کاروکاری ’’ناقابلِ قبول‘‘ ہے!!

''صوبے میں کاروکاری کے واقعات قابلِ قبول نہیں۔ سندھ امن وسلامتی کی دھرتی ہے۔ کسی بھی بیٹی کو کاروکاری میں مارنا ناقابلِ قبول ہے۔ واقعے میں ملوث تمام افراد کو سزائیں دی جائیں گی۔ کسی کو بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف جرگے نہیں کرنے دیں گے۔ اس قسم کے واقعات کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں‘‘۔
یہ بے ضرر اور معصوم بیان سندھ کے ایک وزیر صاحب کا ہے۔ سر دھننے کو جی چاہتا ہے۔ ''کسی طور قابلِ قبول نہیں‘‘ سب سے زیادہ پامال شدہ‘ مضحکہ خیز‘ مہمل اور لاحاصل الفاظ ہیں‘ جن کی قدر وقیمت صفر سے بھی کم ہے۔ دہشت گردی کا واقعہ پیش آئے تو کہا جاتا ہے ''یہ ناقابلِ قبول ہے‘‘۔ اغوا کا جرم سرزد ہو تو وہ ناقابلِ قبول قرار دیا جاتا ہے۔ ان صاحبان سے کوئی پوچھے کہ اس ناقابلِ قبول ہونے کا مطلب کیا ہے؟ کیا جرم کرنے والے نے آپ سے استفسار فرمایا ہے کہ حضور! میں جرم کرنے لگا ہوں‘ فرمائیے کیا آپ کو قبول ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ مجرم کو بتائیے کہ یہ ناقابلِ قبول ہے۔ مگر مجرم تو آپ سے نہ صرف پوچھتا نہیں بلکہ آپ کو پرِکاہ اہمیت بھی نہیں دیتا۔ پھر یہ رٹے رٹائے‘ فضول الفاظ ادا کر کے آپ لوگوں کو ہنسنے کا موقع کیوں دیتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے کاروکاری کے خلاف کوئی قانون سازی کی ہے؟ کیا آپ نے جرگے بٹھانے کے خلاف قانون سازی کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ تمام ملوث افراد کو سزائیں دی جائیں گی۔ کیا آپ کوئی ایک مثال بھی ایسی دے سکتے ہیں کہ کاروکاری میں ملوث افراد کو عبرتناک سزا دی گئی ہو؟ سچ یہ ہے کہ اس قسم کے بیانات کی کوئی وقعت نہیں۔ یہ ایک ڈرل ہے جو ایسے مواقع پر میڈیا کا پیٹ بھرنے کیلئے کی جاتی ہے۔ خود بیانات داغنے والے حکمرانوں‘ سیاستدانوں اور افسروں کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض کارروائی ڈال رہے ہیں!!
ہم نے ایٹم بم بنا لیا۔ بھارت کو نیچا دکھا دیا۔ بین الاقوامی سفارتکاری میں دھوم مچا دی! مگر ملک میں بنتِ حوّا کی مظلومیت کا کوئی علاج نہیں کیا۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ یہاں ''میرا جسم میری مرضی‘‘ قسم کے غیر سنجیدہ اقوال کی بات نہیں ہو رہی۔ یہاں اُن نام نہاد ڈرامہ نگاروں اور اُتھلے اور سطحی ''دانشوروں‘‘ کی بات بھی نہیں ہو رہی جو میڈیا میں اِن رہنے کی خاطر عورتوں کی ہتک کرتے ہیں اور مذاق اڑا کر اپنی ہی صورت کو بگاڑ لیتے ہیں۔ یہاں اُن حقیقی مسائل کی بات ہو رہی ہے جو مملکتِ خداداد میں خواتین کو درپیش ہیں! پہلا اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خواتین جو لڑکیوں کو جنم دیتی ہیں‘ بدسلوکی کا شکار ہیں۔ معاف کیجیے یہ لعنت صرف اَن پڑھ خاندانوں ہی میں نہیں پائی جاتی‘ بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی اس ذہنی کینسر کا شکار ہیں۔ ایسی بیسیوں مثالیں موجود ہیں جن میں تعلیم یافتہ شہریوں نے بچی پیدا ہونے پر بچی کی ماں کو طعنے دیے‘ بدسلوکی کی یہاں تک کہ طلاق کی نوبت آ گئی۔ وزیر صاحب کی خدمت میں بصد احترام عرض ہے کہ اگر واقعی آپ اس ضمن میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ایسی قانون سازی کیجیے کہ بچی کی پیدائش پر ماں کو طعنہ دینا‘ ذہنی اذیت پہنچانا‘ زد وکوب کرنا اور طلاق دینا یا طلاق کی دھمکی دینا سنگین جرم قرار دیا جائے اور ایسا کرنے والے کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ یہ مائیں بھی ہیں جو بیٹوں کی پسلیوں میں مسلسل کچوکے دیتی ہیں کہ تمہاری بیوی لڑکیاں جنم دے رہی ہے‘ اسے طلاق دو اور کسی دوسری عورت سے شادی کرو۔ ایسی احمق عورتوں سے کوئی جج‘ کوئی مجسٹریٹ پوچھے کہ تم خود عورت ہو‘ اگر عورت ہونا اتنا ہی شرمناک ہے تو پہلے تم خود اپنے مرنے کا بند و بست کرو‘ اور یہ کہ تمہاری ماں نے تمہیں جنم ہی کیوں دیا تھا۔ اس سے یہ ضمانت بھی لی جائے کہ دوسری شادی سے یقینا لڑکا پیدا ہو گا ورنہ اسے جیل کی سزا ہو گی۔ بظاہر یہ باتیں عجیب لگیں گی مگر ان خواتین سے پوچھئے جنہیں لڑکی پیدا کرنے پر ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان مظلوم خواتین کے ماں باپ جس اذیت سے گزرتے ہیں‘ وہ ناقابلِ بیان ہے۔
دوسرا مسئلہ ہے لڑکیوں اور خواتین کی شادی ان کی مرضی کے بغیر کرنا۔ اس مسئلے کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ جو زیادہ مکروہ اور گھناؤنا ہے‘ پنچایتوں اور جرگوں کے جاہلانہ فیصلے ہیں۔ باپ یا بھائی کے جرم کی سزا کم سن بچی کو دی جاتی ہے اور اس کا نکاح زبردستی کسی بُڈھے سے کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ناقص علم کی رو سے ان پنچایتوں اور جرگوں کو تاحال غیر قانونی قرار نہیں دیا گیا نہ نکاح خوان کی سزا مقرر ہے نہ شادی کا حکم دینے والے جہلا کی!! آخر یہ متوازی عدالتیں کیوں چل رہی ہیں؟ یہ صرف سندھ کا مسئلہ نہیں‘ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اعلیٰ عدلیہ اس صورتحال کو جڑ سے کیوں نہیں اکھاڑ پھینک رہی؟ اس مسئلے کا دوسرا حصہ عمومی ہے؛ یعنی لڑکیوں کی شادی اکثر وبیشتر ان کی مرضی کے بغیر کر دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔ کچھ اَن پڑھ‘ اجڈ ماں باپ اور کچھ پڑھے لکھے جاہل ماں باپ بیٹی کو زبردستی کسی ایسے مرد کے ساتھ باندھ دیتے ہیں جسے وہ بالکل نہیں پسند کرتی۔ اس کا نتیجہ خوفناک ہوتا ہے۔ یا تو وہ گھل گھل کر‘ بیمار ہو کر مر جاتی ہے یا کوئی انتہاپسندانہ قدم اٹھا لیتی ہے۔ آخر ایک بیٹی سے یہ پوچھنے میں کیا حرج ہے کہ ''بیٹی! کیا تمہاری کوئی پسند ہے؟؟‘‘ مذہب نے بھی تو اسے یہ حق دیا ہوا ہے۔ اگر اس کی پسند ماں باپ کو بھی راس آتی ہے تو یہ بہترین صورتحال ہے۔ اگر ماں باپ سمجھتے ہیں کہ بیٹی کی پسند مناسب نہیں تو اس سے مکالمہ کریں۔ اسے نرمی سے‘ دوستانہ انداز میں سمجھائیں‘ اس کا مؤقف سنیں اور اسےFuturistic نقطۂ نظر سے قائل کریں۔ ڈنڈا‘ گالی‘ دھمکی‘ تشدد‘ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
تیسرا مسئلہ نام نہاد غیرت ہے جس نے کتنے ہی نوجوان جوڑوں کی زندگیاں ختم کر دی ہیں۔ کاروکاری اسی مسئلے کا شاخسانہ ہے۔ دمِ تحریر یاد نہیں آ رہا کہ اس ضمن میں قانون سازی ہوئی ہے یا نہیں‘ بہر طور یہ طے ہے کہ اس سلسلے میں کسی مجرم کو آج تک عبرتناک سزا نہیں دی گئی۔ چوتھا مسئلہ بیٹیوں اور بہنوں کی جائداد سے محرومی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ یہ جرم صرف زمینداروں اور وڈیروں کی دنیا میں سرزد ہوتا ہے مگر شہروں میں بھی یہ برائی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کیا قبائیں اور عمامے اور کیا تھری پیس سوٹ‘ سب اس گناہ میں ملوث ہیں۔ خود مائیں‘ بیٹیوں کو جائداد سے محروم کرنے میں مردوں سے آگے ہیں۔ جائداد میں اپنا حصہ مانگنے والی بیٹی یا بہن کو ڈائن کا خطاب دیا جاتا ہے۔ یہ لولی لنگڑی دلیل بھی دی جاتی ہے کہ بیٹی کو جہیز جو دے دیا تھا اور اس کی شادی پر جو اتنا روپیہ لگا دیا تھا۔ کوئی پوچھے کہ بَری پر کچھ نہیں خرچ ہوا تھا؟ اور ولیمہ کیا مفت میں ہو گیا تھا؟ آپ نہ دیتے جہیز! قانون نے جو حصہ بیٹی یا بہن کا مقرر کیا ہے وہ نہ دینا جرم ہے اور اس جرم کی سزا عبرتناک ہونی چاہیے۔ ہماری حکومتیں اپنی پبلسٹی پر اربوں روپے خرچ کرتی ہیں۔ میڈیا پر یہ کیوں نہیں بتایا جاتا اور تسلسل کے ساتھ کیوں نہیں تشہیر کی جاتی کہ جائداد میں عورت کو حصہ دو۔ اس کی مرضی کے خلاف اس کی شادی نہ کرو اور بیٹی کی پیدائش پر دورِ جاہلیت کا رویہ روا نہ رکھو۔ حالی نے کہا تھا ''اے ماؤ! بہنوں! بیٹیو! دنیا کی عزت تم سے ہے!‘‘۔ سوال یہ کہ ماؤں‘ بہنوں‘ بیٹیوں کی اپنی عزت کہاں ہے؟؟؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں