حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو فلسطین سے واپس مدینہ شریف بھیجا گیا تو انہوں نے خلیفہ ثالث امیر المومنین سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی مجلس میں شام و فلسطین کے حالات بیان کرتے ہوئے ایک طویل خطاب کیا‘ جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معصیت کے کاموں میں کسی کی اطاعت جائز نہیں‘ تم لوگ ہرگز برائی سے اپنے آپ کو آلودہ نہ کرنا۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا خطاب تو طویل تھا‘ یہ محض اس کا خلاصہ ہے۔ کچھ دنوں کے بعد حضرت عبادہؓ واپس فلسطین چلے گئے اور باقی ماندہ زندگی وہاں تعلیم وتدریس اور لوگوں کی تربیت وتذکیر میں گزار دی۔ اُس وقت حضرت عبادہؓ کی عمر ستر سال سے اوپر تھی مگر تمام معمولات باقاعدگی سے اسی طرح جاری رکھے جس طرح جوانی میں ان پر عمل کرتے تھے۔ بہرحال فطری طور پر اب عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے جسمانی لحاظ سے کمزور ہوتے چلے جا رہے تھے‘ مگر ذہنی طور پر پوری طرح چاق وچوبند تھے۔ یادداشت بہت مثالی تھی۔ حجاز بالخصوص مدینہ منورہ سے بزرگ صحابہ کرام حضرت عبادہؓ سے ملنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔
حضرت عبادہؓ کے آخری لمحات کا تذکرہ تاریخ اور حدیث کی کتابوں میں صراحت کے ساتھ ملتا ہے۔ اپنی وفات سے کچھ دیر قبل حضرت عبادہؓ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے تمام خادموں‘ غلاموں اور ہمسایوں کو بلا کے لائو اور وہ لوگ بھی‘ جو اکثر میری مجلس میں آ کر بیٹھا کرتے تھے‘ ان سب کو کہو کہ میرے پاس تشریف لائیں۔
بڑے لوگوں کی پوری زندگی میں عظمت وعزیمت کے دیپ روشن رہتے ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے وقت سے لے کر آخر دم تک ایک سچے محبّ رسول اور ایک مخلص بندۂ خدا کے طور پر ہمیشہ اگلی صفوں میں اور اعلیٰ مقام پر فائز رہے۔ ان کے اندر علم وعرفان کی ایسی صلاحیت تھی کہ دربارِ رسالت کی طرف سے ہجرت کے بعد صفہ پر پہلا مرکزِ علوم قائم ہوا تو اس کے پہلے استاد کے طور پر حضرت عبادہؓ ہی کا انتخاب ہوا۔ علم کی شمعیں روشن کرنے کے ساتھ بدر سے لے کر فتح مصر تک‘ زندگی کے آخری سالوں تک معرکہ ہائے کارزار میں بھی بہادری کے سنگ ہائے میل نصب فرمائے۔ حضور کریمﷺ‘ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے ادوار میں حضرت عبادہؓ نے ہر میدان میں اپنا سب کچھ قربان کر دینے کا عملی نمونہ پیش کیا اور اب دنیا کو الوداع کہنے کے وقت زندگی کے لمحات میں بھی حقِ نصیحت ادا کرنے کا خوب صورت اہتمام فرمایا۔
جب سب لوگ حضرت عبادہؓ کی پاس جمع ہو گئے تو انہوں نے بڑی رقت آمیز گفتگو فرمائی۔ انہوں نے کہا: اے اہلِ ایمان! غالباً یہ میری زندگی کا آخری دن ہے اور آنے والی رات میری آخرت کی پہلی رات ہو سکتی ہے۔ تم لوگوں کا میرے ساتھ طویل عرصے سے تعلق رہا ہے۔ تم میں سے کسی کو بھی میرے ہاتھ یا میری زبان سے کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہو تو ہر شخص آئے اور مجھ سے بدلہ لے لے۔ یہ بات سن کر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کئی نوجوان فرطِ جذبات سے رونے لگے۔ پھر سب نے یک زبان کہا: آپ تو ہمارے لیے والد کی طرح تھے اور آپ نے تو ہم کو وہ کچھ سکھایا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ حضرت عبادہؓ نے کہا: کیا تم سب لوگوں نے مجھے معاف کر دیا؟ سب نے کہا: جی ہاں! اس موقع پر حضرت عبادہؓ نے کہا: اے میرے اللہ! میں تجھ کو گواہ بناتا ہوں۔ پھر فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھے معاف کر دیا‘ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو معاف فرمائے۔
سب لوگ گوش بر آواز تھے۔ حضرت عبادہؓ محسوس کر رہے تھے کہ اب کوچ کا وقت آ گیا ہے۔ آپؓ نے فرمایا: میری ایک بات سن لو‘ شاید یہ آخری بات ہو۔ میں چلا جائوں تو مجھ پر نہ تو رونا ہے اور نہ کوئی غیر اسلامی بات زبان سے نکالنی ہے۔ میری وفات کے بعد ہر شخص اچھی طرح وضو کرے اور مسجد میں نماز پڑھ کر میرے لیے مغفرت کی دعا کرے۔ میرے جنازے میں شرکت کے دوران اور اس کے بعد بھی میرے گناہوں کی معافی کے لیے اللہ سے عاجزی سے دعا کرنا۔ جاہلیت کی جتنی بھی رسمیں تھیں ان سب کو اسلام نے ختم کر دیا۔ میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ان کو مکمل طور پر ترک کر دینا اور اسلامی طریقے کے مطابق میرے جنازے اور تدفین کا عمل مکمل کرنا۔ اس موقع پر سب لوگوں پر ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔
حضرت عبادہؓ کے بیٹوں نے عرض کی: ابا جان! ہمیں کوئی خصوصی وصیت کیجیے۔ آپؓ نے اس کمزوری کی حالت میں فرمایا کہ مجھے اٹھا کر بٹھائو۔ بیٹھنے کے بعد فرمایا: اللہ کے بندو! تقدیر پر محکم ایمان رکھنا‘ ورنہ ایمان خطرے میں پڑ جائے گا۔ آپؓ کے ایک شاگرد مشہور تابعی حضرت ابوعبداللہ عبدالرحمن بن عسیلہؒ پر غم کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ رونے لگے۔ حضرت عبادہؓ نے فرمایا: میں راضی برضا ہوں‘ تم رونا بند کرو‘ ان شاء اللہ شفاعت کی ضرورت ہو گی تو اللہ کے دربار میں تمہاری شفاعت کروں گا۔ گواہی مانگی گئی تو تمہارے حق میں خیر کی گواہی دوں گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ کوئی حدیث ایسی نہیں جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی ہو اور اس میں تم لوگوں کے لیے خیر ہو اور وہ تم سے بیان نہ کی ہو‘ ہاں! ایک حدیث ہے جو میں نے بیان نہیں کی‘ وہ آج بیان کیے دیتا ہوں۔ پھر فرمایا: میں نے خود رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ''لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی گواہی دے گا‘ اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کو حرام کر دے گا۔ جب حدیث بیان کر چکے تو اس عظیم صحابی رسول نے آخری سانس لیا اور سارا ماحول غم میں ڈوب گیا۔ قضائے الٰہی سے اللہ کا محبوب بندہ‘ رسولِ رحمتﷺ کا پیارا صحابی اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ حضرت عبادہؓ کو بیت المقدس کے قریب ایک آبادی رام اللہ (رملہ) میں دفن کیا گیا۔ وفات کے وقت آپؓ کی عمر 73 سال سے اوپر تھی۔
حضرت عبادہؓ کی نمازِ جنازہ بعض روایات کے مطابق آپؓ کے بیٹے ولید نے پڑھائی۔ آپؓ نے ا پنے پیچھے تین بیٹے چھوڑے‘ جو سب کے سب صاحبِ علم تھے۔ بڑے بیٹے کا نام ولید‘ دوسرے کا عبداللہ اور تیسرے کا دائود تھا۔ آپ کی بیٹیوں کے نام تاریخ میں مذکور نہیں۔ البتہ بیٹوں سے آپؓ کی آل اولاد شام کے علاقے میں کئی شہروں میں آباد ہوئی۔ حضرت عبادہؓ کی آل اولاد میں بھی لوگ آپؓ کی جملہ خوبیوں کی جھلک محسوس کرتے تھے۔ ان میں سے اکثر دینی علم ہی سے وابستہ رہے۔ آپؓ سے مرویات کی تعداد 181 کے قریب ہے جبکہ آپؓ کے بیٹے بھی احادیت کے اہم راویوں میں شمار ہوتے ہیں۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ذکر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ آپؓ کے بڑے بھائی حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے 'ظہار‘ کیا تھا اور اسی کے جواب میں سورۃ المجادلہ نازل ہوئی تھی۔ ان کی اہلیہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہ بہت مشہور صحابیہ تھیں۔ انہوں نے ہی آنحضورﷺ سے شکایت کی تھی کہ جو مرد ظہار کرتے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ کسی شخص کی بیوی اس کی ماں کیسے ہو سکتی ہے۔ ان کی اس شکایت کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت خولہؓ کی بات کو درست قرار دیا اور ظہار کرنے والے مردوں کو کفارہ ادا کرنے کا حکم ارشاد ہوا۔ حضرت خولہؓ کے سوال کا جواب خود اللہ تعالیٰ نے دیا۔ حضرت عمرؓ حضرت خولہؓ کا بہت احترام فرمایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ خولہ جو بات بھی مجھ سے فرمائیں گی‘ میں پوری توجہ اور مکمل ادب و احترام کے ساتھ سنوں گا‘ یہ تو وہ خاتون ہیں‘ جن کی بات خدا نے آسمانوں میں سنی۔ (ختم)