"SAC" (space) message & send to 7575

کفایت شعاری لازم ہے

کالم کے پہلے حصے میں ہم نے سرکاری اخرجات کے بنیادی مسائل کا جائزہ لیا۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔
وفاقی حکومت کو دو بڑے مسائل درپیش ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ہی جیسے اختیارات والے مختلف ادارے اور حکومتی نظام میں عوام کے اعتماد کی کمی۔ اس کے حل کیلئے حکومت کے کردار کی ازسرنو تشکیل اور ایک نیا وفاقی ڈھانچہ بنانا ہوگا۔ یہ مقصد حاصل کرنے کیلئے اسلام آباد میں حکومت کے حجم کو چھوٹا کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت کا کردار سٹرٹیجک رہنمائی‘ پالیسی سازی اور معیار کے تعین تک محدود ہونا چاہیے اور یہ کام صوبوں کی شراکت اور مشاورت سے کیا جائے۔ وفاقی حکومت کا حجم دو تہائی کم کیا جائے۔ زیادہ تر ملازمین اور اخراجات کا تعلق گریڈ ایک سے گریڈ 16 تک سے ہے۔ ان کی تعداد میں کمی کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ جو اقدامات کرنے ضروری ہیں ان میں تمام خالی اسامیوں کا خاتمہ‘ نئی بھرتیوں پر پابندی اور غیر ضروری اداروں کا خاتمہ قابلِ ذکر ہیں۔ حکومت کے قائم کیے ہوئے صرف چند سرکاری کاروباری ادارے نجکاری کے قابل ہیں۔ باقی سب کو تحلیل یا بند کردینا چاہیے۔ جن سرکاری ملازمین نے 30 سال سے زیادہ ملازمت مکمل کرلی ہے انہیں ریٹائر کردیا جائے اور ان کے پنشن کے حقوق محفوظ رکھے جائیں۔ اگر سیاسی طور پر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو تو انہیں اضافی عملے کے پول میں رکھا جائے تاکہ ان پر کرائے‘ یوٹیلیٹیز اور گاڑیوں پر اٹھنے والے اخراجات کم ہوں۔ نئے ملازمین کے لیے شراکتی پنشن نظام (جس میں ملازم اور حکومت دونوں حصہ دیتے ہیں) متعارف کرایا جائے جبکہ موجودہ ملازمین کے لیے اسے مرحلہ وار نافذ کیا جائے۔ یہی عمل تمام صوبوں میں بھی کیا جائے۔ اداروں اور عملے میں کمی کے ساتھ ساتھ سرکاری نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور گورننس کے جدید طریقے استعمال کرنے سے پالیسی پر عمل درآمد کرنے‘ کام کرنے اور لین دین کرنے کی سطحوں میں کمی آئے گی۔ اس سے وسائل کو مختص کرنے اور انتظامی کارکردگی میں بہتری ہوگی اورمینجمنٹ کے اخراجات کم ہوں گے۔ کاروباری سرگرمی کی ڈی ریگولیشن سے غیر ضروری قوانین و ضوابط اور ایسے طریق کار ختم ہوں گے جس سے سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کیا جائے‘ صرف وہ منصوبے مکمل کیے جائیں جو بیرونی معاونت سے چل رہے ہوں یا تکمیل کے قریب ہوں۔ جن منصوبوں پر 20 فیصد سے کم خرچ ہوچکا ہے انہیں بند کر دیا جائے۔
روایتی افواج کے حجم میں بھی کمی کی جاسکتی ہے کیونکہ آج کل جنگیں جدید ٹیکنالوجی‘ جیسے ڈرونز‘ میزائل اور جنگی جہازوں سے لڑی جاتی ہیں؛ چنانچہ اس غرض سے اوپر سے نیچے تک اخراجات کی ترجیحات اور خریداری کے عمل پر مؤثر نگرانی قائم کی جانی چاہیے۔ جن امور پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ان میں افسران کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مدنظر نئی پوسٹوں کا قیام‘ سینئر افسروں کے روٹین دوروں کے اخراجات اورمیٹنگز کے لیے ٹیکنالوجی اور ٹریننگ کا استعمال شامل ہے۔ وفاقی حکومت کے پنشن بجٹ کا تین چوتھائی فوجی اہلکاروں کی پنشن پر مشتمل ہے‘ اس وقت پندرہ لاکھ فوجی پنشنرز ہیں اور ہر سال تقریباً 35 ہزاراہلکار ریٹائر ہوتے ہیں۔ سپاہی اور بعض غیرجنگی عملہ (جیسے لیب اسٹنٹس‘ ریڈیالوجسٹس وغیرہ) چالیس سال کی عمر میں ریٹائر ہوجاتے ہیں۔ بہتر صحت اور غذا کی فراہمی کی مدد سے سپاہیوں کی مدتِ ملازمت میں پانچ سے چھ سال کا اضافہ ممکن ہے جبکہ غیر جنگی عملے کے لیے ریٹائر ہونے کی عمر اس سے بھی زیادہ کی جاسکتی ہے اور اس عملہ کے لیے بھی مناسب طور پر بنائی گئی شراکتی پنشن سکیم اختیار کی جائے۔
مندرجہ ذیل اقدامات حکومتی ڈھانچہ میں بڑی اصلاحات کے لیے درکار وسیع تر سیاسی حمایت پیدا کریں گے:رہائش اور گاڑیوں کی مراعات کو پانچ سال میں نقد ادائیگی میں تبدیل کردیا جائے۔ اس مدت کے دوران سرکاری گاڑیاں1800سی سی سے زیادہ پاور کی نہ ہوں۔ ایک سے زیادہ گاڑی کے استعمال پر سخت سزائیں دی جائیں۔ سرکاری رہائش صرف ان دور دراز علاقوں تک محدود ہو جو قانون کے تحت متعین ہوں اور یہ رہائش بنگلوں کی بجائے اپارٹمنٹ کی شکل میں ہو۔ حکومت کے حجم میں کمی اور سرکاری رہائش کے لیے استعمال ہونے والی قیمتی تجارتی زمین کی فروخت سے جو بچت ہوگی وہ سرکاری ملازمین کو کیش میں ادائیگی اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کے لیے استعمال کی جاسکے گی۔ تمام اہم عہدوں پر تقرر کی غرض سے پارلیمان سے توثیق لازمی قرار دی جائے جیسے آڈیٹر جنرل‘ اٹارنی جنرل‘ چیف الیکشن کمشنر‘ الیکشن کمیشن کے ارکان‘ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین‘ سٹیٹ بینک کے گورنر‘ وفاقی پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین‘ ٹیکس محتسب اور اسی نوعیت کے دیگر عہدے۔ تمام کابینہ کے ارکان‘ سیکرٹریز‘ ججوں اور اعلیٰ سول و فوجی افسران اور ان کے خاندانوں کے قریبی افراد (جیسے بیوی بچوں) کیلئے لازم ہو کہ وہ اپنے آمدنی کے ٹیکس گوشوارے اور اثاثہ جات کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کریں۔ وزرااور اعلیٰ سرکاری افسران کے ہوائی سفر کو محدود کیا جائے۔ وہ صرف ایسا فضائی سفر کریں جس کا دورانیہ فی پرواز سات گھنٹے تک کا ہو اور صرف اکانومی کلاس میں۔ سرکاری دوروں پر عوامی خزانے سے صرف پرنسپل سیکرٹری‘ وزارتِ خارجہ امور کا ایک نمائندہ اور وہ وزیر جس کی وزارت یا محکمہ ایجنڈے میں شامل ہو‘ کے سفر‘ قیام اور طعام کے اخراجات ادا کیے جائیں۔ دیگر تمام ہمراہ افراد بشمول صدر اور وزیراعظم کی اہلیہ اپنے اخراجات خود برداشت کریں۔ وزرایا مساوی عہدوں کیلئے بلٹ پروف گاڑیوں یا طیاروں‘ ہیلی کاپٹروں کے لیے مزید فنڈز مختص نہ کیے جائیں۔ صدر‘ وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے سرکاری خرچ پر قائم کیمپ دفاتر ختم کیے جائیں۔ سکیورٹی انتظامات اس طرح کیے جائیں جو زیادہ نمایاں نہ ہوں اور ان کی وجہ سے ٹریفک میں کم سے کم خلل ہو۔ ایک گاڑی آگے‘ ایک پیچھے اور معاونت کے لیے جیمرز۔ جو افراد خوف کی بنیاد پر اضافی سکیورٹی چاہتے ہوں انہیں عوامی عہدہ نہیں رکھنا چاہیے۔ ہوائی اڈوں پر پروٹوکول کی مراعات کو صرف صدر‘ گورنرز‘ وزرائے اعلیٰ اور چیف جسٹس تک محدود کیا جائے۔ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے صوابدیدی فنڈز اور ارکانِ پارلیمان کی ترقیاتی سکیموں کے فنڈز ختم کیے جائیں۔ زمین یا رہائشی‘ تجارتی پلاٹس مفت یا رعایتی نرخوں پر دینے والی تمام سکیمیں ختم کی جائیں۔ حج‘ عمرہ یا بیرونِ ملک علاج سرکاری خرچ پر نہ کیا جائے۔
مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کے تمام فیصلوں کے منٹس اور دستاویزات عوام کے لیے دستیاب ہونے چاہئیں‘ انہیں ویب سائٹ پر ڈال دیا جائے۔ حکومت جو قرض لیتی ہے اس کی حد کو ٹیکس سے ہونے والی آمدن کے فیصد کے طور پر مقرر کیا جائے۔ اس حد کی کسی بھی خلاف ورزی کے لیے پارلیمان سے اجازت لینا ضروری ہو۔ جب تک حکومتی قرضوں کی صورتحال بہتر نہ ہو یعنی ان میں کمی نہ آئے‘ عالمی اداروں سے (جیسے ورلڈ بینک‘ آئی ایم ایف وغیرہ) صرف رعایتی شرائط پر قرض لیا جائے۔ قرض کی اہم شرائط کی منظوری پارلیمان سے لی جائے۔ غیر ملکی حکومتوں سے دو طرفہ رعایتی قرضوں پر انحصار خودمختاری کو متاثر کرتا ہے۔
آخر میں واضح چبھتا ہوا سوال یہ ہے کہ جو لوگ ریاست پر قابض ہیں اور موجودہ نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں‘ وہ اچانک اپنا راستہ کیوں بدلیں گے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں