حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ …(1)

حضور اکرمﷺ نے اپنی دعوت کا کام مشکل حالات میں شروع کیا۔ ہر آنے والا دن ابتلا و امتحان کی نئی نئی شکلوں میں طلوع ہوتا مگر رحمۃ اللعالمینﷺ کے حوصلے میں کبھی فرق نہ پڑا۔ آپﷺ کے اخلاص اور لگن کے نتیجے میں ہر روز کوئی نہ کوئی قیمتی ہیرا آپ کی گود میں آ جاتا۔ ایسے ہی ایک نایاب ہیرے کا تعلق یثرب کے قبیلے بنو خزرج سے تھا۔ اس جاں نثارِ رسول نے مکہ میں آنحضورﷺ سے عقبہ کے مقام پر رات کی خاموشی میں جو بیعت کی‘ اس کی مہک زندگی بھر ان کے مشامِ جان کو معطر کرتی رہی۔ یہ عظیم صحابی حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نام سے تاریخ میں زندۂ جاوید ہیں۔
سنہ 11 بعثت اور سنہ 13 بعثت میں یثرب سے بالترتیب 12 اور 82 اہلِ ایمان نے حضور اکرمﷺ سے عہدِ وفا باندھا۔ تاریخ اسلام میں ان سعید گھڑیوں کو بڑی اہمیت وفضیلت حاصل ہے۔ بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ میں شرکت کرنے والے صحابہ کو دیگر تمام انصاری صحابہ پر فوقیت حاصل ہوئی۔ نبی اکرمﷺ کو جس والہانہ انداز میں ان لوگوں نے اپنے شہر میں آنے اور سکون کے ساتھ دین کا کام کرنے کی دعوت دی وہ اس وقت کے معروضی حالات میں نہایت جرأتمندانہ فیصلہ تھا۔ ان لوگوں نے آنحضورﷺ کے ساتھ جو عہد باندھا اس میں اس بات کا اقرار کیا کہ ہم آپﷺ کی حفاظت اسی طرح کریں گے جس طرح اپنی اور اپنے اہل وعیال کی کرتے ہیں اور آپﷺ کی طرف آنے والا ہر تیر اپنے سینے پر روکیں گے۔ اس موقع پر نبی اکرمﷺ نے بارہ نقیب مقرر کیے جن میں سے ایک حضرت عبادہؓ بن صامت بھی تھے۔ حضرت عبادہؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آپ کے گھرانے کے بہت سے افراد بالخصوص آپ کی والدہ محترمہ حضرت قرّۃ العینؓ اوّلین مسلمانوں میں سے ہیں۔
پہلی اور دوسری بیعت کے بعد ان تمام انفاسِ قدسیہ کی زندگیوں میں عظیم الشان اور بے مثال انقلاب برپا ہوا۔ بیعت کے موقع پر حضرت عبادہؓ کی نظریں مسلسل آنحضورﷺ کے چہرۂ انور پر جمی رہیں۔ آپﷺ کی ہر بات کو انہوں نے پوری توجہ کے ساتھ سنا اور دل میں بٹھایا۔ بیعت کے بعد حضرت عبادہؓ واپس مدینہ گئے تو آنحضورﷺ سے ملاقات کا شوق تڑپانے لگا۔ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد دومرتبہ آپؓ مدینہ سے سفر کر کے مکہ آئے اور اپنے آقا کریمﷺ سے ملاقات کر کے خوشی اور اطمینان کی دولت پائی۔ جب نبی اکرمﷺ ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لے آئے تو حضرت عبادہؓ کو بے انتہا خوشی ہوئی۔ آپؓ کی بہت سی ذاتی مصروفیات تھیں مگر ان سب کے مقابلے میں آنحضورﷺ کی مجلس میں بیٹھنے کو آپ ہر دوسری چیز پر ترجیح دیتے۔ آنحضورﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر آپؓ نے جو کچھ سیکھا خود نبی پاکﷺ اس کی تحسین فرمایا کرتے تھے۔ آپؓ اولین حفاظِ قرآن میں سے ہیں اور صفہ پر درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا تو دربارِ رسالت کی طرف سے آپؓ سب سے پہلے اہلِ صفہ کے استاد مقرر ہوئے۔ آپؓ نے یہ خدمت بڑے شوق اور محنت کے ساتھ ادا فرمائی۔ سبھی صحابہ کرام آپ کی ان خدمات کو دیکھ کر آپؓ پر رشک کرتے تھے۔ آنحضورﷺ سے سماعت کردہ احادیث کو آپؓ بڑی احتیاط سے بیان فرماتے اور قرآن مجید بھی بہت جلد اپنے شوق اور محنت کے ساتھ یاد کر لیا تھا جس کی تعلیم وتدریس آپؓ کا محبوب مشغلہ تھا۔ آپؓ کا ذریعہ معاش زراعت اور باغبانی تھا‘ اس کے باوجود حصولِ علم اور ابلاغِ علم میں آپؓ نے بہت وقت صرف کیا۔
کلمۂ توحید جب کسی دل میں جڑ پکڑ لے تو زندگی کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ حضرت عبادہؓ نے کلمہ توحید کو اس کے معانی سمجھنے کے ساتھ دل میں بٹھا لیا تھا۔ اس کلمے میں شرک اور دوئی کی نفی کی گئی ہے۔ یہ کلمہ سکھاتا ہے کہ اللہ کے سوا نہ کوئی الٰہ ہے نہ خالق‘ نہ رازق‘ وہی سب کچھ دیتا ہے اور اسی کا حکم بلاشرکت غیرے زندگی کے ہر میدان میں چلے گا۔ اُس معاشرے میں ہر جانب بتوں کا رواج تھا۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو کہ جس میں بت خانہ نہ ہو۔ حضرت عبادہؓ نے سب سے پہلے اپنے گھر اور پھر اپنے خاندان کے ہر گھر سے بتوں کو توڑ کر باہر پھینکا۔ پھر اپنے دوست احباب کے گھروں میں بھی یہ کام جاری رکھا۔ آپؓ کے ایک دوست‘ جو قبیلہ بلی سے تعلق رکھتے تھے‘ بہت خوبیوں کے مالک تھے مگر بت پرستی میں لتھڑے ہوئے تھے۔ ان کا نام کعب بن عجرہ بیان ہوا ہے۔ آپؓ نے ایک روز ان کے گھر میں جا کر ان کے بت کو توڑ پھوڑ دیا۔ جب انہیں معلوم ہوا اور انہوں نے شکایت کی جس پر آپؓ نے کہا: اے میرے بھائی! یہ بت نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں نہ سنوار سکتے ہیں‘ یہ کسی کو کیا دیں گے اور کسی سے کیا لیں گے جو اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔ اس بات سے آپ کے دوست پر حقیقت کا عقدہ کھل گیا اور وہ بخوشی دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ حضرت عبادہؓ کی طرح حضرت کعبؓ بھی عظیم صحابہ میں شمار ہوتے ہیں‘ جن کے بڑے کارنامے تاریخ میں مرقوم ہیں۔ انتہائی عسرت اور افلاس کے باوجود حضور اکرمﷺ کی خدمت میں کھانے کی کوئی معمولی چیز پیش کرتے تو آپﷺ بڑی خوشی سے اسے قبول فرماتے اور ان کو دعائوں سے نوازتے۔ حضرت عبادہؓ بن صامت صاحبِ علم بھی تھے اور صاحبِ سیف بھی۔ آپؓ نے صفہ کو جو زینت بخشی اس سے بھی بڑھ کر میدانِ جہاد میں آپ نے دشمنوں کو زخم لگا کر اسلام کی سربلندی کیلئے مردانہ وار جنگیں لڑیں۔ جنگ بدر سے جنگ تبوک تک کوئی ایک غزوہ ایسا نہیں جس میں آپؓ آنحضورﷺ کے ہمقدم نہ رہے ہوں۔
حضرت عبادہؓ بن صامت اکثر بیعت عقبہ میں آنحضورﷺ کے ساتھ کیے گئے عہد کو یاد کرتے اور اپنے شاگردوں کے سامنے بیان کرتے تو سب پر رقت طاری ہو جاتی اور ایمان کی حرارت میں اضافہ ہو جاتا۔ اس حوالے سے آپؓ کا بیان تاریخ میں منقول ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے آنحضورﷺ سے عرض کیا: آپﷺ ہمارے پاس ہمارے شہر میں تشریف لے آئیں تو ہم اپنے مال اور اپنی جانیں اسلام کے لیے وقف کر دیں گے اور آپﷺ کی طرف کسی دشمن کا ہاتھ نہیں بڑھنے دیں گے۔ ہم جس طرح اپنی جانوں اور اپنے اہل وعیال کی حفاظت کرتے ہیں اس سے بھی بڑھ کر آپﷺ کی حفاظت کا فریضہ ادا کریں گے۔ اس کے جواب میں آنحضورﷺ نے جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ بھی آپؓ بیان کیا کرتے تھے۔ فرمایا: اے اہلِ ایمان! تمہارا خون میرا خون‘ تمہاری آبادی میری آبادی اور تمہاری بربادی میری بربادی کے مترادف ہو گی۔ میرے اور تمہارے درمیان کوئی غیریت اور فاصلہ نہیں ہو گا۔ تم میرے ہو میں تمہارا ہوں۔ جس کے ساتھ تمہاری صلح ہو گی میں اس کے ساتھ صلح کروں گا۔ جس سے تمہاری لڑائی ہو گی میں تمہارے ساتھ مل کر اس سے لڑوں گا۔ غرض میرا جینا اور مرنا تمہارے ساتھ ہے۔
مدینہ منورہ میں نبی اکرمﷺ کی آمد پر اہلِ ایمان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ وہ منظر کم وبیش تمام سیرت نگاروں نے بیان کیا ہے جب اہلِ مدینہ آنحضورﷺ کے استقبال کے لیے وداع کی گھاٹیوں پر کئی دنوں آپﷺ کے انتظار میں ذوق و شوق کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ جب حضورﷺ تشریف لے آئے تو مدینہ کے پہاڑ اور ٹیلے‘ وادیاں اور باغات‘ گلی کوچے اور بازار سب ایمان افروز استقبالی ترانوں سے گونج اٹھے۔ آنحضورﷺ نے ہجرت کے پانچ چھ ماہ بعد جب کم وبیش تمام ہجرت کرنے والے صحابہ مکہ اور دیگر قبائل سے مدینہ آچکے تھے تو ایک عظیم منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ آپﷺ نے انصار اور مہاجرین صحابہ کو اپنے خادمِ خاص حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر جمع کیا اور ان میں آپس میں مواخات (بھائی چارہ) قائم کیا۔ حضرت عبادہؓ بن صامت کا بھائی مشہور صحابی حضرت ابو مرثد غنویؓ کو بنایا۔ دونوں بھائیوں میں آپس میں مثالی محبت اور بھائی چارہ قائم رہا۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں