ایک خصوصی کمیٹی عوام کے لیے بھی!!

سب کی ایک ہی منزل تھی۔ اسلام آباد!!
سب اسلام آباد جا رہے تھے۔ ٹرینوں پر‘ بسوں پر‘ اپنی گاڑیوں پر۔ لاکھوں پیدل ہی چل پڑے تھے۔ ٹرک‘ بسیں‘ ویگنیں‘ سوزوکیاں سب کا رخ اسلام آباد کی طرف تھا۔ یہاں تک کہ ٹریکٹر وں‘ ٹرالیوں اور ڈمپروں کا بھی!! ملک کے ہر صوبے سے‘ ہر شہر سے‘ ہر قصبے سے لوگ گھروں سے نکلے تھے اور اسلام آباد کی طرف چل پڑے تھے۔ کوئٹہ سے‘ خضدار سے‘ تربت سے‘ دادو سے‘ شکارپور سے‘ مانسہرہ سے‘ جہلم سے‘ ملتان سے‘ چترال سے! ان کی زبانیں مختلف تھیں‘ رنگ الگ الگ تھے۔ ان میں مسلمان بھی تھے‘ ہندو اور سکھ بھی‘ مسیحی بھی! نیک بھی بد بھی! سرکاری ملازم بھی‘ تاجر بھی‘ مزدور بھی‘ کسان بھی! ایک جمِّ غفیر تھا جو سیلِ رواں کی صورت اسلام آباد کی طرف رواں تھا۔
اسلام آباد پہنچ کر یہ کروڑوں پاکستانی شہر کے مشرقی کنارے کی طرف چل پڑے۔ آبپارہ کے سامنے سے ہوتے ہوئے‘ اسلام آباد کلب کے شمال سے گزرتے‘ کنونشن سنٹر کے پاس سے ہوتے یہ خلقت ایک بہت بلند عمارت کے سامنے رک گئی۔ یہ ایک پُرشکوہ عمارت تھی۔ آسمان سے باتیں کرتی ہوئی! دو عظیم الشان پلازہ نما فلک بوس عمارتوں کا مجموعہ! جمِّ غفیر نے‘ قیامت کی یاد دلاتے جمِ غفیر نے اس عمارت کے سامنے ڈیرے ڈال دیے۔ چند گھنٹوں میں لاکھوں خیمے وجود میں آ گئے۔ جن کے پاس خیمے نہ تھے‘ وہ اپنی گاڑیوں میں مقیم ہو گئے۔ جن کے پاس خیمے تھے نہ گاڑیاں انہوں نے فرشِ زمین پر قالینیں‘ چادریں‘ دریاں‘ بوریے‘ چٹائیاں بچھا لیں! سامان سے چولہے نکال لیے گئے۔ روٹیاں پکنے لگیں۔ پھل‘ چاٹ‘ سموسے بیچنے والی ریڑھیاں آ گئیں۔ رات کو پاکستان کی اس آدھی آبادی کا جلسہ عام ہوا۔ چار افراد کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ان میں ایک سرکاری ملازم تھا۔ ایک تاجر تھا۔ ایک زمیندار تھا اور ایک فیکٹری والا تھا۔ طے ہوا کہ یہ کمیٹی ہجوم کی نمائندگی کرے گی اور معاملات طے کرے گی۔ اس کمیٹی کا نام ''عوامی کمیٹی‘‘ رکھا گیا۔ تاجر کو عوامی کمیٹی کا صدر بنایا گیا۔
عالیشان‘ فلک بوس عمارت میں رہنے والے لوگ‘ بڑے لوگ تھے۔ یہ سوسائٹی کے آسودہ حال حصے کی کریم تھے۔ یہ پچیس کروڑ میں سے اُس ایک فیصد سے کم کی نمائندگی کرتے تھے جو طاقت کا منبع تھا‘ جو سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے کا اختیار رکھتا تھا۔ جس کے اشارۂ ابرو سے صرف حکومت ہی نہیں‘ پورا نظام لرزنے لگتا تھا۔ جو پون صدی سے ملک کا اصل مالک تھا۔ عمارت کے ان مکینوں نے جب دیکھا کہ لاکھوں کروڑوں لوگ عمارت کے ارد گرد‘ حدِ نگاہ تک‘ شہر کے شہر بسا کر بیٹھ گئے ہیں تو حیران ہو گئے اور خوفزدہ بھی۔ طرح طرح کے وسوسوں نے انہیں گھیر لیا۔ سب اکٹھے ہو گئے اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ آخر یہ لاکھوں‘ کروڑوں عوام یہاں کیوں خیمہ زن ہو گئے ہیں۔ انہیں اپنی حفاظت کی فکر لاحق ہونے لگی۔ یہ فوج بھی طلب کر سکتے تھے اور پولیس بھی! مگر ان میں سے کچھ نے رائے دی کہ پہلے محاصرہ کرنے والے ہجوم سے پوچھا جائے کہ چاہتے کیا ہیں اور یہاں کس مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ اس رائے کی سب نے تائید کی۔ ان طاقتور مکینوں کے حکم کی دیر تھی کہ عمارت کے بالائی حصے پر ایک بہت بڑا‘ دیو آسا‘ بینر لگ گیا جس پر لکھا تھا ''آپ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ آپ کا کوئی نمائندہ ہے تو اس نمبر پر کال کرے‘‘۔ عوامی کمیٹی کے صدر نے کال کی اور عاجزی اور انکساری سے کہا کہ ''عالی جاہ! ہم کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔ اجازت دیں تو ہم چار افراد‘ جو قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں‘‘۔ یہ فدویانہ عرض سن کر اونچی عمارت کے مکینوں نے آرام کا سانس لیا۔ ان کے وسوسے دور ہو گئے۔ وہ اپنے اصلی موڈ میں واپس آ گئے۔ گردن بلندی کا موڈ! بے پناہ طاقت کا موڈ! آپس میں مشورہ کر کے انہوں نے عوامی کمیٹی کے صدر کو دوسرے دن صبح دس بجے کا وقت دیا۔
دوسرے دن وقتِ مقررہ پر عوامی کمیٹی کے چاروں ارکان حاضر ہو گئے۔ فلک بوس عمارت کے اندر کی شان وشوکت اور طمطراق دیکھ کر ان پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ ان کی مرعوبیت میں اضافہ ہو گیا۔ ایک بڑے ہال میں انہیں بٹھایا گیا۔ طویل انتظار کے بعد عمارت کے مکین آئے۔ یہ پندر بیس افراد تھے۔ گردن بلند! کچھ تھری پیس سوٹوں میں ملبوس! کچھ کاٹن کی کلف زدہ‘ کھڑکھڑ اتی شلوار قمیضوں پر ریشمی واسکٹیں پہنے! آگے پیچھے دستار پوش چوبدار! ان میں جو معمر ترین شخص تھا اس نے عوامی کمیٹی کے ارکان سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ اتنی خلقت کو کیوں لائے ہیں؟ عوامی کمیٹی کے صدر نے نہایت ادب سے کہا کہ بندہ پرور!! قوم آپ کے دروازے پر‘ خدا نخواستہ کسی بُری نیت سے نہیں آئی ہے! یہ تو آپ سے ایک مسئلے کے ضمن میں مدد چاہتی ہے! آپ سفارش کریں تو حکومت مان جائے گی۔ اس پر اونچی عمارت میں رہنے والے صاحب نے پوچھا ''آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ حکومت اس عمارت کے مکینوں کی سفارش مان لے گی؟‘‘۔ عوامی کمیٹی کے صدر نے جواب دیا کہ جناب! یہ بات کسی قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ حکومت آپ کی بات کو نظر انداز نہیں کر سکتی! دیکھیے! اسی اسلام آباد کے علاقے بری امام اور اس کے نواح میں سینکڑوں غریب افراد کے مکان اس بنیاد پر گرائے گئے کہ یہ مکان غیر قانونی تھے۔ سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو راتوں رات بے گھر کر دیا گیا۔ عرب نیوز نے ایک عورت کے بارے میں خبر دی کہ جب اس کا گھر گرانے لگے تو وہ بے ہوش ہو گئی اور ابھی تک موت وحیات کی کشمکش میں ہے۔ ایسے سینکڑوں واقعات پیش آئے۔ نورپور شاہاں میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔ سینکڑوں مفلوک الحال خاندان بے گھر ہو گئے۔ میڈیا نے آہ و فغاں کی۔ سول سوسائٹی نے دہائی دی۔ رائے عامہ نے فتویٰ دیا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ حکومت نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ وزیراعظم نے اُس وقت کوئی ''اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی‘‘ بنائی نہ سی ڈی اے کو اس تاخت وتاراج سے روکا۔ پھر کراچی کے نسلہ ٹاور کا بکھیڑا بھی آپ کو یاد ہو گا۔ عدلیہ نے فیصلہ دیا تو اس پر من وعن عمل ہوا۔ مڈل کلاس کا معاملہ تھا‘ اس لیے حکومت نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ کوئی کمیٹی بنی نہ کسی نے انہدام کے عمل کو روکا۔ آج تک متاثرین کو زرِ تلافی نہیں ملا۔ مگر عالی جاہ! آپ حضرات‘ یعنی ون کانسٹیٹیوشن ایوینیو کے مکین اس قدر بے پناہ‘ ناقابلِ بیان‘ ناقابلِ یقین اثر ورسوخ کے مالک ہیں کہ جب سی ڈی اے نے کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد شروع کیا تو اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ آ گیا۔ ایکشن کو برق رفتاری سے روکا گیا۔ اعلیٰ سطح کی کمیٹی بن گئی۔ کمیٹی جو فیصلہ کرے گی‘ جناب عالی! آپ کو بھی معلوم ہے اور قوم کو بھی! آپ کی اسی بے پناہ طاقت کو دیکھتے ہوئے قوم آپ کے دروازے پر آئی ہے۔ صرف آپ‘ اس عمارت کے مکین‘ ایک خاص معاملے میں قوم کی مدد کر سکتے ہیں‘‘۔ اونچی عمارت کے مکینوں نے پوچھا: بتائیے! کس معاملے میں مدد درکار ہے؟ عوامی کمیٹی نے گڑگڑا کر کہا ''حکومت سے کہیے کہ پٹرول کی قیمت کم کرے اس سے پہلے کہ لوگوں کا کچومر نکل جائے۔ وزیراعظم اور ان کے رفقا کا پٹرول مفت ہے۔ انہیں اس اذیت کا اندازہ ہی نہیں کہ عوام پر کتنا بڑا پہاڑ گرایا گیا ہے۔ کسی اور ملک نے‘ مبینہ طور پر پٹرول کی قیمت میں اتنا اضافہ نہیں کیا جتنا پاکستان میں کیا گیا ہے۔ ہم آپ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں کہ اس معاملے میں بھی قیمت کا اضافہ رکوا کر اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی بنوا دیجیے‘‘۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں