"AHC" (space) message & send to 7575

قائداعظمؒ، سیاست اور انٹرا پارٹی الیکشن

اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کی نشوونما کا ایک نظام بنایا ہے۔ زندگی کا آغاز ایک خلیے سے ہوتا ہے جبکہ اناج کا آغاز ایک بیج سے ہوتا ہے۔ کھجور اور آم جیسے درختوں کا آغاز ایک گٹھلی سے ہوتا ہے۔ سورج اپنی نمود سے پہلے اپنی ذات کا اظہار اس طرح کرتا ہے کہ رخصت ہوتی ہوئی رات میں سپیدی نمودار ہو کر اندھیرے کو پھاڑنا شروع کر دیتی ہے‘ جس سے اندھیرا جانا شروع کر دیتا ہے جبکہ اجالا چھانا شروع کر دیتا ہے۔ اندھیروں میں سے بیج‘ گٹھلی اور صبح کو نمودار کرنے والا خالق اس کے بعد ان کی نشوونما کا بھی بندوبست فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ گندم کا دانہ مٹی میں اپنا وجود ختم کر دیتا ہے مگر چھ سات سو سے لے کر ایک ہزار‘ بارہ سو تک نئے دانے فراہم کر کے جاتا ہے۔ انسانی معاشرے کا آغاز بھی ایسے ہی ہوتا ہے اور وہ بڑھتا ہوا ایک تہذیب اور تمدن کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ بخاری و مسلم میں اللہ کے رسولﷺ کے فرمان کی رہنمائی ہے کہ بنو اسرائیل کے لوگوں کی سیاست انبیاء کرام علیہم السلام کیا کرتے تھے۔ ایک نبی جاتا تو اس کے بعد دوسرا نبی تشریف لے آتا۔ میں چونکہ آخری نبی اور رسول ہوں لہٰذا میرے بعد خلفاء ہوں گے۔ یعنی سیاست کے عالم سیاست کریں گے تو اللہ کے رسولﷺ کے طریقے کو سامنے رکھ کر کریں گے۔ حضورﷺ نے ختم نبوت کے تقاضے کو یوں سامنے رکھا کہ اپنے تربیت یافتہ لوگوں پر اعتماد کیا اور اللہ کے پاس جاتے ہوئے اپنا کوئی جانشین مقرر نہیں فرمایا؛ چنانچہ اس تربیت کا پھل امت کو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صورت میں ملا کہ ان کا انتخاب اس وقت کے الیکٹورل کالج یعنی مہاجرین اور انصار نے کیا۔ رائے کا اختلاف بھی ہوا مگر وہ دلائل وبراہین کی قوت سے خوبصورتی سے حل ہو گیا۔ اس خوبصورت حل کے پیچھے اللہ کے رسولﷺ کی دعوت کا وہ ثمر تھا جو 13 سال کے مکی عرصے پر مشتمل تھا۔ مدینہ منورہ میں اقتدار ملنے پر 10 سالہ مدنی عرصے پر محیط جو تربیت تھی‘ یہ اس کا پھل تھا۔
اسی روشنی میں ہم اپنے پاک وطن کو دیکھیں تو برصغیر کے ہندوانہ معاشرے میں علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کا خواب دیکھا۔ اس کا مطلب یعنی مقصد ''لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی صورت میں سامنے آیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی باگ ڈور جناب قائداعظم کے ہاتھ میں آئی تو تب قواعد کی رو سے اس کی رکنیت کے دو طریقے تھے۔ پہلا طریقہ براہ راست تھا؛ یعنی نامزگی تھی۔ دوسرے نمبر پر رکنیت پرائمری مسلم لیگ کے ذریعے تھی۔ قائداعظم نے واضح کر دیا کہ ''اوپر سے نیچے والا کام نہیں چلے گا بلکہ اب نیچے سے اوپر کو چلے گا‘‘۔ جی ہاں! قائداعظم کا یہ جملہ آل انڈیا مسلم لیگ کے جمہوری ڈھانچے کی بنیاد اور اساس بن گیا۔ قائد محترم کا یہ قول زریں میرے ہاتھ اس وقت لگا جب میں پروفیسر حافظ طلحہ سعید کی لائبریری میں بیٹھا تھا۔ میری نظر ''تاریخ آل انڈیا مسلم لیگ: سر سید سے قائداعظم تک‘‘ پر پڑی۔ میں نے کتاب ہاتھ میں پکڑی‘ آزاد بن حیدر مرحوم کی ہزار صفحات پر مشتمل یہ تصنیف کھولی تو میری نظر قائد کے مذکورہ سنہری قول پر پڑی‘ جو مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہے۔ حافظ طلحہ صاحب اپنے والد گرامی پروفیسر محمد سعید کی ہدایات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کی ایک نوزائیدہ سیاسی جماعت کو قائداعظم کے ویژن کی علمبردار جماعت بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
قارئین کرام! قائداعظمؒ کی مسلم لیگ میں ہر سال 31 مارچ سے پہلے رکنیت کا فارم بھرنا لازم تھا۔ آزاد بن حیدر مرحوم لکھتے ہیں کہ حضرت قائداعظم اس قدر جمہوری تھے کہ اگر 25 مارچ تک ان کی پرائمری مسلم لیگ ان سے فارم نہ بھرواتی تو وہ سیکرٹری کو فون کر کے پوچھتے ''مجھے رکن کیوں نہیں بنایا جا رہا؟‘‘۔ جی ہاں! جب قائداعظم کو مستقل صدر بنانے کی تجویز پیش کی گئی تو انہوں نے اس تجویز کو نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ سخت لہجے میں فرمایا ''میرا فرض ہے کہ میں مسلم لیگ کونسل کے سامنے آئوں۔ کونسلروں کو موقع دوں کہ وہ میری سال بھر کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور اس جائزے کی روشنی میں مجھے اگلے سال کے لیے صدر منتخب کرنے کا کوئی فیصلہ کریں‘‘۔ اے اہلِ وطن! یہ تھا وہ طریقہ جس کے تحت سارے انڈیا میں نیچے سے قیادت ابھر ابھر کر سامنے آتی چلی گئی‘ مسلم لیگ مضبوط سے مضبوط بنتی چلی گئی اور پھر ہمیں وہ منظر دیکھنے کو ملا جب انگریز اور شاطر ہندو قیادت نے مجبور ہو کر فیصلہ کیا کہ محمد علی جناح کے آزاد وطن کے مطالبے کو بہرطور تسلیم کرنا پڑے گا۔
پاکستان بننے کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ‘ پاکستان مسلم لیگ بن چکی تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح صرف ایک سال بعد‘ ستمبر 1948ء میں اپنے اللہ کے پاس چلے گئے۔ آج پاک وطن کی عمر 78 سال ہونے کو ہے مگر قائد کے ویژن‘ بصیرت‘ عمل اور حکم کو صرف مسلم لیگ ہی نہیں‘ تمام سیاسی جماعتیں مسلسل نظر انداز کرتی چلی آ رہی ہیں۔ بتایا گیا کہ قائداعظم کے جمہوری طرزِ عمل کو سامنے رکھتے ہوئے مرکزی مسلم لیگ نے انٹرا پارٹی الیکشن کا اہتمام کیا اور تین ماہ کے مسلسل عمل کے ذریعے ملک کے بیشتر علاقوں میں انٹرا پارٹی الیکشن کروا کر پہلا مرحلہ مکمل کیا ہے۔یہ ایک بڑی سیاسی تحریک تھی۔ اب دوسرا مرحلہ رمضان المبارک کے بعد شروع ہوگا۔ یاد رہے! اہلِ پاکستان کا مزاج جمہوری ہے۔ پاکستان کا استحکام جمہوریت اور جمہوری رویوں ہی سے وابستہ ہے۔ لہٰذا ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو انٹرا پارٹی الیکشن کی جانب بڑھنا ہو گا کیونکہ سیاسی جماعتوں کا استحکام ملک کا استحکام ہے۔ ملک مستحکم ہو تو اس کی عزت کو دنیا کے عالمی سٹیج پر چار چاند لگ جاتے ہیں۔ لیڈروں کے لیے ضروری ہے کہ اپنے کارکنان کی تربیت بھی کریں۔ قائداعظم کی تربیت کا ایک انداز زیڈ اے سلہری مرحوم نے اپنی کتاب ''My Leader‘‘ میں بیان کیا ہے۔
دسمبر 1946ء میں قائداعظم برطانوی کابینہ سے مذاکرات کے لیے لندن پہنچے۔ زیڈ اے سلہری اپنے قائد کے ہمراہ تھے۔ ایئرپورٹ پر مسلم لیگ کے دو گروپوں نے استقبال کیا۔ دونوں گروپ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اللہ اکبر‘ پاکستان زندہ باد اور قائداعظم زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ دونوں گروپوں نے زیڈ اے سلہری سے درخواست کی کہ وہ قائداعظم سے ملنا چاہتے ہیں۔ سلہری صاحب بتاتے ہیں کہ میں نے دونوں کیلئے قائداعظم سے ٹائم لے لیا۔ دونوں گروپوں کے کوئی30 افراد ملنے کے لیے آ گئے۔ قائداعظم تشریف فرما ہوئے اور میں نے سب کا تعارف کراتے ہوئے ہر ایک کا نام اور عہدہ بھی بتایا تو قائداعظم نے مسکراتے ہوئے فرمایا: All generals, no soldiers۔ یعنی یہ سب جرنیل (رہنما) ہیں مگر سپاہی (کارکن) کوئی نہیں۔ اور پھر یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلے گئے: Gentlemen unity۔
آخر پر اہلِ سیاست سے عرض کروں گا کہ سیاست کرنی ہے تو قائداعظم جیسے ایمان اور کردار سے سیاست ہو گی تو سیاست کو بھاگ لگ جائیں گے۔ 22 اکتوبر 1939ء کے 'روزنامہ انقلاب‘ کے مطابق قائداعظم نے مسلم لیگ کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: میں نے دنیا کو بہت دیکھا۔ دولت‘ شہرت اور عیش کے بہت لطف اٹھائے۔ اب زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سر بلند دیکھوں۔ جب مروں تو میرا اللہ دنیا کے سامنے میری گواہی دے کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی۔ مسلمانوں کی آزادی‘ تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کر دیا۔ جناح! تم نے مسلمانوں کی تنظیم‘ اتحاد اور حمایت کا فریضہ ادا کر دیا۔ اے مولا کریم! ہمارے محسن قائداعظم ؒ کے درجات مزید بلند فرما دے۔ پاکستان پائندہ باد!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں