حالیہ دنوں میں عالمی بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا کے ریجن سے نکال کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ ریجن (MENA) میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا‘ جس کا باقاعدہ اطلاق بھی ہو چکا ہے۔ یہ فیصلہ بنیادی طور پر ایک انتظامی و تجزیاتی تبدیلی ہے۔ورلڈ بینک جیسے عالمی مالیاتی ادارے اپنے رکن ممالک کو ایسے خطوں میں تقسیم کرتے ہیں جہاں ان کے معاشی مسائل‘ ترقیاتی ترجیحات اور علاقائی روابط زیادہ مماثلت رکھتے ہوں تاکہ پالیسی سازی‘ فنڈنگ اور ڈیٹا اینالیسز بہتر انداز میں ہو سکے۔ اس لیے کسی ملک کا ایک سے دوسرے ریجن میں منتقل ہونا لازمی طور پر سیاسی اتحاد یا خارجہ پالیسی کی تبدیلی کی علامت نہیں ہوتا؛ یہ زیادہ تر ادارہ جاتی ضروریات اور انتظامی حکمتِ عملی کے تحت کیا جانے والا اقدام ہوتا ہے۔تاہم پاکستان کے معاملے میں اس تبدیلی کی علامتی اہمیت بھی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے معاشی اور سفارتی تعلقات کا مرکز تیزی سے خلیجی ممالک کی طرف منتقل ہوا ہے۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ سرمایہ کاری‘ مالی معاونت اور افرادی قوت کی برآمد جیسے شعبوں میں تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تو یہ فیصلہ اس رجحان کی ایک ادارہ جاتی توثیق کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ براہِ راست پاکستان کی معیشت میں کوئی بہتری نہیں لا سکتا۔ معیشت کی بنیادیں بدستور اندرونی اصلاحات‘ برآمدات میں اضافے اور سیاسی استحکام سے منسلک رہیں گی۔ البتہ اس تبدیلی سے یہ امکان ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو ایسے ترقیاتی پروگرامز اور منصوبوں تک رسائی ملے جو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کیلئے ترتیب دیے جاتے ہیں‘ خصوصاً توانائی‘ انفراسٹرکچر اور آبی وسائل کے شعبوں میں۔ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کیلئے یہ ایک اہم موقع ہو سکتا ہے۔ اگر اسے مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں بلکہ علاقائی سیاست میں پاکستان کا کردار بھی نمایاں ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے جب پالیسی ساز اس تبدیلی کو محض علامتی کامیابی کے بجائے عملی اقدامات میں ڈھالیں۔ اس پیشرفت کو نہ تو غیرمعمولی کامیابی سمجھنا چاہیے اور نہ ہی محض ایک معمولی انتظامی تبدیلی‘ حقیقت ان کے درمیان کہیں موجود ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو بنیادی طور پر ادارہ جاتی نوعیت کا ہے مگر اس میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ اگر اسے درست سمت میں استعمال کیا جائے تو پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی امکانات پیدا کر سکتا ہے۔
کچھ ماہرین کی رائے یہ ہے کہ اس اقدام کا مقصد دراصل ایک عالمی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو کم کرنے کے لیے اسے شمالی افریقہ کے خطے میں شامل کرنا ہے۔ پاکستان حقیقی طور پر برصغیر کا حصہ ہے۔ مشرقی پاکستان کے سقوط کے بعد جب صدر ذوالفقار علی بھٹو نے اپریل 1972ء میں روس کا دورہ کیا تو سوویت یونین حکومت نے انہیں ریڈ کارپٹ پروٹوکول نہیں دیا اور ملاقات کے دوران یہ باور کرایا کہ چونکہ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو چکا ہے لہٰذا اب پاکستان برصغیر کا حصہ نہیں رہا۔ اصولی طور پر پاکستان وسطی ایشیا کے بجائے مشرق وسطیٰ کے قریب ہے لہٰذا پاکستان کے سامنے روسی قیادت نے یہ آپشن رکھی کہ وہ یا تو مشرقِ وسطیٰ کا حصہ بن جائے یا پھر جنوبی ایشیا میں شامل ہو جائے۔ بھٹو صاحب روسی قیادت کے مؤقف کو جھٹلا نہ سکے کیونکہ روسی وزیراعظم الیگزے کوسیگن معاہدۂ تاشقند میں بھٹو صاحب کی جانب سے اختیار کیے گئے معاندانہ رویے سے باخبر تھے‘ لہٰذا بھٹو صاحب نے لامحالہ پاکستان کے برصغیر کی جغرافیائی حدود سے نکلنے کے اس اشارے کو قبول کر لیا۔ دراصل اس وقت کی سوویت حکومت نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں شامل کر کے ریاست جموں و کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کو کمزور کیا تھا۔ صدر بھٹو نے مئی 1972ء میں شملہ جانے سے پیشتر پاکستان ٹائمز میں مضامین لکھوانے کا سلسلہ شروع کرایا‘ جن میں کشمیر کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ پاکستان اور بھارت کے بجائے کشمیریوں اور بھارتی حکومت کا مسئلہ ہے۔ جب عسکری حلقوں سے شدید ردعمل سامنے آیا تو صدر بھٹو نے سیکرٹری اطلاعات نسیم احمد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جس کے روبرو وضاحت پیش کی گئی کہ یہ مضامین صدر بھٹو کی ہدایت پر شائع کیے گئے تھے۔
اب عالمی بینک نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کے ریجن میں شامل کر دیا ہے تو اس کے پسِ پردہ ایک گہری سازش کا تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد پاکستان کو مقبوضہ کشمیر کے مؤقف سے دستبردار ہونا پڑ سکتا ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو مسئلہ کشمیر سے براہِ راست دلچسپی نہیں ہے۔ لہٰذا وزارتِ خارجہ کو اس فیصلے کو عالمی تناظر میں دیکھتے ہوئے اپنا واضح مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق عالمی بینک کے اس اقدام کے اثرات جموں و کشمیر کے مسئلے اور سندھ طاس معاہدے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔دوسری جانب اگر ایران‘ امریکہ جنگ میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کی بات کی جائے تو یہ ہماری جغرافیائی مجبوری اور دانائی کا تقاضا ہیں۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی جاری رہتی ہے تو پورا خطہ اس کی قیمت ادا کرے گا اور پاکستان کو براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہونے کے باوجود بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان دونوں فریقوں کیلئے فیس سیونگ کا راستہ بنتا ہے تو یہ عمل ہماری طاقت بھی بن سکتا ہے کہ پاکستان میدانِ جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے ممکنہ عالمی تصادم کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اُدھر ایران کی حکمتِ عملی اور فیصلے صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری فکری اور روحانی سطح پر استوار دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی قیادت واضح طور پر پریشانی کا شکار نظر آتی ہے۔ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کیلئے اس صورتحال کو سنبھالنا آسان نہیں رہا؛ بظاہر وقت گزرنے کے باوجود حکمتِ عملی کا رخ متعین نہیں ہو پا رہا‘ اور یہی ابہام اشارہ ہے کہ مقابلہ صرف طاقت کا نہیں بلکہ سوچ اور اندازِ عمل کا بھی ہے۔
قدرت نے ملکی قیادت کو بین الاقوامی سطح پر ایک نمایاں مقام عطا کیا ہے‘ اب ان کی توجہ ملک کی معاشی صورتحال کی طرف بھی مبذول ہونی چاہیے۔ کرپشن نے ملک کو زہر آلودہ دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ مقتدر حلقوں کو سٹیٹ بینک آف پاکستان‘ قومی احتساب بیورو‘ وفاقی وزارتِ خزانہ اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دفتر سے ملکی معیشت کی حقیقی رپورٹ حاصل کرنی چاہیے تاکہ اس کے مطابق مستقبل کا لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے۔ اسی طرح منی لانڈرنگ میں ملوث عناصر کا بے احتساب بھی یقینی بنانا چاہیے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد مرکز کمزور جبکہ صوبے مالی طور پر مضبوط ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں کرپشن کے رجحانات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اربوں کھربوں روپے بیرونِ ملک جائیدادوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ مقتدرہ کو اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت کی پالیسی کمزوریوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی اور صوبوں میں کرپشن کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ قومی مفاد کے پیش نظر سابق بیورو کریٹس کو بھی فعال کردار دینا چاہیے‘ جیسا کہ بھارت میں سینٹرل سیکرٹریٹ کے تحت ایک وسیع پول قائم ہے جہاں سینئر بیوروکریٹس اپنے تجربے کی بنیاد پر حکومت کی معاونت کرتے ہیں۔ اس نظام کے تحت پارلیمنٹ اور حکومتی اداروں پر بھی ایک مؤثر نگرانی قائم رہتی ہے‘ اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان بیوروکریٹس کو کوئی اضافی اعزازیہ نہیں دیا جاتا بلکہ وہ اپنی پنشن کے عوض ہی یہ قومی خدمت سرانجام دیتے ہیں۔