"SAC" (space) message & send to 7575

صرف شرح سود افراطِ زر کا علاج نہیں!

اگلے روز سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا جو اب 11.5 فیصد ہو گئی ہے۔ مرکزی بینک مہنگائی سے نمٹنے کیلئے ایک ہی طریقہ استعمال کر رہا ہے اور وہ ہے شرحِ سود۔ بینک اس مفروضہ کی بنیاد پر یہ کام کرتا ہے کہ مہنگائی طلب کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے‘ حالانکہ محض ایسا نہیں ہے۔ قیمتوں میں اضافہ طلب میں اضافہ اور لاگت میں اضافہ‘ ان دونوں عوامل کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور ایران جنگ کی وجہ سے اشیا کی ترسیل میں خلل لاگت میں اضافہ کی دو بڑی مثالیں ہیں لہٰذا معیشت کی ساخت سے متعلق دو مختلف مسائل ایک ہی طریقہ سے حل نہیں ہو سکتے۔ اسی خطہ میں بھارت اور سری لنکا کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ایران جنگ کے دیگر اثرات کا سامنا ہے لیکن ان ممالک نے شرح سود میں اضافہ نہیں کیا۔
طلب تین فریق پیدا کرتے ہیں: گھریلو صارفین‘ کاروباری ادارے اور حکومت۔ ان میں سے ہر ایک فریق کی طلب کیلئے مالی وسائل مختلف طریقوں سے فراہم ہوتے ہیں۔ ایک فریق کے زیادہ اخراجات کسی دوسرے فریق کی بچت کی کوششوں کو بے اثر بنا سکتے ہیں۔ شرح سود میں اضافہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ لوگ قرض کم لیں اور اخراجات میں کمی کریں لیکن سب سے زیادہ قرض تو خود حکومت لیتی ہے اور یہ بدستور بے احتیاطی سے بے تحاشا اخراجات کر رہی ہے جس سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے قرض لیتی ہے جو اس کی آمدن سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کا انتظامی ڈھانچہ بہت بڑا ہے جسے غیر متناسب مراعات اور سہولتوں سے نوازا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور سرکاری اداروں کا کمرشل بینکوں سے لیا گیا قرض اب بینکوں کے ڈپازٹس کے 100 فیصد کے برابر ہو چکا ہے۔ شرحِ سود میں اضافے کا اثر اس لیے بھی مزید کم ہو جاتا ہے کہ حکومتی قرض کی حقیقی لاگت یعنی اس پر شرح سود نسبتاً کم ہے کیونکہ سٹیٹ بینک نے تجارتی بینکوں کے ذریعے 15 ہزار ارب روپے براہِ راست وفاقی حکومت کو فراہم کیے۔ ہوتا یوں ہے کہ کمرشل بینک جو رقوم حکومت کو قرض دیتے ہیں ان پر سود وصول کرتے ہیں اور سٹیٹ بینک بھی ان رقوم پر (کچھ کم شرح سے) سود کماتا ہے جو وہ بینکوں کو دیتا ہے۔ اس قرض پر حاصل ہونے والا سود سٹیٹ بینک کا منافع بنتا ہے‘ جو وہ اپنے مالک یعنی حکومتِ پاکستان کو منتقل کر دیتا ہے۔ اس طرح حکومت کے لیے قرض لینے کی قیمت (شرح سود) عملاً نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں اس کا طرزِ عمل کیوں بدلے گا؟ نجی شعبے کو دیا جانے والا قرض 10500 ارب روپے ہے۔ یہ رقم بینکوں کے ڈپازٹس کے 36 فیصد کے برابر ہے۔ اس کا 10 فیصد سے بھی کم حصہ عام لوگوں کو کنزیومر فنانس (جیسے گاڑی کیلئے قرض) کے طور پر دیا گیا ہے۔ یہی 36 فیصد حصہ ہے جو بلند شرحِ سود سے حقیقی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں سرمایہ کاری اور اخراجات کا پھیلاؤ اس سے متاثر ہوتا ہے۔ سود کی شرح بلند ہونے کے باعث نجی شعبے میں سرمایہ کی طلب کم ہو جاتی ہے اور نتیجتاً مہنگائی کی شرح گھٹتی تو ہے لیکن قدرے تاخیر کے ساتھ۔ اصل بات یہ ہے کہ افراطِ زر میں کمی کا علاج حکومتی اخراجات میں کم کرنے میں ہے نہ کہ زری پالیسی میں۔
بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر سے بھی مسئلہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ گزشتہ مالی سال تقریباً 1300 ارب روپے (46 ارب امریکی ڈالر) سالانہ ترسیلاتِ زر آئیں۔ یہ ترسیلات رسمی اور غیر رسمی‘ دونوں ذرائع سے آئیں جن میں منی چینجرز اور بیرونِ ملک سے آنے والوں کے ذریعے لائی گئی نقد رقوم شامل ہیں۔ یہ رقم مجموعی قومی پیداوار کے 11 فیصد کے برابر ہے۔ یہ ترسیلات اشیا اور خدمات کی مستقل طلب پیدا کرتی رہتی ہیں۔ یہ ایسی طلب ہے جسے شرحِ سود عموماً متاثر نہیں کرتی۔ یہ رقوم وصول کرنے والے زیادہ تر کم آمدنی والے گھرانے ہیں جو اسے عموماً بنیادی ضروریات کیلئے استعمال کرتے ہیں نہ کہ پیداواری سرمایہ کاری کیلئے۔ سٹیٹ بینک کی اپنی رعایتی قرض کی سکیمیں ہیں‘ جیسے طویل مدتی مالی سہولت (ایل ٹی ٹی ایف)‘ برآمدی مالی سہولت (ای ایف ٹی) اور عارضی معاشی بحالی سہولت (ٹی ای آر ایف)‘ جو 2021ء میں متعارف کرائی گئیں اور 2023ء میں یہ سکیمیں اپنے عروج پر تھیں اور ان کے تحت نجی شعبے کے کُل قرض کا 12 فیصد حصہ تھا‘ ان سے نئی رقم مارکیٹ میں آئی اور شرح سود میں اضافے کے اثرات کمزور ہوئے۔
زرعی شعبہ اور غیر رسمی معیشت سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ان شعبوں میں زیر گردش کرنسی تقریباً 12000 ارب روپے ہے۔ یہ رقم مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 10 فیصد اور بینکوں کے ڈپازٹس کا 38 فیصد ہے۔ اس پر بھی شرح سود میں تبدیلی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ معیشت کی ساخت میں ہونی والی تبدیلیوں سے یہ مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ مثلاً خدمات کے شعبہ کو صنعت کے مقابلے میں کم سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ ہماری معیشت میں خدمات کا حصہ بڑھ ہا ہے جس سے معاشی نظام میں مالیاتی پالیسی کو سخت کرنے کے اثرات سست اور کمزور ہو جاتے ہیں۔ اشیا بنانے کی لاگت میں اضافے سے پیدا ہونے والی مہنگائی اور غذا کی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے بھی شرحِ سود میں تبدیلی صحیح طریقہ کار نہیں۔ اس شعبہ میں بنیادی عوامل یہ ہیں: (1) عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ۔ (2) گندم کی قیمت عالمی سطح سے زیادہ ہونا (جو گزشتہ برس افغان تجارتی راہداری کی بندش اور گندم کی منڈی کو بغیر کسی متبادل نظام کے اچانک آزاد کرنے کے فیصلے کے باعث خاصی کم ہو گئی تھی) (3) توانائی اور تیل کے اخراجات کا بڑھنا جس سے کاشتکاری‘ پراسیسنگ اور نقل وحمل کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ (4) فصلوں کی پیداوار کا مسلسل کم رہنا اور (5) ذخیرہ اندوزی اور اجارہ داری۔ لاگت میں اضافہ کے عوامل جو معیشت کے بڑے حصوں کو متاثر کرتے ہیں وہ یہ ہیں: حکومت کی کنٹرول کردہ قیمتوں کا بے لچک ہونا‘ ان میں بجلی‘ گیس‘ پٹرولیم‘ سٹیٹ بینک کی طرف سے درآمد پر صوابدیدی پابندیوں کی وجہ سے سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں اور ان پابندیوں کے ساتھ ساتھ اشیا کی قیمتوں کا اپنی سطح پر قائم رہنا‘ جو درآمدی پابندیوں میں کچھ نرمی کے بعد بھی اپنی سطح پر قائم رہتی ہیں۔ اس سے ناجائز منافع خوری ممکن ہوتی ہے۔ ایک پیچیدہ ٹیکس ڈھانچہ‘ جس کا زیادہ انحصار بلند جی ایس ٹی اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں (ود ہولڈنگ ٹیکس اور پٹرولیم لیوی وغیرہ) پر ہے۔ درآمدی اشیا پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح بہت بلند ہونے کی وجہ سے اور ٹیکسں نظام کے ناقص طریقہ کار اور سست رفتار ہونے کی وجہ سے بھی قیمتوں پر دبائو رہتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام‘ پالیسی میں غیر یقینی اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے بارے میں خدشات کے باعث کاروباری اعتماد میں کمی اور اس کے باعث افراط زر کی توقعات کا مسلسل بلند رہنا۔ بڑے پیمانے پر سمگلنگ اور غیر رسمی تجارت‘ اور ایسی کمزور پالیسیاں جو سمگلنگ کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ کمزور معاشی نظم ونسق جو لاگت میں مزید اضافے کا سبب بنتا ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کا مسلسل کم پیداواری ہونا‘ جس میں تاخیر کا شکار حکومتی منصوبے مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ مزید دو شعبے ایسے ہیں جن میں شرح سود میں تبدیلی سے فرق نہیں پڑتا۔ ایک وہ اشیا جن کے نرخ حکومت مقرر کرتی ہے جیسے تیل‘ گیس‘ بجلی وغیرہ۔ دوسرا‘ کھانے پینے کی اشیا‘ جن کی قیمتوں کا تعلق سپلائی سے ہے۔ہمارا ماضی کا تجربہ یہی ہے کہ ایک مرتبہ قیمتیں بڑھ جائیں تو بعد میں کم نہیں ہوتیں۔
حکومت کی مالی بے اعتدالی بجٹ خساروں کو بڑھاتی ہے‘ اس کے باعث ایسی مالی ضروریات پیدا ہوتی ہیں جو شرحِ سود کو مزید بڑھا دیتی ہیں اور نجی شعبے کو قرض دینے‘ حتیٰ کہ ورکنگ سرمایہ کیلئے بھی گنجائش کم کر دیتی ہیں۔ عملی طور پر بلند شرحِ سود بینکوں اور قرض دینے والوں کی آمدن کا تحفظ کرتی ہے جبکہ عوام افراط زر کی قیمت ادا کرتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں