افسانہ نگار خاتون‘ جسے زندگی میں افسانوی شہرت ملی

میں فروری 1957ء میں ایم اے او کالج (لاہور) کی سٹوڈنٹس یونین کا صدر تھا۔ پنجاب یونیورسٹی نے اسلام اور عصرِ حاضر کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کی۔ کانفرنس میں دنیا بھر سے جن مفکرین کو مقالات پڑھنے کی دعوت دی گئی تھی اُن میں علامہ محمد اسد بھی شامل تھے۔ وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے اساتذہ کی معاونت کیلئے طلبہ وطالبات کی جس ٹیم کو رضا کارانہ خدمت پر مامور کیا‘ مجھے بھی اس کا رکن ہونے کا اعزاز ملا۔ پہلے دن میری ذمہ داری ہال کے گیٹ پر مہمانوں کے شناختی کارڈ؍ دعوت نامے چیک کر کے اُنہیں اُن کی نشستوں کی راہ دکھانا تھی۔ دروازے کے باہر مجھے شاندار ساڑھی پہنے ایک بڑی دلکش خاتون قطار میں کھڑی نظر آئیں۔ سب مہمانوں سے بالکل مختلف‘ یہ خوبصورت چہرہ کچھ شناسا لگا مگر میں پہچان نہ سکا۔ جب انہوں نے قریب آکر اپنا دعوت نامہ دکھایا تو میں نے جلدی سے نام پڑھا‘ وہ تھا: قرۃ العین حیدر۔ دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو گئی کہ شاید انہوں نے بھی سن لی ہو۔ میں نے حیرت‘ خوشی اور بچوں کے سے تجسس سے اُن کے چہرے کو دیکھا۔ وہ میری گھبراہٹ بھانپ گئیں۔ میں نے بے اختیار سے اُن کی طرف (خلافِ آداب) ہاتھ بڑھا دیا۔ خوش قسمتی سے وہ ناراض نہ ہوئیں اور ہاتھ ملا کر آگے بڑھ گئیں۔
دوپہر کو کھانے کا وقفہ ڈیڑھ گھنٹے کا تھا۔ میں وقتِ مقررہ سے پہلے ہی دروازے پر اپنی ڈیوٹی دینے کھڑا ہو گیا۔ وہ مسکراتے ہوئے وہاں سے گزریں تو میں نے سلام کیا۔ اُنہوں نے جواب میں آداب کہا۔ اگلے سیشن میں جب وہ ہال میں داخل ہوئیں تو میں نے آداب کہا۔ اُنہوں نے اپنا دایاں ہاتھ ذرا اوپر اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔ چوتھے سیشن سے قبل ہی میری ڈیوٹی ختم ہو گئی وگرنہ شاید ایک اور ملاقات ہو جاتی۔ دوسرے دن مجھے دیگر ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ تیسرے دن میں وقت سے پہلے ڈیوٹی پر موجود تھا۔ وہ عین وقت پر آگئیں۔ میں نے آگے بڑھ کر آداب کہا اور یہ بھی کہ کل میری ڈیوٹی نہ تھی‘ اس لیے آپ کو دیکھ نہ سکا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آج دوپہر کو پھر ملاقات ہو گی۔ دوپہر کو میں نے ان سے کہا کہ اب میں آپ کا نام جانتا ہوں‘ میں نے آپ کے لکھے سارے افسانے اور ناول پڑھے ہیں‘ اگر آپ کانفرنس سے فراغت کے بعد مجھے پندرہ منٹ عنایت فرمائیں تو مہربانی ہو گی۔ دوبارہ جب آمنا سامنا ہوا تو پوچھا کہ کیا آپ نے میری دعوت قبول کر لی؟ کہنے لگیں کہ ضرور ملیں گے اور 15 منٹ کے بجائے 30 منٹ کیلئے۔ میں شام کو دروازے کے باہر اُن کا منتظر تھا۔ وہ کافی دیر سے باہر نکلیں۔ میں نے کہا کہ کافی ہائوس یہاں سے کافی فاصلے پر ہے‘ وہاں آنے جانے میں اتنا وقت صرف ہو جائے گا‘ یونیورسٹی کے بالکل سامنے ایک مِلک بار ہے‘ جو پنجاب کا ٹریڈ مارک دودھ پلاتی ہے۔ وہ ہنس کر کہنے لگیں: یہ تو اور بھی اچھا ہے‘ کافی تو سارا وقت پیتی رہتی ہوں۔ ہم نے سڑک عبور کی اور مِلک بار چلے گئے۔ دکان بالکل خالی تھی مگر دکان کا مالک اُنہیں دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ میں نے تعارف کراتے ہوئے کہا: یہ قرۃ العین حیدر ہیں‘ اُردو ادب کی چوٹی کی افسانہ نگار اور بلند پایہ ادیبہ۔ اُس نے خوشبودار‘ مزیدار اور یخ ٹھنڈا دودھ پلایا اور پھر قیمت وصول کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ دو اجنبی افراد کے درمیان جو برف حائل ہوتی ہے‘ وہ ایک بار پگھل جائے تو گفتگو کی ندی خود بخود بہہ نکلتی ہے۔ مجھے کچھ یاد نہیں کہ آدھا گھنٹہ کیسے گزرا۔ اچانک انہوں نے نپے تلے الفاظ میں بُنے عمدہ افسانے لکھنے والے دائیں ہاتھ کے کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھا اور یہ کہہ کر اُٹھ کھڑی ہوئیں کہ اب چلنا چاہیے‘ ڈاکٹر صاحب میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ ہم واپس آئے تو ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم (اسلامی فلسفہ دان) اُن کے منتظرتھے۔ وہ کار میں بیٹھیں اور پھر الوداعی ہاتھ ہلاتے ہوئے چلی گئیں۔
20 جنوری 1927ء کو علی گڑھ میں سید سجاد حیدر یلدرم (جو اپنے وقت کے نامور ادیب اور سرکاری افسر تھے) اور نذرِ زہرا کے گھر میں ایک بڑی پیاری بچی پیدا ہوئی‘ نام قرۃ العین رکھا گیا۔ وہ بڑی ہوئیں تو اپنے نام میں والد کا نام بھی شامل کر لیا۔ باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بیٹی نے بھی اُردو ادب میں طبع آزمائی کی۔ قرۃ العین کو اُن کے دوست عینی آپا کہتے تھے۔ ان سے میری پہلی (اور آخری ملاقات) کو اب 69 برس ہو چکے ہیں‘ ان سالوں میں ایک ادیبہ سے قاری کی شناسائی دوستی میں تبدیل ہو چکی۔ عینی آپا نے اپنی تعلیم دہلی اور لکھنؤ یونیورسٹی سے مکمل کی۔ وہ 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان آگئیں‘ جہاں وزارتِ اطلاعات میں بطور افسر کام کرتی رہیں۔ 1959ء میں اُنہوں نے اپنا شاہکار ناول ''آگ کا دریا‘‘ مکمل کیا تو اس کی اشاعت پر پاکستان اور بھارت میں دھوم مچ گئی۔ آزادی کے بعد ان 77 برسوں میں شاید ہی کسی کتاب کو اتنی توجہ اور مقبولیت ملی ہو۔ یہ ضخیم کتاب (جو مضمون نگار نے ایم اے کا امتحان دینے کے بعد موسم گرما میں پڑھی تھی) تنگ نظر‘ متعصب اور فرقہ وارانہ ذہن رکھنے والوں کو ہرگز پسند نہ آئی اور اُنہوں نے فاضل مصنفہ کو سراسر ناجائز تنقید کا نشانہ بنایا‘ جو ایک حساس مزاج ادیبہ کیلئے قابلِ برداشت نہ تھی۔ 1960ء میں وہ برطانیہ چلی گئیں۔ آگ کا دریا نے اردو فکشن میں وہی کمال دکھایا جو اُردو شاعری میں پہلے غالب اور پھر اقبال‘ فیض اور فراز نے۔ یہ اردو ادب کے سماجی شعور‘ نظریات‘ سوچ و بچار کے عمل‘ فلسفہ‘ انسانی تاریخ کے اسباق سے امتزاج اور تاریخی ارتقا کی عکاسی تھا۔ آگ کا دریا میں جس کہانی کو بیان کیا گیا‘ وہ چار صدیاں قبل مسیح سے شروع ہو کر 1947ء کی تقسیم ہند‘ اور دو نئے ممالک کی پیدائش پر ختم ہوتی ہے۔ 2019ء میں ایک اشاعتی ادارے نے اس ناول کو دوبارہ شائع کیا تو نیو یارک ٹائمز نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ناول آج بھی اتنا ہی اہم اور حقائق سے جڑا ہوا ہے جتنا کہ 1959ء میں تھا۔ برطانیہ کے ایک معتبر جریدے Times Literary Supplement میں عامر حسین نے لکھا کہ اس ناول کی اُردو ادب میں وہی عہدساز اہمیت ہے جو ہسپانوی ادب میں One Hundred Years of Solitude کی۔ کامل احسن نے The Nation میں لکھا کہ یہ ناول برصغیر کی ڈھائی ہزار سال تاریخ کا احاطہ یوں کرتا ہے کہ اسے بجاطور پر اس طویل دور کا Syncretistic Version کہا جا سکتا ہے ۔
عینی آپا کی لکھنے کی خوبی بچپن میں ہی ظاہر ہوئی جب انہوں نے گیارہ برس کی عمر میں اپنی پہلی کہانی لکھی۔ اُنہوں نے نہ صرف افسانوں کے مجموعے اور بہت سے ناول لکھے بلکہ کمال کے تراجم بھی کئے۔ آگ کا دریا کا اُنہوں نے خود ہی انگریزی میں ترجمہ کیا تاکہ اُسے عالمی پذیرائی بھی مل سکے مگر عینی آپا اور ان کے ساتھ پارسی ناول نگار خاتون بپسی سدھوا‘ اُن دونوں کو نوبیل انعام نہ دیے جانے سے شدید ناانصافی ہوئی۔ رابندر ناتھ ٹیگور کے علاوہ برصغیر کے کسی بھی ادیب کو نوبیل ادب انعام نہیں ملا۔ ماضی میں انتظار حسین کے ناولوں کا انگریزی میں اچھا ترجمہ کروا کے اس ضمن میں ایک اور کوشش کی گئی مگر افسوس کہ کامیابی نہ ملی۔ نوبیل انعامات (خصوصاً ادب اور امن کے شعبہ جات میں) سیاسی مصلحتوں کے تابع ہوتے ہیں۔
برطانیہ میں مختصر قیام کے بعد عینی آپا بھارت چلی گئیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے خاصا زرخیز دماغ عطا کیا تھا۔ اُن کی تصانیف اور ترجموں کی تعداد 30 بنتی ہے۔ بھارت واپس جا کر اس طرح جم کر رہیں کہ مرتے دم تک وہی اُن کا مسکن رہا۔ پہلے 29 سال بمبئی میں اور باقی دہلی کے مضافات میں۔ 21 اگست 2007ء‘ وہ دکھ بھرا دن تھا جب ہم سب کی پیاری عینی آپا ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو گئیں۔ اُنہیں جامعہ ملیہ کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ افسوس اس بات کا کہ مجھے یہ بات بعد میں معلوم ہوئی۔ چند برس پہلے میں جامعہ ملیہ برطانوی قانون پر لیکچر دینے بھی گیا تھا مگر اُن کی آخری آرام گاہ پر حاضر نہیں ہو سکا مگر امید ہے کہ یہ قرض جلد ہی ادا ہو جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں