اللہ تعالیٰ نے امتِ اسلامیہ کو بے شمار اور بے مثال انعامات سے نوازا ہے۔ ختم الرسلﷺ کا امتی ہونا اتنا بڑا اعزاز ہے کہ انبیاء و رسل بھی اس بات کی تمنا کرتے رہے کہ کاش انہیں محمدﷺ کا امتی ہونے کا شرف حاصل ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ماہِ رمضان بھی بہت بڑا انعام ہے۔ ماہِ رمضان ہم پر سایہ فگن ہو چکا ہے۔ الحمدللہ زندگی میں ایک بار پھر یہ عظیم مہمان ہمارے نصیب میں لکھا گیا ہے۔ مہمان‘ جو دیتا بہت کچھ ہے‘ ہم سے لیتا کچھ بھی نہیں۔ یہ ماہِ مبارک از اول تا آخر خیر ہی خیر ہے۔ اس کا پہلا عشرہ رحمت‘ دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ دوزخ کی آگ سے خلاصی کی نوید لے کر آتا ہے۔ حضور نبی اکرمﷺ ماہِ شعبان ہی میں استقبال رمضان کے لیے کمرِ ہمت باندھ لیا کرتے تھے۔ آپﷺ عام دنوں میں بھی نیکی کے کاموں میں مشغول رہتے مگر رمضان میں بہت زیادہ عبادتِ الٰہی کا اہتمام فرماتے۔ ہمیں بھی ماہِ شعبان کے آتے ہی اپنے تمام امور ومعاملات کو اس نقطۂ نظر سے منضبط کر لینا چاہیے کہ رمضان المبارک کی ایک ایک گھڑی ہمارے لیے مفید اور بابرکت ثابت ہو۔
روزے کی فرضیت کا حکم ہجرت کے ڈیڑھ سال بعد مدینہ منورہ میں وحی کے ذریعے آنحضورﷺ پر نازل ہوا۔ ''اے لوگو! جو ایمان لائے ہو‘ تم پر روزے فرض کر دیے گئے‘ جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ توقع ہے کہ ان سے تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی۔ چند مقررہ دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں) تو وہ فدیہ دے دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے‘ تو یہ اُسی کے لیے بہترہے۔ لیکن اگر تم سمجھو تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ تم روزے رکھو‘‘۔ (سورۃ البقرہ: 183 تا 184)
یہ حکم 2ھ کا ہے۔ اس سے اگلی آیت: 185 میں‘ جو ایک سال بعد نازل ہوئی‘ حکم دے دیا گیا کہ روزے میں چھوٹ محض معذور ودائمی مریض لوگوں کے لیے ہے۔ تندرست وتوانا لوگوں کو روزہ رکھنا ہی ہو گا۔ ''رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق وباطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے‘ اس کو لاز م ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو‘ تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے‘ سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے‘ اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار واعتراف کرو اور شکر گزار بنو‘‘۔ (سورۃ البقرہ: 185)
روزہ دین اسلام کا چوتھا رکن ہے۔ عربی زبان میں روزے کو صوم کہا جاتا ہے‘ جس کی جمع صیام ہے۔ مندرجہ بالا آیات کے مطابق روزے کی فرضیت کی اصلی غایت اہلِ ایمان کے دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ بلاشبہ روزہ اس کا بہترین ذریعہ ہے۔ نبی رحمتﷺ کی حدیث کے مطابق ''تقویٰ کا منبع دل ہے‘‘ اور روزے کی حالت میں واقعتاً دل کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ شدید بھوک اور پیاس کے باوجود مکمل تنہائی میں بھی کوئی روزہ دار پانی کا ایک قطرہ یا کسی غذا کا ایک ذرہ بھی اپنے حلق سے نیچے نہیں جانے دیتا۔ یہی تصور بندے اور رب کے درمیان وہ تعلق قائم کرتا ہے جسے تقویٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
روزے کو حدیث میں ڈھال بھی قرار دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ڈھال دشمن کے مقابلے میں اپنے دفاع کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ نفسِ امارہ‘ فسق وفجور سے بھرا ہوا ماحول اور شیطان لعین ہر وقت انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ان سب کا مقابلہ کرنے کے لیے ماہِ رمضان کے روزے مسلسل تربیت کا مؤثر کورس ہیں۔ اس تربیت کے اثرات اگر باقی گیارہ مہینوں میں نظر آئیں تو سمجھ لیجیے کہ روزہ اللہ کے ہاں مقبول ہو گیا ہے اور روزہ دار سرخرو ہے۔ خدا نخواستہ اگر ایسا نہ ہو تو روزہ محض بھوک پیاس بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسے روزے سے روزہ دار کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
ماہِ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے اور خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنا دامن خیرو برکت سے بھر لیں۔ ماہِ رمضان کی آمد کے باوجود جن لوگوں کو نیکی کی جانب قدم بڑھانے کی توفیق نہیں ملتی ان کی بدنصیبی اس سے عیاں ہے کہ جبریل امین نے ان کے حق میں تباہی و بربادی کی دعا کی اور اللہ کے رسولﷺ نے اس پر آمین کہا۔ اس مہینے کے فضائل بے شمار ہیں۔ حدیث میں فرمایا گیا کہ اس مہینے میں نفل عبادات کا اجر فرض کے برابر اور فرض کا اجر ستر گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ رمضان کو صبر کا مہینہ قرار دیا گیا ہے اور صبر کا بدلہ جنت بتایا گیا ہے۔ روزہ محض معدے کا نہیں ہوتا بلکہ پورے اعضا وجوارح‘ آنکھ‘ کان‘ ناک‘ زبان‘ ہاتھ‘ پائوں‘ دل ودماغ‘ فکر وسوچ‘ غرض ہر چیز کو محیط ہوتا ہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ جھوٹی باتیں اور غلط کام ترک نہیں کرتے اللہ کو ان کی بھوک پیاس کی کوئی حاجت نہیں۔
ماہِ رمضان ہر سال آتا ہے اور ایک پیغام دے کر چلا جاتا ہے۔ ماہِ رمضان کے دوران جہاد اور مجاہدین سے مکمل وابستگی ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔ جس سال روزے فرض ہوئے اس سال ماہِ رمضان ہی میں کفر واسلام کا پہلا معرکہ بدر کے میدان میں برپا ہوا‘ جسے قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے۔ تاریخ اسلام جہاد اور شہادت سے مزّین ہے۔ پہلی شہادت تو مکہ میں ایک صحابیہ سیّدہ سمیّہ رضی اللہ عنہا کے حصے میں آئی۔ پھر اس فہرست میں ایک ہی روز یعنی یومِ بدر (17 رمضان المبارک 2ھ) کو چودہ عظیم المرتبت شہدا کا اضافہ ہوا۔ وہ دن اور آج کا دن اس فہرست میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جہاد جاری ہے اور قیامت کے دن تک جاری رہے گا۔ جہاد کے خلاف آج داخلی وخارجی ہر محاذ پر انتہائی گھناؤنی سازشوں کا جال بچھا دیا گیا ہے مگر ہمیں بطور مسلمان اللہ اور اس کے رسولﷺ کا یہ حکم ہے کہ ہم ان سازشوں کا مقابلہ کریں اور جہاد میں حصہ لیں۔ جو شخص خود عملاً جہاد میں شریک نہ ہوسکے وہ کسی مجاہد کو زادِ جہاد فراہم کر دے یا اس کے پیچھے اس کے اہلِ وعیال کی خبر گیری میں لگ جائے یا شہدا کے خاندانوں کا کفیل بن جائے تو وہ بھی عملاً جہاد میں شریک شمار ہوتا ہے۔ ایسے شخص کا اجر حدیث پاک میں مجاہدین کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ شہدا اور ان کے پسماندگان کا اسلام میں بڑا مقام ہے۔ شہید پوری امت کا محسن ہوتا ہے۔ حضور پاکﷺ کا اسوۂ حسنہ یہ تھا کہ شہدا کے خاندانوں سے خصوصی محبت وتعلق قائم رکھتے تھے۔
ماہِ رمضان میں ہر نیک کام اور انفاق فی سبیل اللہ کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اس مہینے میں نیکی اور انفاق میں سبقت کرنی چاہیے۔ مقدار جتنی بھی ہو‘ اخلاص کے ساتھ پیش کی جائے تو اللہ کے ہاں بڑے درجات حاصل ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس رمضان میں اور آئندہ ہمیشہ کے لیے حسبِ استطاعت زیادہ سے زیادہ انفاق فی سبیل اللہ کو اپنا وتیرہ بنا لیں۔
اس مرتبہ شعبان کے 30 دنوں کے بعد رمضان کا چاند نکلا اور رمضان کی برکات ورحمتیں امتِ مسلمہ کے شامل حال ہوگئیں۔ چاند نظر آئے تو رات کو قیام یعنی تراویح اور اگلے روز صیام یعنی روزے شروع ہو جاتے ہیں۔ ہر ماہ نیا چاند نظر آنے پر جو دعا ہمیں سکھائی گئی ہے‘ جامع ترمذی کے مطابق اس کا ترجمہ یوں ہے: اللہ سب سے بڑا ہے‘ اے اللہ! اس چاند کو ہمارے لیے ہلالِ امن وایمان‘ باعثِ سلامتی اور اسلام بنا کر طلوع فرما‘ ہمیں ان کاموں کی توفیق دے جو تجھے پسند اور محبوب ہیں۔ اے چاند! ہمارا اور تیرا پروردگار اللہ ہی ہے۔