حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ …(5)

حضرت امیر معاویہؓ نے اپنی وفات سے پہلے جب اپنے نااہل بیٹے یزید بن معاویہ کو اپنا جانشین مقرر کیا تو اس پر پوری امت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے باوجود حضرت امیر معاویہؓ کے احترام اور بنو امیہ کی سیاسی وفوجی قوت کی وجہ سے شام اور آس پاس کے علاقوں میں لوگوں نے یزید کی بیعت کر لی۔ البتہ اکثر صحابہ نے‘ بالخصوص حجاز کے علاقے میں اس سے انکار کیا۔ نواسۂ رسول سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے اس فیصلے کے خلاف جدوجہد کی‘ جس کے نتیجے میں آپؓ کو تقریباً ستر ساتھیوں کے ہمراہ کربلا کے میدان میں یزیدی فوجوں کے مقابلے پر جامِ شہادت نوش کرنا پڑا۔ یہ واقعہ تاریخ اسلامی کا دردناک ترین سانحہ ہے۔ جب یہ خبر مدینہ منورہ میں پہنچی تو سب لوگوں کو اس کا انتہائی غم اور صدمہ پہنچا۔ مدینہ میں حضرت جابرؓ بن عبداللہ مسجد نبوی میں سب سے بڑے معلّم تھے۔ وہ اس خبر کو سن کر زار وقطار رو پڑے۔
کربلا میں سیدنا حسینؓ کی شہادت کے بعد قافلۂ اہلِ بیت‘ جس میں صرف ایک نوعمر اور بیمار لڑکے حضرت علی بن حسین زین العابدینؓ کے علاوہ سبھی خواتین اور بچیاں تھیں‘ کو یزیدی فوجوں کی نگرانی میں کوفہ روانہ کیا گیا۔ وہاں یہ قافلہ عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا اور پھر وہاں سے ان کو دمشق یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ ہر دو درباروں میں ابن زیاد اور یزید نے بناتِ رسول کو گستاخانہ انداز میں مخاطب کیا۔ آخر یزید کے دربار سے ان خواتین کو وہاں پر موجود صحابی حضرت نعمانؓ بن بشیر کی سربراہی میں مدینہ روانہ کر دیا گیا۔ قافلے کی روانگی کے وقت حضرت زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ محملوں پر سیاہ چادریں ڈال دی جائیں۔ اس لیے کہ محملوں میں حضورﷺ کی بیٹیاں سوار تھیں اور سفر لمبا تھا۔ ان کو یہ سفر پردے میں کرنا تھا تاکہ ان پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ یہ خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی صاحبزادیاں تھیں‘ جنہوں نے فرمایا تھا کہ ان کے جنازے کے وقت چشمِ فلک بھی ان کے کفن کو نہ دیکھ سکے۔
واقعاتِ کربلا کی خبر مدینہ منورہ پہنچ چکی تھی۔ جب یہ قافلہ مدینہ کے قریب پہنچا تو مدینہ میں موجود صحابہ وتابعین اور اہلِ مدینہ بڑی تعداد میں ان کے استقبال اور دل جوئی کے لیے شہر سے باہر نکل آئے۔ مشہور صحابی حضرت جابرؓ بن عبداللہ انصاری سب سے آگے آگے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ وہ فرما رہے تھے کہ یہ قوم اپنے نبی کو روزِ قیامت کیا منہ دکھائے گی؟ اپنے غم خوار رشتہ داروں اور حضورﷺ کے جانثار صحابہ کو دیکھ کر حضرت زینبؓ بھی رونے لگیں۔ پھر حضرت جابرؓ کو خطاب کر کے فرمایا: میرے نانا کے صحابی! آپ نے جس بچے کو اپنے ہاتھوں سے اپنے آقاﷺ کے مبارک کندھوں پر کئی بار بٹھایا تھا اس کا جسد اطہر گھوڑوں کے سموں سے کچلا گیا اور اس کا سر نیزے کی نوک کی زینت بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی حضرت زینبؓ پر بے ہوشی طاری ہو گئی اور وہ گر گئیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب حضرت زینبؓ فرطِ غم سے غش کھا گئیں۔ انہیں اٹھا کر ان کے گھر لایا گیا۔ حضرت جابرؓ نے ان مظلومین کی امداد اور غم گساری کے لیے دن رات ایک کر دیا۔
پورے مدینہ پر غم کی چادر تن گئی تھی اور ہر گھر میں بڑے چھوٹے‘ مرد وخواتین سبھی زار وقطار رو رہے تھے۔ حضرت جابرؓ کی آنکھوں سے تو اس موقع پر کئی دنوں تک آنسو رکتے ہی نہیں تھے۔ اگلے دن حضرت زینبؓ مسجد نبوی میں تشریف لے گئیں۔ آنحضورﷺ کے روضہ مبارک پرحاضر ہوئیں اور صلوٰۃ وسلام عرض کرنے کے بعد اس پورے منظر کو بیان کیا جس سے آلِ رسول دوچار ہوئی تھی۔ اس موقع پر بزرگ صحابی حضرت جابرؓ سمیت سب لوگ رونے لگے مگر حضرت زینبؓ نے آج اسی انداز میں لوگوں کو صبر کی تلقین کی جس انداز میں شبِ کربلا میں ان کے محبوب بھائی سیدنا حسینؓ نے انہیں تلقین فرمائی تھی۔ یہ سانحہ بڑا دل گداز تھا مگر اہلِ ایمان نے صبر کا مظاہرہ کیا۔ حضرت جابرؓ نے غم کے باوجود اپنا سلسلۂ تدریس معطل نہیں کیا بلکہ باقاعدگی کے ساتھ تشنگانِ علم کی پیاس بجھانے کا عمل جاری رکھا۔
حضرت جابرؓ حسبِ معمول اپنے درس وتدریس کے کام میں مشغول ہو گئے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف کو حجازکا گورنر بنایا گیا۔ اس ظالم نے حضرت جابرؓ اور دیگر کئی صحابہ کی گردنوں اور ہاتھوں پر مہریں لگوائیں جس کا مطلب تھا کہ معاذ باللہ یہ ناپسندید ہ افراد ہیں۔ ظلم کی یہ داستانیں تو بہت طویل ہیں مگر ہم ان سے صرفِ نظر کرتے ہیں۔ یہ جان لیں کہ مہریں لگائے جانے کے وقت حضرت جابرؓ کی عمر 90 سال سے زائد تھی اور بڑھاپے کی وجہ سے ان کی بصارت بھی ختم ہو چکی تھی۔ اس واقعہ کے کچھ ہی عرصے کے بعد آنحضورﷺ کے یہ محبوب صحابی 95 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔
حضرت جابرؓ کی بصارت جب تک بحال تھی آپؓ نے ہر قسم کے حالات میں علم پھیلانے کا پوری طرح حق ادا کیا۔ آپؓ کا گھر مسجد نبوی سے ذرا فاصلے پر تھا۔ بینائی ختم ہو جانے کے باوجود کسی بچے یا خادم کا ہاتھ پکڑ کر مسجد میں باقاعدگی سے آتے۔ بینائی ختم ہونے سے پہلے کسی عقیدت مند نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ مسجد کے قریب کوئی گھر خرید لیں اور نابینا ہونے کے بعد بھی کئی دوستوں نے یہی مشورہ دیا۔ آپؓ نے ہر ایسے موقع پر آنحضورﷺ کی حدیث کا حوالہ دے کر اس تجویز کو رد کر دیا۔ آپؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب بندہ وضو کرے اور احسن انداز میں کرے۔ پھر نمازکے لیے مسجد کی طرف روانہ ہو تو ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے۔ جب وہ بندہ مسجد میں بیٹھ جاتا ہے تو اللہ کے فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ اے اللہ! اس پر رحم فرما‘ اے اللہ! اس کو بخش دے‘ اے اللہ! اس پر اپنی رحمت سے متوجہ ہو جا۔ (صحیح مسلم)
بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے صحابہ میں سب سے آخر میں وفات پانے والے حضرت جابرؓ ہی تھے۔ آپؓ کی وفات پر تاریخِ اسلامی کے ایک عظیم باب کا خاتمہ ہو گیا۔ اپنے بڑھاپے میں آپؓ نے حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے اختلافات و مشاجرات میں کھل کر حضرت علیؓ کا ساتھ دیا۔ جب دونوں عظیم صحابہ کے درمیان جنگ ہوئی تو آپؓ نے اپنا محبوب ترین مشغلہ یعنی تعلیم وتدریس ملتوی کر کے بنفسِ نفیس عملاً اس جنگ میں حصہ لیا۔ جنگ میں حضرت علیؓ کی فتح کے بعد آپؓ فوراً مدینہ منورہ واپس آ گئے اور اپنی مسندِ علم پر بیٹھ کر قرآن وحدیث کی تدریس کے ساتھ اہلِ مدینہ کی علمی وتربیتی رہنمائی کا فریضہ بھی ادا کرتے رہے۔ حضرت امیر معاویہؓ کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور خلیفہ سوم سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ بھی اسی خاندان سے تھے۔ حضرت عثمانؓ کے جو بچے حضرت جابرؓ کے وصال کے وقت مدینہ میں مقیم تھے‘ دیگر اہلِ مدینہ کی طرح حضرت جابرؓ کے انتقال پر شدید غمزدہ ہوئے۔
حضرت عثمانؓ کے بیٹے ابانؓ جو فقیہ مدینہ کہلاتے تھے‘ حضرت جابرؓ بن عبداللہ کی وفات پر زاروقطار روئے۔ حضرت ابانؓ مدینہ کے گورنر بھی مقرر کیے گئے تھے۔ حضرت جابرؓ کی وفات کے وقت اگرچہ گورنری کے منصب سے معزول ہو چکے تھے مگر انہوں نے اس وقت کے بزرگ ترین صحابی کی نماز جنازہ پڑھائی۔ بعض مؤرخین کی رائے میں حجاج بن یوسف نے نماز جنازہ پڑھائی مگر یہ روایت درست نہیں۔ درست واقعہ یہ ہے کہ حضرت عثمان بن عفان کے بیٹے ابان بن عثمان رضی اللہ عنہما نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دیگر صحابہ کے ساتھ دفن کیا گیا۔ (اسد الغابہ‘ حصہ دوم) (ختم)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں