ظلم کا خاتمہ مگر کیسے؟

اس دنیا میں ظلم وسفاکیت نے ہر دور میں انسانیت کی زندگی اجیرن کی ہے۔ آج جس طرف نظر ڈالیں کرۂ ارضی پر اہلِ اسلام سے ان کے زندہ رہنے کا حق تک چھین لیا گیا ہے۔ فلسطین‘ بالخصوص غزہ میں انسانی حقوق کا نام ونشان مٹا دیا گیا ہے۔ وادیٔ کشمیر قتل گاہ بن چکی ہے۔ بھارت کے اندر بھی مسلمانوں کی جان‘ مال اور آبرو ہر چیز مباح ہو چکی ہے۔ ان کے گھر‘ دکانیں اور مساجد غرض ہر چیز ہندو بنیے اور انتہا پسند‘ دہشت گرد ہندو عناصر کی زد میں ہے۔ ان سب مظلوموں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ مسلم ممالک کے حکمران بزدلی اور بے حمیتی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ یہ اس امت کا حال ہے جس کے نبیِ رحمتﷺ نبوت سے قبل اپنی جوانی کے دور میں بھی ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو کر ظالم کے ہاتھ کو اپنی قوت سے روکتے تھے۔
آنحضورﷺ کی زندگی قبل از بعثت کے یادگار واقعات میں سے ایک بہت اہم واقعہ وہ حلف ہے جو قریش کے مختلف خاندانوں کے چند افراد نے باہمی طور پر لیا تھا۔ آنحضورﷺ بھی اس معاہدے میں ایک رکن کے طور پر شریک تھے۔ رسول کریمﷺ کی عمر مبارک کے بیسیویں سال کا یہ بہت عظیم واقعہ تاریخ میں پوری طرح محفوظ ہے۔ عربوں کی ساری خرابیوں کے باوجود ان کے بعض افراد کے اندر ابھی تک اخلاقِ حسنہ کی بعض باقیات موجود تھیں۔ ظلم کے خلاف کبھی کبھار ان کی رگِ حمیت جاگ اٹھتی تھی اور وہ ظالم سے مظلوم کا حق دلانے کے لیے سینہ سپر ہو جاتے تھے۔ تمام مستند کتبِ تاریخ میں یہ واقعہ محفوظ ہے۔ اس واقعے کی تفصیلات میں بیان کیا گیا ہے کہ دور دراز سے سفر کر کے قبیلہ بنو زبید کا ایک شخص کچھ مالِ تجارت لے کر مکہ مکرمہ آیا۔ اس کی بیٹی بھی عمرے کی نیت سے اس کے ساتھ تھی۔ اس تاجر سے اس کا سامان مکہ کے مشہور اور مال دار سردار عاص بن وائل نے خرید لیا لیکن اس نے سینہ زوری کرتے ہوئے اس زبیدی تاجر کی بیٹی کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔ وہ اجنبی شخص خانہ کعبہ میں آیا اور خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر بلند آواز سے روتے پیٹتے ہوئے فریاد کرنے لگا: اے شہرِ مکہ کے شرفا! تمہارے بااثر آدمی عاص بن وائل نے مجھ سے زبردستی میری بیٹی چھین لی ہے۔ میں مسافر اور مظلوم ہوں‘ تمہاری خدمت میں درخواست گزار ہوں کہ میری داد رسی کرو اور میری بیٹی مجھے واپس دلائو۔
آج بھی ہمارے معاشرے میں اس طرح کے دلخراش واقعات ہر شہر اور ہر گلی محلے میں روزانہ رونما ہوتے ہیں۔ مظلوم کی آہ سے سینوں میں دل پھٹ جاتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ان مظالم کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا بلکہ حال ہی میں کئی واقعات لوگوں کے سامنے ایسے بھی آئے ہیں کہ یہاں کے نظامِ حکومت نے مظلوم کی داد رسی کرنے کے بجائے الٹا اس پر مزید ظلم ڈھائے ہیں۔ لاہور میں بھاٹی گیٹ اور داتا دربار کے پاس خاتون اور اس کی بچی کے نالے میں گرنے کا واقعہ ہر شخص کو اچھی طرح یاد ہو گا۔ مظلوم شوہر آہ وپکار کرتا رہا کہ اس کی بیوی اور شیر خوار بیٹی سیوریج کے کھلے مین ہول میں گر گئی ہیں۔ وہ مدد کے لیے پکارتا رہا اور مدد کرنے والے الٹا اس پر تشدد کرتے رہے۔
بہرکیف‘ غلافِ کعبہ پکڑ کر بے بس مسافر روتا رہا تاآنکہ قریش کے کچھ نوجوانوں نے اس مظلوم کی آہ وپکار سنی۔ اللہ تعالیٰ نے ان نوجوانوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ مردانگی اور غیرت کا تقاضا ہے اس مسافر کی دادرسی کی جائے۔ جب تاریخ میں ہم اس واقعہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو دل سے یہ آواز اٹھتی ہے کہ مظلوم کی مدد کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کے اندر ایک مظلوم کی دادرسی کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے ان لوگوں کے دل خیر پر آمادہ کر دیے۔ طبقات ابن سعد کے مطابق: سب سے پہلے بنو ہاشم‘ بنو امیہ‘ بنو زہرہ اور بنو مخزوم‘ ان چاروں اہم قبائل میں سے کچھ لوگوں نے مل کر اس مظلوم کی پکار پر لبیک کہا۔ (اے کاش! آج بھی ظلم کے خلاف مضبوط آواز اٹھانے کا سامان فراہم ہو جائے)۔ امام ابن کثیر نے بھی یہ واقعہ اپنی تاریخ کی کتاب البدایہ والنہایہ میں بیان فرمایا ہے۔ امام ابن کثیر نے جن قبائل کے نام لکھے ہیں ان میں مظلوم کی پکار پر لبیک کہنے والے لوگ بنو ہاشم‘ بنو زہرہ اور بنو تَیم بن مرہ سے تعلق رکھتے تھے‘ جبکہ سب سے پہلے مظلوم کی پکار پر لبیک کہنے والے سعادت مند قریشی آنحضورﷺ کے چچا محترم جناب زبیر بن عبدالمطلب تھے۔ ابن سعد نے یہ بھی لکھا ہے کہ عبداللہ بن جدعان کے گھر مشاورت اور فیصلے کے لیے جمع ہونے والے ان ارکان کے کھانے کا انتظام بھی زبیر بن عبدالمطلب ہی نے کیا تھا۔ بے حس اور من مست لوگوں کی اُس معاشرے میں کثرت تھی۔ علامہ حافظ ابن کثیر کے مطابق: قبیلہ عبدالدار‘ مخزوم جمیح‘ سہم اور عدی بن کعب کے سامنے جب اس مظلوم نے عاص بن وائل کی شکایت کی تو (آج کے دور کے لوگوں کی اکثریت کی طرح) انہوں نے اس کی حمایت میں کھڑے ہونے سے انکار کر دیا۔ (البدایۃ والنہایہ‘ ج: 1‘ طبع دارِ ابن حزم‘ بیروت‘ ص: 416)
ظالم کا مقابلہ کرنے والے یہ کتنے لوگ تھے‘ تاریخی حوالوں پر تجزیاتی نظر ڈالیں تو گمان غالب یہ ہے کہ یہ لوگ درجن بھر کے لگ بھگ تھے۔ نبی اکرمﷺ ان میں سب سے پیش پیش تھے۔ یہ سب لوگ اس زبیدی کو اپنے ساتھ لے کر ظالم سردار عاص بن وائل کے دروازے پر پہنچے۔ اسے باہر بلایا گیا اور سب نے یک زبان کہا کہ اس مظلوم پر تم نے کیوں ظلم ڈھایا ہے؟ اس نے کہا: میں نے کوئی ظلم نہیں کیا‘ وہ لڑکی کنیز ہے۔ جب مال کا سودا کیا تھا تو یہ لڑکی بھی میں نے اس شخص سے خرید لی تھی۔ میں اس سے تمتع بھی کر چکا ہوں۔ عاص بن وائل کا جواب سن کر وفد کے لوگوں نے زبیدی سے وضاحت مانگی تو اس نے کہا: خانہ کعبہ کی عظمت وتقدس کی قسم! میں نے اپنی لڑکی بیچی نہیں ہے اور نہ ہی وہ کنیز ہے‘ وہ میری حقیقی بیٹی ہے اور اس شخص نے اپنی قوت کے بل بوتے پر زبردستی اسے پکڑ کر اپنے گھر میں قید کر لیا ہے۔ اس پر وفد کے تمام ارکان نے سختی کے ساتھ عاص بن وائل سے بات کی تو اس بدبخت نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا اور زبیدی کی لڑکی اسے واپس دینا پڑی۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ عاص بن وائل نے ارکانِ وفد سے بڑی بے شرمی کے ساتھ کہا کہ میں کل صبح لڑکی واپس کروں گا‘ ایک رات مجھے اس کے ساتھ گزار لینے دو۔ وفد کے تمام غیرت مند ارکان نے اسے سختی کے ساتھ اس ارادۂ بد پر شرم دلائی اور کہا کہ ہمارے جیتے جی یہ ہرگز ممکن نہیں؛ چنانچہ اسے اپنے شیطانی ارادے پر عمل کا موقع نہ ملا۔ زبیدی کی بیٹی اسے واپس دلا دی گئی۔ اب اس نے اپنی بیٹی کو ساتھ لیا‘ خانہ کعبہ میں جا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا‘ طوافِ کعبہ کا شرف حاصل کیا اور غیرت مند قریشی نوجوانوں کو ڈھیروں دعائیں دیں۔ اس کے بعد وہ مسافر اپنے علاقے کی طرف روانہ ہوگیا۔ جاتے ہوئے وہ اور اس کی بیٹی‘ دونوں ان تمام نوجوانوں کو دعائیں دے رہے تھے‘ جنہوں نے ان کی دادرسی کی۔ مظلوم کی بددعا ربِ عرش تک بلا روک ٹوک پہنچتی ہے اور اس کی دعا بھی۔ وہ قریشی نوجوان خوش نصیب تھے‘ جنہوں نے مظلوم سے دعائیں لیں۔
جب اس تنازع کا فیصلہ بحسن وخوبی ہو گیا تو وفد کے ارکان میں سے بعض نے رائے دی کہ اس قسم کے واقعات ہمارے معاشرے میں وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں‘ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم آپس میں ایک حلف اٹھائیں کہ ہم ظالم کے مقابلے پر ہر مظلوم کی مدد کریں گے خواہ وہ کوئی بھی ہو؛ چنانچہ یہ سب لوگ عبداللہ بن جدعان کے گھر پر اکٹھے ہوئے اور اللہ کے نام پر سب نے حلف اٹھایا‘ جس کے الفاظ یہ تھے: ''ہم حلف اٹھاتے ہیں کہ کسی کی بھی غصب شدہ چیز اس کے مالک کو واپس دلائیں گے‘ اور آج کے بعد کسی پر ظلم کو برداشت نہیں کریں گے۔ ہر مظلوم کی دادرسی ہوگی اور ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دی جائے گی‘‘۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں