"IAS" (space) message & send to 7575

پرانا یا نیا ورلڈ آرڈر؟

الحمدللہ حکومت پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں‘ بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی کاوشوں کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کا سیز فائر ہو چکا ہے‘ اور اس جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں فریقین کے مابین مذاکرات ہو رہے ہیں۔ بلا شبہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں؛ آخرکار فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی بیٹھنا پڑتا ہے۔ اللہ کرے کہ یہ مذاکرات بار آور ثابت ہوں اور دنیا مزید تباہی سے بچ جائے۔ ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد سے نہ صرف اس جنگ کے مزید پھیلنے کا خطرہ ٹل چکا ہے بلکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں بھی بڑھی ہیں اور تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔ اس وقت امریکہ کی شدید خواہش ہے کہ جنگ بندی کے دوران بات چیت جاری رہے اور آبنائے ہرمز کھلی رہے‘ اس لیے اب ایرانیوں کو بھی اگلا قدم اٹھانا ہو گا۔ اگر ایرانی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا وعدہ کر رہے ہیں تو اس کے بدلے میں امریکہ کو بھی ایران کو کچھ دینا ہو گا۔ امریکہ ایران کو بہت کچھ دے سکتا ہے؛ وہ معاشی پابندیاں ختم‘ کم یا نرم کرنے پر بات کر سکتا ہے‘ مزید کسی بھی پیش رفت کے لیے ایسا کرنا ازحد ضروری ہے۔
تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے چار جولائی 1776ء کو دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور برطانیہ‘ جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا‘ سے آزادی کا اعلان کیا تھا‘ لیکن اس کی آزادی کی جنگ تین ستمبر 1783ء کو معاہدۂ پیرس کے بعد ختم ہوئی۔ امریکہ نے یہ جنگ لڑ کر باقی دنیا کو بھی آزادی کا راستہ دکھایا۔ جب امریکہ نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی تو دنیا کو معلوم ہوا کہ برطانیہ ناقابلِ شکست نہیں ہے۔ اس سے قبل لوگ برطانیہ کو ناقابلِ شکست سمجھتے تھے‘ جیسے آج امریکہ کو سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ کی برطانوی راج سے آزادی دنیا کے لیے پہلا بڑا تحفہ تھی۔ پھر امریکہ نے اپنا آئین بنایا‘ قانون کی حکمرانی قائم کی‘ ملک کو سرسبز بنایا‘ لوگوں کو بنیادی حقوق دیے‘ حقیقی آزادی دی۔ بولنے‘ کام کرنے اور مذہب کی آزادی۔ اپنے شہریوں کو یہ تمام آزادیاں دے کر انہوں نے دنیا کو حقیقی آزادی کا ایک اور تحفہ دیا۔ امریکہ آزادی کی سرزمین بن گیا اور دنیا بھر سے دانشور‘ سکالرز اور سائنسدان وہاں آنا شروع ہو گئے۔ یوں امریکہ دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
دسمبر 1823ء میں امریکہ نے منرو ڈاکٹرائن کا اعلان کر کے یورپی طاقتوں کو‘ جو دنیا پر اپنا تسلط قائم کر رہی تھیں‘ کو مزید تسلط سے روک دیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یورپی طاقتیں بے لگام نہیں ہیں‘ انہیں روکا جا سکتا ہے۔ پرتگال‘ سپین‘ جرمنی اور فرانس جیسی طاقتوں نے مختلف علاقوں میں اپنی نوآبادیاں قائم کر رکھی تھیں۔ امریکہ نے منرو ڈاکٹرائن کے ذریعے انہیں مزید نوآبادیاں قائم کرنے سے روکا۔ اس کے بعد امریکہ نے یورپ کے ساتھ معاہدے بھی کیے اور سفارتی تعلقات بھی استوار کیے جس سے یہ ثابت ہوا کہ جنگ کے بجائے سفارتکاری سے مسائل زیادہ بہتر انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں۔ پھر امریکہ نے پہلی عالمی جنگ روکنے میں بھی اہم کردار ادا کیا‘ جو یورپی ممالک دوسرے ممالک پر مسلط کرتے چلے جا رہے تھے۔پہلی جنگِ عظیم کے بعد امریکہ نے لیگ آف نیشنز کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا تاکہ دنیا میں امن قائم کیا جا سکے۔ اس دور کے امریکی صدور مدبر اور دانشور تھے۔ بعد ازاں انہوں نے دنیا کو ایک ایسا نظام دینے کی کوشش کی جس میں ریاستیں بھی ایک عالمی قانون کی پابند ہوں۔ جیسے معاشرے میں افراد کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت ہوتی ہے‘ اسی طرح انہوں نے سوچا کہ اگر ریاستیں حد سے تجاوز کریں تو ان کے لیے بھی عالمی سطح پر کوئی نظام ہونا چاہیے۔ اسی مقصد کے تحت عالمی ادارے قائم کیے گئے اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیا گیا۔
پھر دوسری عالمی جنگ میں جب برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل نے روس پر حملے کی بات کی تو امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ نے اس سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں روس کے جوزف سٹالن کے ساتھ مل کر ایک نیا عالمی نظام ترتیب دیا گیا۔ یوں دنیا میں ایک ایسا نظام وجود میں آیا جسے ہم آج عالمی قوانین کے نام سے جانتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ قائم ہوئی‘ اس کے تحت مختلف ادارے وجود میں آئے‘ سلامتی کونسل بنی‘ یونیسف اور عالمی ادارۂ صحت جیسے ادارے قائم ہوئے۔ اس سے پہلے دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تھا۔ دنیا ایک جنگل کا منظر پیش کر رہی تھی جہاں ہر طاقتور کمزور پر حملہ آور ہوتا تھا۔اسی طرح 1956ء میں امریکہ نے مصر کا ساتھ دے کر اسے اسرائیل کے جبر سے بچایا۔ اس کے بعد کوریا اور ویتنام کی جنگیں ہوئیں۔ امریکہ نے پاکستان کے ذریعے سوویت یونین کو افغانستان سے نکالنے میں کردار ادا کیا‘ جہاں دس سال تک جنگ جاری رہی۔
اس دوران امریکہ نے بہت سی غلطیاں بھی کیں‘ زیادتیاں بھی کیں لیکن اس کے مثبت اقدامات بھی کم نہیں تھے۔ امریکہ نے کئی غلط فیصلے بھی کیے مگر اس نے دنیا کو جو کچھ دیا اس کی اہمیت بھی کم نہیں۔ امریکہ نے جہاں کئی جنگیں لڑی ہیں وہیں کئی جنگیں رکوانے میں بھی کردار ادا کیا۔ اگر امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو دیکھا جائے تو امریکہ نے 1948ء‘ 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں کو رکوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1999ء کے کارگل تنازع کو کم کرنے میں بھی اس کی کوششیں شامل رہیں۔ حتیٰ کہ گزشتہ برس معرکۂ حق میں پاک بھارت کشیدگی میں اضافے کے بعد امریکہ نے فریقین کے درمیان جنگ بندی کرائی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ زیادتیاں بھی ہوئیں لیکن اس کے باوجود امریکہ کے پاکستان پر احسانات بھی بہت ہیں۔
پھر وقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔ نتیجتاً وہ عالمی نظام جو امریکہ نے قائم کیا تھا‘ اب عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے۔ بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے امریکہ کے مثبت تشخص کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور دنیا میں بے چینی کو فروغ دیا ہے۔ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اس جنگ میں ایران کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ وہ امریکہ جس نے دنیا کو بہت کچھ دیا آج اس ملک کی قیادت ایسے شخص کے پاس ہے جس نے تمام مثبت امریکی روایات کو کمزور کر دیا ہے۔ اس لیے نئے ورلڈ آرڈر میں اب 'الوداع امریکہ‘ جیسے جملے سننے کو مل رہے ہیں۔ جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی۔ جنگیں ہر فریق کے لیے تباہی کا باعث بنتی ہیں چاہے ایران ہو‘ امریکہ ہو یا کوئی بھی ملک۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے اسرائیل نے بہت فائدہ اٹھایا ہے لیکن میرا ماننا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے عالمی معیشت کو بھی شدید جھٹکا لگا ہے۔ اس لیے ایران امریکہ سیز فائر کا مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہونا ناگزیر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد کون سا نیا عالمی نظام تشکیل پاتا ہے کیونکہ پرانا عالمی نظام تو اپنی افادیت کھو چکا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں