گزشتہ کالم بعنوان تھنڈر بوائے شائع ہونے کے بعد قارئین سمیت حلقۂ احباب میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ لِٹل بوائے اور فیٹ مین کا سراغ لگانے کیلئے کہیں نقطے ملائے گئے تو کہیں دور کی کوڑیاں لائی گئیں۔ بیشتر کے نشانے ٹھیک لگے تو اکثر استعاروں کے قریب بھٹکتے رہے۔ ونڈر بوائے تھیوری سے شروع ہونے والا مباحثہ بات سے بات نکلنے کا سبب بنتا چلا گیا‘ کسی نے سرنڈر بوائے یاد کرا ڈالے تو کسی نے بَلنڈر بوائے۔ مملکتِ خداداد میں ان بوائز کا کردار ہمیشہ نمایاں اور پیش پیش رہا ہے۔ سیاست میں دادا کے بعد پوتا اور باپ کے بعد بیٹا سے منسوب بدعت کے تانے بانے انہی بوائز سے جا ملتے ہیں۔ بانیٔ پاکستان قائداعظمؒ کا آدھا احسان تو سرنڈر بوائے نے پہلے 24 برس میں ہی اتار ڈالا تھا جبکہ بقایا احسان اتارنے کیلئے بَلنڈر بوائز کوشاں اور برابر جڑے ہوئے ہیں۔ کہیں بابا اور بوائز مل کر کھیل رہے ہیں تو کہیں ٹام بوائے سیاست میں اپنے ہونے کا خوب پتا دے رہے ہیں۔ ایسے میں مرزا غالبؔ کا بوجوہ یاد آنے والے ایک مصرع پیشِ خدمت ہے:
کھیل لڑکوں کا ہوا‘ دیدۂ بینا نہ ہوا
غالب کو الہامی شاعر کہنا بے جا نہ ہوگا‘ وہ خود بھی برملا کہا کرتے تھے کہ:
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
اُس زمانے میں غیب سے آنے والے خیالات کے زندہ نمونے آج مملکتِ خداداد میں چلتے پھرتے جابجا ہر سُو دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک اور شعر میں ان سبھی بوائز کا پرچہ ہی آؤٹ کر ڈالا:
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
غالبؔ اگر دورِ حاضر میں ہوتے تو یقینا دنیا کی جگہ پاکستان کا لفظ ضرور استعمال کرتے۔ غالبؔ سے معذرت طلب کرتے ہوئے اگر اس شعر میں حالاتِ حاضرہ کے مطابق پیوندکاری کی جائے تو:
بازیچۂ اطفال ہے یہ ملک مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
کیسے کیسے تماشے روزِ اوّل سے جاری ہیں‘ غالب تو ماچس کی ڈبیا دیکھ کر حیران و پریشاں ہو گئے تھے اور کہتے پھرتے تھے کہ فرنگی کیسی قوم ہے‘ جیب میں آگ لیے پھرتی ہے۔ عصرِ حاضر کی جیبیں دیکھ لیتے تو کیا خوب تماشا ہوتا۔ ان بوائز کے کرتوتوں اور کارناموں کی وضاحت اور مزید تبصرے سے احتیاط اور اختصار بہتر ہے‘ تاہم استعاروں اور اشاروں سے ہی کام چلاتے ہیں۔
کراچی میں ہولناک آتشزدگی ایک اور انسانی المیے کا باعث بن چکی ہے۔ اس قیامت صغریٰ کو دیکھ کر وہ کھنڈر بوائز یاد آجاتے ہیں جنہوں نے کراچی کو کہیں کرچی کرچی تو کہیں کھنڈر بنا ڈالا ہے۔ ابھی تو سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں زندہ جل مرنے والوں کی روحیں آسمانوں پر بے چین اور انصاف کے لیے بھٹک رہی ہیں‘ ان بھٹکتی روحوں میں سانحہ گل پلازہ کے مقتولین کی روحیں بھی یقینا شامل ہو چکی ہوں گی اور بارگاہِ الٰہی میں یہ دہائی دیتی ہوں گی کہ ہم تو اپنے گھروں سے بچوں کی روزی روٹی کمانے نکلے تھے‘ پھر ہم سے ایسا کیا گناہ ہوا کہ ہماری جلی ہوئی لاشوں کی راکھ بھی گھر نہ پہنچ سکی۔ کتنی ہی ماؤں کی گود اُجڑی تو کتنوں کے سہاگ‘ کتنی ہی بہنوں کے بھائی گھر سے نکلے اور میتیں لوٹیں‘ کتنے ہی بچوں کو یتیمی کا روگ جھیلنا پڑے گا۔ گل پلازہ میں ٹوٹنے والی قیامت پر واویلا اور پوائنٹ سکورنگ میں پیش پیش ایم کیو ایم‘ اس سوگ میں اگر سانحہ بلدیہ ٹاؤن اور سانحہ 12 مئی کو بھی شامل کر لے تو اس کی سیاست کا کچھ بھرم رہ سکتا ہے‘ ورنہ اپنے اپنے شہید اور اپنے اپنے ماتم تو چل ہی رہے ہیں۔
آتے جاتے آمر اپنے اقتدار کو جمہوری تڑکہ لگانے کیلئے ہمیشہ ہی سیاسی پنیریاں لگاتے رہے ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ نہ صرف پھیلتی اور پروان چڑھتی رہیں بلکہ جنگلی بیل کی طرح مملکتِ خداداد کے کونے کونے کو اپنی لپیٹ میں بھی لے لیا۔ جنرل ایوب خان کی پنیری کی باقیات اور ان کے بوائز نمونے کے طور پہ آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کی پنیریوں کے بابے اور ان کے بوائز آج بھی گھنا جنگل بنے جابجا ہر سُو پھیلے ہوئے ہیں۔ کراچی پر ٹوٹنے والی ماضی کی قیامتیں ہوں یا گل پلازہ کا دلخراش سانحہ‘ ان سبھی پر قلم آرائی کی کوشش میں ہاتھ شل‘ اعصاب سُن اور حواس گم ہوتے محسوس ہو رہے ہیں۔ شوقِ حکمرانی کی بھینٹ چڑھنے والوں کی روحوں نے رب کائنات سے یہ سوال بھی کیا ہو گا کہ اہلِ کراچی سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہو گیا کہ کئی نسلیں رزقِ خاک بن گئیں۔ کوئی تاریک راہوں میں مارا گیا تو کوئی دن دہاڑے‘ نہ مارنے والے کو پتا کہ کیوں مار رہا ہے‘ نہ مرنے والے کو پتا کہ میں کس جرم کی پاداش میں مارا گیا‘ کبھی حصولِ اقتدار کے لیے تو کبھی طولِ اقتدار کے لیے‘ اس شہر کے باسی کیسے کیسے سمجھوتوں اور کیسی کیسی سہولت کاری کی بھینٹ چڑھتے رہے ہیں۔ کبھی سیاسی تعاون کے بدلے لائسنس ٹُو کِل دیا گیا تو کبھی خون کی ہولی کھیلنے والے معتبر اور سربلند ٹھہرے۔
اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں حکمرانی کا اٹھارہواں سال جاری ہے‘ بھتوں کا دور کچھ تھما تو آوارہ کتوں کا راج قائم ہو گیا۔ اہم شاہراہیں کھنڈر اور گڑھے بنتی چلی گئیں تو کوڑے اور غلاظت کے جابجا ڈھیر حکمرانوں کی ترجیحات اور ذہنیت کا استعارہ بنتے چلے گئے۔ امن و امان سے لے کر تعمیرات سمیت ہر جائز و ناجائز کام کے دام طے ہیں۔ لوٹ مار کے تانے بانے گلیوں اور چوراہوں سے ایوانوں تک جا پہنچتے ہیں‘ قبل ازیں کم و بیش یہی اُدھم ایم کیو ایم اپنے سیاسی تعاون کے عوض کئی دہائیوں تک مچاتی چلی آئی ہے۔ کہیں نیتِ بد پاؤں پسارے ہوئے ہے تو کہیں دھونس اور من مانی طرزِ حکمرانی بن چکی ہے۔ مفادِ عامہ کے منصوبے کہیں شکم پروری پر لٹائے جا رہے ہیں تو کہیں بندہ پروری پر‘ یہی نوحہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کراچی کے ماتمی حالات کے تناظر میں اٹھارہویں ترمیم کو ڈھکوسلا قرار دیا ہے۔ بیڈ گورننس کے سبھی نمونے حکمرانوں اور سرکاری بابوؤں کی معاشیات سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس جوڑ کو کوئی مائی کا لعل نہیں توڑ سکتا ہے‘ تاہم کراچی کی سبھی بربادیوں میں کسی ایک بوائے کا ہاتھ نہیں‘ اس کارِ بد میں کہیں کھنڈر بوائے شریک ہیں تو کہیں بلنڈر بوائے۔ باہمی مفادات میں بندھے سبھی اتحادیوں کی قومی اسمبلی میں جھڑپوں کے دلچسپ مناظر کی پرفارمنس بھی قابلِ داد ہے۔
بوائے سیریز اور کراچی کا ماتم جاری تھا کہ اخبارات کے پلندے سے منہ چڑاتی ایک خبر نے کالم کا دھارا ہی موڑ ڈالا۔ خبر کی جلی سرخی ملاحظہ فرمائیے! سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم کو 15سال بعد بری کرنے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے 2500کے تنازع پر درج قتل کے مقدمے میں 15سال بعد ملزم کو بری کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بتاریخ 29 ستمبر 2017ء بھی کالعدم قرار دے دیا۔ مقدمہ اندراج سے لے کر تفتیش سمیت سبھی عدالتی کارروائیوں کی نذر ہونے والے 15 سال کس کھاتے میں؟ خیر ہو عدالتِ عظمیٰ کی جس نے ان بلنڈر کارروائیوں کو سمجھتے ہوئے ملزم کو بری کر کے رہائی کا پروانہ جاری کر ڈالا۔