عوام کو عملاً اس بات پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ بجلی کی ناقابلِ برداشت قیمت ادا کرتے رہیں تاکہ بجلی کے شعبہ اور اس سے متعلق اداروں کو زندہ رکھا جا سکے۔ اس کے باوجود یہ شعبہ مالی طور پر غیر مستحکم ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس مقام تک کیسے پہنچے؟
اس صورتحال کی بڑی بڑی وجوہات واضح ہیں: نااہلی‘ کمزور نظم ونسق‘ بدعنوانی اور دنیا بھر میں اس شعبہ میں تیزی سے ہونے والی تکنیکی تبدیلیاں جیسے سولر انرجی۔ ہمارے ملک میں بجلی پیدا کرنے کی اوسط لاگت فی یونٹ 22 روپے ہے لیکن صارفین (صنعتی نرخ میں رد وبدل سے پہلے تک) تقریباً 60 روپے ادا کر رہے تھے۔ معیشت کو گرڈ سے ناقابلِ اعتماد اور مہنگی بجلی مل رہی ہے۔ اس کی وجوہات ہیں: بجلی کی ترسیل اور تقسیم میں ہونے والے نقصانات (تکنیکی نقصانات اور چوری دونوں) اور بھاری ٹیکسوں اور بڑی تعداد میں بلوں کی عدم وصولی۔ ان عوامل کی وجہ سے ملک کو ہر سال مجموعی طور پر تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ اس دوران سولر بجلی کی لاگت میں کمی ہو گئی جس کے باعث گھریلو اور صنعتی صارفین نے تقریباً 19 ہزار میگاواٹ کے برابر سولر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت نصب کر لی۔ یوں گرڈ سے بجلی لینے کی طلب کم ہو گئی۔
بجلی کے شعبے میں انتہائی کمزور منصوبہ بندی کی گئی۔ حکومت کی پالیسیوں نے کمپنیوں (آئی پی پیز) سے معاہدے کر کے بجلی کی طلب سے کہیں زیادہ پیداواری صلاحیت نصب کرنے کی حوصلہ افزائی کی اور معاہدے بھی ایسے جو بہت ناقص انداز میں طے کیے گئے۔ ایک تو اِن معاہدوں کی تیاری میں پیشہ ورانہ ماہرین سے مشاورت بہت کم کی گئی دوسرے یہ الزامات بھی ہیں کہ ان معاہدوں میں لوگوں کو نوازا گیا اور ان میں شفافیت کی کمی تھی۔ ان معاہدوں میں ایک سنگین معاملہ کرنسی کی عدم مطابقت کا ہے۔ بجلی کی فروخت سے آمدن پاکستانی روپوں میں ہے جبکہ کمپنیوں کو منافع ڈالر میں دینا مقرر کیا گیا۔ کارخانے لگانے والے سرمایہ کاروں سے نہایت فراخدلانہ شرائط پر معاہدے کیے گئے جیسے قرض اور سرمایہ کا تناسب 80:20 رکھا گیا یعنی بجلی گھر لگانے والے کا اپنا سرمایہ 20 فیصد اور قرض 80 فیصد ہو سکتا ہے۔ آئی پی پیز لگانے والوں کو معاہدہ کی ان شرائط پر عمل درآمد کی سکہ بند سرکاری ضمانتیں دی گئیں۔ انہیں 15 سے 17 فیصد لازمی منافع پیش کیا گیا اور وہ بھی ڈالر میں۔ ٹیکس چھوٹ مہیا کی گئی اور لکھا گیا کہ پراجیکٹ میں زیادہ سے زیادہ رسک حکومت کے ذمہ ہوگا۔ ایندھن کے انتخاب پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی لہٰذا مہنگے ایندھن جیسے ڈیزل اور فرنس آئل بھی قبول کر لیے گئے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ سرکاری ملکیت کے بجلی گھروں کو بھی نجی منصوبوں جیسی ہی فراخدلانہ شرائط دے دی گئیں حالانکہ انہیں زیادہ تر غیر پیشہ ور افراد چلاتے ہیں۔ ان تمام عوامل کے نتیجہ میں وہ معروف ''گردشی قرضہ‘‘ پیدا ہوا جس نے صنعتی شعبہ کے لیے دوسرے ملکوں سے مقابلہ کرنا بہت مشکل اور غیر مسابقتی بنا دیا۔ یوں پائیدار معاشی ترقی کے امکان کو کم کردیا۔
نااہلی کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ تقریباً 46 ہزار 600 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی گئی جبکہ اوسط طلب (گرمیوں کے ایک دو ماہ کے سوا) 25 ہزار میگاواٹ سے تجاوز نہیں کرتی۔ اس پیداواری صلاحیت کا بڑا حصہ استعمال ہی نہیں ہوتا۔ مطلب نظام میں بجلی کی حقیقی پیداوار اور اس کی طلب ہمیشہ نصب شدہ مجموعی پیداواری صلاحیت (کیپسٹی) سے بہت کم ہوتی ہے۔ صورتِ حال مزید خراب اس لیے ہے کہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نظام کمزور ہیں اور صرف تقریباً 22 ہزار میگاواٹ بجلی کا لوڈ ہی سنبھال سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ لاہور تا مٹیاری ٹرانسمیشن لائن بھی اپنی صلاحیت کے مقابلے میں صرف 40 فیصد لوڈ پر چلتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نصب شدہ پیداواری صلاحیت کا تقریباً نصف حصہ استعمال نہیں ہوتا‘ لیکن اس کے باوجود بجلی کی کمپنیوں کو معاہدوں کے تحت ان کی پیداواری استعداد کے مطابق ادائیگیاں المعروف کیپسٹی پیمنٹس ملتی رہتی ہیں۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ 2015ء کی انرجی پالیسی کے تحت غیر استعمال شدہ صلاحیت (کیسپٹی پیمنٹ) کی ادائیگی 60 فیصد سے بڑھا کر 85 فیصد کر دی گئی تھی۔ گویا اگر کسی پلانٹ سے بجلی نہ بھی لی جائے تب بھی حکومت اسے اس کی استعداد کے 85 فیصد کے برابرکیپسٹی پیمنٹ کرنے کی پابندی ہے۔ ان اخراجات کے ایک پہلو نے مسئلے کو مزید بڑھا دیا اور وہ ہے گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ طلب 30 ہزارمیگاواٹ ہو جاتی ہے اس کو پورا کرنے کے لیے پیداواری صلاحیت میں ضرورت سے زیادہ سرمایہ کاری کر دی گئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کیپسٹی پیمنٹ کی لاگت 30 تا 35 فیصد ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ اب 62 تا 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
کیپسٹی پیمنٹس کی ادائیگیوں کا تقریباً نصف سرکاری ملکیت کے کارخانوں کو جاتا ہے جن کا موجودہ مجموعی پیداواری صلاحیت میں حصہ 52 فیصد ہے۔ بقیہ ادائیگی میں سے 15 فیصد نجی منصوبوں کو جاتا ہے جو ابتدائی پالیسیوں (1994ء‘ 2002ء‘ 2006ء) کے تحت قائم ہوئے تھے جبکہ 35 فیصد ادائیگی چینی سرمایہ کاروں کے درآمدی کوئلے سے چلنے والے اور ڈالر سے منسلک منصوبوں کو جاتی ہے۔ ان منصوبوں کی فی یونٹ لاگت مقامی کوئلے کے منصوبوں سے کہیں زیادہ ہے۔
2020ء کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد 46 آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کی گئی۔ تاہم چینی منصوبوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ انہوں نے معاہدوں پر ازسرِنو مذاکرات یا نظر ثانی سے انکار کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ2016-17ء میں ان سے جو معاہدے کیے گئے تھے ان میں پرانی پالیسیوں (1994ء‘ 2002ء وغیرہ) سے حاصل ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھا گیا تھا۔ بہرحال دیگر پرائیویٹ آئی پی پیز کو جو ادائیگیاں کی جاتی ہیں وہ مجموعی کیپسٹی پیمنٹس کا نسبتاً کم حصہ ہیں۔
حال ہی میں آئی پی پیز کو خاص طور پر چن کر نشانہ بنایا گیا۔ ان سے کیے گئے معاہدوں پر ازسرِنو مذاکرات کے لیے حکومت نے سخت گیر طریقے اختیار کیے۔ اس عمل نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچایا جس کی عکاسی جرمن اور برطانوی سفارتخانوں کی شکایات سے ہوتی ہے۔ ایسے اقدامات مستقبل کی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یعنی ڈسکوز کی نجکاری بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ آئی پی پیز سے یہ معاہدے سرکاری پالیسیوں کے تحت اور حکومتی ضمانتوں کی بنیاد پر کیے گئے تھے۔
پاکستانی کرنسی اور ڈالر کی عدم مطابقت بجلی کے لیے مہنگی ثابت ہوئی۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور بلند شرحِ سود نے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا جس سے اس کی طلب کم ہو گئی۔ بہت سی ٹیکسٹائل فیکٹریاں بند ہو گئیں اور دیگر نے گرڈ سے ہٹ کر متبادل ذرائع (جیسے سولر) اختیار کر لیے۔ سست معاشی نمو اور کمزور طلب کا مطلب یہ ہے کہ مقررہ کیپسٹی پیمنٹس اب ایک سکڑتی ہوئی بنیاد یعنی صارفین کی نسبتاً کم تعداد سے وصول کی جا رہی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں نرخ مزید بڑھ جاتے ہیں۔ سونے پر سہاگا ٹیکس اور اضافی محصولات ہیں جو بجلی کے بل کا تقریباً 35 فیصد حصہ بنتے ہیں۔ وہ اس بوجھ کو مزید تکلیف دہ بنا دیتے ہیں۔ (جاری)