"RKC" (space) message & send to 7575

ہمارے بعد قیامت ہے

کل رات جناح ایونیو پر واک کرتے ہوئے ایک پرانے دوست کا دفتر نظر آیا جو آج کل دبئی میں ہے۔ وہ پہلے جناح ایونیو کی ایک عمارت میں بنے دفتر میں کام کرتا تھا۔ میرا اکثر وہاں جانا ہوتا تھا۔ کافی پر پاکستانی سیاست‘ لٹریچر اور کتابوں پر کافی دیر تک گفتگو ہوتی۔ ہفتے میں ایک آدھ دن ضرور اس دوست کے دفتر جاتا تاکہ مختلف موضوعات پر گپ شپ ہو سکے۔ پندرہ برس تک یہ روٹین چلتی رہی اور پھر ایک دن انہیں دبئی میں ایک عالمی فرم میں نوکری مل گئی‘ لہٰذا وہ پاکستان چھوڑ کر دبئی چلے گئے۔ اس عمارت کے پاس سے گزرا تو اس کی تصویر لی اور انہیں وٹس ایپ پر بھیج دی۔ ان کا جواب آیا کہ شاید جو پاکستان کے حالات ہیں‘ یہ چارٹرڈ فرم بہت جلد اسلام آباد والا دفتر خالی کر جائے گی‘ انہیں لگتا ہے کہ ان کے لیول کے کلائنٹس اور بزنس نہیں مل رہا۔ وہ پاکستان میں جس فرم میں کام کر رہے تھے‘ وہ بھی عالمی سٹینڈرڈ کی تھی مگر ان کا خیال ہے کہ بہت جلد یہ کمپنی پاکستان چھوڑ جائے گی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اپنے پرانے دفتر کی تصویر دیکھ کر ان پر ناسٹلجیا سوار ہو گا‘ جہاں انہوں نے بیس پچیس سال کام کیا‘ وہ کچھ پرانی باتیں شیئر کریں گے۔ یہاں ان کا روز آنا جانا تھا اور اس دفتر ہی سے انہوں نے انٹرن شپ سے شروع کر کے اپنی محنت سے ٹاپ پوزیشن تک مقام حاصل کیا۔ جس جگہ سے زندگی کی ایسی یادیں وابستہ ہوں‘ کوئی پرانا دوست رات گئے آپ کو وہاں کی تصویر بھیجے‘ آپ بیرونِ ملک ہوں توپھر کچھ نہ کچھ جذباتی ہونا تو بنتا ہے۔ لیکن مجھے حیرانی ہوئی جب اس دوست نے ایسی جذباتیت نہیں دکھائی بلکہ ان کا جواب تھا کہ شاید یہ کمپنی بہت جلد دفتر بند کر جائے۔
ایسے دوستوں پر مجھے رشک آتا ہے جو ناسٹلجیا جیسی چیزوں سے دور رہتے ہیں اور بڑے سکون سے زندگی گزارتے ہیں۔ انہیں ماضی یا گزرے دنوں کی یاد نہیں ستاتی۔ وہ سکون سے ہر نئی جگہ ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں۔ وہ نئے ماحول کو اپنا لیتے‘ نئے دوست اور نئی دلچسپیاں تلاش کر لیتے ہیں۔ وہ کسی پارک یا کیفے کے کونے میں اکیلے بیٹھ کر پرانے دنوں‘ پرانے دوستوں یا پرانی جگہوں کو یاد نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں میں سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو ہر حالت میں detach کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ زندگی میں زیادہ ترقی کرتے ہیں۔ وہ ماضی میں نہیں پھنسے رہتے اور آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ میں ٹویٹر (ایکس) پر بہت ساری ویب سائٹس کو فالو کرتا ہوں‘ جہاں بہت سے پیچیدہ ایشوز پر بڑی خوبصورت گفتگو ملتی ہے بلکہ یوں کہیں کہ کونسلنگ ہوتی رہتی ہے۔ میں نے اپنی زیادہ کونسلنگ ان ٹویٹر اکائونٹس ہی پر کی ہے‘ جہاں آپ کو بہترین مشورے دیے جاتے ہیں۔ دنیا کے ذہین لوگ وہاں موجود ہیں۔ اگرچہ ہم پاکستانیوں نے اس فورم کو سیکھنے کے بجائے ایک دوسرے کو گالی دینے اور دوسروں کی ذلیل وتضحیک کا فورم بنا دیا ہے۔ خیر‘ وہاں بھی یہی بات بتائی جاتی ہے کہ ماضی کو زیادہ یاد نہ کیا کریں کیونکہ ماضی کی یادیں انسان کو ڈپریس کر دیتی ہیں۔ جو ہر وقت ماضی میں کھوئے رہتے ہیں وہ دھیرے دھیرے اپنے حال کو بھول جاتے ہیں۔ کچھ عرصے کے بعد ان کا حال ان کا ماضی بن جاتا ہے اور وہ اس کی یادوں میں رہنا شروع کر دیتے ہیں‘ لہٰذا بہتر ہے ماضی کو زیادہ نہ سوچا جائے۔
اس دوست کے جواب میں مَیں نے انہیں وائس نوٹ بھیجا کہ دنیا میں بھلا کب کوئی چیز اپنی جگہ پر رہتی ہے‘ سب چیزیں بدلتی رہتی ہیں۔ ہم انسان بدلتے رہتے ہیں‘ ملک تک بدلتے رہتے ہیں۔ ملکوں کا جغرافیہ تک بدل جاتا ہے۔ یہی دیکھ لیں کہ آپ بدل گئے! ملتان سے اسلام آباد اور اب دبئی۔ اس لیے اگر آج ایک کمپنی پاکستان چھوڑ دے گی تو یقینا اگر اس کی جگہ اگر ضرورت ہوئی تو کوئی دوسری کمپنی آ جائے گی‘ جو شاید اُن کلائنٹس سے مطمئن ہو جن سے یہ بڑی کمپنی مطمئن نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کمپنی کے کچھ نوجوان اپنی نئی کمپنی بنا کر وہی خدمات کلائنٹس کو دینا شروع کر دیں جو پہلے وہ اس عالمی کمپنی کے پلیٹ فورم سے دے رہے ہیں۔ پہلے کون سے گورے اس کمپنی کو پاکستان میں چلا رہے ہیں۔ پہلے بھی تو یہی پاکستانی لڑکے لڑکیاں ہیں‘ جو اس فرم میں بیٹھ کر تمام خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ میں نے تو اس دفتر میں ہمیشہ پاکستانی نوجوان ہی دیکھے‘ تو کیا وہ نوجوان مل کر اپنی کمپنی کھڑی نہیں کر سکتے؟ ان کے پاس کلائنٹس تو موجود ہی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ کمپنی سمجھتی ہے کہ اُس لیول کے ارب پتی کلائنٹس اسے نہیں مل رہے جن کی توقع وہ رکھتے ہیں یا جو انہیں دبئی‘ نیویارک یا لندن وغیرہ میں ملتے ہیں۔ مسئلہ صرف پیسے کا ہے کہ وہ یہاں سے کتنا کما سکتے ہیں۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ کم کما رہے ہیں تو یقینا وہ کہیں اور چلے جائیں گے۔ لیکن بیس‘ پچیس سال سے تو یہ کمپنی یہیں کام کر رہی ہے۔ پچیس سال تک انہیں یہ ملک اور شہر منافع بخش لگتا رہا۔ بزنس مین ایک جگہ بہت کم ٹِک پاتے ہیں۔ جہاں پرافٹ زیادہ ملے‘ وہ ہم انسانوں کی طرح وہاں شفٹ ہو جاتے ہیں۔ جس کو بہتر پیکیج یا زیادہ تنخواہ ملے گی وہ ادارہ شفٹ کر جائے گا۔ یہی انسانی مارکیٹ کا رواج ہے اور اس میں حرج بھی کوئی نہیں۔
موٹر سائیکل بنانے والے کارخانوں کو ہی دیکھ لیں۔ کسی دور میں ان کا بزنس آسمان کو چھوتا تھا۔ ہر جگہ بائیکس بکتی تھیں۔ اب دھیرے دھیرے ان کی جگہ چین کی بنی سکوٹی لے رہی ہے جو قیمت میں سستی ہے اور اب تو الیکٹرک بائیکس آ رہی ہیں۔ اب جب آپ کو الیکٹرک بائیک سستی مل رہی ہو تو آپ کیوں پٹرول والی موٹر سائیکل لیں گے؟ آنے والا دور انہی الیکٹرک بائیکس کا ہے۔ جب یہ خبر چھپی کہ موٹر سائیکل بنانے والے پاکستان چھوڑنے والے ہیں تو اس پر بہت تبرا پڑھا گیا کہ دیکھیں! مینوفیکچرر ملک چھوڑ کر جا رہا ہے۔ یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ وہ برسوں کے پرافٹ کے بعد اب کیوں چھوڑ کر جا رہا؟ اس کی دو دوجوہات ہیں۔ ایک تو موٹر سائیکل مینوفیکچرر بدلتے وقت اور بدلتی ٹیکنالوجی کا ساتھ نہیں دے سکا۔ ٹیکنالوجی ہمیشہ بدلتی رہتی ہے لہٰذا سمجھدار بزنس مین اس کے ساتھ اپنے کاروبار کو بھی بدلتا ہے تاکہ وہ مارکیٹ سے باہر نہ نکل جائے اور اس کی جگہ کوئی اور نہ لے جس کے پاس بہتر اور سستی ٹیکنالوجی ہو۔ اب موٹر سائیکل کے برانڈز کے مقابلے میں آپ کو چینی سکوٹی بہتر لگتی ہے‘ بلکہ اب موٹر سائیکل کے شو رومز بند ہوتے نظر آتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ بزنس تباہ ہو گیا۔ نہیں! اب آپ کو چینی سکوٹی کے شو روم کھلتے نظر آتے ہیں جو سستے ہیں اور ٹیکنالوجی میں بھی جدید ہیں۔ ابھی پنڈی میں ہر جگہ آپ کو چینی برانڈ موٹر سائیکل یا سکوٹی نظر آتی ہے اور لوگوں نے تیزی سے خود کو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ میں نے اُس دوست کو کہا: ویسے بھی اس خطے میں سات دریا بہتے ہیں۔ جہاں اتنے دریا‘ کھیت کھلیان‘ موسم اور کسان ہوں وہاں لوگ بھوکے نہیں مرتے۔ کچھ نہ کچھ شام تک سب کو کھانے کو مل جاتا ہے۔ ہاں! لائف کوالٹی پر بات ہو سکتی ہے کہ جو معیار یورپ یا دبئی میں ہے وہ ہمارے ہاں نہیں۔ باقی اس خطے پر دنیا بھر کی قوموں نے حملے کیے اور اپنی بھوک مٹائی۔ اسے لوٹا بھی۔ یہ پھر بھی چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ وہی بات! انسان‘ ملک‘ ادارے بدلتے رہتے ہیں۔ ہم سب ایک دوسرے کی جگہ لیتے رہتے ہیں۔ جو ہم سے پہلے تھے ان کی جگہ ہم نے لی۔ ہماری جگہ کوئی اور لیں گے۔ ان کی جگہ کوئی اور لے گا۔ یہی کائنات کی خوبی ہے۔ یہ نہ کسی کا انتظار کرتی ہے‘ نہ رکتی ہے اور نہ ہی اس کے نزدیک کوئی ناگزیر ہے۔ جیسے ہم چند انسان خود کو ناگزیر سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارے بعد قیامت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں