اللہ پاک نے پاکستان کو پوری دنیا میں عزت دی ہے۔ دنیا بھر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا ڈنکا بج رہا ہے۔ جب یہ تحریر لکھی جا رہی ہے فیلڈ مارشل ایران امریکہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے ایران کے دورے پر ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب اور قطر کے کامیاب دورے کے بعد ترکیہ پہنچ چکے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے سعودی عرب کے دورے کی کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے دو ارب ڈالرز فنڈز کی مد میں موصول ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کو تین ارب ڈالر ڈیپازٹ کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ یہ خوشخبری سناتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ سعودی حکومت کی جانب سے تین ارب ڈالر کی سپورٹ اگلے ہفتے تک ہمیں مل جائے گی۔ پانچ ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کے سالانہ رول اوور کے بجائے تین سال کی توسیع ہو جائے گی۔ لہٰذا سعودی حکومت اور ولی عہد محمد بن سلمان کا جتنا بھی شکریہ اداکیا جائے کم ہے۔ لیکن پاکستان کے اندرونی حالات کیا ہیں؟ تصویر کا دوسرا رخ بہت درد ناک اور تشویشناک ہے۔ آئیے آپ کو اس کی ایک جھلک دکھاتا ہوں۔
پاکستان کے 25کروڑ افراد میں سے 18کروڑ عوام بیچارے خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ملکی معیشت کی صورتحال یہ ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 10اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ایک ارب 32کروڑ ڈالر کم ہو کر 15ارب آٹھ کروڑ ڈالر رہ گئے۔ ہمیں ملک چلانے کیلئے تیل دنیا سے ادھارلینا پڑ رہا ہے‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملکی اخراجات ہماری آمدن سے دوگنا ہیں۔ اس وقت حکومت کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ یہ ناقابلِ برداشت ہیں۔ ہم آئی ایم ایف کے رحم کرم پر ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے یہ مژدہ بھی سنایا کہ پاکستان نے مالی سال 2026ء کے لیے بیرونی فنانسنگ کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرامز پر سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ سے منظوری مئی کے اوائل میں متوقع ہے۔ پانڈا‘ یورو اور سکوک بانڈز کے ذریعے بھی فنڈنگ کی حکمت عملی جاری ہے۔ حکمران اپنی عیاشیوں پر اٹھنے والے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض پر قرض لے رہے ہیں۔ بقول مرز غالب:
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
بدقسمتی سے قرض پر قرض لینے کے باوجود ہماری فاقہ مستی رنگ نہیں لا رہی۔ ہم روز بروز پیچھے اور نیچے کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ نااہلیوں اور اللوں تللوں کے باعث ملکی معیشت مستحکم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے سب سے بڑے دشمن اس کی اکانومی کو کمزور کرنے والے ہیں۔ غربت ہے‘ بدانتظامی ہے‘ سب اچھا ہے والا خوشامدی کلچر ہے‘ اقربا پروری ہے‘ سفارش کا کلچر ہے‘ رشوت ہے جس کے باعث یہ ملک بدعنوانی کا گھر بن چکا ہے‘ کیا اس طرح پاکستان چل سکے گا؟ حکمران باہر دنیا میں جتنے مرضی پاپولر ہوں‘ پوری دنیا کے میڈیا‘ ٹی وی چینلز اور اخبارات نیویارک ٹائمز‘ واشنگٹن پوسٹ‘ وال سٹریٹ جرنل‘ اکانومسٹ اور ٹیلی گراف تک میں ان کی ہیڈ لائنز آ رہی ہیں لیکن ملک کے اندرونی حالات‘ واقعی ایک کھلا تضاد ہے۔ ان حالات کو دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ عوام غربت اور مہنگائی میں کس طرح زندہ رہ پائیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ تین چار سالوں میں کتنے پیسے پاکستان سے باہر چلے گئے‘ تین چار سالوں میں مہنگائی کے باعث اشیا کی قیمتیں کہاں پہنچ گئی ہیں۔
کنگال ملک نہیں ہوا بلکہ ملک کے عوام ہوئے ہیں۔ اگر ملک کنگال ہوتا تو درجنوں وفاقی وزرا نہ ہوتے اور یہ لوگ بلٹ پروف گاڑیوں میں نہ گھومتے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ قربانیاں عوام دیں اور عیاشیاں ملک کی دو فیصد اشرافیہ کرے۔ کسی نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ اگر ملک کے سارے پہاڑ سونے کے بن جائیں اور دریاؤں میں تیل بہنے لگ جائے تب بھی وہ ملک مقروض ہی رہے گا جہاں شفافیت کا فقدان ہو۔ کرپٹ مافیا کا آپس میں گہرا گٹھ جوڑ ہے۔ یہ لوگ خود تو ٹیکس دیتے نہیں لیکن عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والے پیسے پر خوب ہاتھ صاف کر تے ہیں‘ ان کے لیے تو ہر دن عید اور ہر سب شب برأت ہے۔ بجلی مفت‘ پٹرول مفت‘ سرکاری گھر‘ سرکاری گاڑیاں‘ لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اور بیرونِ ملک دورے پر دورہ۔ ان کی تو موجیں لگی ہوئی ہیں گویا حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ پڑھی جا رہی ہے۔
حکومت نے نو ماہ میں صرف تنخواہ دار طبقے سے 420ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ہے۔ دوسری طرف مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ بھی اسی طبقے پر پڑا ہے۔ بہت زیادہ ٹیکس شرح کے باوجود معیشت میں بہتری نظر نہیں آرہی کیونکہ آدھے سے زیادہ ٹیکس تو ہمارے افسروں کی فوج ظفر موج کھا جاتی ہے۔ جو پیسے حکومت کے خزانے میں جاتے ہیں ان سے حکومت کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے‘ جس کی وجہ سے آئے روز قرض پر قرض لینا پڑتے ہیں۔ ڈویلپمنٹ کے نام پر لوٹ مار جاری ہے‘ تو پھر یہ ملک کیسے چلے گا؟
نااہلی کی رہی سہی کسر گیس کے بعد بجلی کی بد ترین لوڈشیڈنگ نے نکال دی ہے۔ ملک میں بجلی کی طلب فی الحال 18ہزار میگا واٹ ہے جبکہ 13500میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور ابھی گرمی کا آغاز ہی ہوا ہے کہ بجلی کا شارٹ فال 4500 میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے۔ پہلے پٹرول اور گیس کا رونا تھا اب بجلی بھی میسر نہیں۔ شدید گرمی کے باعث ملک بھر میں آٹھ سے 16 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ اور مختلف شہروں میں دن رات بجلی کی عدم فراہمی کے باعث عوام کی زندگیاں اجیرن ہو گئی ہیں۔ مختلف ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں پن بجلی 1500 میگا واٹ فراہم کر رہی ہے جبکہ تھرمل ذرائع سے 9250 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ سولر پاور پلانٹس 400 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں اور بیگاس سے بجلی کی پیداوار 200 میگا واٹ تک ہے۔ ونڈ پاور پلانٹس سے 1200 میگا واٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے جبکہ نیوکلیئر پاور پلانٹس کی پیداوار 2850 میگا واٹ تک ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب وہ آئی پی پیز کہاں ہیں جو سردیوں میں بجلی پیدا کیے بغیر اربوں روپے بٹورتے رہے ہیں۔ آج جب گرمی میں عوام کو بجلی کی شدید ضرورت ہے تو یہ کمپنیاں گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہیں اور غریب عوام کو گرمی کے دنوں میں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ حکمرانوں کی نااہلی کے باعث ہم نے 78برسوں میں کچھ نہیں سیکھا۔ اور یہ سب کچھ ہماری حکمران اشرافیہ میں شامل نو طبقات کا کیا دھرا ہے۔ یہ طبقات عوام کے خون و پسینے کی کمائی پر پل رہے ہیں اور ان کے گوشت کو گِدھوں کی طرح نوچ کر کھا رہے ہیں۔ ان طبقات پر جب تک ہاتھ نہ ڈالا گیا پاکستان خوشحال ہوتا نظر نہیں آ رہا۔