یحییٰ خان کے مارشل لاء میں لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت سیاسی آزادیوں کو بحال کیا گیا اور سٹوڈنٹ یونین کے الیکشن کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ پروفیسر سراج کمیٹی اس سلسلے میں اپنی تجاویز اور سفارشات پہلے ہی پیش کر چکی تھی۔ ایم اے عربی کا نتیجہ آنے کے بعد میں اب جامعہ پنجاب کا طالبعلم نہیں رہا تھا‘ لہٰذا دوبارہ داخلے کی تگ و دو شروع ہو گئی۔ شعبہ اردو میں میرا داخلہ فارم بغیر کوئی وجہ بتائے رد کر دیا گیا۔ اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد باقر نے مجھے شعبہ فارسی میں داخلے کی پیشکش کی اور ساتھ ہی بارک اللہ خاں صاحب کے شعبہ فارسی میں داخلے کی خبر بھی سنائی۔ یہ افواہ ایک روز قبل ہی سنی تھی مگر ہم نے اسے افواہ ہی سمجھا۔ اب ڈاکٹر محمد باقر صاحب کی زبانی اس افواہ کی تصدیق ہو گئی تھی۔ اورینٹل کالج سے نکل کر میں ایک دو ساتھیوں کے ساتھ شعبہ اسلامیات میں چلا گیا۔ وہاں سے فارم لیا اور پُر کر کے دفتر میں دے دیا۔ ہمارے نہایت مشفق استاد اور مربیّ پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی میرے شعبۂ اسلامیات میں داخل ہونے کے ارادے سے بڑے خوش تھے۔ پروفیسر ملک محمد اسلم (مرحوم) ان دنوں شعبے کے سربراہ تھے۔ سابق صدر شعبہ علامہ علاء الدین صدیقی مرحوم اب جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر بن چکے تھے مگر اس شعبے کے اکثر معاملات ابھی تک ان کے مشوروں اور ہدایات کی روشنی میں طے پاتے تھے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہاں بھی میرے داخلے کا معاملہ ڈانواں ڈول نظر آنے لگا۔ ملک محمد اسلم صاحب نے فارم دیکھ کر کہا تھا: یہ تعلیمی نہیں سیاسی داخلہ ہے۔
بالآخر اس شعبے میں مجھے قبول کر لیا گیا۔ اس دوران جمعیت کی انتخابی کمیٹی نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر یہاں بھی داخلہ نہ ملا تو ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔ اس ضمن میں پریس ریلیز بھی جاری کر دی گئی تھی جو اخبارات میں چھپ گئی تھی۔ خدا خدا کر کے مجھے ایم اے اسلامیات فائنل میں داخلہ مل گیا اور میرا نام ووٹرز لسٹ میں آ گیا۔ جیسے کہ پہلے عرض کیا تھا کہ ان دنوں طلبہ کو ایک مضمون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کسی دوسرے شعبے میں عموماً فائنل ایئر میں داخلہ ملا کرتا تھا۔ یونیورسٹی یونین کے قواعد کے مطابق صدارتی امیدوار کے لیے ایم اے‘ ایم ایس سی‘ ایم کام اور ایل ایل بی میں سے کسی ایک مضمون میں فائنل ایئر کا طالب علم ہونا لازمی تھا۔ اس دوران انتخابی گہما گہمی کی فضا بھی پیدا ہو گئی تھی۔ مختلف عہدوں کے لیے بہت سے نام منظر عام پر آنے لگے۔
جمعیت کی طرف سے ایک پریس کانفرنس میں مجھے صدارتی امیدوارکے طور پر نامزد کیا گیا۔ غالباً برادرم زاہد بخاری نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ شعبہ نشرواشاعت کے انچارج تھے۔ اس اعلان کے بعد میں نے اگلے روز خود ایک پریس کانفرنس میں اپنا انتخابی منشور پیش کیا۔ اخبارات میں اس خبر اور منشور کو اچھی کوریج ملی۔ صدارتی عہدے کے لیے جن دیگر طلبہ نے ابتدائی طور پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ان میں رائو محمد عثمان‘ خواجہ محمد سلیم‘ شاہد محمود ندیم‘ جہانگیر بدر‘ امتیاز عالم شاہ‘ بارک اللہ خاں‘ ادریس کھٹانہ‘ رئیس بیگ‘ خورشید چاولہ‘ پرویز الیاس اور اعجاز ناجی کے نام شامل تھے۔ گویا میرے سمیت کل بارہ صدارتی امیدوار تھے۔ ان امیدواروں میں جن کی کوئی سیاسی حیثیت یا کسی شعبے میں پذیرائی تھی وہ تو چند ایک ہی تھے‘ باقی محض نام ہی تھے۔ جہانگیر بدر ہیلے کالج کی وجہ سے ان سب میں قابلِ ذکر نام تھا۔ اس کے بعد خواجہ محمد سلیم کو نیوکیمپس کے شعبہ معاشیات میں اپنی شعلہ بیانی کی وجہ سے مقبولیت حاصل تھی۔ اسی طرح شعبہ جاتی بنیادوں پر شاہد محمود ندیم‘ رائو محمدعثمان‘ ادریس کھٹانہ کے بھی کچھ ووٹ تھے۔ امتیاز عالم شاہ کے انتہائی بائیں بازو سے تعلق رکھنے کی وجہ سے لیفٹ کا ایک حلقہ ان کے ساتھ تھا۔ بارک اللہ خاں ایک بڑا نام تھا مگر گردشِ لیل و نہار کے طویل سلسلے کے سبب ان کی اہمیت اور حمایت کوئی خاص نہیں تھی۔ ان کے علاوہ باقی چار امیدواران تو محض کاغذی نام تھے۔ ان میں سے جو زندہ ہیں اللہ انہیں ایمان وعافیت کے ساتھ سلامت رکھے اور جو اپنا سفر پورا کر کے اصلی منزل پر پہنچ چکے ہیں‘ رب رحمن ورحیم ان سب کے ساتھ آسانی کا معاملہ فرما کر ان سب کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘ آمین!
مندرجہ بالا امیدواروں میں سے بارک اللہ خاں اور جہانگیر بدر ہمارے اپنے ہی حلقے کے لوگ تھے جبکہ باقی مخالف گروپ سے تعلق رکھتے تھے یا محض نمائشی امیدوار تھے۔ رئیس بیگ نے 1966ء میں سید محمد عارف کے خلاف بھی الیکشن لڑا تھا اور بری طرح ہارے تھے جبکہ بارک اللہ خان 1962ء میں جمعیت کے صدارتی امیدوار تھے مگر وہ الیکشن ہو ہی نہ سکا۔ اس دور میں مہم کے دوران خاں صاحب گرفتار ہو گئے اور یونین پر پابندی لگ گئی‘ جو کئی سالوں کے بعد 1966ء میں ہٹائی گئی مگر ایک سال بھی پورا نہ ہوا تھا کہ اسے پھر بین کر دیا گیا۔
ہمارا خیال تھا کہ ہم اپنے دونوں ساتھیوں سے گفت وشنید کر کے انہیں جمعیت کے مؤقف کا ہمنوا بنا لیں گے مگر تجربے نے ثابت کیا کہ یہ کام اس قدر آسان نہ تھا۔ بارک اللہ خاں صاحب بدوملہی ضلع نارووال کے ایک پرائیویٹ کالج میں ٹیچنگ کرتے تھے اور ایل ایل بی کر کے بطور وکیل بھی رجسٹر ہو چکے تھے۔ ان دنوں وہ نیو انارکلی کے دہلی مسلم ہوٹل میں مقیم تھے۔ ان سے جمعیت کا ایک وفد ملا‘ طویل بات چیت ہوئی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ وہ مجھ سے بزرگانہ انداز میں انتہائی اپنائیت سے بار بار کہتے تھے: حافظ! تُو میرے حق میں بیٹھ جا۔ میں نے انہیں کہا: خان صاحب! اگر میں آزاد امیدوار ہوتا اور خود کھڑا ہوا ہوتا تو ضرور آپ کے حق میں بیٹھ جاتا مگر یہ تو تنظیم کا فیصلہ ہے۔ ادھر سے حکم ملے گا تو بیٹھ جائوں گا‘‘۔ پس یہ ملاقات بے نتیجہ رہی۔ ان دنوں سب ارکانِ جمعیت عجیب مخمصے میں پڑے ہوئے تھے۔ جہانگیر بدر سے بھی بات چیت جاری تھی اور ہم اس کے نتائج سے ناامید نہیں تھے۔ ادھر ہم افہام وتفہیم کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے تھے اور ادھر مخالفین کوئی بڑا دھماکہ کرنے کے لیے سرگرم عمل تھے۔
ملکی سیاست میں بھٹو صاحب نے صدر ایوب خان کے خلاف زبردست مہم چلا کر مغربی پاکستان میں اپنی شخصیت کا جادو جگا دیا تھا‘ ان کی خواہش تھی کہ ملکی انتخابات سے پہلے وہ تعلیمی اداروں میں بھی اپنی دھاک بٹھا لیں۔ جامعہ پنجاب ملک بھر کا سب سے اہم تعلیمی ادارہ تھا اس لیے بھٹو صاحب کو ذاتی طورپر جامعہ پنجاب کے انتخابات سے بڑی دلچسپی تھی۔ کئی بااثرلوگوں کی گاڑیاں اولڈ کیمپس سے نیو کیمپس اور وہاں سے اکبری منڈی کے مسلسل چکر لگا رہی تھیں۔
جہانگیر بدر کے والد میاں بدر دین کی رہائش اندرون لاہور‘ اکبری منڈی میں تھی اور وہ ایک شریف النفس انسان تھے۔ بازار میں دودھ دہی کی دکان کرتے تھے اور آرائیں برادری کے معزز لوگوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ جہانگیر بدر ہمارے دوست تو تھے مگر چلبلے اور مہم جو بھی تھے۔ بالآخر زیرک سوشلسٹوں نے فیصلہ کر لیا کہ اپنے سارے حربے استعمال کر کے جہانگیر بدر کے لیے راستہ ہموار کیا جائے۔ بظاہر یہ عجیب بات ہے کہ کمیونسٹ عناصر اور بائیں بازو کی طرف رجحان رکھنے والے ترقی پسند کسی دائیں بازو کے امیدوار پر دائو لگائیں‘ مگر جو لوگ جوڑ توڑ کی سیاست کو گہری نظر سے دیکھتے اور جانتے ہیں ان کے لیے اس امر میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ تحریص کے جال میں پھنس جانے والوں کے لیے دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں یوٹرن لینا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا۔(جاری)