اگست 1969ء میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں طالبعلم رہنما عبدالمالک کی شہادت پر جمعیت طلبہ نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے اور شہید کی غائبانہ نمازِ جنازہ ملک بھر میں پڑھی گئی۔ لاہور میں 17 اگست 1969ء کو اتوار کے دن مولانا مودودیؒ کے درسِ قرآن (مبارک مسجد) کے بعد طے شدہ پروگرام کے مطابق ناصر باغ میں غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہماری درخواست پر میاں طفیل محمد صاحب نے نمازِ جنازہ پڑھائی تھی۔ نمازِ جنازہ کے بعد بطور ناظم لاہور جمعیت میں نے اور کئی دیگر مقررین نے عبدالمالک شہید کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ چند ایام کے بعد بوقت عصر مرکز جمعیت‘ سعید منزل کی چھت پر ایک تعزیتی جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسے سے راقم الحروف اور اس وقت کے ناظم مشرقی پاکستان برادرم مطیع الرحمن نظامی (شہید) نے خطاب کیا۔ یہ جلسہ 20 یا 21 اگست کو منعقد ہوا تھا۔ اس جلسے میں کی جانے والی تقریر کی بنیاد پر مجھے ستمبر کے وسط میں وولنر ہاسٹل سے عجیب ڈرامائی انداز میں گرفتار کیا گیا۔
میں اُن دنوں ایم اے عربی کا امتحان دے رہا تھا اور ہمارے بزرگ ساتھی محترم (پروفیسر) نصیر الدین ہمایوں بھی ایکسٹرنل طالبعلم کے طور پر اسی سال ایم اے کا امتحان دینے پاکپتن سے لاہور آئے ہوئے تھے۔ وہ ہاسٹل میں میرے پاس رہ رہے تھے۔ میری گرفتاری کے وقت وہ میرے کمرے میں موجود تھے۔ یہ گرفتاری نہایت دلچسپ اور سنسنی خیز تھی۔ مختصراً یہ کہ ایک اجنبی شخص میرے کمرے میں آیا اور دعا سلام کے بعد کہا کہ حافظ ادریس صاحب! مجھے آپ کے پاس بابو غلام علی صاحب نے بھیجا ہے۔ میری بچی کا یونیورسٹی میں ایک مسئلہ ہے‘ وہ باہر سڑک پر کھڑی ہے۔ مسئلے کی تفصیل وہی بتا سکتی ہے۔ بابو صاحب نے کہا کہ حافظ ادریس میرا عزیز اور وہاں طلبہ کا لیڈر ہے‘ اس سے جا کر ملو۔ میں نے کہا: بچی کو ساتھ لے آئیں‘ میں بات سن لوں گا۔ اگر میرے لیے ممکن ہوا تو میں کام کرا دوں گا ورنہ آپ کو رہنمائی اور مشورہ دے دوں گا۔ وہ کہنے لگا کہ وہ دونوں ماں بیٹی پردہ دار خواتین ہیں‘ ہاسٹل میں آنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ آپ مہربانی فرمائیں‘ میرے ساتھ چلیں اور بچی کی بات سن لیں۔
بابو غلام علی صاحب جن کا حوالہ دیا گیا تھا‘ ہمارے گائوں کے بزرگ رہائشی‘ ریلوے سے ریٹائرڈ ایک سٹیشن ماسٹر تھے اور دور کے رشتے میں میرے والد صاحب کے ماموں لگتے تھے۔ میں اُس شخص کے ساتھ چل پڑا۔ جونہی ہاسٹل کے بیرونی دروازے سے باہر آیا تو سڑک پر دونوں جانب مغرب اور مشرق میں پولیس کے جوان اور افسران اپنی گاڑیوں سمیت گھیرا ڈالے ہوئے چاق وچوبند کھڑے تھے۔ میں نے اس اجنبی سے کہا: جھوٹے بدبخت! جو ڈرامہ تُو نے رچایا اس کی کیا ضرورت تھی۔ مجھے وارنٹ دکھاتے تو میں خود کو گرفتاری کیلئے بغیر کسی حیل وحجت کے پیش کر دیتا۔ اس نے آہستگی سے معذرت کرتے ہوئے کہا: جناب! برا نہ منائیں‘ میں معافی چاہتا ہوں۔ یہ میری پیشہ ورانہ ذمہ داری اور مجبوری ہے۔
گرفتاری کے بعد مجھے نئی انارکلی تھانے لے جایا گیا۔ مجھے گرفتار کرنے کیلئے پتا نہیں کیوں بہت بڑی گارد اور کئی گاڑیاں آئی تھیں۔ مجھے اس گرفتاری کے وقت کسی قسم کا ڈر نہیں تھا۔ مجھے صرف اپنے امتحان کی فکر تھی جس کے دو پرچے ہو چکے تھے اور پانچ باقی تھے۔ اگلی صبح تیسرا پرچہ تھا۔ اس بات کا افسوس تھا کہ میں اپنی کتب اور کاپیاں ساتھ نہ لا سکا۔ نئی انارکلی تھانے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس غلام محمد خان نیازی بڑی خندہ پیشانی سے ملے اور میری گرفتاری کی وجہ (تقریر) پر بڑا افسوس کرتے رہے۔ میں نے محسوس کیا کہ موصوف محکمہ پولیس کے ان چند افسران میں سے تھے جن کے اندر انسانی شرافت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار موجود تھیں۔
میری گرفتاری کے واقعہ سے چند روز قبل اسلامیہ کالج سول لائنز کے سات آٹھ طلبہ گرفتار ہوئے تھے۔ یہ بی اے کا امتحان دینے والے وہ طلبہ تھے جو ایک مشکل پرچے (غالباً معاشیات) سے واک آئوٹ کر گئے تھے اور امتحانی مرکز (بخاری آڈیٹوریم گورنمنٹ کالج لاہور) کے شیشے توڑنے کے مرتکب بھی ہوئے تھے۔ انہیں گرفتاری کے بعد جیل میں باقی ماندہ پرچے دینے کی اجازت نہیں ملی تھی حالانکہ ان کے والدین نے کافی بھاگ دوڑ کی تھی اور یہ دلیل بھی دی تھی کہ مذکورہ پرچے کے کئی سوالات آئوٹ آف کورس تھے۔ مجھے بھی یہی خدشہ لاحق تھا کہ میرے باقی ماندہ پرچے نہیں ہو سکیں گے اور میری محنت کے دو قیمتی سال ضائع ہو جائیں گے۔
جنرل امیر عبداللہ خان نیازی (ڈھاکہ والے) اُس دور میں صوبہ پنجاب کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے۔ جونہی میری گرفتاری کی خبر سینہ بہ سینہ شہر میں پھیلی‘ حوالات میں ملنے کیلئے آنے والے احباب کا تانتا بندھ گیا۔ بارک اللہ خاں بھی ملنے کیلئے تشریف لائے اور وعدہ کیا کہ امتحان کی اجازت ہر حال میں حاصل کر لیں گے۔ اورینٹل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر صاحب کا پیغام بھی ملا کہ وہ اس مسئلے پر خاصی تگ و دو کر رہے ہیں۔ پرچہ صبح آٹھ بجے سے 11 بجے تک ہوا کرتا تھا۔ اگلے روز طلبہ اور شہریوں کا ایک وفد اس موضوع پر جنرل نیازی سے ملنے ان کے دفتر گیا۔ کیس چونکہ مارشل لاء کے تحت تھا اس لیے فیصلہ بھی وہیں سے ہونا تھا۔ دس بج گئے اور کوئی امید کی کرن نظر نہ آئی۔ مجھے اس وقت ایک ایک لمحہ پہاڑ لگ رہا تھا اور میں بیم ورجا کے عالم میں تلاوتِ قرآن اور درود شریف سے دل کی اداسی دور کرنے میں مشغول تھا۔ میں چونکہ بی اے میں گولڈ میڈلسٹ تھا اس لیے نیازی صاحب سے ملنے والے وفد نے اسی پہلو پر زور دیا کہ ایک ہونہار اور گولڈ میڈلسٹ طالبعلم کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ جنرل نیازی نے پہلے تو اپنے مخصوص آمرانہ لہجے میں کہا ''امتحان اور مستقبل کو بھول جائو‘ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ملک میں مارشل لاء لگا ہوا ہے اور ایک طالبعلم کی کیا حیثیت ہے کہ وہ حکومت کے خلاف تقریریں کرتا پھرتا ہے‘‘۔
بارک اللہ خاں اور محمد یوسف خاں نے دانش وحکمت کے ساتھ نیازی صاحب سے مزید گفتگو کے نتیجے میں ان کو کسی حد تک نرم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس پر جنرل صاحب نے کہا: مجھے زبانی اور تحریری بھی حلف دو کہ وہ گولڈ میڈلسٹ ہے اور اگر یہ ثابت ہوا کہ تمہارا دعویٰ غلط ہے تو اس کا خمیازہ کسی اور کو نہیں‘ تم دونوں کو بھگتنا پڑے گا۔ چنانچہ حلف دیا گیا اور اس کے بعد نیازی صاحب نے اپنے معاون (اے ڈی سی) سے کہا کہ وی سی پنجاب کے نام آرڈر لکھو کہ اس طالبعلم کے امتحان کا اہتمام اسیری کی حالت میں کیا جائے۔ ساڑھے دس‘ گیارہ بجے کے قریب شعبہ فارسی کے استاد پروفیسر غلام جیلانی صاحب تھانے میں تشریف لائے اور سربمہر لفافے میں سے پولیس سپرنٹنڈنٹ صاحب کی موجودگی میں امتحانی پرچہ نکالا۔ پولیس کپتان کا دفتر امتحانی سنٹر قرار پایا اور جیلانی صاحب میرے سپرنٹنڈنٹ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ اس پرچے کے بعد میرے باقی کے پرچے امتحانی شیڈول کے مطابق جیلانی صاحب نے کیمپ جیل میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے آفس میں لیے۔
اس امتحان کا نتیجہ میری رہائی کے ڈیڑھ دو ماہ بعد آیا۔ اس میں اللہ کے فضل سے میں نے یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی اور ایم اے میں بھی گولڈ میڈل کا مستحق ٹھہرا۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پروفیسر جیلانی صاحب میری گرفتاری پر بہت افسردہ اور پریشان تھے۔ مجھ سے ملے تو یوں جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کی گرفتاری پر پریشان ہو مگر مجھے ہشاش بشاش دیکھ کر ان کو اطمینان ہو گیا۔ وہ ایک طویل قامت بزرگ علمی شخصیت تھے جو جناح کیپ اور شیروانی میں ملبوس ہوا کرتے تھے۔ میں نے عرض کیا: سر! اب کوئی پریشانی نہیں۔ مجھے اگر فکر تھی تو اپنے امتحان کی‘ اس کے علاوہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اس پر پروفیسر صاحب نے خوشی کا اظہار کیا اور مجھے دعائیں بھی دیں۔ میں بھی ہمیشہ مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے دعاگو رہتا ہوں۔ (جاری)