رواں ماہ کے آغاز میں امریکہ کی طرف سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اوّل کی گرفتاری نے عالمی سیاست میں ایک ہلچل برپا کر دی۔ امریکہ اسے اپنی عالمی طاقت کے مظاہرے اور وینزویلا میں اپنے اتحادی حکمران مسلط کرنے کا ایک اہم موقع سمجھ رہا ہے جبکہ روس اور چین اسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور وینزویلا کی خودمختاری پر کھلا حملہ قرار دے چکے ہیں۔ وینزویلا میں فوج کی وفاداری میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہیں اور عوام کی جانب سے ملا جلا ردِعمل سامنے آ یا ہے۔ اپوزیشن کی سرگرمیاں غیر معمولی حد تک تیز ہو گئی ہیں۔ تیل کی عالمی منڈی‘ معیشت اور بین الاقوامی تعلقات اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ آئندہ کچھ وقت میں فوج‘ عدالتی نظام اور عالمی طاقتوں کے ردِعمل کے ذریعے یہ بات واضح ہو گی کہ یہ ملک ایک پُرامن عبوری حکومت کی جانب بڑھتا ہے یا خانہ جنگی اور بین الاقوامی کشیدگی کا مرکز بنتا ہے۔
بظاہرصدر ٹرمپ وینزویلا کی طرز پر ایران اور افغانستان کے خلاف بھی بین الاقوامی امن کے نام پر کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا لائحہ عمل ممکن ہے جلد ہی کھل کر سامنے آجائے۔ بین الاقوامی آرڈر تبدیل نہیں ہوا بلکہ امریکہ نے اب سافٹ پاور کے بجائے کھلے عام اور براہِ راست طاقت کے استعمال پر انحصار شروع کر دیا ہے۔ امریکہ کی جارحانہ پالیسی ہمیشہ سے اسی نوعیت کی رہی ہے‘ فرق صرف یہ ہے کہ صدر ٹرمپ وہ اقدامات اعلانیہ کر رہے ہیں جو ماضی میں ہر امریکی صدر پسِ پردہ انجام دیتا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ اعلان بھی سامنے آ چکا ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کیلئے کہیں بھی کارروائی کر سکتا ہے۔خبر ہے کہ امریکہ کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے NORAD کے مطابق امریکی فوج جلد گرین لینڈ میں اپنا فوجی اڈا قائم کرے گی اور اس سے متعلق گرین لینڈ کی حکومت کو پیشگی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس عمل میں ڈنمارک حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی ہے مگر گزشتہ چند دن کے بیانات دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ اقدام یورپ اور امریکہ میں کشیدگی کو مزید ہوا دے گا۔
صدر ٹرمپ کے ان اقدامات سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پوری دنیا بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کا جغرافیائی اور سیاسی سیٹ اَپ اب بڑی تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ایران کے حالیہ بحران سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہاں ڈاکٹر مصدق کی طرز پر ایک نئی تبدیلی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس پس منظر میں فرانس‘ برطانیہ‘ جرمنی اور امریکہ نے ایک مشترکہ بیان میں ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی آبادی کے تحفظ‘ آزادیٔ اظہار اورپُرامن اجتماع کے حق کو ہر صورت یقینی بنائے۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ مظاہرے امریکہ اور اسرائیل کے ذریعے کرائے گئے تاکہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا سکے۔
اب یہ بھی واضح ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ افغانستان کے بگرام ایئربیس کو طاقت کے ذریعے حاصل کرنے کیلئے پَر تول رہا ہے جس کے اثرات پاکستان کے سرحدی علاقوں‘ بالخصوص جنوبی وزیرستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیراور وزیرِاعظم شہباز شریف کے صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات نہایت مضبوط اور خوشگوار نوعیت کے ہیں۔ صدر ٹرمپ متعدد مواقع پر فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم کے حوالے سے مثبت بیانات دے چکے ہیں۔ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور مؤثر سفارتکاری کے باعث پاکستان خطے میں مرکزِ نگاہ بن گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر فیلڈ مارشل کامیاب حکمتِ عملی کے باعث پاکستان کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہو چکی ہے‘ تاہم اب ملک کے اندر سیاسی انتشار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ 8 فروری 2024ء کے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ایک ملک گیر احتجاجی تحریک کی اندرونِ خانہ تیاریاں ہو رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں ہونے والی پریس کانفرنس کے بعد دونوں فریقوں میں فاصلے تیزی سے بڑھتے دکھائی دیے ہیں۔ پریس کانفرنس میں سخت الفاظ کے استعمال سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے طرزِ عمل کے باعث صوبے کو براہِ راست صدر راج کے تحت وفاق کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے آئین وفاق کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاق ہنگامی صورتحال‘ یا جب اسے یہ خدشہ ہو کہ وہاں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بگڑ رہی ہے یا اندرونی خلفشار شدت اختیار کر رہا ہے‘ کسی بھی صوبے کا کنٹرول حاصل کر سکتا ہے؛ چنانچہ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال‘ عسکری آپریشن میں صوبائی حکومت کی مداخلت اور دہشت گردوں کے سہولت کار بننے کے الزامات کے تناظر میں صوبہ براہِ راست وفاقی کنٹرول میں جا سکتا ہے‘ جس کے نتیجے میں صوبائی اسمبلی کا تحلیل ہونا خارج از امکان نہیں۔ ایسی صورت میں وفاق صوبے میں ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا مجاز ہو گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی گزشتہ پریس کانفرنس میں خیبر پختونخوا کی گورننس پر جو رائے دی گئی‘ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 148 کے تحت کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔
اب یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ جب تک محاذ آرائی کا ماحول برقرار رہے گا‘ عمران خان جیل ہی میں رہیں گے۔ صوبے کی قیادت وفاق کو آرٹیکل 148 کے تحت کارروائی کے اسباب خود فراہم کر رہی ہے اور اس وقت خیبر پختونخوا ایک آتش فشاں پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ادھر عمران خان اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کیلئے جیل میں رہتے ہوئے بھی مسلسل اداروں کے خلاف محاذ آرائی کا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔ عمران خان کی اداروں اور عسکری قیادت کے خلاف مبینہ سازش کا جواب سیاسی قیادت کو دینا چاہیے تھا مگر محسوس ہوتا ہے کہ حکومتی ناکامیوں کا بوجھ اداروں پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ اسلام آباد میں ہونے والی تباہ کاریوں‘ اربوں روپے کے منصوبوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ سے گریز اور 30 ہزار درختوں کے قتلِ عام پر محض رسمی نوٹس لے کر خاموشی اختیار کر لی گئی۔
اس وقت حکومت کی کارکردگی پر سنگین سوالات موجود ہیں۔ بین الاقوامی تناظر میں پاکستان کی معیشت کی جو تصویر پیش کی جا رہی ہے وہ حقائق کے برعکس ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی حقیقی ضرور ہے مگر اس کی بنیاد محدود ہے۔ یہ تیزی معاشی بحالی کا نہیں بلکہ شرحِ سود میں کمی‘ بینکوں کی غیر معمولی آمدن اور مالیاتی ڈھانچے کا نتیجہ ہے۔ پائیداری کا انحصار درست پالیسی سمت پر ہو گا۔ مقتدر حلقوں اور عوام کو خوشنما الفاظ اور بیانیے کے ذریعے گمراہ کرنے کا فن معیشت کے ذمہ داران بخوبی جانتے ہیں۔ دوسری جانب آج ہر جگہ جین زی کی باتیں ہو رہی ہیں مگر اس حوالے سے عوامی شعور انتہائی محدود ہے۔ جین زی وہ نسل ہے جو طاغوتی طاقتوں کو حقیقی معنوں میں چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ یہ سوال کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے‘ اندھی تقلید سے انکار کرتی ہے اور ڈیجیٹل دنیا کے ذریعے اپنی آواز کو طاقت میں بدلنا جانتی ہے۔ یہ نسل ناانصافی‘ جبر اور جھوٹے بیانیوں کو فوراً پہچان لیتی ہے مگر اس کی کامیابی کا انحصار محض بغاوت پر نہیں بلکہ شعور‘ کردار اور اخلاقی سمت پر ہے۔ اگر جین زی حق‘ عدل اور انسانیت کو اپنا مقصد اور نصب العین بنا لے تو تاریخ کا دھارا موڑ سکتی ہے۔