پاکستان میں ''کالے دھن‘‘ کو اکثر ایک ایسے مسئلے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ سرکاری افسران اور ٹیلی ویژن مذاکرے اسے ایسی دولت قرار دیتے ہیں جو غیرقانونی ہو‘ جس پر ٹیکس ادا نہ کیا گیا ہو یا جو کسی جرم سے منسلک ہو۔ تاہم یہ سوچ بہت سادہ ہے اور اصل مسئلے کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ جب مختلف ذرائع سے حاصل شدہ دولت کو ایک ہی زمرے میں شامل کر دیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں ناقص پالیسیاں بنتی ہیں اور ان پالیسیوں کی وجہ سے الجھاؤ پیدا ہوتا ہے‘ لوگوں سے غیرمنصفانہ برتاؤ کیا جاتا ہے اور معاشی ترقی میں سست روی پیدا ہوتی ہے۔ اسی سوچ کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنی دولت کو پیداواری انداز میں استعمال کرنے کے بجائے اسے چھپانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنی دولت کاروبار میں لگانے کے بجائے نقدی‘ سونے یا جائیداد کی شکل میں محفوظ کرنے لگتے ہیں۔ مختلف اقسام کی دولت کے درمیان فرق کو نہ سمجھ پانا حکومت کی ان ناکامیوں میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے پاکستان ترقی کرنے میں مشکلات کا شکار ہے اور بیرونی امداد پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا ہو گا کہ ''کالے دھن‘‘ کی ایک قسم نہیں بلکہ اس کی تین اقسام ہیں اور ہر قسم کیلئے مختلف پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔ پہلی قسم وہ دولت ہے جو جرائم سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس میں منشیات کی سمگلنگ‘ غیر قانونی تجارت‘ جوا اور رشوت شامل ہیں۔ اس دولت کی سختی سے تفتیش ہونی چاہیے اور قانون کے سخت نفاذ کے ذریعے ایسی دولت رکھنے والوں کوسزا دی جانی چاہیے۔ دوسری قسم وہ دولت ہے جو قانونی طریقے سے کمائی جاتی ہے لیکن ٹیکس سے بچنے کیلئے چھپا لی جاتی ہے‘ جیسے اشیا اور خدمات کی فروخت پر کم آمدن ظاہر کرنا یا واجب الادا ٹیکس کم کرنے کیلئے جعلی اخراجات دکھانا۔ جائز طریقے سے اس دولت کو چھپانے کا عمل اسے غیرقانونی بنا دیتا ہے۔ ایسی دولت کو مناسب جرمانوں کے ساتھ ٹیکس کے نظام میں لایا جانا چاہیے۔ کالے دھن کی تیسری قسم سب سے عام اور اہم ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو نہ تو مجرمانہ ہوتی ہے اور نہ ہمیشہ جان بوجھ کر چھپائی جاتی ہے۔ یہ صرف اس لیے رسمی نظام سے باہر موجود ہوتی ہے کیونکہ یہ نظام پیچیدہ‘ ناقابلِ اعتماد یا غیرمنصفانہ ہے۔ بہت سے لوگ نقدی میں کماتے ہیں‘ غیررسمی طریقے سے بچت کرتے ہیں یا اپنے اثاثے کسی اور کے نام پر رکھتے ہیں کیونکہ سرکاری نظام سے نمٹنا مشکل یا پُرخطر ہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ٹیکس سے بچنا قابلِ قبول بات ہے لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ لوگ نظام سے باہر کیوں رہتے ہیں۔ جب حکومت ہر دولت کو مشکوک سمجھتی ہے تو وہ اسے ختم نہیں کرتی بلکہ لوگوں کو مجبور کر دیتی ہے کہ اسے پوشیدہ رکھیں۔
ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ رسمی معیشت اور غیررسمی معیشت الگ الگ ہیں۔ حقیقت میں یہ ایک دوسرے سے مضبوطی سے جڑی ہوئی ہیں۔ غیررسمی کاروبار رسمی کمپنیوں سے خریداری کرتے ہیں اور رسمی کمپنیاں غیررسمی کاروباروں کو چیزیں یا خدمات فروخت کرتی ہیں۔ ان کے درمیان دولت کا بہاؤ مسلسل جاری رہتا ہے۔ مثال کے طور پر جائیداد کے سودوں میں اکثر ادائیگی کے ایک حصے کو چھپانا عام بات ہے‘ خواہ لین دین بظاہر قانونی ہی ہو۔ یہ صورتحال رسمی کاروباروں پر غیرمنصفانہ بوجھ ڈالتی ہے۔ انہیں سخت قواعد پر عمل کرنا‘ ٹیکس ادا کرنا اور ریکارڈ رکھنا پڑتا ہے جبکہ ان کا مقابلہ ایسے غیررسمی کاروباروں سے ہوتا ہے جو ان تقاضوں اور پابندیوں کو مدنظر نہیں رکھتے۔ نتیجتاً ہمارا نظام ایسا ہے جو خود ہی قواعد کی پابندی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ جب لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی دولت ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھی جاتی ہے تو ان کا نظام پر اعتماد نہیں رہتا۔ وہ ترقی کے بجائے تحفظ کو ترجیح دیتے ہیں۔ کاروبار یا بینکوں میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے وہ اپنی دولت نقدی‘ سونے یا جائیداد میں محفوظ کرتے ہیں۔ یہ طریقے زیادہ پیداواری نہیں ہوتے لیکن زیادہ محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔اس صورتحال سے ایک بڑا معاشی مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ کسی ملک کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ بچت کو سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جائے۔ بینک اور مالیاتی نظام بچت کرنے والوں سے دولت لے کر کاروبار کرنے والوں تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن جب دولت نظام سے باہر رہتی ہے تو یہ عمل متاثر ہوتا ہے۔ کاروبار آسانی سے قرض حاصل نہیں کر پاتے‘ سرمایہ کاری سست ہو جاتی ہے اور ترقی متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کا بیرونی قرضوں اور امداد پر انحصار بھی اسی مسئلے سے منسلک ہے۔ ملک کے اندر بڑی مقدار میں دولت موجود ہے لیکن وہ مؤثر طریقے سے استعمال نہیں ہو رہی کیونکہ وہ رسمی‘ دستاویزی نظام سے باہر ہے۔
حکومتی پالیسیاں ایسی رہی ہیں جن سے اکثر صورتحال مزید خراب ہوئی۔ یہ پالیسیاں غیررسمی ذرائع سے حاصل کی گئی دولت کو ملک سے باہر لے جانے اور پھر بیرونی سرمایہ کاری یا ترسیلات کی شکل میں واپس لانے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس عمل سے حکومت کو کچھ ادا کیے بغیر ایسی دولت کو قانونی حیثیت مل جاتی ہے۔ ٹیکس معافی کی سکیموں سے بھی غلط پیغام جاتا ہے کہ ٹیکس نہ دیا جائے تو بعد میں کسی وقت کسی سکیم کے ذریعے اس کی معافی مل سکتی ہے۔ ایسی معافی کی سکیموں کا غیرمتوقع نفاذ لوگوں کو رسمی نظام کا حصہ بننے سے روکتا ہے۔ اگر افراد کو ہراسانی‘ غیر منصفانہ ٹیکس یا جرمانوں کا خوف ہو تو وہ اپنی دولت کو غیر دستاویزی رکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان تمام اقسام کی دولت کو ''کالا دھن‘‘ کہنا اور اسے معیشت سے خارج کرنیکی کوشش نہ صرف غلط بلکہ نقصان دہ ہے۔ کوئی بھی کامیاب ملک اپنی ہی دولت کو رد کر کے ترقی نہیں کر سکتا۔ مقصد سرمائے کا اخراج نہیں بلکہ شمولیت ہونا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر قسم کی دولت کو بغیر پوچھ گچھ کے قبول کر لیا جائے۔ مجرمانہ آمدن سے سختی سے نمٹنا چاہیے‘ جس میں تفتیش‘ سزا اور ضبطی شامل ہو لیکن وہ دولت جو قانونی طور پر کمائی گئی ہوخواہ اس پر ٹیکس ادا نہ کیا گیا ہو‘ اسے عام ٹیکس قوانین کے ذریعے‘ مناسب جرمانوں کے ساتھ نظام میں لایا جانا چاہیے۔
ایک بڑامسئلہ یہ ہے کہ حکومت کے پاس واضح معلومات کی کمی ہے کہ کس کے پاس کتنی دولت‘ آمدن کہاں سے آتی ہے اور اثاثے کیسے منتقل ہوتے ہیں؟ زمین کے ریکارڈز نامکمل ہیں اور کاروباری ملکیت اکثر غیرواضح ہوتی ہے۔ اس کمزوری کی وجہ سے ''کالے دھن‘‘ کی اصطلاح کو ایک مبہم لیبل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے بجائے اس کے کہ حقیقی معنوں میں انتظامی مسائل حل کیے جائیں۔حقیقت یہ ہے کہ کاروباری سرگرمیوں اورکاروباری افراد کو بہت زیادہ قواعد‘ منظوریوں اور تاخیری ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عدالتی مقدمات برسوں تک چلتے رہتے ہیں۔ یہ مسائل ایک طرح سے پوشیدہ ٹیکس کی طرح ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے کاروبار کامنافع کم ہو جاتا ہے اور غیریقینی بڑھ جاتی ہے۔ جب کاروبار کرنے والے کو نظام پہلے ہی غیرمنصفانہ محسوس ہو تو لوگ ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ ایک بہتر طریقہ یہ ہو گا کہ ''کالا دھن‘‘ کی مبہم اصطلاح کو ترک کرکے ''غیردستاویزی دولت‘‘ کی واضح اقسام کو اختیار کیا جائے؛ یعنی مجرمانہ آمدن‘ غیر ادا شدہ ٹیکس والی آمدن اور غیردستاویزی دولت کو الگ الگ طریقے سے دیکھا جائے۔ ٹیکسز سادہ‘ قواعد واضح اور ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانا چاہیے۔ اب ڈیجیٹل نظام کو نافذ کرنا نسبتاً آسان ہے کیونکہ بینک اکاؤنٹس کا آپریشن ہو یا جائیداد‘ گاڑیوں‘ سٹاک مارکیٹ اور بڑے بڑے اثاثوں کا لین دین‘ یہ سب کچھ قومی شناختی کارڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ سب سے اہم بات‘ لوگوں کو رسمی نظام کا حصہ بننے سے حقیقی فوائد نظر آئیں‘ جیسے مالی سہولتوں تک رسائی‘ قانونی تحفظ اور کاروباری مواقع۔ نظام کا حصہ بننے میں فائدہ محسوس ہونا چاہیے نہ کہ خطرہ۔ پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی ہی بچت کو مشکوک سمجھتا رہے گا۔ ترقی تب آئے گی جب ان بچتوں کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔ ملکی دولت کو مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے ایک قیمتی وسیلہ سمجھنا ہو گا۔ (اس مضمون میں ڈاکٹر ندیم الحق کا اشتراک بھی رہا)