"IYC" (space) message & send to 7575

لو پھر بسنت آئی

بہار کا موسم کسے اچھا نہیں لگتا۔ یہی وہ موسم ہے جب نہ بہت زیادہ گرمی ہوتی ہے نہ بہت سردی۔ معتدل موسم انسان ہی نہیں پرندوں‘ چرندوں اور ہر طرح کے دوسرے جانوروں کو بھی نہال کر دیتا ہے۔ کھیت کھلیانوں میں ہریالی بھر جاتی ہے۔ پیڑ پودوں پر نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں اور ڈالیوں پر دیدہ زیب پھول مسکرانے لگتے ہیں۔ یہی وہ موسم ہے جس کیلئے ظہیر کاشمیری صاحب نے رت گدرائی کی ترکیب استعمال کی تھی:
موسم بدلا رت گدرائی اہلِ جنوں بے باک ہوئے
فصلِ بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے
ملکہ پکھراج اور طاہرہ سید کی گائی ہوئی حفیظ جالندھری کی یہ مشہور نظم آپ نے ٹیلی ویژن پر بارہا سنی ہو گی:
لو پھر بسنت آئی؍ پھولوں پہ رنگ لائی؍ چلو بے درنگ؍ لب آب گنگ؍ بجے جل ترنگ؍ من پر امنگ چھائی؍ پھولوں پہ رنگ لائی؍ لو پھر بسنت آئی
معنی: جیسا کہ عنوان سے واضح ہے حفیظ جالندھری صاحب نے بہار کے موسم کی آمد کی بات کی ہے۔ کہا ہے کہ بسنت کا موسم آتے ہی چار سُو پھولوں پر بہار کا سماں چھا گیا ہے۔ اب بھی بہار ہے تو جشن کا سماں ہے اس لیے بے خوف گنگ یعنی دریائے گنگا کے کنارے کی طرف بڑھتے چلو کہ وہاں پانیوں میں موسیقی بج رہی ہے اور ہر دل میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ بسنت کی آمد آمد ہے اور ہر طرف بہار کے رنگ چھائے ہوئے ہیں۔
نظم طویل ہے‘ یہاں پوری درج نہیں ہو سکتی۔ خود پڑھیے‘ لطف آئے گا۔ اس نظم میں موسم بہار کا نقشہ کچھ اس طرح سے کھینچا گیا ہے کہ ایک سماں سا بندھ جاتا ہے اور نظروں کے سامنے معتدل موسم کی ساری رنگینیاں موجزن ہو جاتی ہیں۔
علامہ اقبال نے اسی بہار کو موضوع بناتے ہوئے فصلِ بہار یعنی بہار کا موسم کے عنوان سے نظم لکھی۔ دیکھیے کیسی کیسی نازک خیالی‘ نزاکت آفرینی سے کام لیا ہے:
خیز کہ در کوہ و دشت‘ خیمہ زد ابر بہار
مست ترنم ہزار‘ طوطی و دراج و سار
بر طرف جویبار کشت و گل و لالہ زار‘ چشم تماشا بیار
خیز کہ در کوہ و دشت‘ خیمہ زد ابر بہار
معنی: اُٹھ کہ بہار کی گھٹا نے پہاڑوں اور جنگلوں میں خیمہ لگا دیا ہے یعنی بہار آ گئی ہے۔ دیکھ کیسے بلبل اور تیتر اور مینا نغموں میں مگن ہیں۔ نہر (ندی) کے کنارے گلاب اور گل لالہ کی بھرمار ہے۔ بس دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔ اُٹھ کہ بہار کی گھٹا پربت پربت جنگل جنگل خیمہ زن ہے۔
یہ نظم بھی طویل ہے‘ کالم کی تنگ دامنی مانع ہے ورنہ پوری نظم لکھ دوں۔ تجویز ہے کہ یہ نظم بھی ضرور پڑھیے۔ حظ اٹھائیں گے۔
یہ تو میں موسم بہار میں شاعری کی رو میں بہہ گیا ورنہ آج میں جس بسنت کی بات کر رہا ہوں وہ ان دنوں لاہور میں منائی جا رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب لاہور کی بسنت پوری دنیا میں مشہور و معروف تھی اور اس تہوار میں شرکت کرنے کیلئے پوری دنیا سے لوگ پاکستان آتے تھے۔ یہاں پتنگوں اور ڈور کا اچھا خاصا کاروبار ہوتا تھا۔ لوگ لطف اندوز ہوتے تھے اور بہار کے موسم کو خوش آمدید کہتے تھے۔ پنجابی میں ایک کہاوت مشہور ہے: بسنت‘ پالا اُڑنت یعنی جب بسنت آتی ہے تو سردی ختم ہو جاتی ہے اور بہار کا موسم شروع ہو جاتا ہے اور میں حیران ہوں یہ دیکھ کر کہ جمعرات کے روز خاصا سرد تھا لیکن بسنت والے دن یعنی جمعہ کے روز ٹمپریچر 24ڈگری سینٹی گریڈ تک گیا اور آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو درجہ حرارت 25ڈگری سینٹی گریڈ ہے یعنی سردی کا ایک طرح سے اختتام ہو چکا ہے اور نیا موسم انگڑائیاں لے رہا ہے‘ بہار کا موسم۔
ماضی میں بسنت کے دن جب پتنگیں اڑائی جاتی تھیں تو ان میں پیچ لڑائے جاتے تھے اور جب پیچا پڑ جاتا تھا تو پھر کسی نہ کسی کی پتنگ کو تو کٹنا ہی ہوتا تھا سو وہ کٹ جاتی تھی۔ اس پر فاتح ٹیم کی جانب سے بوکاٹا کا شور مچتا اور مخالف ٹیم کچھ دبی دبی سی محسوس ہوتی تھی کہ پتنگ کٹ گئی‘ بے عزتی ہو گئی۔ لیکن یہ احساس بس پل بھر کیلئے ہی اجاگر ہوتا تھا۔ اگلے ہی لمحے نئے جذبے کے ساتھ نئی پتنگ میں طنابیں ڈالی جاتیں اور پھر پتنگ بازی شروع ہو جاتی۔ نیا پیچا پڑ جاتا۔ اب کی بار ہارنے والے جیت جاتے اور جتنے والے خفت محسوس کر رہے ہوتے۔پھر حالات اور معمولات بدل گئے۔ معاشرے میں برداشت‘ تحمل‘ بردباری جیسی اقدار عنقا ہوتی چلی گئیں اور لوگ دوسرے کی بات‘ دوسرے کی جیت کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پتنگ بازی کے دوران ایسی ایسی ڈوریں استعمال کی جانے لگیں جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھیں حتیٰ کہ دھاتی تار کا استعمال بھی کیا جانے لگا تاکہ دوسرے کی پتنگ تو کٹ جائے لیکن اپنی پتنگ محفوظ اور مامون رہے۔ یہ کیمیکل والی ڈور اور دھاتی تار معاشرے کیلئے سمِ قاتل ثابت ہوئیں۔ کٹی ہوئی پتنگ کے ساتھ جب یہ کیمیکل والی ڈور اور دھاتی تار‘ دونوں گرتیں تو بجلی تنصیبات کو مجروح کرتیں۔ دوسرا یہ کہ ایسی ڈور اگر خدانخواستہ کسی کے گلے پر پھر جاتی تو اس کی موت یقینی تھی۔ ایسی متعدد موتیں ہوئیں بھی اور اسی کو سامنے رکھتے ہوئے بسنت پر پابندی لگا دی گئی حتیٰ کہ گلی محلے میں اپنی چھتوں پر پتنگیں اڑانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ یوں لاہور ایک خوبصورت تہوار سے محروم ہو گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کو برسر اقتدار آئے دو سال ہو چکے ہیں اور ان دو برسوں میں انہوں نے متعدد جرأت مندانہ اقدامات کیے اور اس سے بھی زیادہ عوام دوست منصوبے شروع کیے۔ ان منصوبوں کے اثرات سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایک اور جرأت مندانہ اقدام یہ کیا کہ بسنت کے تہوار پر لگی ہوئی پابندی ختم کرتے ہوئے لاہور میں تین دن کیلئے بسنت منانے کی اجازت دے دی۔ لیکن یہ اجازت مشروط تھی۔ مخصوص ڈور ہی استعمال کی جا سکتی ہے اور مخصوص پیمائش کی پتنگیں ہی اڑائی جا سکتی ہیں۔ پھر یہ کہ پتنگیں مخصوص جگہوں پر ہی دستیاب ہیں۔ ان پابندیوں کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ بسنت کے پہلے دو دنوں میں کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا کسی کے گلے پر دھاتی یا کیمیکل والی ڈور نہیں پھری اور کوئی زخمی بھی نہیں ہوا‘ لیکن پتنگوں اور ڈوروں کے مخصوص جگہوں پر دستیاب ہونے کا ایک نقصان یہ ہوا کہ 25سال کے وقفے کے بعد بحال ہونے والی بسنت میں آسمان پر اتنی پتنگیں نظر نہیں آئیں جتنی ماضی کے بسنت کے تہواروں میں نظر آتی تھیں۔ خیر بسنت کے بحال ہو جانے ہی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اب بسنت اگلے سال منائی جا سکے گی یا نہیں‘ اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ عوام کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں پر کتنا مؤثر طریقے سے عمل ہوتا ہے۔ اگر تو پابندیوں پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا گیا تو ان شاء اللہ اگلے سال بھی بسنت منائی جائے گی لیکن اگر خدانخواستہ بداحتیاطی کی وجہ سے کوئی بڑا حادثہ رونما ہو گیا تو پھر ممکن ہے بسنت پر دوبارہ پابندی لگ جائے۔ حکومت اور حکمرانوں سے پتنگ بازی کے شائقین کی جانب سے ایک گزارش کرنا چاہوں گا اور وہ یہ ہے کہ پابندیاں ضرور لگائیں لیکن پتنگوں کی ہر جگہ دستیابی کو یقینی بنائیں تاکہ لاہور کے آسمانوں پر آئندہ بھی اتنی ہی پتنگیں اڑتی نظر آئیں جتنی ماضی کے بسنت کے تہواروں میں نظر آتی تھیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں