"IAS" (space) message & send to 7575

لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے

سیدنا علی المرتضیٰؓ سے منسوب ایک قول مشہور ہے کہ جس پر احسان کرو اُس کے شر سے بچو۔ ہمارے بے مروت افغان ہمسائے اس قول کی عملی تعبیرثابت ہورہے ہیں اور پاکستان کو تخریب کاری کا مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ بلاشبہ پاکستان نے مشکلات میں گھرے افغانستان کی ہر مشکل وقت میں مدد کی لیکن اس کے جواب میں پاکستان نے ان کی طرف سے شرپسندی اوردہشت گردی میں ہزاروں قیمتی جانوں اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کو انڈیا سے زیادہ خطرہ اسلامی ہمسایہ ملک افغانستان سے ہے۔ پہلے یہ لوگ صاف چھپتے بھی نہیں تھے اور سامنے آتے بھی نہیں تھے‘ لیکن اب یہ ڈھکے چھپے نہیں رہے اور ان لوگوں کے ساتھ نمٹنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ چند حملوں سے یہ لوگ ٹھیک ہونے والے نہیں‘ ان کا قبلہ درست کرنے کیلئے ان کے خلاف ایک باقاعدہ منظم آپریشن کرنا پڑے گا۔ انہی لوگوں کے بڑوں کے ناموں پر بنائے گئے میزائلوں کو ان لوگوں پر داغنا ہوگا تبھی جاکران کی عقل ٹھکانے آئے گی کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ افغانوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ‘ وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیدار متعدد بار افغانستان کے دورے پر گئے اور افغان حکومت کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے حوالے سے مذاکرات کئے‘ پاکستان نے افغانستان سے پاکستان میں خوارج کی در اندازی کو روکنے کی سفارتی اور سیاسی اقدامات کے ذریعے بھرپور کوشش کی لیکن یہ فرعون بنے ہوئے ہیں اور ان کوپیارکی زبان سمجھ نہیں آتی۔ بقول حبیب جالب:
گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جائے گا
عصا اٹھاؤ کہ فرعون اسی سے جائے گا
یہ جوہماری مسجدوں میں ان نام نہاد جہادیوں کے فضائل بیان کیے جاتے ہیں اور ہمارے سادہ لوح عوام کو بتایا جاتا ہے کہ ان کے بڑے احمد شاہ بدالی جیسے لوگ عالم اسلام کے بہت بڑے مجاہد تھے‘ ان کے فضائل کی تشہیر کومسجدوں سے ختم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے پوری پاکستانی قوم کو تیار کرنا پڑے گا‘ ہمیں ہماری مذہبی فکر کو بھی بدلنا ہوگا۔ ہمیں ان کے قصیدے پڑھنے والے اپنے علما حضرات‘ میڈیا اینکراور ''مقبول‘ ‘ کالم نگاروں کو بھی سمجھانا پڑے گا کہ اب صرف اور صرف اپنے ملک پاکستان کے بارے میں سوچیں اور ہمارے لوگوں کوبتایا جائے کہ یہ نام نہادافغان ہمیشہ اس علاقے کو لوٹنے کے لیے آتے تھے اور ماضی میں پاکستان کے موجودہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ ان کی بہت ساری جنگیں ہوچکی ہیں۔ احمد شاہ ابدالی نے اس علاقے پر متعدد حملے کیے اور ان تمام حملوں کا مقصد لوٹ مار کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ آتا تھا اور خراج وصول کر کے چلتا بنتا۔
یہ بڑا گمبھیر مسئلہ ہے اور اس حوالے سے ملکی سطح پر بیانیہ تشکیل دینا ہوگا پھرکہیں جا کر اس مصیبت سے پاکستانی قوم کی جان چھوٹے گی۔ یہ بے فیض لوگ ہمارے ازلی دشمن بھارت سے پیسے پکڑتے جائیں گے اور لڑتے رہیں گے کیونکہ ان کو پیسے لے کر لڑنے کی بڑی پرانی عادت ہے اور لڑنے مرنے کیلئے افرادی قوت کی ان کے پاس کمی نہیں۔ پاکستان کیلئے موجودہ صورتحال میں یہ بڑا سنجیدہ معاملہ ہے۔ اسی بنا پرنہرو نے پاکستان بننے کے لیے رائے دی تھی کہ ادھر سے ہمیشہ یہ جنگجو آتے ہیں اور خطے میں لڑائی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی‘ افغان بارڈر ہمیشہ اورہر وقت گرم رہتا تھا تو انہوں نے اس ہمسائے کوہمارے حوالے کر دیا۔
اس بات میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے کہ افغانوں نے آج تک کوئی جنگ نہیں ہاری۔ اگر زمینی حقائق کا بغور جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ حقیقت کچھ اور ہے۔ سچ یہ ہے کہ میدانِ کارزار میں آخر دم تک اپنے قدموں پر جمے رہنا ان کی صفت نہیں ہے۔ یہ بات قومی تعصب کی بنا پر نہیں کی بلکہ اس کی گواہی تاریخ کے اوراق اور جنگ کے میدان دیتے ہیں۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کوئی غیر ملکی قوت زیادہ دیر تک جم نہیں پائی‘ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اس علاقے پر جو بھی حملہ آور ہوا اس نے اس علاقے پر قبضہ ضرور کیا اور پھر مفادات سمیٹنے کے بعد اپنی مرضی سے یہاں سے چل نکلا۔ وہ امریکہ ہویا کوئی اور ملک۔ دیکھا جائے تو انہوں نے آج تک کوئی جنگ جیتی ہی نہیں بلکہ یہ لوگ ہمیشہ ڈالروں اور ریالوں کیلئے دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں اور اپنے ملک کا بیڑہ غرق کروایا ہے۔ روس کو شکست دینے کا جو سہرا ان کے سر باندھا جاتا ہے وہ بھی دنیا بھر کو معلوم ہے کہ جنگ امریکہ کی جنگ تھی‘ قیادت پاکستان نے کی تھی۔ اس میں پیسہ اور اسلحہ بھی امریکہ کا ہی استعمال ہوا تھا۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ افغان صدیوں سے کرایے کے قاتل رہے ہیں۔ آپ ان پر کبھی بھروسہ نہیں کر سکتے۔ امریکہ نے ان طالبان کے ساتھ معاہدہ کر کے انہیں حکومت سونپی تھی اور ان سے وعدہ لیا تھا کہ یہ پاکستان کے خلاف کام نہیں کریں گے مگر یہ انڈیا کے ساتھ مل کر یہی کر رہے ہیں ورنہ ان کو تو انڈیا کا سب سے بڑا مخالف ہونا چاہیے تھا کیونکہ انڈیا ان سے پہلے والی حکومت کا سپورٹر تھا‘ لیکن یہ بھی حکومت میں آ کر اسی انڈیا کے اتحادی بن گئے۔ ان کرایے کے قاتلوں کو پچاس سال مدد کر کے پاکستان نے سب سے بڑی غلطی کی۔ گزشتہ برس پاک بھارت جنگ کے دوران بھی افغانوں نے بھارت کو سپورٹ کیا۔ یہ تو اللہ کا شکر ہوا کہ پاکستان نے یہ جنگ جیت لی اور اس کی ٹیکنالوجی کی دھاک دنیا پر بیٹھ گئی اور اب طالبان ہوں یا بلوچستان لبریشن آرمی والے‘ سب کو پتا چل گیا ہے کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کا انجام کیا ہوگا۔ اب ہمیں ایک بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ اسلامی خلافت تو کیا‘ اسلام کا بھی ان طالبان کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ یہ خارجی ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی جائز نہیں۔ جو ایسا کرتا ہے وہ پاکستان کا حامی نہیں بلکہ دشمن ہے۔ دین اسلام تو فضول میں وضو کیلئے پانی بہانے کی اجازت بھی نہیں دیتا لیکن یہ لوگ بے گناہ مسلمان کاآئے دن خون بہا رہے ہیں بلکہ ان کو خون میں نہلا رہے ہیں۔
ہم نے افغانوں کیلئے دو جنگیں لڑیں‘ اپنی معیشت تباہ اور لاکھوں لوگ شہید کروائے مگرآج بھی افغان سرزمین سے ہمارے بچوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے۔ ہم نے ایسے لوگوں کو پاسپورٹ دیے‘ جن کا پاکستان کی مٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا‘ اب ہم یہ سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتے‘ انہیں پتا لگنا چاہیے‘ اورانہیں اپنے کیے کی سزا ملنی چاہیے۔ گزشتہ سال حکومت نے ملک میں مقیم افغان مہاجرین کی مرحلہ وارافغانستان واپسی شروع کی اور پندرہ لاکھ کے قریب افغانیوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ باقی ماندہ افغان مہاجرین کو کسی بھی قسم کی اضافی مہلت نہیں دی جانی چاہیے اور ان کی پاکستان بدری جلد یقینی بنائی جائے۔ اب ہمیں ہر صورت اپنا قبلہ خود درست کرنا ہوگا اورآنے والی نسلوں کے لیے بہترین فیصلے کرنا ہوں گے۔ ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے‘ اورآئندہ نسلوں کو پرامن اور مستحکم پاکستان دے کر جانا ہمارا اولین فرض ہے۔ ماضی میں پاکستان کو ایسی جنگ میں دھکیلا گیا جو پاکستان کی نہیں تھی لیکن اس کے بارے میں کہا گیا کہ پاکستان اس کی فرنٹ لائن سٹیٹ بنے۔ جن کی یہ جنگ تھی انہوں نے اپنا الو سیدھا کیا اور چلتے بنے۔ اس جنگ کو ادھورا چھوڑ کر جانے والے چلے گئے لیکن اب اس ادھوری جنگ کوپوری قوم نے مل کر جیتنا ہے۔ پاکستان کو داخلی استحکام‘ قانون کی بالادستی اور اجتماعی ذمہ داری کے تحت ہی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں