے تذکرہ نہ کریں مبادا ان کے بھائی ان کے خلاف سازش کرنے لگیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ خواب کی تعبیر بہت اچھی ہے اور اللہ نے جو نعمت ابراہیم واسحق علیہما السلام پر کی تھی اس کا اتمام یوسف اور ان کی وساطت سے آلِ یعقوب پر فرمائے گا۔
سنگ دل برادرانِ یوسف نے یوسف علیہ السلام کے حسد وبغض کی آگ میں جلتے ہوئے ان کو قتل کرنے کی سازش کی اور والد صاحب کے سامنے بڑے اصرار کے ساتھ درخواست کی کہ وہ یوسف کو ان کے ساتھ جنگل میں سیر وسیاحت اور شکار کے لیے جانے کی اجازت دیں۔ یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ کہیںتم کھیل میں مصروف ہو جائو اور اسے بھیڑیا اٹھا لے جائے تو کیا ہوگا۔ مگر انہوں نے یقین دلایا کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا‘ ہم طاقتور جتھہ ہیں‘ اس کی حفاظت کریں گے۔ جنگل میں جاکر ان ظالموں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو مارا پیٹا اور پھر ایک اندھے کنویں میں پھینک دیا اور واپس آکر اپنے والد کو یہ جھوٹی کہانی سنائی کہ یوسف علیہ السلام کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔ ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لیا اور مگرمچھ کے آنسو بہائے۔ یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ تم جوکچھ کہہ رہے ہو یہ جھوٹ ہے مگر میں صبر عظیم کروں گا۔
آ رہی ہے چاہِ یوسف سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
ایک تجارتی کارواں اس علاقے سے گزر رہا تھا جہاں یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینکا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو بھیجا کہ کنویں سے پانی لے آئے۔ پانی تو نہ ملا مگر ایک خوبصورت لڑکا کنویں سے مل گیا جسے اپنے ساتھ لے کر یہ کارواں روانہ ہو گیا۔ غرض یہ کاروان یوسف علیہ السلام کو لے کر مصر پہنچا اور وہاں جاکر ان کو فروخت کر دیا۔ بکتے بکاتے وہ ایک اعلیٰ سرکاری افسر کے گھر آ پہنچے۔ یوسف علیہ السلام نہایت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے‘ یہیں سے ان کے لیے ابتلا کا نیا دور شروع ہوا۔ گھر کی مالکہ نے ان پر ڈورے ڈالے‘ انہیں ورغلایا مگر وہ پکار اٹھے معاذا للہ! خداکی پناہ! اس خاتون نے ان پر دست درازی کی تو وہ بھاگے‘ پیچھے سے اس نے کرتا پکڑا جو پھٹ گیا۔ اپنی ہوس میں ناکامی پر شرم محسو س کرنے کے بجائے الٹا یوسفِ صدیق پر الزام لگا دیا کہ اس کا ارادہ خراب تھا۔ قرائن وشواہد دیکھ کراہلِ حل وعقد نے فیصلہ کیا چونکہ کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا ہے لہٰذا غلطی عور ت کی ہے۔ اس خاتون کو جو عزیزِ مصر کی بیوی تھی‘ محض زبانی سرزنش کی گئی اور وہ بھی نرم الفاظ میں اور یوسف علیہ السلام کو نصیحت کی گئی کہ وہ درگزر سے کام لیں۔
سب رقیبوں سے ہوں ناخوش پر زنانِ مصر سے
ہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں
اس معاشرے کا رنگ ڈھنگ کیا تھا آپ اس سے اندازہ لگایے کہ عزیز مصر کی بیوی کے بارے میں عورتوں نے کہنا شروع کر دیا کہ وہ اپنے غلام پر فریفتہ ہو گئی ہے‘ یہ تو بڑی ذلت کی بات ہے۔ جب اس نے یہ باتیں سنیں تو اس نے اپنی ہم پلہ خواتین کی ایک محفل اپنے محل میں سجائی‘ ان کے سامنے پھل اور چھریاں رکھ دیں اور یوسف علیہ السلام کو ان کے سامنے آنے کے لیے آواز دی۔ جب خواتین کی نظر چہرہ اقدس پر پڑی تو دم بخود رہ گئیں۔ پھل کاٹتے ہوئے اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بے ساختہ پکا ر اُٹھیں: حاشاللہ! یہ شخص انسان نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔ عزیزِ مصر کی بیوی نے اس پر بڑی ڈھٹائی سے کہا کہ یہ بچ نکلا ہے مگر میں اسے نہیں چھوڑوں گی۔ اگر سیدھے سبھائو قابو نہ آیا تو جیل میں گلتا سڑتا رہے گا۔
غنی! روزِ سیاہِ پیرِ کنعاں را تماشا کن
کہ نورِ دیدہ اش روشن کُند چشمِ زلیخا را
اس صورتحال سے یوسف علیہ السلام خاصے پریشان تھے۔ آخر اللہ سے دعا کی ''اے میرے رب مجھے قید منظور ہے بہ نسبت اس برائی کے جس کی یہ خواتین مجھے دعوت دے رہی ہیں اور اگر تونے ان کی چالوں کو مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جائوں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں گا‘‘۔ اللہ نے یوسف علیہ السلام کی دعا کے مطابق انہیں برائی سے بچا لیا لیکن انہیں کچھ سال جیل میں گزارنا پڑے۔ جیل میں یوسف علیہ السلام کا کردار نکھر کر سامنے آیا اور پہلی بار انہوں نے اپنا تعارف کرایا‘ جس میں اپنے خاندان کا ذکر بھی کیا اور خالص توحید کا پیغام بھی پیش کیا اور توحید کا وہ پہلو جو عموماً لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے اور اس وقت بھی اوجھل تھا‘ واضح ہو گیا۔ ''فرمانروائی اور اقتدار کا حق اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے‘‘۔ قیدیوں کے درمیان اپنے اخلاق و کردار اور وجاہت وقابلیت کی وجہ سے وہ بہت نمایاں رہتے تھے۔ جیل میں وہ مرجع خلائق بن گئے۔ اللہ نے خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا تھا۔ خوابوں کی تعبیر ہی کے حوالے سے وہ معروف بھی ہو گئے۔ قیدیوں کے خوابوں کی بتائی گئی تعبیر ٹھیک ثابت ہوئی۔ شاہی دربار کا ایک ملازم رہا ہوکر اپنے منصب پر بحال ہوا۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں