عبد الحلیم شرر کے خلاف مقدمہ چلائیے

بحث اس وقت شروع ہوئی جب چنے والے چاولوں کو ''چنا پلاؤ‘‘ کہہ کر پکارا گیا۔ بیٹی سے کہا کہ بیٹے دیکھو! ایک نیم تعلیم یافتہ جاٹ کو پروفیسر کیسے کہہ سکتے ہیں؟ آخر حفظِ مراتب بھی کوئی شے ہے یا نہیں؟ لفٹین کے کندھے پر جرنیل کے ستارے لگ سکتے ہیں نہ کانسٹیبل کو ایس پی کہہ کر پکارا جا سکتا ہے۔ پلاؤ کا ایک خاص مقام ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ پلاؤ کی جائے پیدائش وسط ایشیا ہے اور اس میں بھی ازبکستان! اور کیا پروٹوکول ہے صاحب پلاؤ کا! ایک تو یہ کہ مہمان آئیں تو گھر کا مرد پلاؤ پکاتا ہے‘ جب تیار ہو جاتا ہے تو سب بیٹھتے ہیں۔ درمیان میں پلاؤ کا برتن رکھا جاتا ہے۔ پلاؤ کی چوٹی کے عین اوپر پکے یا بھُنے ہوئے گوشت کا بہت بڑا ٹکڑا رکھا ہوتا ہے۔ خاندان کا بزرگ ترین شخص اس سے گوشت کاٹ کاٹ کر سب میں تقسیم کرتا ہے۔ پلاؤ کے ساتھ صرف سلاد ہوتا ہے اور نان۔ پلاؤ کھاتے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ روٹی کا نوالہ بھی! بڑی بڑی دعوتوں میں وہاں شرکت کرنے کا موقع ملا جن میں ملک کے اس وقت کے صدر اسلام کریموف بھی موجود تھے۔ سب سے پہلے پھل رکھے جاتے ہیں۔ خشک بھی اور تازہ بھی! (ٹماٹر کو بھی وہاں پھل کا درجہ دیا جاتا ہے)۔ انواع و اقسام کے مشروبات پیش کیے جاتے ہیں۔ پھر کئی قسم کے نان اور سالن! سب سے آخر میں کھانوں کا بادشاہ پلاؤ پیش کیا جاتا ہے۔ بڑی دعوتوں میں ساتھ رقص و سرود بھی چلتا رہتا ہے۔ اور ہاں! پلاؤ کے ساتھ دستر خوان پر اور کوئی پکوان نہیں ہوتا۔ پلاؤ کی موجودگی میں کسی اور پکوان کا دستر خوان پر ہونا پلاؤ کی توہین ہے۔ مگر اندھا کیا جانے بسنت کی بہار! میں جب پلاؤ کی موجودگی میں (بشرطیکہ وہ پلاؤ ہی ہو‘ پلاؤ کے ساتھ مذاق نہ کیا گیا ہو) لوگوں کو روٹی سالن یا کچھ اور کھاتے دیکھتا ہوں تو رونے کو بھی دل کرتا ہے اور ہنسنے کو بھی!
برصغیر میں پلاؤ آیا تو کچھ عرصہ تو اس کی اصلیت اور خالص پن برقرار رہا۔ پھر پہلا حملہ اس پر بریانی نے کیا جو اسی کی کوکھ سے نکلی تھی۔ یہ کام بڑے مغلوں کے آخری دور میں ہو چکا تھا۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ اورنگزیب کے ایک فرزند کے پاس ایک باورچی تھا۔ یہاں ایک اور بات بھی کر لی جائے۔ باورچی کو ''خانساماں‘‘ نہیں کہنا چاہیے! یہ لفظ اصل میں ''خانِ سامان‘‘ ہے۔ یہ عہدے کا نام تھا جو سلطان ٹیپو کی حکومت میں وزیر کے مرتبے کا تھا‘ یعنی Minister of Provisions ۔
منتقم مزاج اور متکبر انگریز سامراج نے بربریت کی حِس کو تسکین پہنچانے کیلئے اپنے کتوں کے نام ٹیپو رکھ دیے۔ حجام کو خلیفہ کا لقب دے دیا اور باورچی کو خانِ سامان کا نام دیا۔ صوبائی گورنر کو مسلمانوں کے دور حکومت میں صوبیدار کہا جاتا تھا۔ اس منصب کی تذلیل کیلئے ادنیٰ درجے کے فوجی اہلکار کو صوبیدار کا نام دے دیا جو سب سے جونیئر افسر‘ یعنی لفٹین کا بھی ماتحت ہوتا ہے۔ کہاں صوبیدار جو صوبے کا گورنر تھا اور کہاں صوبیدار جو لفٹین‘ بلکہ نائب لفٹین کو سیلوٹ کرنے پر مجبور ہے۔ اسی طرح مسلمان شرفا کے لباس کی تذلیل کی گئی۔ شیروانی‘ واسکٹ اور دستار ویٹروں اور ملازموں کو پہنائی گئی۔ اور ہماری ملّی ''غیرت‘‘ دیکھیے کہ آج بھی سرکاری محلات اور ضیافتوں میں خدّام دستار اور شیروانی میں ہوتے ہیں۔ بات دور نکل گئی۔ یہ باورچی جو اورنگزیب کے فرزند کے پاس تھا‘ بریانی بہت اچھی پکاتا تھا۔ اورنگزیب اسے اپنے ہاں لے جانا چاہتا تھا مگر شہزادہ طرح دے گیا۔ بہر طور اورنگزیب جب بھی بیٹے کے پاس آتا تو فرمائش کرتا کہ وہی باورچی بریانی پکائے۔
افراد اور اقوام پر برے وقت آتے ہیں۔ ملک زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تہذیبیں انحطاط کی نذر ہو جاتی ہیں۔ مگر اس وقت جس دورِ ابتلا سے پلاؤ گزر رہا ہے اس کی مثال شاید ہی کسی اور مخلوق میں مل سکے۔ اہلِ پاکستان کی اکثریت نے پلاؤ میں سرخ مرچ کا اضافہ کر دیا ہے جو ایک قبیح بدعت کے مترادف ہے۔ کہاں وہ پلاؤ جسے کھا کر ایک انگریز نے بمبئی میں اسلام قبول کر لیا تھا اور کہاں آج کا پلاؤ جو پلاؤ ہے نہ بریانی نہ کچھ اور!! ویسے ہم پاکستانیوں نے صرف پلاؤ کی لاش کا مُثلہ نہیں کیا‘ بہت سے ظلم اور بھی ڈھائے ہیں۔ نوڈل کا وہ حشر ہوا ہے یہاں کہ اہلِ چین دیکھ لیں تو کانوں کو ہاتھ لگائیں۔ نوڈل میں مرچیں اور تیل (گھی) ڈال کر اسے چکن کڑاہی اور مٹن کڑاہی کے وزن پر نوڈل کڑاہی بنا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں ایک اور بیماری بھی کافی عرصے سے چل رہی ہے۔ ہر شے میں چکن ڈال دیا جاتا ہے۔ شکار پور والوں نے اچار بھی چکن کا بنا ڈالا ہے۔ نوڈل میں بھی چکن۔ سپیگتی میں بھی چکن۔ آلو کے کباب ہیں تو وہ بھی خالص نہیں بلکہ چکن آلود ہیں۔ سرسوں کا ساگ ایک خاص پکوان ہے جو سوغات بھی ہے اور Delicacy بھی‘ مگر ہماری ایک مرحوم عزیزہ اس میں بھی‘ ہمارے احتجاج کے باوجود چکن ڈالتی تھیں۔ خداوندِ قدوس ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائیں۔ کہیں سرسوں کا ساگ ان کا دامن پکڑے انصاف نہ مانگ رہا ہو۔ یہ فارمی (برائلر) چکن تو لگتا ہے بنا ہی ہمارے ملک کیلئے ہے۔ جس طرح ہر روز سٹاک ایکسچینج کے نرخ بتائے جاتے ہیں یا ڈالر کا ریٹ‘ یا سونے کا بھاؤ‘ اسی طرح مرغی کے نرخ کا بھی ہر روزاعلان کیا جاتا ہے۔ سنا ہے یہ کاروبار بھی اب بہت ہی مضبوط ہاتھوں میں ہے (سمجھ تو گئے ہوں گے آپ)۔ نام نہاد افسری کو صیقل کرنے کیلئے جب سٹاف کالج لاہور میں پانچ ماہ کی نظربندی عائد کی گئی تو کئی ہفتوں تک دن کے دونوں کھانوں میں مرغی ہی مرغی دی گئی۔ قریب تھا کہ ہمارے پر نکل آتے ہم نے احتجاج کیا اور ہزار دقّت کے بعد کڑھی پکوائی۔
پلاؤ پکانے اورکھانے کیلئے جو ذوق‘ جو متانت اور جو ملائمت درکار ہے وہ آج کے دور میں کہاں میسر ہے؟ محب عارفی نے کہا تھا:
شریعت خس و خار ہی کی چلے گی
علم رنگ و بو کے نکلتے رہیں گے
رواں ہر طرف ذوقِ پستی رہے گا
بلندی کے چشمے اُبلتے رہیں گے
پلاؤ میں مٹر ڈالیں تو مٹر پلاؤ‘ سبزی ڈالیں تو سبزی پلاؤ!! کبھی چنا پلاؤ! قربِ قیامت کی نشانیاں ہیں۔ جب نیل گائے شیر کے بچوں کی اتالیق مقرر ہو نے لگے‘ جب سقے‘ حلال خور‘ دھوبی‘ آبدار‘ اردلی‘ سائیس‘ پیادے‘ داروغے‘ کفش بردار‘ شہزادوں کے ساتھ سنہری‘ بلند‘ مسندوں پر بیٹھنے لگیں تو سمجھو کہ صور پھونکا جانے لگا ہے۔ جس پلاؤ کی آج توہین ہو رہی ہے‘ اس نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب لکھنؤ کے حکمران کا پلاؤ 34 سیر گوشت میں پکایا جاتا تھا۔ سات طرح کے پلاؤ پکتے تھے۔ گلزار پلاؤ‘ نور پلاؤ‘ موتی پلاؤ‘ چنبیلی پلاؤ اور بہت سے اور بھی! ایک دعوت میں جس میں خود نواب واجد علی شاہ نے شرکت کی‘ کُل ستر قسم کے چاول تھے۔ عبد الحلیم شرر نے اپنی معرکہ آرا تصنیف ''گزشتہ لکھنؤ‘‘ میں کمال کا فقرہ لکھا ہے کہ ''اعلیٰ درجے کے پلاؤ کے مقابل بریانی‘ نفاست پسند لوگوں کی نظر میں‘ بہت ہی لدھڑ اور بدنما غذا ہے‘‘۔ بریانی کے شیدائیوں پر لازم ہے کہ عبد الحلیم شرر کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ بقول ظفر اقبال:
دیکھ رہ جائے نہ حسرت کوئی دل میں تیرے
شور کر اور بہت‘ خاک اُڑا اور بہت
موت کے بعد بھی پلاؤ ہی کام آتا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے کہا تھا:
بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہو گا؍ پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہو گا
اکبر الہ آبادی کہنا یہ چاہتے ہیں کہ بریانی یا چنوں والے چاول پکے تو مرنے والے کو سکون نصیب نہیں ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں