بجلی کے شعبہ میں ریگولیٹری نگرانی کمزور اور غیرمؤثر ہے۔ نیپرا مؤثر نگرانی کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ بجلی خریداری کے مرکزی ادارے (سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی) نے بعض آئی پی پیز کی جانب سے زائد بلنگ جیسے مسائل سے صرفِ نظر کیا۔ سرکاری شعبے کے بجلی گھر (جینکوز) زیادہ تر پرانے اور اقتصادی طور پر ناکارہ ہیں۔ جینکوز ایسے فرسودہ بجلی گھروں کو چلاتے ہیں جن میں ایندھن بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور جن سے ان کی مقررہ استعداد کے مقابلے میں بہت کم بجلی لے کر استعمال کی جاتی ہے مثلاً جامشورو سے اس کی مجموعی استعداد کے مقابلہ میں صرف 2.7فیصد بجلی حاصل کی جاتی ہے۔ ان اداروں میں ملازمین کی تعداد بھی ضرورت سے زیادہ ہے۔
توانائی کے شعبہ میں اصلاحات کا آغاز حکومت کی ملکیتی جینکوز سے ہونا چاہیے۔ سب سے پرانے کارخانوں کو مرحلہ وار بند کیا جانا چاہیے تاکہ کیپسٹی پیمنٹس میں کمی آئے اور اقتصادی اعتبار سے فائدہ مند کارخانے کام کر سکیں۔ باقی ماندہ کارخانوں کے لیے قرض دینے والے بینکوں کے ساتھ معاہدوں کی شرائط پر دوبارہ بات چیت کی جانی چاہیے۔ خاص طور پر قرض واپسی کے معاہدے کی مدت اور ان کارخانوں کی جانب سے بجلی فروخت کرنے کی کرنسی کے بارے میں۔ اس بارے میں یہ حقیقت مدنظر رہے کہ مقامی وسائل کی قیمت بھی آئی پی پیز غیرملکی کرنسی میں وصول کر رہی ہیں اور جن کمپنیوں نے اپنا سرمایہ لگایا وہ بھی ڈالر میں منافع وصول کررہی ہیں۔ چونکہ سرکاری کارخانوں کو بھی ڈالر میں ادائیگیاں کی جارہی ہیں اور انہیں بجلی کے ٹیرف بڑھا کر صارفین سے وصول کیا جاتا ہے اس لیے نجی آئی پی پیز کے ساتھ مختلف سلوک کی توقع رکھنا دوعملی اور غیرمنطقی ہے۔
پن بجلی گھروں اور ایٹمی توانائی سے چلنے والے بجلی کے پلانٹس کا متعلقہ قرضہ حکومتی کھاتوں میں منتقل کر دینا چاہیے۔ اس قرض کو حکومت کی عمومی آمدن سے ادا کرنا چاہیے نہ کہ اسے بجلی کے ٹیرف پر بوجھ بنا دیا جائے جس سے آئی پی پیز کے درمیان مسابقت کو نقصان پہنچتا ہے۔ 1994ء کی پالیسی کے تحت قائم آئی پی پیز کے معاہدوں میں توسیع کرنا ایک غلطی تھی۔ یہ کارخانے اپنی سرمایہ کاری وصول کر چکے ہیں اور قرض ادا کر چکے ہیں۔ اب ان سے بجلی روپے میں اور صرف مسابقتی نرخوں پر خریدی جانی چاہیے۔ یہی اصول 2002ء کی پالیسی کے زیادہ تر آئی پی پیز پر بھی لاگو ہوتا ہے جن میں اکثریت پاکستانی شہریوں کی ہے۔ 2006ء کی پالیسی کے تحت لگنے والے بجلی گھروں کے قرضے بھی بڑی حد تک ادا ہو چکے ہیں۔ ان سے معاہدوں کی بقیہ مدت کے لیے (ان کی جانب سے کی گئی) سرمایہ کاری پر منافع کے بارے میں نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ اس کارروائی کے بعد معاہدوں کو مسابقتی شرائط پر ازسرِ نو ترتیب دیا جائے۔
چینی آئی پی پیز (2016ء اور 2017ء) کو تقریباً 20فیصد منافع وہ بھی ڈالر میں دینے کی ضمانت دی گئی۔ ان کے ساتھ مختلف حکمت عملی درکار ہو گی کیونکہ وہ معاہدوں میں کسی تبدیلی کی مزاحمت کریں گے۔ دو ممکنہ راستے ہیں: معاہدے کی مدت بڑھا دینا یا ان کی کیپسٹی کے ایک حصے کو آزادانہ طور پر بازار میں فروخت کرنے کی اجازت دینا۔ آئی پی پیز سے بجلی کے واحد خریدار کے نظام پر نظرثانی ہونی چاہیے۔ اس وقت سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی بجلی کی واحد خریدار ہے۔ آئی پی پیز کو نجی خریداروں کو براہِ راست بجلی فروخت کرنے کی اجازت ہونی چاہیے بشرطیکہ وہ شفاف انداز میں بجلی کی ٹرانسمیشن اور نیٹ ورک استعمال کرنے کا معاوضہ ادا کریں۔
چینی سرمایہ کاروں کے لگائے ہوئے کوئلے کے کارخانوں (ساہیوال‘ پورٹ قاسم‘ حب) کو تھر کے کوئلے پر منتقل کرنے سے لاگت میں تیس سے پینتیس فیصد کمی ہو سکتی ہے‘ لیکن اس کے لیے کان کنی کی صلاحیت میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی اور کم درجے کے مقامی کوئلے کے مطابق کارخانوں کی مشینری میں تبدیلی کرنا ہوگی اور کوئلہ کی ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہو گی۔ موجودہ حالات میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ چینی سرمایہ کار اس کے لیے تیار ہوں گے۔ سندھ حکومت کا تھر کے کوئلے کو گیس میں تبدیل کرنے کا منصوبہ مالی طور پر قابلِ عمل نہیں لگتا کیونکہ اس کی ٹیکنالوجی قابلِ اعتماد نہیں ہے اور ابتدائی سرمایہ کاری کی لاگت بہت زیادہ ہے‘ اس لیے اس معاملہ پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
بجلی کے بلوں پر ٹیکس بھی کم کیے جانے چاہئیں۔ اس غرض سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے جی ایس ٹی کے علاوہ دیگر ٹیکسوں کو ختم کرنے کے لیے بات چیت کی جائے کیونکہ جی ایس ٹی میں کمی قبول کیے جانے کا امکان کم ہے لیکن دیگر محصولات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ صارفین کو بجلی فراہم کرنے کی خدمات میں کئی دیگر اصلاحات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ان میں مندرجہ ذیل اقدامات شامل ہیں: (الف) بجلی کے ٹیرف (نرخوں) کے ڈھانچے کو سادہ بنایا جائے۔ یہ ٹیرف اس وقت ہر صارف طبقہ کے لیے متعدد درجوں اور مختلف کراس سبسڈیوں سے بھرا ہوا ہے۔ (ب) بجلی کی قیمت کو پلانٹ کی مجموعی لاگت کے بجائے مارجنل لاگت (یعنی صرف پلانٹ چلانے کی لاگت) کی بنیاد پر مقرر کیا جائے تاکہ اس کی طلب بڑھے اور کیپسٹی پیمنٹ دینا آسان ہو۔ بجلی گھر کی مارجنل لاگت مجموعی لاگت کی نسبت کم ہوتی ہے۔ اس بات کا انحصار بہت حد تک ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن کے نظام کی صلاحیت بڑھانے پر بھی ہو گا۔ (ج) ڈسکوز کا مینجمنٹ نجی شعبہ کو سونپا جائے اور پیشگی ادائیگی والے سمارٹ میٹر نصب کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ (د) سرکاری شعبے کے نادہندگان کو اپنے واجبات ادا کرنے پر مجبور کیا جائے یا ان کی بجلی کاٹ دی جائے۔ (ہ) اس وقت فیڈر کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے اس کے بجائے ٹرانسفارمر کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ کا نظام اختیار کیا جائے۔
ایک اہم چیلنج ریگولیٹری معیار اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی سے متعلق ہے کیونکہ اس شعبے میں متعدد ادارے کام کر رہے ہیں اور اختیارات کی تقسیم غیر واضح ہے۔ اسے بہتر بنانا اس لیے ضروری ہے تاکہ عوامی مفاد کا تحفظ ہو اور خدمات کی فراہمی میں روانی برقرار رہے۔ یہ نظام بہت زیادہ سیاسی اثر و رسوخ کا شکار ہے۔ یہاں حکومتی مداخلت ہے اور اہم ملازمتیں ایسے ریٹائر ہونے والے بااثر یا وفادار بیوروکریٹس کو دی جاتی ہیں جن میں سے اکثر کے پاس محدود تکنیکی صلاحیت ہوتی ہے اور وہ مارکیٹ کی حرکیات کو نہیں سمجھتے۔ یہاں تک کہ جب کسی ادارہ جیسے نیپرا کو بظاہر خود مختار بنایا جاتا ہے تو قانون میں دیے گئے اختیارات بھی انتظامیہ واپس لے لیتی ہے کیونکہ ہماری سیاسی قیادت کو اداروں کی خود مختاری پسند نہیں۔ اس وجہ سے وہ ادارہ غیر مؤثر ہو جاتا ہے اور محض وزارتِ توانائی کے ماتحت ایجنسی کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کی حیثیت اکثر محض مہر لگانے والے ادارہ کی رہ جاتی ہے۔
چونکہ بجلی آئین کے تحت مشترکہ موضوع ہے اس لیے ضروری ہے کہ وفاق اور صوبے ایسے ادارہ جاتی انتظامات پر اتفاقِ رائے قائم کریں جس میں ریگولیٹری اختیارات میں درجنوں اداروں کے ایک جیسے اختیارات اور ایک دوسرے کے معاملات میں عمل دخل کو ختم کیا جائے تاکہ اختیارات کے ٹکراؤ اور ریگولیٹری تنازعات سے بچا جا سکے۔ اگر یہ اصلاحات نافذ کر دی جائیں تو تین سے پانچ سال کے اندر بجلی کا شعبہ قابلِ تجدید توانائی (جیسے سولر) میں تیز رفتار پیش رفت سے مکمل فائدہ اٹھا سکتا ہے اور معیشت کی دیگر ملکوں کی معیشت سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو بحال کیا جا سکتا ہے۔