گاہے گاہے باز خواں! …(2)

گورنر مغربی پاکستان ایئر مارشل نور خان سے ملاقات کر کے ہم باہر نکلے تو جہانگیر بدر اور بارک اللہ خان باہر کھڑے تھے۔ واضح رہے کہ جہانگیر بدر اس وقت تک ہمارے تنظیمی حلقہ میں باقاعدہ کارکن نہیں تھے مگر وہ طلبہ سیاست میں ہمارے ہی ایک سیاسی کارکن تھے جو ہیلے کالج میں زیر تعلیم اور ہماری حمایت سے کالج یونین کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اس وقت تک ہمارے باہمی ذاتی تعلقات بہت خوشگوار تھے۔ ایئر مارشل (ر) نور خان کی تعلیمی پالیسی میں یونیورسٹی آرڈیننس اور یونیورسٹی یونین کے بارے میں بھی کچھ سفارشات تھیں مگر اِس وقت مجھے ان کی صحیح نوعیت اور تفصیل یاد نہیں؛ البتہ ہم نے عرض کیا تھا کہ جامعہ پنجاب کی یونین بحال ہونی چاہیے کیونکہ یہ ہمارا اور سبھی طلبہ وطالبات کا متفقہ مطالبہ ہے۔ اُس دور میں پنجاب یونیورسٹی میں اساتذہ کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے سربراہ شعبہ انگریزی کے استاذ پروفیسر سراج تھے۔ انہی کے نام کی نسبت سے یہ کمیٹی سراج کمیٹی کے نام سے معروف ہوئی۔ سراج کمیٹی کو یونین کی بحالی کے بارے میں طلبہ نمائندوں سے صلاح مشورہ کر کے اپنی سفارشات مع مجوزہ دستور‘ یونیورسٹی سینیٹ کو پیش کرنا تھیں۔ اس کمیٹی کی تشکیل ہوتے ہی جمعیت نے مختلف یونیور سٹیوں اور کالجوں کی طلبہ یونینز کے دساتیر کی مدد سے ایک نہایت جامع دستوری خاکہ مرتب کیا۔ تنظیم کے ناظم کی حیثیت سے کمیٹی کے سامنے یہ خاکہ پیش کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی۔ سراج کمیٹی نے بھی اپنی طرف سے ایک خاکہ شائع کیا تھا اور اس میں طلبہ نمائندوں کو ترامیم پیش کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ کمیٹی نے سینیٹ ہال میں اجلاس منعقد کیا۔ مجھے یاد ہے کہ طلبہ تنظیموں کی طرف سے عملی دستوری خاکہ صرف ہم نے ہی پیش کیا تھا۔ کمیٹی کے ہر رکن کو میں نے کاپی پیش کی اور اجلاس کے دوران اپنے مجوزہ خاکے کے متن کی تشریح بھی کی۔ کمیٹی کے ارکان کے نام یاد نہیں رہے؛ البتہ ایک رکن پروفیسر صاحب نے اپنی گفتگو میں ہماری پیش کردہ مثبت تجاویز کی تحسین فرمائی۔
تاریخ تو یاد نہیں مگر یہ وہی دن تھا جس دن ہیلے کالج یونین کے انتخابات ہو رہے تھے۔ ہم یونیورسٹی سینیٹ ہال سے اجلاس ختم ہونے کے بعد باہر نکل ہی رہے تھے کہ ہیلے کالج کے طلبہ کا ایک جلوس یونیورسٹی کیمپس آ پہنچا۔ ہمارے دو حمایت طلبہ اور میرے ذاتی دوست صدر اور سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔ یہ بالترتیب جہانگیر بدر اور اعظم ملک تھے۔ جہانگیر بدر جن کو بعد میں حالات نے ہمارے مخالف کیمپ میں پہنچا دیا تھا‘ سیاسی مزاج رکھنے والے ہمارے بڑے اچھے حامیوں میں سے تھے۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھنے کو ہے مگر زیادہ تفصیل میں جانے کو جی نہیں چاہ رہا۔ سینیٹ ہال کے باہر ہم نے جہانگیر بدر (صدر) اور اعظم ملک (سیکرٹری) کو کامیابی پر مبارکباد دی اور باہم گلے ملے۔ دونوں طالب علم رہنمائوں نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی کامیابی کو طلبہ اتحاد کی کامیابی قرار دیا۔ طلبہ سیاست کے معروضی حالات میں ہمارے لیے ان کی کامیابی بڑی خوش آئند اور مسرت کا باعث تھی۔ ملک محمد اعظم مرحوم جوانی ہی میں وفات پا گئے اور آخری دم تک تحریک اسلامی کے ساتھ وابستہ رہے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔
اجلاس سے فارغ ہونے کے بعد جب میں ہال سے باہر آیا تو بہت سے حامی طلبہ نے نتائج کے بارے میں پوچھا۔ میں نے مختصراً کہا: مثبت اور نتیجہ خیز‘ ان شاء اللہ! سراج کمیٹی کے ارکان نے اپنی کئی مجلسوں میں طلبہ یونین کے امور ومعاملات اور الیکشن کے موضوع پر بحث کی تھی۔ یہ آخری اجلاس طلبہ تنظیموں کے ساتھ اس روز سینیٹ ہال میں ہوا جو کافی طویل تھا۔ اس کے بعد کمیٹی نے یونین کی بحالی کی سفارش کی اور یہ سفارش منظور بھی ہو گئی مگر یونین کے عملاً بحال ہونے اور باقاعدہ انتخاب منعقد ہونے میں مزید کئی ماہ لگ گئے۔ یہ مارشل لاء کا زمانہ تھا اور ملک میں سیاسی جماعتوں کی جدوجہد اور پبلک سرگرمیوں پر مکمل پابندی تھی‘ تاہم چار دیواریوں کے اندر سب پارٹیوں کے اجلاس حسبِ حال منعقد ہوتے رہتے تھے۔
یحییٰ خانی مارشل لاء کے دور میں مغربی پاکستان میں بھٹو نے اور مشرقی پاکستان میں مجیب اور بھاشانی نے جمعیت طلبہ کے مقابلے پر اپنی حامی تنظیموں کو منظم کرنے کی جانب خاصی توجہ دی۔ مشرقی پاکستان میں تو جمعیت کے مخالفین نے چھ نکات کے طوفانی اثرات سے فائدہ اٹھا کر خاصی قوت بہم پہنچائی تھی مگر مغربی پاکستان میں بھٹو کا روٹی‘ کپڑے اور مکان کا نعرہ طلبہ کو اس طرح مسحور نہ کر سکا جس طرح اس نے مغربی پاکستان بالخصوص پنجاب اورسندھ میں عوام الناس کو متاثر کیا تھا۔ عوام نے بھٹو کو نجات دہندہ اور مسیحا کا درجہ دے کر دیوانہ وار نعرے لگانا شروع کر دیے تھے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ و اساتذہ کے درمیان بھٹو کے حامی روز بروز بڑھتے جا رہے تھے‘ اگرچہ عوام کی نسبت طلبہ و اساتذہ میں ان کی تعداد کم تھی۔
مغربی پاکستان میں بحیثیت مجموعی اس دور میں بھی بائیں بازو کے طلبہ کی کہیں دال نہ گلی۔ پی ایس ایف کے ساتھ پی ایس او کی بنیاد رکھی گئی۔ پھر دونوں میں اتحاد بھی کرایا گیا مگر وہ کوئی میدان نہ مار سکے۔ مشرقی پاکستان میں جمعیت مخالف طلبہ تنظیمیں کافی طاقتور تھیں۔ اس دور کا مشہور تاریخی واقعہ ہمارے نہات عزیز دوست اور پُرعزم ساتھی عبدالمالک کی شہادت ہے۔ عبدالمالک شہید ڈھاکہ جمعیت کے ناظم اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے نہایت ہونہار طالبعلم تھے۔ ان کی جرأت اور بے باکی عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم 'چھاترو لیگ‘ اور دیگر سیکولر طلبہ تنظیموں کو بہت کَھلتی تھی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ کے ایک جلسہ عام میں عبدالمالک بھائی نے سیکولر عناصر کو چیلنج کیا اور اپنی بے پناہ ذہانت اور فصاحت وبلاغت سے ان کو لاجواب کر کے حاضرین کے دل موہ لیے۔ اس ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے بدبخت غنڈوں نے اگلے ہی روز بڑی تعداد میں اس عظیم نوجوان پر یونیورسٹی کے احاطے میں حملہ کیا جس کے نتیجے میں عبدالمالک شدید زخمی ہو گئے۔ 13 اگست 1969ء کو وہ زخمی ہوئے اور 15 اگست کو ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر جام شہادت نوش کر گئے۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم مجاہد اور زندہ جاوید شہید کی قبر کو نور سے بھر دے‘ آمین! اس نے البدر اور الشمس کے جیالے مجاہدین کیلئے روشنی کا مینار تعمیر کر دیا تھا جنہوں نے اپنے مادرِ وطن کے دفاع کیلئے ایک تاریخ رقم کر دی۔ یہ بھی ہماری تاریخ کا المیہ ہے کہ وطن کا دفاع کرنے والے ان سپوتوں (رضا کاروں) کو بنگلہ دیش حکومت نے تو گردن زدنی قرار دیا ہی تھا مگر سرزمین پاک جس کیلئے انہوں نے بے لوث قربانیاں دی تھیں‘ اس نے بھی ان کی قدر نہ کی۔ یہاں کے کئی نام نہاد دانشور ان کو باغی اور دہشت گرد تک قرار دیتے رہے۔ کس اصول کے تحت؟ اس کا کوئی معقول جواب ان کے پاس نہیں ہے۔
قدرت کا کمال دیکھیے کہ اگست 2024ء کے آغاز میں طویل عرصے کی بدترین آمریت‘ ظلم وستم اور جعلی عدالتوں کے ذریعے بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے‘ نیز ہزاروں بنگالیوں کا قتل عام کرنے والی ظالم حسینہ واجد عبرتناک انجام کو پہنچ گئی۔ اس کے خلاف نوجوان اور طلبہ ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سروں پر کفن باندھ کر اٹھ کھڑے ہوئے تو دنیا کو بہت سے جعلی تصورات اور جھوٹے‘ لغو الزامات پر قائم آمریت کی اصلیت وحقیقت معلوم ہوئی۔ اب ہر نوجوان کی زبان پر تھا: میں کون؟ رضا کار! تُو کون؟ رضا کار! ہم سب کون؟ رضا کار! اسی دھرتی پر رضا کار کو غدار اور گردن زدنی قرار دیا گیا تھا‘ اب یہی لفظ عزت کی پہچان اور وقار کا نشان بن چکا ہے۔ مکتی باہنی کے مقابلے پر ڈٹ کر ملک کی سالمیت کا دفاع کرنے والے تنخواہ یافتہ کارندے نہیں‘ رضاکار تھے جو غدار اور گردن زدنی قرار پائے۔ بنگلہ دیش میں حکومت اور ذرائع ابلاغ نے لفظ رضاکار کو ایک بدترین گالی کا ہم معنی بنا دیا تھا۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں