سٹوڈنٹ یونین کے الیکشن

اگست 1969ء میں ڈھاکہ میں ایک طلبہ رہنما عبدالمالک کی شہادت پر منعقدہ تقریب میں میری تقریر کے سبب گرفتاری‘ جیل سے ایم اے کے امتحانات اور بعد ازاں باعزت بری ہونے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کی بحالی کا فیصلہ ہوا۔ ہم نے بھی آنے والے انتخاب پر سنجیدگی سے غور وخوض شروع کیا۔ میں چونکہ لاہور جمعیت کا ناظم تھا اور اس سے قبل ایک روایت چلی آ رہی تھی کہ مرکز‘ صوبے (علاقے) یا مقامی ناظمین یونینز کے الیکشن نہیں لڑتے تھے۔ اگر الیکشن میں جانا ناگزیر ہو جاتا تو نظامت سے مستعفی ہو جایا کرتے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ہمیں یونین کی صدارت کے لیے کسی اور امیدوار کا نام تجویز کرنا چاہیے جبکہ میرے ساتھیوں کی رائے تھی کہ مجھے کسی شعبے میں ایم اے میں داخلہ لے کر خود یہ انتخاب لڑنا چاہیے۔
ایک بار تو میں نے ارکان سے مشاورت کے بعد ایک اور طالبعلم کے حق میں فیصلہ بھی کرا لیا تھا۔ اتفاق سے اس طالبعلم کا نام جہانگیر خان تھا جو لاء کالج میں پڑھتا تھا۔ موصوف کا آبائی تعلق ڈیرہ اسماعیل خاں سے تھا اور وہ ایک سرگرم کارکن تھا۔ یہ فیصلہ کثرتِ رائے سے ہو تو گیا مگر بعض ساتھیوں کو اس پر شدید تحفظات تھے۔ اتفاق سے انہی دنوں ڈاکٹر محمد کمال صاحب لاہور آئے اور ہمارے مشترکہ دوست حبیب الدین خاں صاحب کے گھر پر اس ایشو کو حل کرنے کے لیے جمعیت کا ایک خصوصی اجتماعِ منعقد ہوا۔ طویل اجلاس میں آرا مختلف تھیں مگر اکثریت کی رائے یہی تھی کہ مجھے ضرور یونین کا الیکشن لڑنا چاہیے۔ دوستوں کا خیال تھا کہ اگر کسی اور غیر معروف ساتھی کو نامزد کیا گیا تو ہمارے حق میں فضا نہیں بن سکے گی۔ چونکہ یہ مسئلہ چل رہا تھا لہٰذا اسی دور میں ایک ہنگامی اجلاس میں مرکزی شوریٰ نے یہ وضاحت کر دی تھی کہ ناظمین بیک وقت نظامت اور یونین کی عہدے داری کے فرائض انجام دے سکتے ہیں‘ کیونکہ یہ محض ایک روایت ہے کوئی دستوری مسئلہ یا مرکزی شوریٰ کا فیصلہ نہیں۔
اب تمام ارکان نے پوری یکسوئی کے ساتھ فیصلہ کیا کہ میں ہی الیکشن میں جمعیت کا امیدوار ہوں گا۔ اس سال کراچی میں برادر گرامی تسنیم عالم منظر (مرحوم) نے تنظیم کے فیصلے پر این ای ڈی کالج میں یونین کی صدارت کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ وہ اس وقت مغربی پاکستان کے ناظم جمعیت بھی تھے۔ ان دنوں مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ساتھی مطیع الرحمن نظامی (شہید) ناظم اعلیٰ منتخب ہو چکے تھے۔
کئی سالوں کے تعطل کے بعد انجمن طلبہ کی بحالی سے تمام طلبہ رہنمائوں اور دائیں‘ بائیں بازو کی سب تنظیموں میں جوش وخروش کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔ اس کے ساتھ گزشتہ طویل عرصے کی حکومت مخالف سیاسی سرگرمیوں اور طلبہ کی عمومی جدوجہد کی وجہ سے عام طالبعلم بھی خاصی سرگرمی اور شوق سے الیکشن کی تفاصیل کا مطالعہ کر رہے تھے۔ ووٹروں کی رجسٹریشن کے لیے پروفیسر سراج کمیٹی کے اجلاس میں اصول وضوابط طے ہو چکے تھے۔ ان کی کاپیاں ہر شعبے اور جامعہ سے ملحقہ کالجوں (اورینٹل کالج‘ لاء کالج اور ہیلے کالج) میں نوٹس بورڈوں پر چسپاں کی گئیں۔ طلبہ نے بڑی گرم جوشی سے رجسٹریشن میں حصہ لیا اور جس طالبعلم کا نام کسی وجہ سے ووٹر لسٹ میں نہ آ سکا اس نے بھاگ دوڑ کر کے اپنا حق رائے دہی تسلیم کرایا۔ لائبریری سائنس میں ڈپلومہ کرنے والے طلبہ جونیئر شمار ہوتے تھے‘ ان کو ووٹرز لسٹ سے خارج کیا گیا تو اس شعبے کے طلبہ خاصے پریشان ہوئے۔ انہوں نے جمعیت سے رجوع کیا اور ان کا کیس انتظامیہ کے سامنے پیش کر کے کافی بحث مباحثے اور تگ ودو کے بعد ان کا حق رائے دہی تسلیم کرایا گیا۔ اس کاوش کے نتیجے میں ایک ضمنی لسٹ جاری ہوئی اور لائبریری سائنس کے طلبہ کی فہرستیں بھی تمام نوٹس بورڈوں پر چسپاں کی گئیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ اس موقع پر شعبے کی عمارت نعروں سے گونج اٹھی۔ اس گرم جوش اظہارِ جذبات نے اولڈ کیمپس کے باقی شعبوں کے طلبہ وطالبات کی توجہ بھی ہماری انتخابی مہم کی جانب مبذول کرا دی۔ یہ گہما گہمی جاری تھی کہ اسی دوران ایم اے عربی کے نتیجے کا اعلان ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس میں شاندار کامیابی سے نوازا۔ میں یونیورسٹی میں اول آیا تھا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا کہ یہ پرچے میں نے جیل سے دیے تھے اور اخبارات کی خبروں میں اس کا بھی تذکرہ ہوا۔
اب جو مسئلہ ہمیں درپیش تھا وہ یونیورسٹی میں نئے داخلے کا تھا۔ میرا ذاتی ارادہ تھا کہ ایم اے اردو یا ایم اے پولیٹکل سائنس میں داخلہ لوں۔ اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد باقر تھے اور وہی شعبہ فارسی کے ہیڈ تھے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی شعبہ اردو کے سربراہ تھے۔ یونیورسٹی اساتذہ اور طلبہ عموماً مجھے بخوبی جانتے تھے۔ میں نے شعبہ اردو میں داخلے کی درخواست دی‘ اس موقع پر شعبہ کے اساتذہ کی میٹنگ بلائی گئی۔ میں بھی میٹنگ روم کے باہر موجود رہا کہ شاید مجھے سوال وجواب کے لیے طلب کیا جائے گا‘ مگر مجھے نہ بلایا گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ تھوڑی سی سنسنی کے بعد بالآخر مجھے داخلہ مل جائے گا۔ اندر خانے کیا ہو رہا ہے‘ ہمیں معلوم نہ تھا تاہم ہمارے مہربان استاد ڈاکٹر وحید قریشی پروفیسر شعبہ اردو‘ جو میرے ساتھ ہمیشہ بڑی شفقت سے پیش آیا کرتے تھے‘ نے ہمیں تسلی دی تھی کہ داخلہ ہو جائے گا۔ اکثر پروفیسر میرے داخلے کے لیے کوشاں تھے مگر سربراہ شعبہ‘ ڈاکٹر عبادت بریلوی صاحب اور دیگر اساتذہ کی اکثریت اس حق میں نہ تھی بلکہ معلوم ہوا کہ انہوں نے سخت الفاظ میں اس داخلے کی مخالفت کی اور طلبہ تنظیم کے خلاف بھی بہت کچھ فرمایا۔ مختصراً یہ کہ شعبہ اردو میں میرا داخلہ فارم مسترد کر دیا گیا۔ اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی آج تک مجھے معلوم ہو سکی ہے۔ یہ استرداد بڑا مضحکہ خیز اور یونیورسٹی کی مسلمہ روایات کے بالکل برعکس تھا۔ بہت سے طلبہ ایک مضمون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کسی دوسرے شعبے میں دوسرا اور تیسرا ایم اے کرنے کے لیے داخل ہو جایا کرتے تھے اور عموماً انہیں فائنل ایئر میں داخلہ ملا کرتا تھا۔ یہ اصول کئی دہائیوں بعد تک بھی برقرار رہا۔ میں نے ایک زبان میں ایم اے کر لیا تھا اور اب دوسری زبان میں ایم اے کرنا چاہتا تھا۔
اس موضوع پر پرنسپل کالج ڈاکٹر محمد باقر صاحب سے بات کی۔ ڈاکٹر صاحب سے میرا قریبی نیازمندانہ تعلق تھا اور وہ بھی بہت محبت وشفقت سے پیش آتے تھے۔ میری بات سن کر وہ خوب ہنسے اور پھر کہا ''آپ کے عزائم اردو والوں کو معلوم ہیں‘ اس لیے وہ داخلہ دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ میں ایسے چھوٹے سے مسئلے پر ان کے معاملات میں دخل اندازی مناسب نہیں سمجھتا‘ تاہم اگر آپ فارسی میں داخلہ لینا چاہیں تو ابھی آپ کو داخلہ مل جائے گا‘‘۔ جیسا کہ عرض کیا‘ ڈاکٹر باقر صاحب میرے مہربانوں میں سے تھے اور ان سے میں اس طرح بے تکلفی سے بات کر لیا کرتا تھا جس طرح ایک دوست دوسرے دوست سے کر لیتا ہے۔ اس لیے میں نے جواب میں کہا ''سر! پڑھیں فارسی بیچیں تیل‘‘!۔ ڈاکٹر صاحب نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگے: بیٹے! آپ کو اس سے کیا غرض کہ مضمون کون سا ہے‘ آپ کو تو داخلہ ہی چاہیے۔
پھر ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ ابھی میرے پاس بارک اللہ خان بیٹھے تھے‘ انہیں تو آپ جانتے ہوں گے۔ میں نے عرض کیا: وہ تو میرے دوست اور برادر بزرگ ہیں۔ جن دنوں ان کا جامعہ پنجاب میں طوطی بولتا تھا ان دونوں وہ میرے گائوں تشریف لائے تھے‘ میں ان دنوں مڈل سکول کا طالب علم تھا۔ ان سے اسی دور سے نیازمندی کا تعلق ہے۔ کہنے لگے: خان صاحب نے فارسی میں داخلہ لے لیا ہے اور میں نے ان سے وہی بات کہی تھی جو آپ مجھے کہہ رہے ہیں‘ یعنی پڑھیں فارسی بیچیں تیل!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں