بے دین ولد الف دین اور طبیب

ایسا نہیں تھا کہ وہ دیندار نہیں تھے۔ اصل میں ان کے والد صاحب کا اسم گرامی الف دین تھا۔ چونکہ الف کے بعد ''بے‘‘ کا حرف آتا ہے اس لیے ان کا نام بے دین رکھا گیا۔
اچھے بھلے تھے۔ چند ہفتے پہلے پیٹ میں درد ہوا۔ طبیب کے پاس لے جائے گئے۔ اس نے تشخیص کی کہ دردِ قولنج ہے۔ دوا دی مگر ساتھ ہی بتایا کہ ذہنی دباؤ (سٹریس) میں ہیں۔ شاید کوئی صدمہ پہنچا ہے۔ گھر والے حیران تھے کہ کیسا صدمہ؟ کون سا صدمہ؟ بے دین صاحب کی زندگی تو ایک آئیڈیل زندگی تھی۔ قدرت نے سب کچھ دیا تھا اور چھپڑ پھاڑ کر دیا تھا۔ بے دین صاحب تو ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پاکستان سے خوب خوب فائدہ اٹھایا تھا۔ مٹی کو ایسی کمال بددیانتی سے ہاتھ لگاتے تھے کہ سونا بن جاتی تھی۔ سرکاری محکموں سے ٹھیکے لینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ ٹھیکہ جس کام کیلئے لیتے تھے‘ وہ کام ہو نہ ہو‘ بِل سر کار کو لحیم شحیم قسم کا بھیجتے تھے۔ بیسیوں ان کے کاروبار تھے۔ ہر کاروبار جیسے سونے کی کان تھا اور ہر کاروبار میں دیانتداری سے پرہیز کرتے تھے۔ کسی شے کی زندگی میں کمی نہ تھی۔ فکر تھا نہ فاقہ! طبیب نے جب سٹریس کا بتایا تو گھر والے حیران ہوئے کہ یہ کس چڑیا کا نام ہے۔ سٹریس‘ ٹینشن‘ غم‘ فکر اور ذہنی دباؤ کے الفاظ نہ صرف بے دین صاحب کی لغت میں نہیں تھے‘ بلکہ پورا گھرانہ ان سے ناآشنا تھا۔ چنانچہ گھر والوں نے طبیب پر واضح کر دیا کہ تشخیص درست نہ تھی۔ بے دین صاحب تو قریبی عزیزوں کی بھی موت کی خبر سنتے ہی سیاہ شیشوں والا چشمہ لگا لیتے تھے۔ مگر طبیب کا بھی پچاس سالہ تجربہ تھا۔ وہ تو بیمار کے اندر آنے سے لے کر بیٹھنے تک کے وقفے ہی میں بیماری کا اندازہ لگا لیتا تھا۔ اس نے لواحقین کو کہا کہ آپ کے نہ ماننے سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔ بیماری سٹریس ہی کا شاخسانہ ہے۔ تاہم نفسیاتی تسلی کیلئے اس نے چند بے ضرر سی ادویات تجویز کر دیں۔
کچھ دن آرام سے گزر گئے۔ پھر ایک دن بے دین صاحب کو اسہال کی شکایت ہونے لگی۔ طبیب نے بدل بدل کر ادویات آزمائیں۔ وہ بار بار گھر والوں کو بتاتا کہ کچھ ہے جو انہیں ذہنی طور پر پریشان کر رہا ہے۔ اگر یہ بات درست تھی تو گھر والے اس سے مکمل طور پر لاعلم تھے۔ بے دین صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ کی خوابگاہیں الگ الگ تھیں۔ ایسا نہیں تھا کہ باہمی اور ازدواجی تعلقات سرد تھے۔ بے دین صاحب کا نظریہ یہ تھا کہ ٹھاٹ سے رہا جائے۔جب دولت بے حساب ہے تو کمرے بہت سے ہونے چاہئیں۔ کبھی کبھی تو سوچتے تھے کہ محلات بہت سے ہوں اور وہ اور بیوی بچے سب‘ الگ الگ‘ اپنے اپنے محل میں رہیں۔ ہر محل میں خدام کی ریل پیل ہو! بتانے کا مقصد یہ ہے کہ بے دین صاحب کی خوابگاہ الگ تھی۔ طبیب نے ایک عجیب بات کہی۔ اس نے کہا کہ ان کی خوابگاہ میں کیمرہ لگوائیں اور دو ہفتے بعد اس کی فوٹیج طبیب کو دکھائی جائے۔ یہ دو ہفتے بھی بہت بھاری گزرے۔ بے دین صاحب کو وجع المفاصل کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ یرقان نے حملہ کر دیا۔ ضیق النفس کی تکلیف شروع ہو گئی۔ خفقان ہونے لگا۔ اختلاجِ قلب نے برا حال کر دیا۔خون‘ بلغم‘ اور صفرا کے عدم توازن نے مالیخولیا کی کیفیت پیدا کر دی۔ جیسے یہ سب کچھ ناکافی تھا‘ مرگی کے دورے بھی پڑنے لگے!!
دو ہفتے گزر گئے۔ فوٹیج طبیب صاحب کی خدمت میں پیش کی گئی۔ وہ رات طبیب صاحب نے فوٹیج دیکھنے میں گزاری۔ دوسرے دن لواحقین کو بلایا اور کہا کہ جو تشخیص انہوں نے کی تھی‘ وہ درست نکلی۔ پھر طبیب صاحب نے لواحقین کو بٹھایا اور ان کے سامنے فوٹیج چلا دی۔ کیمرے نے دکھایا کہ بے دین صاحب اپنی سجی سجائی‘ وسیع‘ خوابگاہ میں آرام دہ کرسی پر تشریف فرما ہیں۔ سامنے پوری دیوار کے سائز کا ٹیلی ویژن تھا۔ خبریں چل رہی تھیں۔ بے دین صاحب انہماک سے خبریں سن رہے تھے۔ساتھ انواع و اقسام کے مشروبات رکھے تھے۔ خشک اور تازہ پھلوں کی ٹوکریاں پڑی تھیں۔ ملازم کافی یا چائے لانے کیلئے حکم کے منتظر تھے۔ بے دین صاحب کی نظر ٹی وی سکرین پر تھی۔ اچانک بے دین صاحب نے مٹھیاں بھینچ لیں۔ گلے کی رگیں تن گئیں۔ ناک جیسے ٹیڑھی ہونے لگی۔ منہ سے جھاگ نکلنے لگی۔سامنے سکرین پر خبر چل رہی تھی کہ امریکہ اور ایران دونوں پاکستان میں مذاکرات کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ جتنی دیر تک اس خبر کی تفصیل چلتی رہی‘ بے دین صاحب کی حالت غیر ہی رہی۔ جیسے ہی یہ خبر ختم ہوئی‘ وہ ٹھیک ہو گئے۔ پھر دوسرے دن کی فوٹیج دیکھی گئی۔ جیسے ہی خبر چلی کہ پوری دنیا میں پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان سفارت کاری کے میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے‘ بے دین صاحب پر اسہال کا حملہ ہوا اور آفتابہ لیے بیت الخلا کو بھاگے۔ تمام دنوں کی فوٹیج سے یہ معلوم ہوا کہ پاکستان کی کامیابی کی خبر سن کر بے دین صاحب شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف اور وزیراعظم کی تعریف کی تو بے دین صاحب پر مرگی کا دورہ پڑ گیا۔ ایران کی اہم شخصیت نے ٹویٹ پر ''پاکستان زندہ باد‘‘ لکھا تو بے دین صاحب شدت ِغم سے بے ہوش ہو گئے۔ ساری فوٹیج دیکھ کر لواحقین کو ماننا پڑا کہ طبیب کی تشخیص درست تھی۔ سارا مسئلہ تناؤ کا تھا۔
طبیب نے بے دین صاحب کو سامنے بٹھا لیا اور پوچھا کہ آپ پاکستانی ہو کر بھی پاکستان کی تعریف سن سکتے ہیں نہ کامیابی دیکھ سکتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ آپ جو کچھ بھی ہیں‘ پاکستان کی وجہ سے ہیں۔جس معیارِ زندگی سے آپ اور آپ کا خاندان لطف اندوز ہو رہا ہے‘ وہ پاکستان ہی کے دم سے ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کی تعریف سن کر آپ کو آگ کیوں لگ جاتی ہے۔ کبھی مرگی پڑ جاتی ہے تو کبھی قولنج کا درد لاحق ہو جاتا ہے۔ آپ کو تو فخر کرنا چاہیے کہ اس وقت ساری دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں اور جو کام اقوام متحدہ سمیت کوئی ملک نہ کر سکا‘ الحمدللہ پاکستان کر دکھا رہا ہے۔ بے دین صاحب سنتے رہے۔ طبیب بول چکا تو بے دین صاحب گویا ہوئے: صاحب! آپ میرے معالج ہیں! میں آپ سے جھوٹ بولوں گا نہ گھما پھرا کر بات کروں گا!! میرا تعلق ایک خاص گروہ سے ہے۔ یہ وہی گروہ ہے جسے بہت سے لوگ کلٹ کا نام دیتے ہیں اور آپ بخوبی جانتے ہیں کہ cult کے لوگ ایک کرشماتی رہنما کی کٹر پیروی کرتے ہیں۔ ان کے عقائد‘ ان کی پسند ناپسند سب کچھ ایک ہی شخص کے گرد گھومتا ہے۔ ہمارے نزدیک پاکستان پہلے نہیں‘ ہمارا لیڈر پہلے ہے۔ ہماری وفاداری ملک کے ساتھ نہیں‘ ایک شخصیت کے ساتھ ہے۔ اس شخصیت میں ہزار برائیاں‘ ہزار کمزوریاں سہی‘ ہمیں وہ برائیاں اور وہ کمزوریاں نظر نہیں آتیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک شخص کی پرستش نے ہمیں اندھا بھی کر دیا ہے‘ بہرا بھی اور سوچنے کی صلاحیت سے بھی محروم کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں پاکستان کی ہر خوبی‘ برائی نظر آتی ہے اور اپنے گروہ کے سرخیل کی ہر برائی خوبی دکھائی دیتی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ بھارت بھی پاکستان کی کامیابیوں کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کرتا! اس لیے ہم اس معاملے میں بھارت کے ساتھ ہیں۔ یہ بات درست ہے۔ پاکستان کی کابیابیوں پر جلنے بُھننے کے حوالے سے ہم اور بھارت ایک ہی پیج پر ہیں۔ مانا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کی عزت میں اضافہ کیا ہے مگر ہم مجبور ہیں۔ ہمیں جو بات رٹائی گئی ہے ہم نے اسی کی گردان کرنی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں