میر نے کہا تھا:
مصائب اور تھے پر دل کا جانا
عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے
یہاں بھی آج کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ مسائل بہت سے ہیں اور گمبھیر!! ایک سے ایک بڑھ کر! پٹرول مہنگا ہو گیا۔ پڑوسی احسان کا بدلہ دہشت گردی کی صورت میں دے رہے ہیں۔ سولر کا معاملہ حکومت نے ایسا الجھایا ہے کہ ڈور کا سرا نہیں مل رہا۔ چلچلاتی دھوپ کا موسم آنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ یہ سارے مسائل اپنی جگہ مگر دوستِ دیرینہ خالد مسعود خان نے جو نقطۂ اعتراض اٹھایا ہے اس کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں!!
خالد مسعود خان میں دو خصوصیات ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ دوست ہے! اور دوست بھی ایسا کہ نعمتِ خداوندی سے کم نہیں!! برامکہ کا جن دنوں عباسی سلطنت میں طوطی بول رہا تھا‘ شاعر ان کے گُن گاتے تھے۔ یاد نہیں خالد برمکی تھا یا یحییٰ برمکی‘ ایک شاعر نے اس کے بارے میں کہا کہ احسان کر کے بھول جاتا ہے مگر وعدہ کر کے نہیں بھولتا۔ خالد مسعود بھی اس لحاظ سے برمکی ہی ہے۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت‘ دنیا کے کسی بھی حصے میں پایا جا سکتا ہے! اس لیے اسے فون کرنے کے بعد سب سے پہلے یہ پوچھنا پڑتا ہے کہ حضور کرۂ ارض کے کس گوشے میں ہیں؟ اس کے پاس پرانے زمانے کا کوئی طلسمی اڑن کھٹولا ہے یا اُڑنے والا قالین! ملکوں کی سرحدیں ہیں یا براعظموں کی حدود‘ اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ میں میلبورن میں تھا کہ اس کا فون آیا۔ پوچھا: کہاں ہیں! بہت آرام سے‘ دھیرے سے بولا ''یہیں میلبورن میں‘‘! اطلاعِ عام کرتا تو مشتاقان کا ہجوم اس کے اردگرد ہوتا مگر صرف مجھ سے ملاقات کی۔ میرے بچوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ خالد مسعود انکل چائے نہیں پیتے‘ کافی پیتے ہیں اور یہ کہ بلیوں کو پسند کرتے ہیں۔
یہ سب تو تمہید تھی۔ مسئلہ اُس نقطۂ اعتراض کا ہے جو اس نے اٹھایا ہے۔ تکنیکی طور پر اسے نقطۂ اعتراض بھی نہیں کہا جا سکتا۔ مختلف رائے کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ ایک گزشتہ کالم میں مَیں نے لکھا کہ جب صدر ٹرمپ کی اسلام آباد آمد کی خبر گرم تھی تو میں نے اور میرے گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ امریکی صدر کی دعوت کریں گے اور انہیں اپنے علاقے کی خاص سوغات ''مکھڈی حلوہ‘‘ کھلائیں گے۔ اسی حوالے سے میں نے یہ بھی لکھا کہ یوں تو ضلع اٹک‘ میانوالی اور تلہ گنگ میں ہر جگہ یہ حلوہ غذائے خاص ہے مگر پنڈی گھیب کے حلوے کا جواب نہیں۔ اس سلسلے میں کچھ مثالیں بھی دیں کہ جس طرح پلاؤ کا گڑھ بخارا‘ سمرقند اور تاشقند ہیں اور جس طرح نہاری کا گڑھ دلّی ہے اور جس طرح رس گلے کیلئے ڈھاکہ کی نواحی بستی گھوڑا سال معروف ہے اور جس طرح میٹھے دہی کیلئے بوگرا (بنگلہ دیش) مشہور ہے اور جس طرح مشہور ترکی پکوان ''اسکندر کباب‘‘ کیلئے بورصہ کا شہر جانا پہچانا ہے اسی طرح بہترین مکھڈی حلوے کیلئے پنڈی گھیب مشہور ہے۔ اس پر خالد مسعود خان کا فون آیا۔ پہلے اس نے بڑے طریقے سے پوچھا کہ ''تمہاری تحقیق سے اختلاف کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں! کیونکہ اختلاف امت کیلئے باعثِ رحمت ہے۔ یوں زمین تیار کرنے کے بعد اس نے کہا کہ اس کے نزدیک بہترین مکھڈی حلوہ کالا باغ (یعنی میانوالی) کا ہے۔ ظاہر ہے کہ پورے کرۂ ارض کو اپنی جولانگاہ بنانے اور سمجھنے والے خالد مسعود سے کالا باغ کیسے بچ سکتا ہے! میں نے اس کے جواب میں کہا کہ ہم اٹک اور میانوالی کے لوگ باہر کے کسی شخص کو یہ اختیار دینے کیلئے تیار ہی نہیں کہ وہ مکھڈی حلوے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے۔ بھلا ہو اس کا کہ اس نے اس پر کوئی بحث نہیں کی۔ تاہم بعد میں مَیں نے سوچا کہ مسئلہ تو میرے یار نے بہت اہم اٹھایا ہے۔ اور اس کی شرافت کہ جب میں نے ڈینگ ماری کہ ہم اٹک اور میانوالی کے لوگ باہر کے کسی شخص کو یہ اختیار دینے کیلئے تیار ہی نہیں کہ وہ مکھڈی حلوے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے تو اس نے اس آمرانہ بَڑ کی تردید نہیں کی اور ایک طرف ہو گیا۔
اصل بات یہ ہے کہ اس حلوے کے ضمن میں اٹک اور میانوالی ایک دوسرے کے ساتھ کچھ اس طرح پیوست ہیں کہ انہیں الگ کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ (یہاں یہ وضاحت لازم ہے کہ جب ہم ثقافتی حوالے سے اٹک کا ذکر کرتے ہیں تو اس میں تلہ گنگ بھی شامل ہوتا ہے)۔ اس حلوے کے دو نام ہیں۔ مکھڈی حلوہ اور باغیا حلوہ۔ مکھڈ‘ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں‘ ضلع اٹک میں ہے۔ یہ ایک قدیم تاریخی قصبہ ہے جو قبلِ مسیح سے آباد ہے۔ اس کی قدیم عمارتیں اور گلی کوچے قابلِ دید ہیں۔ پراچہ قبیلے کے بہت سے خاندانوں کی اصل مکھڈ ہی سے ہے۔ باغیا‘ اس حلوے کو کالا باغ کی نسبت سے کہا جاتا ہے۔ مکھڈ اور کالا باغ میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر آباد ہیں۔ چونکہ دریائے سندھ کے کنارے آباد شہر کشتیوں کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط تھے اور تجارت دریا کے آر پار اور شمالاً جنوباً کشتیوں کے ذریعے ہوتی تھی اس لیے مکھڈ اور کالا باغ دونوں کا مکھڈی حلوے کا مرکز ہونا قابلِ فہم ہے۔ اسی طرح مکھڈ کے شمال میں ایک قصبہ ملاحی ٹولہ بھی ہے جو اٹک کے قلعے کے پاس ہے۔ ملاحی ٹولہ سے تجارتی قافلے براہِ راست بخارا اور وسط ایشیا کے دیگر شہروں کو جاتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود ضلع اٹک میں‘ مکھڈی حلوے کو باغیا بھی کہا جاتا ہے۔ گاؤں میں ایک نانی بیگاں دن ہمارے گھر میں گزارتی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ گاؤں میں ایک شادی تھی اور نانی بیگاں میری دادی جان کو بتا رہی تھیں کہ ''لڑکے والوں نے باغیا پکایا ہے‘‘۔ تب یہ بات بہت اہم ہوتی تھی کہ شادی والے گھر میں حلوہ ''کھنڈ‘‘ (چینی) میں پکایا گیا ہے یا گُڑ میں۔ کھانڈ اونچے سٹیٹس کی علامت تھی اور گُڑ نچلی حیثیت کی! باغیا اور مکھڈی دونوں نام متبادل کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی اصل میں دونوں ایک ہیں۔
جو تم ہو برقِ نشیمن تو میں نشیمنِ برق
الجھ پڑے ہیں ہمارے نصیب! کیا کہنا
خالد مسعود خان نے کالا باغ کا حلوہ کھایا ہے۔ پنڈی گھیب کا غالباً نہیں کھایا۔ بجا کہ اتنی مہربانی ضرور کرتے ہیں کہ تھوڑی دیر کیلئے بھی اسلام آباد آئیں تو شرفِ ملاقات ضرور بخشتے ہیں مگر سوار ہوا کے گھوڑے پر ہوتے ہیں۔ اتنی مہلت نہیں دیتے کہ مکھڈی حلوہ پکایا جائے۔ دوسری طرف عزیز گرامی رؤف کلاسرا نے فرمائش کی ہے کہ ٹرمپ تو مکھڈی حلوہ کھانے آیا نہیں‘ انہیں تو کھلا دیا جائے۔خالد مسعود اور کلاسرا دونوں ملتانی ہیں۔ ملتان کے بارے میں جس نے بھی کہا کہ ملتان چار چیزوں کیلئے مشہور ہے ''گرد و گرما‘ گدا و گورستان‘‘ غلط کہا۔ ملتان کے تحفوں میں آم بھی ہے‘ کھجور بھی اور حافظ حلوہ بھی۔ ملتان اس لیے بھی عزیز ہے کہ خالد مسعود اور کلاسرا کا تعلق ملتان سے ہے۔ ہمارے پرانے دوست پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد بھی ملتان سے ہیں اور اصغر ندیم سید بھی! جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ مرحوم دوست سید ذوالکفل (سید عطا اللہ شاہ بخاری کے نواسے) بھی ملتان سے تھے۔ واپس مکھڈی حلوے کے طرف چلتے ہیں۔ کالا باغ کا ہو یا مکھڈ کا‘ بقول سردار رئیسانی‘ حلوہ حلوہ ہوتا ہے۔ ایک صاحب کا دعویٰ تھا کہ سات اقسام کا حلوہ پکا سکتے ہیں۔ دوستوں نے فرمائش کی کہ پکائیے اور کھلائیے۔ سوئِ اتفاق سے حلوہ خراب ہو گیا۔ کہنے لگے: یہ اُنہی سات اقسام میں سے ایک ہے!!