پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے وصول کی جانے والی مکمل رقم کمپنیاں قومی خزانے میں جمع نہیں کرواتیں۔ پٹرولیم لیوی کی مد میں سالانہ تقریباً 1400 ارب روپے وصول کیے جاتے ہیں تاہم کمپنیوں سے مکمل ریکوری کے لیے کوئی مؤثر اور ٹھوس طریقہ کار موجود نہیں۔ اجلاس کے دوران پٹرولیم لیوی‘ لیٹ پیمنٹ سرچارج‘ سبسڈیز‘ ریکوریز میں ناکامی اور خلافِ قواعد پروکیورمنٹ سے اربوں روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ کوئی پہلا ایشو نہیں جس میں وہ کچھ ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہیے‘ ہم اپنے معاملات کے حوالے سے چونکہ متفرق لوگ ہیں‘ اور ہمارا طرزِ عمل چونکہ سب سے جدا ہے اس لیے یہاں بہت سے معاملات‘ بہت سے ایشوز‘ بہت سے شعبے ایسے ہیں جہاں وہ کچھ ہو رہا ہے جو نہیں ہونا چاہیے اور جو ہونا چاہیے وہ بالکل بھی نہیں ہو رہا‘ بلکہ اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا رہا اور غور بھی نہیں کیا جا رہا ہے کہ کیا جائے۔ دور کیا جانا‘ اپنے ملک کے سرکاری اداروں کو لے لیں۔ یہ ادارے قائم تو کیے گئے عوام کی خدمت اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے‘ حکومت اور عوام کے مابین خوشگوار تعلق قائم کرنے کیلئے‘ قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے‘ عدل اور انصاف کیلئے‘ سہولتوں کو ارزاں کرنے کیلئے‘ معاملات کو درست نہج پر رکھنے کیلئے‘ لیکن ہوتا کیا ہے؟
ہوتا یہ ہے کہ سرکاری اداروں سے آپ کوئی بھی کام اہلکاروں کی مٹھی گرم کیے بغیر نہیں کرا سکتے‘ حتیٰ کہ جائز کام بھی نہیں کرا سکتے۔ وہ آپ کی پیش کردہ کسی بھی درخواست پر ایسے ایسے اعتراضات اٹھائیں گے‘ ایسے ایسے سرٹیفکیٹ اور این او سیز درخواست کے ساتھ لف کرنے کا کہیں گے‘ ایک سے دوسری اور دوسری سے تیسری میز پر آپ کے اتنے چکر لگوائیں گے کہ آپ گھن چکر بن کر رہ جائیں گے۔ سرکاری ملازمین براہِ راست ریاست کے اور بالواسطہ عوام کے خدمت گزار ہوتے ہیں۔ حکومت انہیں عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود کیلئے عوام کی جانب سے بھرے گئے ٹیکسوں کے پیسوں سے تنخواہیں اور مراعات دیتی ہے‘ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے سرکاری ملازمین‘ خواہ وہ جس ادارے سے بھی ہوں‘ عوام کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے وہ کیڑے مکوڑے ہوں اور وہ خود یعنی سرکاری ملازمین ریاست اور عوام کے نوکر نہیں بلکہ حاکم ہوں۔ ہمارے معاشرے میں رشوت ایک ناسور کی طرح پورے سماجی ڈھانچے میں سرایت کر چکی ہے۔ معیارِ زندگی بلند کرنے کے چکر میں رشوت خوری‘ ملاوٹ اور منافع خوری جیسی بدعات ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ چونکہ لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہو چکا ہے اس لیے اسے برقرار رکھنے کیلئے ناجائز اور ممنوع ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ بدعنوانیوں نے معاشرے میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ لیے ہیں جس کی وجہ سے انتظامیہ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ سرکاری اداروں میں بد دیانتی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ عوام کا حکمران طبقے پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ملک کا ہر فرد اور ادارہ فرض شناسی سے اپنے فرائض پورے کرنے کے بجائے رشوت ستانی اور ناجائز ذرائع سے مال اکٹھا کرنے میں مصروف نظر آتا ہے۔
آگے بڑھتے ہیں۔ طالب علم کو اپنی پڑھائی پر توجہ دینی چاہیے لیکن اس کی دلچسپیاں کچھ اور ہیں۔ ٹیچرز کو بچوں میں تعلیم بانٹنے پر توجہ دینی چاہیے لیکن توجہ ٹیوشن سنٹرز اور ان کی فیسوں پر ہے۔ ڈاکٹرز کو مریضوں کی صحت اور کلائنٹس کا اطمینان سب سے بڑھ کر عزیز ہونا چاہیے لیکن ان کی توجہ ٹیسٹوں اور مزید ٹیسٹوں پر ہے۔ کبھی ٹو دی پوائنٹ علاج نہیں کیا جاتا‘ تجربات کیے جاتے ہیں۔ مریض ٹھیک ہو گیا تو ہو گیا‘ نہ ٹھیک ہوا تو قبر میں ہی جا لیٹے گا۔ بار بار ادویات بدلی جاتی ہیں اور پھر کچھ خدشات کا اظہار کر کے مزید ٹیسٹ لکھے جاتے ہیں کیونکہ ٹیسٹ لکھ کر دینا بھی اب کمائی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ پتا نہیں کہاں گئے وہ سارے ڈاکٹر جو مریض سے چند علامات پوچھ کر ہی بیماری کی اصل وجوہات تک پہنچ جایا کرتے تھے اور نہایت تسلی بخش علاج کرتے تھے۔ ڈاکٹروں کو مریض کے لیے مسیحا ہونا چاہیے لیکن حالات یہ ہیں کہ ڈاکٹر خود بھی بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بننے والوں میں سے ایک ہیں۔ گندے آلات اور اوزار بیماریاں کم کرنے کے بجائے بڑھانے کا باعث ہیں۔ آج پاکستان کا ہر دوسرا فرد اگر ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہے تو اس کی وجہ آلودہ میڈیکل اوزاروں کا صحت مند مریضوں پر استعمال بھی ہے۔
وکلا کو اپنے کلائنٹس کا ہمدرد ہونا چاہیے لیکن مؤکلین اکثر شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ تاخیری حربے اختیار کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے کبھی ایک بہانہ گھڑا جاتا ہے تو کبھی دوسرا۔ کبھی جج صاحب چھٹی پر ہوتے ہیں‘ کبھی وکیل کو کوئی کام ہوتا ہے اور کبھی گواہ کی عدم دستیابی مقدمے کے آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج عدالتوں میں مقدمات کے ڈھیروں کے ڈھیر پڑے ہیں۔کپڑے والا کپڑا صحیح نہیں بیچ رہا اور دودھ والے کو دودھ خالص فروخت کرنا اور بچوں کے لیے حلال کی روزی کمانا نصیب نہیں ہے۔ گوشت والے کے پاس پانی سے بھرا گوشت ہے اور سبزی والے کے پاس گندے پانیوں سے اگائی گئی سبزیاں ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وکیل اپنے کلائنٹس کے ہمدرد ہوتے اور وقت پر انہیں انصاف لے کر دیتے۔ کپڑے والا ٹھیک معیار کا کپڑا بیچتا اور دودھ فروش نے یہ حلف اٹھایا ہوتا کہ وہ بھوکوں مر جائے گا لیکن مشینوں میں بنا دو نمبر دودھ فروخت نہیں کرے گا۔ اسی طرح ڈاکٹر کو اپنے مریضوں کے لیے مسیحا بن جانا چاہیے تھا لیکن چونکہ پورے زمانے میں ہوا ہی الٹی چل رہی ہے اس لیے یہاں گنگا الٹی ہی بہہ رہی ہے اور تب تک بہتی رہے گی جب تک معاشرے میں اصلاحِ احوال کی روشنی نہیں پھیل جاتی۔
اسی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہیں۔ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو چاہیے کہ صرف اتنے پیسے وصول کریں جتنی وہ بجلی پیدا کرتی ہیں لیکن وہ بغیر ہاتھ پیر ہلائے کپیسٹی کے پیسے وصول کر رہی ہیں جو ظاہر ہے عوام کی جیبوں سے نکلتے ہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو چاہیے کہ صارفین سے اتنے پیسے وصول کرے جتنی وہ بجلی استعمال کرتے ہیں‘ لیکن بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر ٹیکسوں کا ایسا بوجھ ڈالا گیا ہے کہ ان کی مالی کمر ہی سیدھی نہیں ہو پا رہی ہے۔ یہی حال گیس والوں کا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ وعدے کے مطابق چاہے دن میں تین دفعہ تین تین گھنٹے ہی گیس دیں‘ لیکن دیں تو سہی۔ ہو یہ رہا ہے کہ گیس کے چولہوں کے برنر ہلکی سی لو کے ساتھ ٹمٹماتے نظر آتے ہیں لیکن جب بل آتا ہے بندہ حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اتنا زیادہ ہوتا ہے جیسے صارف ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے بس گیس ہی استعمال کرتا رہا ہو۔ اور یہ مثالیں مشتے نمونہ از خروارے ہیں‘ ورنہ تو ایسے کاموں کے بھنڈار کے بھنڈار ہیں جو نہیں ہونے چاہئیں لیکن ہو رہے ہیں اور ایسے کاموں کی بھی کمی نہیں جو ہونے چاہئیں لیکن نہیں ہو رہے ہیں۔ چنانچہ ان حالات میں پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے وصول کی جانے والی مکمل رقم کمپنیاں قومی خزانے میں جمع نہیں کرواتیں تو اسے بہرحال انکشاف نہیں کہا جا سکتا‘ معمول کہہ لیں تو شاید کوئی مضائقہ نہ ہو۔