کفار کی چالیں اور ان کا جواب …(3)

حضرت یوسف علیہ السلام نے تدبیر کر کے اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ اُدھر حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو دوبارہ مصر بھیجا کہ خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اور کوشش کریں‘ کیا عجب کہ اللہ بنیامین کے ساتھ یوسف کو بھی ان سے ملا دے۔ یہ لوگ دوبارہ اپنی عرضداشت پیش کرنے کیلئے‘ نیز غلہ حاصل کرنے کیلئے مصر گئے اور اپنی بے بسی و بے بضاعتی کا اظہار کرکے یوسف علیہ السلام کے سامنے عرض گزار ہوئے: ''سردار بااقتدار! ہم اور ہمارے اہل وعیال سخت مصیبت میں مبتلا ہیں۔ ہمارے پاس حقیر سی پونجی ہے جو غلے کی قیمت شاید نہ بن سکے لیکن آپ خیرات فرمائیں اور ہمیں پورا غلہ دیں‘ اللہ خیرات کرنے والوں کو پسند کرتاہے‘‘۔ (سورۂ یوسف: 88) یہ پہلا موقع تھا جب یوسف علیہ السلام نے اپنی شخصیت کا اظہار فرمانے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرمایا: ''تمہیں معلوم ہے تم یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیاکرتے رہے ہو؟ جبکہ تم نادان تھے‘‘۔ اب ان کی آنکھیں کھلیں‘ بولے: ''ہائیں! کیا تم یوسف ہو؟‘‘۔ اب یہ منظر بھی عجیب تھا۔ جسے اپنے تئیں وہ موت کی وادی میں دھکیل چکے تھے‘ وہ تخت شاہی پر براجمان تھا۔ ندامت اور خوف نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا اور کیفیت یہ تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اب یوسف علیہ السلام نے فرمایا: ''ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اور یہ جوکچھ تم دیکھ رہے ہو‘ یہ میری قابلیت نہیں اللہ کی عطا ہے۔ اللہ تقویٰ اور صبر کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘۔ (آیت: 90) برادرانِ یوسف نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا اور یوسف علیہ السلام کی تعریف کی۔ اب سردار بااقتدار نے ارشاد فرمایا: ''آج تم پر کوئی گرفت نہیں‘ اللہ تمہیں معاف کرے وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ جائو میری یہ قمیص لے جائو اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو‘ ان کی بینائی پلٹ آئے گی اور اپنے سب اہل وعیال کو میرے پاس لے آئو‘‘ (آیت: 93)۔
ابھی یہ قافلہ مصر سے چلا ہی تھا کہ ادھر یعقوب علیہ السلام نے کنعان میں کہا: ''آج مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے‘‘۔ گھر کے لوگوں نے اسے ان کا خبط قرار دیا لیکن جس روز خوشخبری لانے والا کنعان پہنچا اور اس نے یوسف علیہ السلام کا کُرتا یعقوب علیہ السلام کے منہ پر ڈالا تو یکایک اُن کی بینائی بحال ہو گئی۔ بینائی کی یہ بحالی حضرت یوسف علیہ السلام کا معجزہ تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نبی تھے اور والد بھی‘ اسلئے ان کا مقام بلاشبہ بلند تھا مگر اللہ نے یہ معجزہ اولادِ یعقوب کو دکھلایا تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ یوسف صرف ایک بادشاہ ہے بلکہ یہ بھی جان لیں کہ وہ اللہ کے ہاں بڑی شان کا حامل نبی ورسول بھی ہے۔ اب تو سب بال بچے حیران ہو گئے اور یعقوب علیہ السلام سے معذرت کرنے لگے۔ پھر کہا: ''ہمارے حق میں دعا کیجیے! اللہ ہمیں معاف کر دے‘‘۔ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ ہاں میں تمہارے لیے دعا کروں گا۔
کنعان سے یعقوب علیہ السلام اور ان کی اہلیہ جو زندہ تھیں‘ (یوسف علیہ السلام کی والدہ تو فوت ہو چکی تھیں) اپنے اہل وعیال کے ساتھ مصر روانہ ہوئے۔ مصر آمد پر ان کا شاندار استقبال ہوا۔ وہ دن قومی یوم جشن تھا۔ پوری قوم نے ان مہمانوں کا استقبال کیا۔ سب لوگ یوسف علیہ السلام کے سامنے تعظیماً جھک گئے۔ اس موقع پر انہوں نے فرمایا: ''ابا جان یہ تعبیر ہے میرے خواب کی جو میں نے بہت عرصہ پہلے دیکھا تھا۔ اُس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے جیل خانے سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحرا سے لاکر مجھ سے ملایا۔ حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیٔت پوری کرتا ہے۔ وہ بے شک علیم وحکیم ہے۔ اے میرے رب تُونے مجھے حکمت بخشی اور مجھے خوابوں کی تہہ تک پہنچنے کا ملکہ عطا فرمایا۔ زمین و آسمان بنانے والے توہی زمین وآسمان میں میرا سرپرست ہے۔ میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا‘‘۔ (آیت: 100 تا 101)
یہ پورا واقعہ بیان کرنے کے ساتھ قریش مکہ کو بتایا جا رہا ہے کہ جو تاریخ مصر میں رقم ہوئی تھی وہی اب یہاں لکھی جا رہی ہے۔ آنحضورﷺ شعب ابی طالب میں بھی محصور رہے‘ غارِ ثور میں بھی آپﷺ کو پناہ لینا پڑی۔ قریش مکہ نے آپﷺ کے سرکی قیمت بھی مقرر کی اور گرفتار کرنے کی کوشش بھی کی۔ پھر بار بار مدینے پر حملے اور اسلام کی شمع گل کرنے کیلئے سارے وسائل استعمال کیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عزت اور غلبہ عطا فرمایا۔ مخالفین سرنگوں ہوئے۔ آنحضورﷺ فاتحانہ مکے میں داخل ہوئے‘ جہاں تمام مخالفین سر جھکائے کھڑے تھے۔ آپﷺنے بھی اس روز یہی فرمایا کہ میں تم سے وہی بات کہوں گا جو میرے بھائی یوسف نے اپنے برادران سے کہی تھی یعنی آج کے دن تم سے کوئی مواخذہ نہیں‘ جائو تم سب آزاد ہو۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی دعوت پر یعقوب علیہ السلام کی اولاد کے جو لوگ مصر گئے‘ ان کی تعداد سڑسٹھ بیان کی گئی ہے۔ ان کے استقبال کے وقت حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مصر میں مکمل امن واطمینان کے ساتھ داخل ہو جائو۔ ان لوگوں نے طویل عرصہ یہاں عزت واقتدار سے گزارا۔ بعد میں مقامی قبطی آبادی نے بنی اسرائیل کے اخلاقی زوال کی وجہ سے ان کے خلاف بغاوت کر کے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ان کو غلامی کا طوق پہنا دیا۔ روایات کے مطابق یوسف علیہ السلام کی عمر سترہ سال تھی جب وہ مصر پہنچے۔ چند سال عزیز مصر کے گھر رہے‘ آٹھ نو سال جیل میں گزارے۔ تیس سال کی عمر میں ملک کے فرمانروا ہوئے۔ ایک سو دس سال کی عمر پائی۔ یوں اسّی سال تک مملکتِ مصر پر آپ علیہ السلام کی حکومت قائم رہی۔ یعقوب علیہ السلام کی آمد‘ حضرت یوسف علیہ السلام کی حکومت کے دسویں سال میں ہوئی۔ اس وقت اُن کی عمر ایک سو تیس سال تھی اور وہ اس کے بعد تقریباً سترہ سال حیات رہے۔ یعقوب علیہ السلام کی کل عمر 147 سال بیان کی گئی ہے۔
یوسف علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ ہر لحاظ سے کامل ہے۔ اپنے کردار کی پاکیزگی غلامی کے باوجود قائم رکھنا بڑا کمال ہے۔ جیل میں جس صبرو عزیمت کا مظاہرہ انہوں نے کیا‘ وہ انہی کا خاصہ تھا۔ اہلِ حق جب بھی جیل میں جاتے ہیں تو اس پر سنتِ یوسفی کی اصطلاح ان کیلئے باعثِ اعزاز ہو جاتی ہے۔ عدل و انصاف‘ امن وامان اور انسانوں کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے کا جو نمونہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنے زمانۂ حکومت میں قائم کیا‘ وہ انہیں دنیا کا مثالی حکمران بناتا ہے۔ اتنا اقتدار ہونے کے باوجود نہ کوئی تکبر نہ اپنی قابلیت کا کوئی گھمنڈ۔ عجزو انکسار ان کے حسن کو دوبالا کر دیتا ہے۔ بھائیوں کے ساتھ جو حسنِ سلوک انہوں نے فرمایا وہ اتنا مثالی ہے کہ ان کی عظمت کے سامنے سر جھک جاتا ہے۔ یعقوب علیہ السلام کی آمد کے موقع پر تقریب جشن میں ان کے خطاب کا یہ پہلو کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا‘ ان کی شان مزید نمایاں کر دیتا ہے کہ بھائیوں کو ان کے جرائم پر سرزنش کے بجائے تذکیر اور نصیحت کا پہلو اختیار کیا۔ اس سورہ کے آخر میں اللہ رب العالمین نے آنحضورﷺ کی زبان سے یہ کہلوایا کہ میرا راستہ تو یہ ہے کہ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی علی وجہ البصیرت میرے ساتھ ہیں۔ آخر میں فرمایا: ''یہ قصے محض محفلیں گرمانے کے لیے نہیں‘ عقل وہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت کا سامان ہیں‘‘۔ یہی قرآن کا اسلوب ہے اور اسی نقطۂ نظر سے قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
مضمون کے آخر میں ایک اشکال کا جواب بھی ضروری ہے جوعموماً غیر معتبر اور موضوع روایات کی بنیاد پر بعض شعرا اور قصہ گو محفل آرائوں نے گھڑ لیا ہے۔ یہ لوگ عزیزِ مصر کی بیوی زلیخا کو یوسف علیہ السلام کی بیوی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ صریحاً غلط بات ہے۔ (ختم)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں