اللہ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ ''نفسیاتی جہان‘‘ کے بھی سب سے بڑے رہنما اور لیڈر ہیں۔ اس عنوان سے ایک شعبے کا قیام ہو گا‘ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا مگر اس شعبے کا مدیر اعلیٰ میرے سامنے تھے۔ میں ان کے دفتر میں تھا۔ اب میرا ذہن ماضی کی جانب پلٹا اور ساڑھے چودہ سو سال پیچھے چلا گیا۔ لوگو! یہ ایک سادہ لوح دیہاتی ہے‘ جو مدینہ منورہ میں آتا ہے۔ اس کے دماغ میں بادشاہوں کا جو تصور تھا اسی تصور کو لے کر وہ سرکارِ مدینہﷺ کی ملاقات کو آیا تھا۔ اسے یہ تو معلوم تھا کہ حضورﷺ اللہ کے رسول ہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ حضورﷺ اس وقت مدینہ کے حکمران بھی تھے۔ حدیث کی کتاب ''سنن ابن ماجہ‘‘ میں روایت ہے کہ وہ آدمی اللہ کے رسولﷺ کے سامنے کھڑا ہوا اور گفتگو کرنے لگا تو اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی‘ خوف سے اس کے کندھے کانپنے لگا۔ حضورﷺ نے اسے تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ''گھبرائو مت (ٹینشن میں مت آئو) میں کوئی (دنیاوی) بادشاہ نہیں ہوں۔ میں تو ایسی خاتون کا بیٹا ہوں جو خشک کیا ہوا گوشت کھایا کرتی تھی‘‘۔ اللہ اللہ! میرے حضور نے 'سوشیالوجی‘ کے جہان میں اپنے آپ کو مذکورہ دیہاتی کے ساتھ کھڑا کر لیا۔ اپنے اس ایک جملے سے کانپتے ہوئے شخص کے کندھے کے ساتھ حضورﷺ نے اپنا کندھا ملا دیا۔ دیہاتی کے دونوں شانوں میں جو لرزہ آ گیا تھا‘ وہ نہ صرف یہ کہ رک گیا بلکہ کندھے مضبوط ہوتے چلے گئے۔ ڈپریشن نہ صرف ختم ہوا بلکہ اس دیہاتی کے ہر خلیے میں حیرت‘ مسرت اور شادمانی نے ڈیرے جما لیے کہ اس نے زندگی میں پہلی بار ایسا بادشاہ دیکھا تھا جو غریبوں‘ مسکینوں میں خوشیاں بانٹتا تھا۔ یاد رہے کہ حضورﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنو زہرہ کے سردار کی بیٹی تھیں۔ رواج کے مطابق انہوں نے قربانی کا گوشت خشک کیا۔ حضورﷺ نے اسی بات کو لے کر اس کمزور فرد کو مضبوط چٹان بنا دیا۔
میں جس ادارے میں موجود تھا اسے فائونٹین ہائوس کہا جاتا ہے۔ اس ادارے میں نفسیاتی مریضوں کو مریض نہیں کہا جاتا بلکہ اس ادارے کا ممبر کہا جاتا ہے۔ ان کی ہر بات سنی جاتی ہے اور ایسا خوبصورت جواب دیا جاتا ہے کہ ہر ممبر اپنے آپ کو معاشرے کا اہم ترین فرد سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ میں نے وزٹ کے دوران ایسے اخلاق کا مظاہرہ خود دیکھا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضیٰ کو ممبران کے ساتھ کمال شفقت کا ایسا ہی اظہار اور رویہ اپناتے ہوئے دیکھا۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کی ٹیم کے سامنے اللہ کے رسولﷺ کی سیرت کا ایک اور پہلو یوں نمایاں کیا کہ اللہ کے رسولﷺ مدینہ منورہ کے کسی مقام پر تشریف فرما تھے‘ صحابہ کرام ہمراہ تھے۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح بخاری میں یہ واقعہ لائے ہیں۔ حدیث کی دیگر کتب میں بھی موجود ہے۔ ایک یہودی عورت کا جنازہ گزرا تو حضورﷺ کھڑے ہو گئے۔ صحابہ بھی یہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ کسی نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: وہ بھی ایک ''نفس‘‘ (یعنی جان) ہے اور موت ایسی چیز ہے جو گھبراہٹ (بے چینی‘ ڈپریشن) پیدا کرتی ہے۔ قارئین کرام! جب مذکورہ یہودی کے بچوں‘ بہن بھائیوں اور ماں باپ سمیت دیگر لواحقین کو پتا چلا ہو گا کہ ان کے حکمران اپنی رعایا کے ہر فرد کے ساتھ تکریم اور ہمدردی کا ایسا رویہ رکھتے ہیں تو ان کے دلوں سے ڈپریشن یقینا کافی حد تک ختم ہو گیا ہوگا۔ نوید شہزاد صاحب نفسیاتی ڈپریشن کے ممبران کے لیے حضورﷺ کی سیرت مبارکہ سے ایسے ہی موتی چُن چُن کر ادارے کی اخلاقی ساکھ کو مضبوط کرتے چلے جا رہے ہیں۔
حضورﷺ کی تشریف آوری سے پہلے انسانیت ڈپریشن کا شکار تھی۔ بیوہ خواتین کو منحوس سمجھا جاتا تھا۔ مخصوص دنوں میں خواتین کو گھر سے بے گھر کر دیا جاتا تھا۔ ان ایام کے خاتمے پر ہی وہ گھر میں داخل ہو سکتی تھیں۔ اندازہ لگائیں کہ اس دوران مذکورہ عورت کس قدر کرب سے گزرتی ہو گی۔ اس کے بچوں کا کیا حال ہوتا ہوگا۔ معاشرہ کس قدر نفسیاتی عوارض کا شکار ہوتا ہو گا۔ حضور نبی کریمﷺ نے ایسی تمام رسومات کا خاتمہ کیا۔ میں جس ادارے میں موجود تھا یہاں ایک ایسی عمارت بھی تھی جو سر گنگا رام نے وقف کی تھی اور اُس وقت وقف کی تھی جب ان کا جواں سال بیٹا فوت ہوا تھا اور اس کی بیوہ یعنی سر گنگا رام کو اپنی بیوہ بہو کو گھر سے نکال کر بیوائوں کے مرکز میں رکھنا تھا۔ جی ہاں! یہ بھی حضور رحمت دو عالمﷺ کی تعلیمات کا اثر تھا کہ ہندوستان میں ''ستی‘‘ کی رسم کا خاتمہ ہوا مگر بیوہ کی خاندان سے علیحدگی کی رسم تو ابھی باقی تھی۔ سر گنگا رام پر حضورﷺ کی تعلیمات نے ایسا اثر کیا کہ اب انہوں نے ہندو بیوائوں کی شادیوں کا اہتمام شروع کر دیا۔ انہوں نے ہندوستان بھر میں چالیس ہزار ہندو بیوہ خواتین کی شادیاں کرائیں۔ جی ہاں! ہندو بیوہ خواتین... جو اپنے شوہروں کے ساتھ جل کر مرنے سے بچ گئیں۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ بیوہ خواتین کے مراکز میں وہ اپنی موت تک رہنے لگ گئیں۔ پھر وہ وقت آیا کہ ان کی دوبارہ شادیاں ہونے لگ گئیں۔ آج 21ویں صدی میں ایسی تمام فرسودہ رسومات برائے نام باقی رہ گئی ہیں۔ یہ سب حضور رحمتِ دو عالمﷺ کی پاک اور مبارک سیرت کا پھل ہے جیسے انسانیت کھا رہی ہے۔ قارئین کرام! میں سرگنگا رام کی وقف کی ہوئی عمارت دیکھ رہا تھا اور درود شریف رحمت کائناتﷺ پر بھیج رہا تھا کہ جن کی تشریف آوری سے انسانیت نفسیاتی امراض اور مسائل سے نجات پاتی چلی گئی۔
ڈاکٹر عمران صاحب بتا رہے تھے کہ دنیا بھر میں اس وقت پچیس فیصد کے لگ بھگ نفسیاتی مریض موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آٹھ ارب انسانوں میں دو ارب انسان نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں۔ پاکستان میں آٹھ کروڑ افراد نفسیاتی عوارض کا شکار ہیں۔ پاک وطن کی آبادی تقریباً 24کروڑ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے ہاں کل آبادی کا تیسرا حصہ نفسیاتی مسائل سے دوچار ہے۔ یاد رہے! نفسیاتی امراض کی مختلف اقسام ہیں۔ لوگ بظاہر اچھے بھلے پڑھے لکھے‘ دانشور دکھائی دیتے ہیں۔ کامیاب زندگی گزار رہے ہوتے ہیں مگر ان میں کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری کا جین موجود ہوتا ہے۔ یہ عموماً سویا ہوا ہوتا ہے اور اس وقت جاگتا ہے جب اسے جگایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب بیٹے کی شادی پر بہو آتی ہے تو بسا اوقات ساس بہو کا جھگڑا اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ ساس یا بہو میں سے کسی ایک کا نفسیاتی مسائل کا جین جاگ جاتا ہے اور وہ نفسیاتی مریضہ بن جاتی ہے۔ معاشرے میں روا ظلم بھی اس جین کو متحرک کرنے کا کام کرتا ہے۔ جائیداد پر قبضہ ہو گیا‘ سالوں کے دھکوں سے عدل نہ ملا تو جین ٹریگر کر گیا اور بندہ نفسیاتی مریض بن گیا۔ ایک کے مریض بننے سے پورا گھرانہ بلکہ کئی گھرانے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ملک میں قتل کی شرح بڑھ گئی ہے۔ کرپشن بڑھ گئی ہے‘ مہنگائی بڑھ گئی ہے‘ بجلی کے بل بڑھ گئے ہیں۔ میٹر کٹنے لگے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ خودکشیاں کرنا شروع ہو گئے۔ چند خود کشیاں تو میڈیا پر آ گئیں مگر جو لوگ نفسیاتی مریض بن گئے‘ ان کی تعداد تو کوئی نہیں جانتا۔ کرائے داروں کے مسائل الگ ہیں۔ مکانوں پر قبضے کے مسائل الگ ہیں۔ آج کل طلبہ کی خودکشی کے واقعات سننے کو مل رہے ہیں۔ یہ سارے مسائل معاشرے کے قیمتی افراد کو گھن کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ قابلِ تحسین ہیں وہ لوگ جو فائونٹین ہائوس جیسے ادارے چلا رہے ہیں۔ فرشتے ہیں وہ لوگ جو حضور رحمت دو عالمﷺ کی پاک سیرت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اپنے حلقہ اثر میں کسی انسان کو دکھ سے دوچار نہیں کرتے‘ ایسا جملہ نہیں بولتے جس سے کسی کا دل دکھی ہو جائے۔ قارئین کرام! ذرا سوچئے کہ ہمارے ایک جملے یا کسی حرکت سے یا کسی ظلم و زیادتی سے کسی بظاہر تندرست کا جین اگر بھوت بن کر ناچنے لگا‘ وہ نفسیاتی مریض بن گیا‘ کسی جعلی عامل کے ہتھے چڑھ گیا‘ نفسیاتی امراض کے ہسپتال جا پہنچا تو ہم بروز حشر اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے؟