اللہ تعالیٰ اپنی آخری کتاب قرآن مجید کے بارے خود آگاہ فرماتا ہے کہ اسے رمضان المبارک میں حضرت محمد کریمﷺ کے قلب مبارک پر نازل فرمایا گیا۔ اللہ کے رسولﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ہی عرب جزیرے کو بت پرستی سے پاک کر دیا تھا اور انتباہ بھی فرما دیا تھا کہ قیامت کے قریبی زمانے میں بت پرستی دوبارہ ڈیرے ڈالنا شروع کر دے گی۔ بت پرستی کی دنیا میں ''بعل‘‘ نامی دیوتا ایک ایسا بت ہے جس کا تذکرہ بائبل میں بھی ہے اور قرآن مجید میں بھی۔ امام جمال الدین المعروف ابنِ منظور خزرجی انصاریؒ ''لسان العرب‘‘ میں بتاتے ہیں کہ 'بعل‘ کا لفظ شوہر اور آقا کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس بچھڑے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کی پوجا کی جاتی ہے۔ لبنان کے شہر ''بعلبک‘‘ کا نام بھی ''بعل‘‘ دیوتا کے نام پر ہے۔ یہ شہر ہزاروں سال پرانا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قدیم زمانے سے اس دیوتا کی پوجا ہوتی چلی آ رہی ہے۔ قرآن مجید نے سورۃ البقرہ کی آیت: 228میں ''بعول‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے‘ یعنی وہ خاوند جو اپنی عورتوں کو طلاق دے دیں اور پھر رجوع کرنا چاہیں تو وہ زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اپنی عورتوں کو گھر لے جا کر بسائیں۔ اسی طرح سورۃ النساء کی آیت: 128میں ''بعل‘‘ کا لفظ ان معنوں میں آیا کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی جانب سے زیادتی اور بیزاری کے رویے سے خوف کھاتے ہوئے طلاق کے اندیشے میں مبتلا ہو جائے تو طلاق سے بچنے کیلئے ذرا پیچھے ہٹ کر دونوں صلح و صفائی کر لیں تو بہتر ہے‘‘۔ سورۂ ہود کی آیات: 71 تا 72 میں 'بعل‘ کا لفظ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ حضرت سارہ نے اس وقت استعمال کیا جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے بیٹے اسحاق کی خوشخبری دی۔ تب حضرت سارہ نے فرمایا: میں بھی بوڑھی ہوں اور میرے بعل (یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام) بھی بزرگ ہیں۔ سورۃ النور کی آیت: 31 میں 'بعول‘ کا لفظ تین بار استعمال ہوا۔ مطلب یہ کہ خواتین اپنی زیبائش کو کسی کے سامنے مت ظاہر کریں‘ ظاہر کریں تو اپنے خاوندوں کے سامنے‘ اپنے سسر کے سامنے‘ اپنے خاوندوں کے (پہلے) بیٹوں کے سامنے‘ وغیرہ۔
جی ہاں! اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں چھ بار '' بعل اور بعول‘‘ کے الفاظ استعمال فرمائے اور تمام الفاظ کا استعمال میاں بیوی کے مابین معاملات اور باہمی اصلاح سے متعلق ہے۔ یعنی قرآن مجید نے اپنی نزولی ترتیب میں متواتر اس حقیقت کو واضح کیا کہ میاں بیوی اولاد کی خاطر کسی بعل دیوتا کے پاس مت جائیں۔ عورت کو سمجھنا چاہیے کہ جس خاوند کو لے کر وہ بعل دیوتا کے پاس جانا چاہتی ہے‘ مت جائے کیونکہ اسکا خاوند ہی بعل ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں بعل نامی بت کی پوجا بہت ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد بنو اسرائیل علیہ السلام اور بنو اسماعیل علیہ السلام کو سمجھایا گیا‘ خاص طور پر بنو اسرائیل کو انتباہ کیا گیا کہ جس ماں یعنی حضرت سارہ کے تم بیٹے ہو ان کے بعل تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے کہ جنہوں نے بت شکنی کی تاریخ رقم کی لہٰذا ''بعل‘‘ کی پرستش کی طرف مت رخ کرنا‘ وگرنہ دنیا و آخرت میں رسوا ہو جائو گے۔
سورۃ الصافات میں اللہ تعالیٰ نے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بت شکنی کے منظر کا تذکرہ فرمایا اور پھر ان کی اولاد یعنی بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر حضرت الیاس علیہ السلام کا تذکرہ کیا۔ اصل بات یہ تھی کہ بنو اسرائیل کے بہت سارے لوگ ''بعل دیوتا‘‘ کی پوجا کرنے لگ گئے تھے۔ بعل کی بیوی 'عستارات‘ (Astarte) کی عبادت بھی کرنے لگ گئے تھے۔ بنو اسرائیل کے اس مشرکانہ کردار کا تذکرہ بائبل کی کتاب 'سلاطین، تواریخ اور قضاۃ‘ میں تفصیل سے موجود ہے۔ قرآن مجید نے حضرت الیاس علیہ السلام کی دعوت کا تذکرہ اس طرح کیا ہے: ''بلاشبہ الیاس رسولوں میں سے تھے۔( ان کی توحیدی دعوت کا) وہ وقت قابلِ ذکر ہے جب انہوں نے اپنی قوم (بنی اسرائیل) سے کہا تم (اللہ سے) ڈرتے کیوں نہیں ہو؟ (کس قدر دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ) تم لوگ (اپنی حاجات کیلئے) بعل کو پکارتے ہو جبکہ احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو‘‘ (الصافات: 123 تا 125)۔ قارئین کرام! یہاں اللہ تعالیٰ نے ساتویں اور آخری بار ''بعل‘‘ کا تذکرہ کیا ہے کیونکہ بعل دیوتا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں معبود بنا لیا گیا تھا۔ اس کے چرنوں میں بچے اور بچیاں قربان ہوتی تھیں۔ بابل سے لے کر مصر تک اور آج کے شام‘ لبنان اور اردن وغیرہ میں اس کی پوجا ہوتی تھی۔ مشرک اقوام اور بنو اسرائیل آپس میں رشتے ناتے کر رہے تھے‘ خلط ملط ہو چکے تھے‘ بعل اور عستارات کے بت خانے دونوں کی پوجا پاٹ سے آباد ہو چکے تھے۔ جن کی ذمہ داری توحید کی دعوت تھی‘ ان کا بڑا حصہ بعل پرستی کا شکار ہو چکا تھا۔ بنو اسرائیل میں اہلِ توحید انتہائی کم تعداد میں تھے‘ حضرت الیاس علیہ السلام کے چند اصحاب دن رات توحید کی دعوت میں مصروف تھے‘ قربانیاں دے رہے اور مشکلات برداشت کر رہے تھے۔یاد رہے! حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل کی ایک بڑی تعداد نے سامری جادوگر کے بنائے ہوئے سونے کے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تھی۔ اس جرم کی پاداش میں پوجا کرنے والے 70 ہزار افراد قتل ہوئے تھے۔ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے بعد یہ دوبارہ بعل بچھڑے کی پوجا میں مبتلا ہوئے تو حضرت طالوت‘ حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیہم السلام نے انہیں توحید کا سبق یاد کروا کر ایک عظیم قوم بنا دیا مگر حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کی ریاست دو حصوں میں بٹ گئی اور یہ لوگ رفتہ رفتہ پھر سے بعل کی پوجا کا شکار ہو گئے۔
بنو اسرائیل کا ہاردی (حریدی) فرقہ آج بھی توحید پر اور تورات کے دس اصولوں پر قائم ہے۔ پہلا ضابطہ یہ ہے کہ اللہ واحد اور یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں لہٰذا آسمان میں کسی ستارے‘ زمین پر کسی بت‘ زمین میں دفن کی ہوئی کسی ہستی‘ سمندر میں( کسی جزیرے وغیرہ پر) کسی کو معبود مت مانیں۔ ہاردیوں میں توحید پر سختی سے قائم امریکہ کا ''ناطوری کا رٹا‘‘ (Neturei Karta) فرقہ ہے۔ یہ سب لوگ پاکدامنی اور رزقِ حلال میں اپنی مثال آپ ہیں۔ یہ فلسطینیوں پر ظلم اور صہیونی ریاست کے بھی خلاف ہیں۔ حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ غزہ میں تین ہزار فلسطینی بچوں‘ عورتوں اور مردوں کو ایسے بموں سے شہید کیا گیا کہ وہ بھاپ بن کر اڑ گئے۔ ہاردی اور ناطوری کا رٹا بنو اسرائیل کے نام پر ایسے تمام مظالم پر احتجاج کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے اُس ظلم پر بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے جو ایپسٹین فائلز کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ جیفری ایپسٹین ایک صہیونی تھا‘ اس نے جنوبی امریکہ کے سمندر میں دو جڑواں جزیرے خریدے ‘جہاں 'بعل دیوتا‘ کا معبد بھی بنایا۔ دنیا کے بڑے بڑے حکمرانوں‘ امیر ترین تاجروں‘ سائنسدانوںاور الحاد کے علمبرداروں کے نام سامنے آئے ہیں کہ وہ عیاشی کیلئے ان جزیروں پر جاتے تھے‘ بعل دیوتا کی پوجا کرتے اور کم عمر لڑکیاں اور بچے جو یہاں لائے جاتے‘ ان کے ساتھ زیادتی کرتے تھے۔ بعل کے سامنے ان کو قتل یعنی قربان بھی کیا گیا۔ جی ہاں! ہزاروں سال پرانی جاہلیت جو بار بار ابھرتی اور نبیوں اور رسولوں کے ہاتھوں مٹتی رہی‘ دوبارہ زندہ ہو رہی ہے۔
11 فروری 1979ء اہلِ ایران کے ہاں انقلاب کا دن ہے۔ 2026ء میں گیارہ فروری انہوں نے اس جاہلیت کیخلاف اس طرح منایا کہ تہران اور مشہد سمیت بڑے اور چھوٹے شہروں میں بعل کے بت بنائے‘ تین کروڑ ایرانی عوام نے ان بتوں کو آگ لگائی‘ سنگسار کیا اور اللہ کی توحید اور کبریائی کے نعرے لگائے۔ بعض حریدی لوگوں نے بھی اس کو سراہا اور اپنا حصہ ڈالا۔ اس عمل سے بعل تہذیب کے علمبرداروں کو آگاہ کیا گیا کہ ہم لوگ تمہاری مشرکانہ اور ظالمانہ جاہلی تہذیب کے سامنے توحید و تہذیب کے علمبردار بن کر کھڑے ہیں‘ جو تمام انسانیت کیلئے امن‘ راحت اور دنیا وآخرت کی کامرانی کی کنجی ہے۔ میرے پاک وطن کی اساس کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ اس اساس پر عالم اسلام کا اتحاد وقت کا تقاضا ہے۔