میر انیس نے کیا خوب رباعی لکھی تھی:
دنیا بھی عجیب سرائے فانی دیکھی؍ ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی
جو آ کے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا؍ جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی
ہر انسان کی زندگی کے شب وروز میں نشیب وفراز آتے ہیں مگر گزر جانے والا لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔ یہ لمحات زندگی کو یوں پگھلا دیتے ہیں جیسے موسم کی تپش برف کو پگھلا کر ختم کر دیتی ہے۔ انسان ماضی کے واقعات پر نظر ڈالے تو ایک عجیب ذہنی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ غم کے بادل بھی نظر آتے ہیں اور خوشی کی بہاریں بھی دل افروز سماں باندھ دیتی ہیں۔ انسان پانی کا بلبلہ ہے مگر اس کے منصوبے صدیوں پر محیط ہوتے ہیں۔
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے؍ عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
عید کے موقع پر دورِ طالب علمی کے چند دوستوں سے موبائل فون پر بات چیت ہوئی تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ کئی واقعات کی بازگشت نے ماضی کی یادوں کے انبار لگا دیے۔ بعض احباب کا تقاضا ہوا کہ ان واقعات میں سے سب نہیں تو چند ایک کی جھلک صفحہ قرطاس پر منتقل ہونی چاہیے۔ میں نے پرانی ڈائریاں دیکھیں تو ان میں بہت کچھ پایا۔ ان میں سے ''مشتے نمونہ از خر وارے‘‘ کے مصداق چند اوراق نذر قارئین کیے جا رہے ہیں۔
دورِ طالب علمی میں بہت عجیب وغریب واقعات سے گزرنا پڑا۔ اُس دور میں جمعیت طلبہ تمام بڑے تعلیمی اداروں میں ایک سیاسی قوت بن چکی تھی۔ جامعہ پنجاب کی انجمن طلبہ کا خلا تنظیم نے اپنی شبانہ روز محنت اور سرگرمیوں سے کسی حد تک پُر کر دیا تھا۔ لاہور کا ایک ہی نظم تھا جس میں پورا شہر اور شہر کے تمام تعلیمی ادارے بشمول جامعات شامل ہوتے تھے۔ 1968ء میں نظامت کی ذمہ داری مجھ پر آن پڑی۔ جامعہ میں منتخب انجمن طلبہ کی جگہ ایک کٹھ پتلی نامزد انجمن رئیس الجامعہ نے قائم کی تھی اور جمعیت کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی مگر ہم نے ایسی ناکارہ اور ڈمی یونین میں شمولیت سے انکار کر دیا۔ ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ شعبہ جاتی نامزدگیوں کے بجائے جامعہ میں جمہوری بنیادوں پر حقیقی یونین کا انتخاب ہونا چاہیے۔ باہمی مشاورت سے ہمارے بعض قریبی ساتھیوں نے بائیں بازو کی تنظیموں کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی مشاورت سے ڈیموکریٹک یوتھ فورس کی بنیاد رکھی۔ ڈیموکرٹیک یوتھ فورس ایک الگ اور آزاد تنظیم تھی جس کا اپنا دستور تھا مگر اس تنظیم میں شامل تمام نوجوان ہمارے ہم خیال تھے لہٰذا اس دور میں یوتھ فورس کا بھرپور تعاون رہا۔ ہمارے مخالفین نے بھی کئی تنظیمیں بنا رکھی تھیں۔ ان کے نام پر ہمارے خلاف اخباری بیانات بھی جاری کیے جاتے اور پوسٹر بھی دیواروں پر لگائے جاتے۔ میں نے ایک دن برادرانِ گرامی زاہد بخاری اور عبدالوحید سلیمانی سے اس موضوع پر گفتگو کی جس کے نتیجے میں ہماری متفقہ رائے یہ بنی کہ مخالفین کو انہی کے ایجاد کردہ ہتھیار سے شکست دی جائے۔ چنانچہ ہم نے تین چار نام تجویز کیے اور اگلے روز ارکان کے مشورے کے بعد ہمارے پاس بھی چار حامی تنظیمیں موجود تھیں۔ ان سب کے عہدیداران اپنے حامی طلبہ میں سے چنے گئے اور سوائے سیاسی کمیٹی اور ارکان کے کسی کو پتا نہ تھا کہ یہ نوجوان کون ہیں۔ ان کے لیٹر پیڈ چھپوائے گئے اور مہریں بنوائی گئیں۔ ایک تنظیم کا نام تھا 'لاہور طلبہ محاذ‘۔ اس کے چیئرمین جاوید احمد خان تھے۔ ہماری قائم کردہ کسی بھی تنظیم میں کوئی فرضی نام نہ تھا۔ سارے لوگ باقاعدہ میدان میں موجود تھے اور ان کے اصلی دستخطوں سے بیانات جاری ہوتے تھے۔ جاوید احمد خان کے بیانات اس شان سے اخبارات میں چھپنے لگے کہ کئی لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ جاوید احمد خاں یونیورسٹی یونین کی بحالی پر آئندہ صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئے گا۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ جاوید اس دور میں وحدت روڈ سائنس کالج میں انٹرکا طالب علم تھا اور تنظیم کا رفیق تھا۔ بعد میں وہ تنظیم کے شعبہ نشرو اشاعت میں بطور معاون شعبہ کام کرتا رہا اور پھر عملی زندگی میں بطور صحافی روزنامہ 'مساوات‘ سے منسلک ہوا۔ وہ جہاں بھی گیا‘ تحریکی روح ہمیشہ اس کے رگ وپے میں موجزن رہی۔
اس دور میں جمعیت طلبہ سیاسی اور صحافتی میدان میں ایک قابل ذکر قوت بن چکی تھی۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے بہت وقت‘ محنت اور بھاگ دوڑ صرف ہوئی لیکن ان ساری مصروفیات کے باوجود ہم نے تربیتی پروگراموں اور شب بیداریوں کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہونے دیا۔ اس دور میں ہماری شب بیداریوں میں جن بزرگان نے بطور مربی شرکت فرمائی ان میں ڈاکٹر نذیر احمد شہید‘ میاں طفیل محمد (مرکز جماعت)‘ مولانا عبدالعزیز مرحوم (امیر جماعت اسلامی بلوچستان)‘ مولانا سردار علی خان مرحوم (امیر جماعت اسلامی سرحد)‘ سید اسعد گیلانی مرحوم (امیر جماعت اسلامی پنجاب)‘ پروفیسر غلام اعظم شہید (مشرقی پاکستان)‘ سید منور حسن مرحوم (جماعت اسلامی کراچی)‘ مولانا معین الدین خٹک مرحوم (بنوں)‘ ملک غلام علی مرحوم (مرکز جماعت) اور مولانا عاصم نعمانی مرحوم (مرکز جماعت) کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ ہماری یہ تربیت گاہیں اور شب بیداریاں مختلف مقامات پر ہوتی تھیں جن میں نیا مدرسہ اچھرہ‘ سعید منزل دفتر جمعیت انارکلی اور مختلف مساجد اور جامعہ پنجاب کے بعض پارک اور لان خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
اس دوران ایوب خاں کی آمریت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی تحریکوں نے خاصا زور پکڑ لیا تھا۔ حکومت اور پولیس کی تشدد آمیز کارروائیوں کے باوجود یہ تحریک روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی۔ ان حالات میں جمہوری تبدیلی کے بجائے آخر بدقسمتی سے مارچ 1969ء میں ملک میں جنرل یحییٰ خاں کا مارشل لاء لگ گیا۔ ہم نے یہ منحوس خبر سعید منزل کے قریب ایک چائے خانے میں ریڈیو پاکستان سے سنی تھی۔ اس روز اسی چائے خانے میں ہم نے جنرل یحییٰ خاں کی تقریر بھی سنی۔ مارشل لاء لگنے کے بعد ایئر مارشل (ر) نور خان مغربی پاکستان کے گورنر بنائے گئے۔ اس کے علاوہ وہ تعلیمی کمیشن کے چیئرمین بھی تھے۔ مارشل لاء لگنے کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنی تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا۔ اس تعلیمی پالیسی پر تنظیم کے مرکز (کراچی) سے ایک پالیسی نوٹ اور اس بارے میں اپنی رائے پر مشتمل ایک سائیکلو سٹائل سرکلر نکالا گیا جو تمام مقامی افراد کو پہنچایا گیا۔
گورنر مغربی پاکستان ایئر مارشل نور خان نے لاہور کے طلبہ رہنمائوں کے ساتھ ایک ملاقات گورنر ہائوس میں رکھی۔ اس ملاقات میں شرکت سے قبل ہم نے اپنی تنظیم کی طرف سے اپنا بھرپور نقطہ نظر تیار کیا جسے میں نے تحریری طور پر گورنر صاحب کی مجلس میں پیش کیا۔ پالیسی کے جن نکات سے ہمیں اتفاق تھا ان کو سراہا اور جن سے اختلاف تھا ان پر پورے دلائل کے ساتھ بھرپور تنقید کی اور ان کی تبدیلی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ متبادل تجاویز بھی پیش کیں۔ نور خان بڑے انہماک اور توجہ سے ہماری بات سنتے رہے اور نوٹس بھی لیتے رہے۔ کئی دیگر طلبہ تنظیمیں اور ان سے منسلک طالبعلم رہنما بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔ مجھے نور خان صاحب سے وہ پہلی اور آخری ملاقات خوشگوار لگی کیونکہ کسی بھی مخالفانہ تبصرے پر ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار نظر نہ آئے تھے۔
اجلاس کے آخر میں ایک 'بزرجمہر‘ قسم کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے طالب علم لیڈر نے گورنر صاحب سے درخواست کی کہ وفد کو گورنر ہائوس کی سیر کرائی جائے۔ گورنر نور خان نے ایک نظر اس لیڈر کی جانب دیکھا اور ایک نظر سے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ میری جانب دیکھا‘ پھر اپنے پی اے کو شارہ کیا اور سیر کے شائقین کیلئے اس کا اہتمام کر دیا گیا۔ گورنر ہائوس کے مغربی دروازے سے ہم باہر مال روڈ پر نکلے تو بارک اللہ خان اور جہانگیر بدر کو باہر کھڑے ہوئے دیکھا۔ دونوں طالبعلم لیڈر دیر سے پہنچے تھے اس لیے اندر نہ آ سکے۔ (جاری)