جنگ اور عید

ایک سپر پاور اور علاقے کی اسلحہ کے اعتبار سے بڑی قوت اسرائیل کے مقابلے میں ایران کی جنگی مہارت اور زبردست دفاعی و جارحانہ حکمت عملی نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا اندازہ یہ تھا کہ ایران اتنے بڑے فضائی حملوں کے جواب میں بمشکل دو چار روز ٹِک سکے گا اور جلد گھٹنوں کے بل آ جائے گا۔ 17 روزہ تازہ ترین جنگی منظر نامے کے پیش نظر حق الیقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ایران یہ جنگ ہارے گا نہیں‘ ڈٹ کر کھڑا رہے گا۔ امریکہ اور اسرائیل نت نئے حربے آزما رہے ہیں اور شدید سے شدید حملے کر رہے ہیں مگر ایران ان حملوں کا بھرپور جواب دے رہا ہے۔ اسرائیل تصویروں‘ وڈیوز اور رپورٹوں پر لاکھ سنسر شپ عائد کرے مگر دنیا بھر کا میڈیا اور انفرادی ذرائع تل ابیب کی بربادی کے جو مناظر دکھا رہے ہیں وہ غزہ سے مختلف نہیں۔
ہفتے کے روز امریکہ نے خارگ اور ابو موسیٰ کے جزیروں میں 90سے زیادہ ایرانی فوجی مقامات پر حملے کیے۔ یہ حملے ایران کی شہ رگ پر تصور کیے جا رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جنگی حکمت عملی ادلے کا بدلہ ہے‘ امریکہ نے ہماری تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے‘ ہم اس کا بدلہ لیں گے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ بھی واضح کیا کہ تیل کی تنصیبات پر حملے متحدہ عرب امارات کے امریکی اڈے سے کیے گئے‘ جہاں سے حملہ ہو گا جواب بھی وہیں جائے گا۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات اور اُن کمپنیوں کو نشانہ بنائے گا جن میں امریکہ کی شمولیت ہوگی۔ گزشتہ چند روز کے دوران ایران نے متحدہ عرب امارات‘ سعودی عرب‘ کویت اور عراق وغیرہ میں امریکی طیاروں اور ریڈار سٹیشنوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کی جنگی حکمت عملی یہ ہے کہ ادلے کا بدلہ ہوگا۔
ایران کے بارے میں امریکی و اسرائیلی اندازے بالکل غلط ثابت ہوئے۔ دونوں جارح ملکوں کا خیال تھا کہ ایران کے پاس میزائلوں کا بہت کم ذخیرہ ہوگا جو ایک دو روز میں ختم ہو جائے گا مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر ایران ایک رات میں ایک سو میزائل داغتا ہے تو اگلے روز کئی سو مزید تیار کر لیتا ہے۔ ایران نے مجموعی طور پر ایک بھرپور جوابی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ امریکہ کا اندازہ یہ تھا کہ وہ ایرانی حکومت کی کسی بڑی شخصیت کو نشانہ بنائے گا تو اگلے روز وہاں جیم چینج ہو جائے گی۔ امریکہ کی معلومات نہایت سطحی اور بے بنیاد تھیں۔ جس روز اسرائیلی میزائلوں نے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو تہران میں نشانہ بنایا تو سارے ایرانی جدید اور بنیاد پرست‘ مل کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ ایران کے جدید اور 'بے عمل‘ ایرانی بھی اندر سے مذہبی ہوتے ہیں۔ وہ بھی مرجع خلائق قیادت کے ساتھ اتنی ہی عقیدت رکھتے ہیں جتنی روایت پسند۔ ایران میں عورتیں حجاب ضرور کرتی ہیں مگر وہ کارِ سپہ گری سے لے کر ٹیکنالوجی تک کے جدید ترین شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام بھی کرتی ہیں۔ 13مارچ جمعۃ المبارک کے روز ایران میں یوم القدس کے موقع پر ہزاروں افراد کے جلوسوں نے یک جان سو قالب ہو کر جس طرح تہران‘ مشہد اور اصفہان کی سڑکوں پر ایک ملت اور ایک قوم ہونے کا ثبوت دیا اس سے امریکہ سمیت دنیا کو بہت سے سوالوں کے جواب مل گئے ہیں۔ تہران کی شاہراہوں پر یوم القدس کے جلوس میں ہزاروں مرد و زن کیساتھ ایرانی صدر مسعود پزشکیان‘ وزیر خارجہ عباس عراقچی‘ ایران کے چیف جسٹس اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔ لوگ دیوانہ وار اپنے محبوب صدر کی دست بوسی کرتے اور حکومت کیساتھ مکمل یکجہتی کیلئے نعرہ ہائے تکبیر بلند کر رہے تھے۔ اسی دوران امریکہ اور اسرائیل نے فضائی حملے بھی کیے مگر دھماکوں کے باوجود کوئی شخص اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔
جذبۂ حسینی کے ساتھ ایرانی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ امریکہ کا خیال تھا کہ ایرانی عراق‘ لیبیا اور شام کی طرح ڈھیر ہو جائیں گے مگر سپر پاور کو یہ معلوم نہ تھا کہ ایران کی چھ ہزار سالہ پرانی تاریخ اور تہذیب ہے۔ ایرانیوں کا فلسفۂ حیات یہ ہے کہ وہ جان تو دے سکتے ہیں مگر کسی دنیاوی طاقت کے سامنے جھک نہیں سکتے۔ اس سے پہلے جن عرب ملکوں پر امریکہ نے قبضہ جمایا اور رجیم چینج کی وہاں کوئی منتخب حکومت نہ تھی‘ وہاں جمہوریت نہیں آمریت تھی لہٰذا حکمران الگ اور عوام الگ تھے جبکہ ایران میں حکومت کسی فوجی ڈکٹیٹر یا کسی خاندان کی نہیں عوام کی ہے۔
گزشتہ چالیس برسوں کے دوران اسرائیل جب بھی اہلِ فلسطین اور عربوں کے خلاف صف آرا ہوا تو اسے امریکہ اور کئی مغربی اقوام کی پشت پناہی حاصل تھی مگر پہلی مرتبہ نیتن یاہو کے پُرفریب جال میں گرفتار ہو کر امریکہ اسرائیل کے ساتھ فرنٹ مین کے طور پر جنگ لڑ رہا ہے۔ اسی لیے امریکہ میں کانگریس کے اندر ڈیمو کریٹس کی طرف سے ہی نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی پارٹی کی طرف سے بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ماہرین تقریباً متفق نظر آتے ہیں کہ امریکہ یہ جنگ نہیں جیتے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ امریکہ کے پاس آج سترہ روز بعد بھی جنگ کا کوئی واضح جواز یا ہدف نہیں جو وہ کانگریس اور امریکی عوام کے سامنے پیش کر سکے۔ کبھی ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہم ایران کے نیو کلیئر پروگرام کے خاتمے کیلئے جنگ لڑ رہے ہیں‘ کبھی کہتے ہیں اب ہمارے لیے ایران میں کوئی ہدف ہی باقی نہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ایران کے آئل گیس کے مراکز پر وینزویلا کی طرح قبضہ کر لیں گے مگر ٹرمپ کو سمجھ آئے یا نہ آئے ‘ ان کے مشیروں کو اچھی طرح معلوم ہو گیا ہے کہ ایں خیال است و محال است و جنوں۔
اسرائیل کی ہر ممکن کوشش ہے کہ جنگ کو زیادہ سے زیادہ پھیلائے تاکہ خلیجی ممالک ایران کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیں۔ مگر ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ عرب اچھی طرح جان گئے ہیں کہ جنگ جتنی پھیلے گی اس سے خلیج میں تیل کی تنصیبات کو اتنا ہی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری آئل ٹینکروں کو روکنے کی بنا پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت بڑھ چکی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں ساری دنیا اقتصادی بحران میں گرفتار ہو چکی ہے۔ جنگ کے روزِ اوّل سے پاکستان جنگ رکوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہماری قیادت ایران اور سعودی عرب کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اس معاملے میں روس پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ایران حماس کا زبردست حمایتی ہے مگر اس کا بھی کہنا ہے کہ ایران عرب ملکوں پر حملے نہ کرے۔ پاکستان بھی ایران سے یہی اپیل کر رہا ہے۔ جنگ مشرق ِوسطیٰ کی عرب سرزمین پر لڑی جا رہی ہے۔ جنگ کے بڑھنے اور پھیلنے سے اگر عربوں کی آئل تنصیبات کو نقصان پہنچتا ہے یا ایرانی آئل تنصیبات کو تو اسرائیلی ایجنڈا پورا ہوتا ہے اور مسلمانوں کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔ اگرچہ پاکستان براہِ راست جنگ کا حصہ نہیں مگر جنگ کے پھیلنے سے پاکستان کو اقتصادی اور تزویراتی طور پر شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ اللہ سب کو جنگ کے شعلوں سے محفوظ رکھے‘ آمین!
ڈونلڈ ٹرمپ عیدالفطر کے احترام اور مسلمانوں کی خوشیوں کی خاطر عید سے پہلے جنگ بند کرنے کا اعلان کر دیں۔ ادھر پاکستان چینی اور ترکیہ کے بھائیوں کی بار بار کی اپیلوں پر لبیک کہتے ہوئے پاک افغان جنگ کے خاتمے کا اعلان عید سے پہلے کر دے اور دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔ پاکستان کے حکمران بھی عوام وخواص کو ہدیۂ عید پیش کرتے ہوئے ملک کے اندر اپوزیشن کو سنجیدہ مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دیں۔ عمران خان کے ساتھ اُن کے اہلِ خاندان‘ وکیلوں اور پی ٹی آئی کے لیڈروں کو ملاقاتوں کا موقع دے کر عید کی خوشیاں دوبالا کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں